لائیو, پاکستان کی سعودی عرب میں ڈرون حملے کی مذمت، ٹرمپ کا ایران کے ساتھ ’انتہائی سنجیدہ‘ مذاکرات کا دعویٰ

پاکستان نے سعودی عرب میں ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اشتعال انگیز حملے پورے خطے میں امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ’انتہائی سنجیدہ‘ مذاکرات جاری ہیں، جو اگر ناکام ہوئے تو اس پر ’انتہائی سخت‘ حملہ کیا جائے گا۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. عراقی وزیرِ اعظم کا سعودی عرب پر حملے کی تحقیقات کا حکم

    سعودی عرب کی جانب سے پیر کے روز عراق سے داغے گئے کئی ڈرونز کو فضا میں ہی روک کر مار گرانے کے اعلان کے بعد عراقی وزیرِ اعظم علی زیدی نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

    پیر کی شام، عراقی وزیرِ اعظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ عراق اپنی سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

    اس سے قبل سعودی وزارتِ خارجہ نے عراقی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین کو سعودی عرب کے خلاف حملوں کے مرکز کے طور پر استعمال ہونے سے روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے۔

    سعودی وزارتِ دفاع نے اس سے قبل کہا تھا کہ ڈرون حملے کا ہدف مشرقی صوبے اور ریاض میں موجود تیل کی تنصیبات تھیں۔

    سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے اس ڈرون حملے کا ذمہ دار ’ایران کی حمایت یافتہ دہشت گرد ملیشیاؤں‘ کو قرار دیا تھا۔

  2. پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے فی لیٹر کمی، ڈیزل کی قیمت میں تین روپے 37 پیسے اضافہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی حکومت نے 28 جولائی کے لیے پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں تین روپے 37 پیسے اضافہ کر دیا ہے۔

    پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق ان قیمتوں کا اطلاق صرف 28 جولائی کے لیے ہو گا۔

    قیمتوں میں ردوبدل ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان لڑائی میں تعطل کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آ رہی ہے۔

  3. ہمارے پاس وافر گولہ بارود موجود ہے: امریکی صدر کی اسلحے میں کمی سے متعلق خدشات کی تردید

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ حالیہ جنگ کے اخراجات اور نقصانات کی تلافی کے لیے ’امریکی کنٹرول میں موجود‘ ایرانی رقم کا استعمال کریں گے۔

    ’ایئر فورس ون‘ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران پر تقریباً پانچ ماہ تک بمباری کے بعد ’امریکی گولہ بارود کی کمی سے متعلق خدشات‘ کو بھی مسترد کر دیا اور کہا: ’ہمارے پاس وافر مقدار میں گولہ بارود موجود ہے۔‘

    امریکی صدر نے کہا کہ ’ہمارے پاس ہر قسم کا بہت سا گولہ بارود موجود ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، بائیڈن نے اس کا ایک بڑا حصہ یوکرین کو دے دیا تھا اور اسی لیے ہم اب اپنے ذخائر کو دوبارہ بحال کر رہے ہیں۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اب بھی بہت سا گولہ بارود ہے، خاص طور پر روایتی اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا گولہ بارود۔ میرا مطلب ہے، اتنا زیادہ کہ ہم کسی بھی صورتحال میں اس کا پورا استعمال نہیں کر سکتے۔ ہمارے پاس واقعی بہت بڑے ذخائر موجود ہیں۔

  4. پاکستان کی سعودی عرب میں ڈرون حملے کی مذمت

    پاکستان نے سعودی عرب میں ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اشتعال انگیز حملے پورے خطے میں امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

    پاکستانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔

    پاکستان نے خطے میں دیرپا امن، سلامتی اور استحکام کے حصول کی کوششوں کی حمایت کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے ہیں اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔

    واضح رہے کہ یمن کے حوثی باغیوں نے کچھ گھنٹے قبل کہا تھا کہ اُنھوں نے ڈرون حملے کے ذریعے مشرقی سعودی عرب میں تیل کی پیداوار اور نقل و حمل کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    سیٹلائٹ تصاویر میں اب سعودی عرب میں واقع 'ابقیق' (Abqaiq) آئل تنصیب کے اوپر دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

    یہ پہلا موقع ہے کہ ایران کے اتحادی حوثیوں کی جانب سے 'ابقیق' کی تنصیب پر حملے کی اطلاع ملی ہے۔ تاہم ایران کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

  5. ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوئے تو ’انتہائی سخت‘ فوجی کارروائی کریں گے: صدر ٹرمپ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ ’انتہائی سنجیدہ‘ مذاکرات کر رہا ہے لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ ’انتہائی سخت‘ فوجی کارروائی کا حکم دیں گے۔

    امریکی ویب سائٹ ایگزیوس سے گفتگو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے ثالثی کرنے والے ممالک کی درخواست پر اور مذاکرات کو وقت دینے کی خاطر ایران پر حملے روکنے کا حکم دیا تھا۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم ایران کے ساتھ انتہائی سنجیدہ مذاکرات کر رہے ہیں۔ اگر بات نہ بنی تو ہم انتہائی شدید فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دیں گے۔‘

    انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ سفارت کاری کو کتنا وقت دینے کے لیے تیار ہیں؟ تو صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’بہت زیادہ نہیں۔ یا تو یہ کام جلد ہو جائے گا یا پھر بالکل نہیں ہوگا۔‘

    اُنھوں نے حملے رکنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی اور سٹاک کی قدر میں اضافے کی طرف بھی اشارہ کیا۔

    صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم کے دورہ واشنگٹن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نیتن یاہو سے اس بات پر بات کروں گا کہ اگر میں صدر نہ ہوتا تو اب تک ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا اور اسرائیل تباہ ہو چکا ہوتا۔‘

  6. جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا راولا کوٹ میں پانچ کارکنوں کی ہلاکت کا دعویٰ، پولیس کا تصدیق سے گریز, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پاکستان کے زیرِ انتطام کشمیر کی کالعدم قرار دی گئی تنظیم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ راولا کوٹ میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے اُن کے پانچ کارکن ہلاک ہو گئے ہیں۔ تاہم پولیس نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔

    جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رُکن عابد شاہین نے بی بی سی سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ فائرنگ سے ایک درجن سے زاءد کارکن زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کی ڈیڈ باڈیز راولا کوٹ کے علاقے دریک کے قریب قائم کیے گئے میڈیکل کیمپ میں رکھوا دی گئی ہیں۔

    عابد شاہین کا کہنا تھا کہ ان کی معلومات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کور کمیٹی کے رکن عمر نذیر کشمیری کا قریبی عزیز بھی شامل ہے۔

    اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کی تنظیم کے کارکنوں پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ دریک کے مقام سے راولاکوٹ شہر اور پھر وہاں سے مظفر آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے جا رہے تھے۔

    دوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کے سربراہ کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت علی ملک نے اس دعوے پر بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس وقت ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کر سکتے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ جب تک ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں کسی ریکارڈ پر نہ ا جائیں اور یا ان کو پوسٹمارٹم کے لیے ہسپتال نہ لایا جائے۔ وہ اس کی تصدیق نہیں کر سکتے۔

    اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ ماہ بھی ایکشن کمیٹی کے خلاف آپریشن کیا گیا تھا تو اُنھوں نے 400 کارکنان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا جبکہ ریکارڈ پر پانچ ہلاکتیں سامنے ائی تھیں۔

    ’کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں نے زبردستی راولا کوٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی‘

    ڈپٹی انسپکٹر جنرل پونچھ ریجن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پیر کی شام کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں نے زبردستی راولا کوٹ شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے اُنھیں منتشر ہونے کا کہا۔

    بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان ’شرپسند عناصر‘ نے منتشر ہونے کے بجائے زبردستی شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر فائرنگ کی۔ جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سوشل میڈیا ہینڈلز کی جانب سے حقائق کو مسخ کر کے من گھڑت ویڈیوز کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

  7. ڈرون حملے کے بعد سعودی عرب کی ’ابقیق‘ ریفائنری کے اوپر دھوئیں کے بادل

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہCOPERNICUS SENTINEL-2/Reuters

    یمن کے حوثی جنگجوؤں نے کچھ گھنٹے قبل کہا تھا کہ اُنھوں نے ڈرون حملے کے ذریعے مشرقی سعودی عرب میں تیل کی پیداوار اور نقل و حمل کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    سیٹلائٹ تصاویر میں اب سعودی عرب میں واقع ’ابقیق‘ (Abqaiq) آئل تنصیب کے اوپر دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

    یہ پہلا موقع ہے کہ ایران کے اتحادی حوثیوں کی جانب سے ’ابقیق‘ کی تنصیب پر حملے کی اطلاع ملی ہے۔

    ’ابقیق‘ خام تیل کو ’سٹیبلائز‘ کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی ریفائنریز میں سے ایک ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے خام تیل کو بڑے ٹینکوں میں ذخیرہ کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔

    یہ ریفائنری بنیادی طور پر سعودی عرب کی ’مغرب-مشرق پائپ لائن‘ کے لیے تیل کو پروسیس کرتی ہے جس کی بدولت سعودی عرب آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر بحیرہ احمر اور نہرِ سوئز کے راستے اپنا تیل برآمد کر سکتا ہے۔

    سعودی وزارتِِ دفاع نے اپنی تنصیبات پر ہونے والے ان حملوں کا ذمہ دار ایران کے اتحادی عراقی ملیشیاؤں کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھا ہے۔

    ایران کی جانب سے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

  8. ایران نے عمان کی جنوبی راستہ کھلا رکھنے کی تجویز قبول نہیں کی: کاظم غریب‌ آبادی

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے قانونی و بین الاقوامی امور کے نائب کاظم غریب‌ آبادی نے تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد عمان میں مذاکرات ہوئے تھے۔

    ان کے مطابق مخالف فریق کا اصرار تھا کہ ایران اور عمان کے مذاکرات کے نتیجے تک جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھولا گیا جنوبی راستہ کھلا رکھا جائے، تاہم ایرانی وفد نے یہ تجویز مسترد کر دی۔

    غریب‌آبادی نے یہ بھی کہا کہ ایرانی وفد نے مذاکرات جاری رکھنے کے لیے ’کسی قسم کا اصرار یا درخواست‘ نہیں کی۔

  9. سعودی وزارتِ دفاع کا ایران کی حمایت یافتہ عراقی ملیشیا کے داغے گئے ڈرونز کو تباہ کرنے کا دعویٰ

    فائل فوٹو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    سعودی وزارتِ دفاع کا دعویٰ ہے کہ اس نے عراق کی سمت سے داغے گئے متعدد ڈرونز کو راستے میں ہی روک کر تباہ کر دیا۔

    سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان جنرل ترکی المالکی کے مطابق اس ڈرون حملے کا ہدف مشرقی صوبے اور ریاض میں واقع تیل کی تنصیبات تھیں۔

    وزارتِ دفاع کے ترجمان نے اس حملے کا الزام ’ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا‘ کو قرار دیا۔

    جنرل ترکی المالکی نے خبردار کیا کہ سعودی عرب اپنے دفاع اور مناسب وقت و مقام پر جواب دینے کے ’جائز حق‘ کو محفوظ رکھتا ہے۔

  10. نیتن یاہو، ٹرمپ سے ملاقات کے لیے روانہ، ایران ایجنڈے میں سرفہرست ہو گا: اسرائیلی وزیرِاعظم

    @IsraeliPM

    ،تصویر کا ذریعہ@IsraeliPM

    اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے روانہ ہو رہے ہیں، جو صدر ٹرمپ کے دوسری مدتِ صدارت کے لیے منتخب ہونے کے بعد ان کے درمیان آٹھویں ملاقات ہو گی۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ یہ کسی بھی دوسرے بین الاقوامی رہنما کے مقابلے میں صدر ٹرمپ کے ساتھ ان کی سب سے زیادہ ملاقاتیں ہیں۔ انھوں نے اسے اپنے لیے ’اعزاز‘ اور ’بڑی ذمہ داری‘ قرار دیا۔

    انھوں نے کہا کہ ملاقات میں زیرِ غور تمام موضوعات پر بات چیت ہو گی، تاہم ایران اس ایجنڈے میں سرفہرست ہو گا۔

    نیتن یاہو کے مطابق، ’ہمارا مقصد واضح ہے: اسرائیل کی سلامتی کا تحفظ، اس کی طاقت کو مضبوط بنانا اور اپنے اردگرد امن کے دائرے کو وسیع کرنا۔‘

    اسرائیلی وزیرِاعظم نے کہا کہ وہ اسرائیل کی سلامتی، قوت اور مستقبل کو یقینی بنانے کے عزم کے تحت اس مشن پر روانہ ہو رہے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اپنے دورے کے دوران وہ اپنے اور ریاستِ اسرائیل کے ’حقیقی دوست‘ سینیٹر گراہم کو بھی خراجِ عقیدت پیش کریں گے، جنھیں انھوں نے ’اسرائیل کے عظیم ترین دوستوں میں سے ایک‘ قرار دیا۔

    نیتن یاہو نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ اس طرح وہ تمام اسرائیلی شہریوں کے جذبات کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

  11. اسماعیل بقائی: اس وقت امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آج اپنی پریس کانفرنس میں کہا: ’اس وقت امریکی فریق کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔‘

    انھوں نے ایران کی جانب سے مذاکرات کی درخواست سے متعلق خبروں کو بھی ’من گھڑت خبریں‘ قرار دیا۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا: ’ایسے وقت میں جب امریکہ ایران کے خلاف اشتعال انگیز اقدامات اور جارحیت میں مصروف ہے، ہماری توجہ دفاع پر مرکوز ہے۔ ممکن ہے کہ ثالث موجودہ علاقائی پیش رفت کے بارے میں امریکی فریق کے پیغامات ہمیں پہنچائیں۔‘

    امریکی حملوں کے خاتمے کے بارے میں انھوں نے کہا: ’ایران امریکہ کو یہ اجازت نہیں دے گا کہ وہ جنگ اور امن کے اوقات کا تعین کرے۔‘

    بقائی نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال کو ’جنگ بندی‘ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    ان کے مطابق، ’گذشتہ چند روز کے دوران فضا نسبتاً پُرسکون رہی ہے، جو ایرانی مسلح افواج کی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے، اور امریکہ کی جانب سے کی جانے والی ہر کارروائی کا ہم دوٹوک جواب دیں گے۔‘

    اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس کے ایک اور حصے میں کہا کہ ’آبنائے ہرمز بدستور بند ہے۔‘

    بقائی نے بحیرۂ خزر میں ایک جہاز پر یوکرین کے حملے کو ’غیر قانونی‘ اور ’بلاجواز‘ مہم جوئی قرار دیا اور ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ ’اس کا جواب ضرور دیا جائے گا۔‘

  12. نفتالی بینیٹ: اگر میں دوبارہ اسرائیل کا وزیرِاعظم بنا تو قطر کو دشمن ملک قرار دوں گا

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل کے سابق وزیرِاعظم نفتالی بینیٹ کا کہنا ہے کہ اگر وہ دوبارہ وزیرِاعظم بنے تو قطر کو ’فوراً‘ ایک ’دشمن‘ ملک قرار دیں گے۔

    بینیٹ نے ایکس پر جاری ایک ویڈیو میں کہا کہ قطر کی حکومت ’پرتشدد‘ اور ’یہود مخالف سرطان‘ ہے، جس نے ’اپنی شاخیں پورے مغرب اور یہاں تک کہ اسرائیل کے وزیرِاعظم کے دفتر تک پھیلا رکھی ہیں۔‘

    انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اپنے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں انھوں نے ایسی معلومات دیکھی تھیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ قطر پاسدارانِ انقلاب کو مالی مدد فراہم کر رہا تھا۔

    انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اس سیاست دان، جو اسرائیلی اپوزیشن کی نمایاں شخصیات میں سے ایک ہیں، نے قطر پر الزام عائد کیا کہ وہ اسرائیل کی ’تباہی‘ کا خواہاں ہے۔

    بینیٹ نے کہا کہ ’قطر نے ایک طاقتور عالمی نیٹ ورکِ کے اثر و رسوخ پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جو اسرائیل کو بہت نقصان پہنچاتا ہے۔‘

    انھوں نے قطر پر یہ الزام بھی لگایا کہ اس نے امریکی یونیورسٹیوں میں اور الجزیرہ ٹیلی وژن نیٹ ورک کے ذریعے ’اشتعال انگیزی کے مراکز‘ قائم کیے ہیں اور حماس کو بھی اربوں ڈالر کی مدد فراہم کی ہے۔

    قطر نے ابھی تک اسرائیلی سیاست دان کے ان بیانات پر ردِعمل ظاہر نہیں کیا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے۔

    اسرائیل نے ستمبر 2025 میں قطر میں حماس کے دفتر پر حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی عروج پر پہنچ گئی اور بین الاقوامی سطح پر وسیع ردِعمل سامنے آیا۔ اس حملے میں ایک قطری افسر اور حماس کے کئی ارکان ہلاک ہوئے، تاہم حماس کے رہنما محفوظ رہے۔

    ابتدائی ردِعمل میں اسرائیل کے صدر اور اقوامِ متحدہ میں اس ملک کے سفیر نے قطر پر حملے کا دفاع کیا تھا، تاہم کچھ عرصے بعد کہا گیا کہ اسرائیل نے اس حملے پر معذرت کر لی ہے۔

    وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک سہ فریقی فون کال میں شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے کہا کہ انھیں اس حملے میں ایک قطری سکیورٹی افسر کی ہلاکت اور قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزی پر افسوس ہے، اور انھوں نے یہ بھی تصدیق کی کہ اسرائیل آئندہ اس نوعیت کا حملہ دوبارہ نہیں کرے گا۔

  13. اسرائیلی فوج اور اردنی حکام کا دو ڈرونز روکنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے کہا ہے کہ اردن کی سرحد کے قریب دو ڈرونز کو روک لیا گیا ہے۔

    مزید کہا گیا ہے کہ یہ ڈرونز کہاں سے آئے، اس مقام کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    آئی ڈی ایف کے بیان کے مطابق دونوں ڈرونز کو اسرائیلی فضائی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ اسرائیلی فوج نے واقعے کی مزید تفصیلات جاری نہیں کیں تاہم کہا ہے کہ معاملے کی چھان بین جاری ہے۔

    دوسری جانب اردنی فوج نے بھی ایک الگ بیان میں دو ڈرونز کو تباہ کرنے کی تصدیق کی ہے۔ اردنی حکام نے یہ نہیہں بتیا کہ یہ ڈرونز کہاں سے آئے، البتہ کہا ہے کہ اس واقعے میں نہ کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں پہنچا۔

    یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب تقریباً دس روز قبل اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ اردنی فورسز کی مدد سے بندرگاہِ عقبہ کی جانب داغا گیا ایک میزائل روک لیا گیا تھا۔ اردن کی بندرگاہِ عقبہ اسرائیلی بندرگاہ ایلات سے تقریباً پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    اسرائیلی فوج نے اُس حملے کا ذمہ دار ایران کو قرار دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اس نوعیت کے حملے کشیدگی میں اضافے اور جھڑپوں کے دائرہ کار کو اسرائیلی سرزمین تک پھیلا سکتے ہیں۔

  14. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر: ضلع میرپور کے چار حلقوں میں ووٹنگ جاری

    BBC

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع میرپور میں ووٹنگ کا عمل جاری ہے اور ضلع کے چار انتخابی حلقوں میں مجموعی طور پر چار لاکھ 11 ہزار سے زائد ووٹرز اپنے نمائندوں کے انتخاب کے لیے حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔

    الیکشن حکام کے مطابق حلقہ ایل اے ون میرپور ون ڈڈیال میں ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ پانچ ہزار سے زائد ہے، جبکہ ایل اے 2 میرپور 2 چکسواری میں کل ووٹرز کی تعداد 99 ہزار 585 ہے۔

    اسی طرح حلقہ ایل اے 3 میرپور 3 میں ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ چھ ہزار ہے، جبکہ ایل اے 4 میرپور 4 میں 99 ہزار 600 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔

    ضلع میرپور کی چار نشستوں پر مجموعی طور پر 98 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔

    انتظامیہ کے مطابق چاروں حلقوں میں پولنگ کے لیے 611 پولنگ سٹیشن اور 1011 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں تاکہ ووٹنگ کا عمل پرامن اور شفاف انداز میں مکمل کیا جا سکے۔

    مزید برآں، حلقہ ایل اے 3 میرپور 3 میں ووٹنگ کے لیے 161 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔

    BBC
    BBC
    BBC
    BBC
    BBC
  15. اتوار کو آبنائے ہرمز سے آٹھ جہاز گزرے: انٹیلیجنس کمپنی

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    میری ٹائم انٹیلیجنس کمپنی کپلر کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز اتوار کو آبنائے ہرمز سے آٹھ بحری جہاز گزرے ہیں۔

    کمپنی کے مطابق ان جہازوں میں پانچ آئل ٹینکرز، دو سامان بردار جہاز اور ایرانی پرچم بردار جہاز شامل تھا۔

    ان آٹھ میں سے تین جہاز ایران کے متعین کردہ راستے سے گزرے۔

  16. ایران امریکہ کو جنگ اور امن کے وقت کا تعین نہیں کرنے دے گا: اسماعیل بقائی

    Esmail Baghaei in a press conference

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ ایران امریکہ کو جنگ اور امن کے وقت کا تعین نہیں کرنے دے گا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق انھوں نے واضح کیا ہے کہ ’ایران امریکہ کو یہ فیصلہ نہیں کرنے دے گا کہ جنگ اور امن کا وقت کیا ہو گا۔‘

    اس دوران ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’آبنائے ہرمز بدستور بند ہے۔‘

    بی بی سی فارسی کے مطابق اسماعیل بقائی نے ان اطلاعات پر تبصرہ نہیں کیا جن میں کہا گیا ہے کہ ایران اور امریکہ نے اسلام آباد اور دوحہ کی جانب سے جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے پیش کی گئی مشترکہ تجویز کا جواب دیا ہے۔

    پریس کانفرنس کے دوران اسماعیل بقائی نے بحیرۂ کیسپین میں ایک بحری جہاز پر یوکرین کے حملے کو ’پہلی عالمی جنگ کے دوران انتشار پسند قوتوں کے طرزِ عمل‘ سے مماثل قرار دیا۔

    انھوں نے یوکرین کی کارروائی کو غیر قانونی اور بلاجواز مہم جوئی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اس کا جواب دیا جائے گا۔‘

  17. امریکہ: سیئٹل میں فوڈ فیسٹیول میں فائرنگ سے تین افراد ہلاک، چار زخمی

    Three killed, four injured in shooting in Seattle and police at on site

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی ریاست واشنگٹن کے شہر سیئٹل میں فائرنگ کے ایک واقعے میں تین افراد ہلاک اور چار زخمی ہو گئے ہیں۔

    سیئٹل پولیس کے اسسٹنٹ چیف ٹائرون ڈیوس نے کہا ہے کہ فائرنگ کے اس واقعے میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق دو متاثرین زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جائے وقوع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ ایک تیسرا متاثرہ شخص، جسے ہاربر ویو میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا تھا، بعد میں زخموں کی وجہ سے چل بسا۔

    سیئٹل پولیس کے اسسٹنٹ چیف ٹائرون ڈیوس کے مطابق ایک مشتبہ شخص کو جائے وقوع پر حراست میں لے لیا گیا جبکہ دوسرا پولیس اہلکاروں سے بچ کر فرار ہو گیا اور اس کی تلاش جاری ہے۔

    اتوار کو مقامی وقت کے مطابق چھ بج کر ایک منٹ پر اس وقت گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیں جب ہزاروں خاندان ایک سالانہ فوڈ فیسٹیول سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

    پیر کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈیوس نے کہا کہ خیال کیا جاتا ہے کہ دونوں مشتبہ افراد ایک دوسرے پر فائرنگ کر رہے تھے۔ پولیس کے مطابق زیرِ حراست مشتبہ شخص ایک ’نوجوان‘ ہے تاہم انھوں نے تفصیلات دینے سے گریز کیا۔

    عینی شاہدین نے بتایا کہ وہ جان بچانے کے لیے بھاگے جبکہ بعض نے سیئٹل کی مشہور عمارت سپیس نیڈل کے اندر پناہ لی۔

    اس واقعے میں دو سالہ بچے سمیت چار افراد ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں ۔

    سیئٹل کی میئر کیٹی ولسن نے اس واقعے کو ناقابلِ یقین سانحہ اور تشدد کا ہولناک فعل قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیئٹل اور امریکہ میں اسلحے کے تشدد سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    Three killed, four injured in shooting in Seattle and police at on site

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یاد رہے کہ پولیس ایک دوسرے ایسے شخص کو بھی تلاش کر رہی ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس واقعے میں ملوث ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں ایک دو سالہ بچہ بھی شامل ہے اور تمام متاثرین کی حالت بہتر ہے۔

    سیئٹل کی میئر کیٹی ولسن نے فائرنگ کے اس واقعےکے حوالے سے کہا کہ ’اس شہر اور اس ملک میں اسلحے کے تشدد کی حد سے زیادہ وارداتیں ہیں۔‘

    ان کے مطابق یہ تازہ فائرنگ ایسے ہفتے کے بعد ہوئی ہے جس میں سیئٹل میں صرف چند دنوں کے اندر اسلحے کے تشدد کے تین بڑے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

  18. امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں میں وقفے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی

    امریکہ اور ایران کے درمیان دو روز سے حملوں میں وقفے کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔

    پیر کی صبح ہونے والی ٹریڈنگ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    تیل کی قیمتوں کا عالمی معیار سمجھی جانے والی برینٹ کروڈ کی قیمت پیر کی صبح ابتدائی ٹریڈنگ میں تقریباً پانچ فیصد گر کر تقریباً 92 ڈالر تک آ گئی۔

    حالیہ دنوں میں تیل کی قیمتیں ایک موقع پر 100 ڈالر تک پہنچ گئی تھیں کیونکہ دونوں جانب سے فوجی کارروائیوں اور دھمکیوں میں شدت آ گئی تھی۔

    یاد رہے کہ جمعرات کی شام سے دونوں فریقین کے درمیان کسی حملے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

    اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارتی کوششوں کو مزید وقت دینے کے لیے مسلسل دوسری رات ایران پر حملوں کا سلسلہ روکا ہوا ہے دوسری جانب تہران نے بھی جواباً خطے میں اپنے جوابی حملے روکنے کا بیان دیا ہے۔

    ثالثوں کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی منڈیوں کو امید ہے کہ فوجی جھڑپوں میں یہ وقفہ زیادہ مستحکم جنگ بندی کا سبب بنے گاجس سے ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ملے گی۔

  19. ایرانی تجارتی جہاز پر یوکرینی حملے کا جواب لازمی دیا جائے گا: ابراہیم عزیزی

    ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ بحیرۂ کیسپین میں ایرانی تجارتی جہاز پر مبینہ یوکرینی حملے کا جواب لازمی دیا جائے گا۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ’ایران کے خلاف کسی بھی اقدام کی ہمیشہ قیمت چکانی پڑتی ہے اور یہ اصول آج بھی برقرار ہے۔ امریکہ اور اسرائیل اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں۔ یوکرین کو بھی شاید جلد احساس ہو جائے گا کہ ایران اس کے اقدامات کو جواب دیے بغیر نہیں چھوڑے گا۔‘

    یاد رہے کہ ایران کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ یوکرین کے صدر ویلادیمیر زیلنسکی نے ایک ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ کر کے ایک ملاح کو ہلاک کر دیا، جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔

    عباس عراقچی نے بیان میں کہا تھا کہ یہ حملہ اسرائیل کے ایما پر کیا گیا تاکہ یورپ کو اس کی جنگ میں گھسیٹا جا سکے۔‘

    یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ یوکرین نے ایک ایسے جہاز کو نشانہ بنایا جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ اسے ایران کے لیے فوجی سامان کی ترسیل میں استعمال کیا جا رہا تھا۔

    سوموار کے روز ابراہیم عزیزی نے بیان میں کہا کہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی قیادت اور روسی وزیرِ خارجہ کے ساتھ گفتگو میں انھوں نے زور دیا کہ یوکرین کے اقدامات کا مناسب جواب دیا جائے گا۔

  20. نیتن یاہو کا اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت کا عندیہ، نیویارک کے میئر نفرت کو ہوا دے رہے ہیں: اسرائیلی وزیر اعظم کا الزام

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے عندیہ دیا ہے کہ وہ رواں سال نیویارک میں ہونے والے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    نیتن یاہو نے اتوار کو فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ وہ زہران ممدانی کے گرفتار کرنے بیان پر فکر مند نہیں ہیں تاہم ساتھ ہی انھوں نے الزام عائد کیا کہ نیویارک کے میئر نفرت کو ہوا دے رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ نیویارک کے میئر زہران ممدانی چند روز قبل انھیں گرفتار کرنے کی بات کر چکے ہیں تاہم اپنے دوسرے بیان میں انھوں نے اپنے اس موقف میں نرمی لاتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے پاس بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی جانب سے جاری کردہ وارنٹ پر نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کا قانونی اختیار نہیں ہے۔

    نیتن یاہو نے انٹرویو میں مزید کہا کہ ’وہ تمام نیویارک والوں کے میئر ہیں خواہ وہ یہودی ہوں، عیسائی ہوں یا مسلمان لیکن وہ ایک گروہ کو دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے جمعرات کو نیویارک میں پیش آنے والے چاقو حملوں کا بھی حوالہ دیا، جن میں ایک مشتبہ شخص نے الگ الگ مقامات پر ایک یہودی اور ایک ایشیائی شخص کو زخمی کر دیا تھا۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ان واقعات کے بعد نیویارک میں یہودی برادری اس وقت خوف کا شکار ہے۔

    میئر زہران کے دفتر نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

    فلسطینی حقوق کے حامی زہران ممدانی نے گزشتہ سال اپنی انتخابی مہم میں غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی مخالفت کو ایک اہم نکتہ بنایا تھا۔ گزشتہ ہفتے انھوں نے نیتن یاہو کو ’جنگی مجرم‘ قرار دیا تھا۔

    انتخابی مہم کے دوران ممدانی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ 2024 میں آئی سی سی کی جانب سے نیتن یاہو کے خلاف جاری کیے گئے گرفتاری کے وارنٹ پر عمل درآمد کریں گے۔ عدالت نے وارنٹ جاری کرتے وقت وزیرِ اعظم پر غزہ میں جنگی جرائم کے الزامات عائد کیے تھے۔

    اسرائیل غزہ میں جنگی جرائم کے الزامات کی تردید کرتا ہے جبکہ نیتن یاہو ان الزامات کو ’بے بنیاد‘ قرار دے چکے ہیں۔

    گزشتہ ہفتے نیویارک ٹائمز کی جانب سے اس وعدے کے بارے میں سوال کیے جانے پر زہران ممدانی نے کہا تھا کہ قانونی جائزے کے بعد ان کی انتظامیہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ’ہمارے پاس اس وارنٹ پر عمل درآمد کا قانونی اختیار موجود نہیں ہے۔‘

    تاہم انھوں نے وفاقی حکومت پر نیتن یاہو کو گرفتار کرنے پر زور دیا تھا۔