ٹرمپ نے اچانک اسرائیل کے لیے سالانہ 4 ارب ڈالر کی امریکی فوجی امداد ختم کرنے کا اعلان کیوں کیا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, برنڈ ڈیبسمان جونیئر
- عہدہ, وائٹ ہاؤس رپورٹر
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت امریکہ رواں سال کے اختتام پر اسرائیل کو فنڈنگ فراہم کرنا بند کر دے گا۔
منگل کی صبح (امریکی نشریاتی ادارے) فاکس نیوز کو دیے گئے ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ معاہدہ ’کئی ماہ پہلے‘ طے پایا تھا اور اس کے تحت امریکہ ہر سال فراہم کیے جانے والے چار ارب ڈالر دینا بند کر دے گا۔
ٹرمپ نے کہا: ’ہم پہلے ہی اس بات پر اتفاق کر چکے ہیں کہ اس سال کے آخر تک ہم اسرائیل کو ادائیگیاں نہیں کریں گے۔ اب اگر اسرائیل کو ضرورت ہوئی تو ہم اس کی مدد کریں گے۔‘
تاہم یہ واضح نہیں کہ صدر کس فنڈنگ کا حوالہ دے رہے تھے، کیونکہ اسرائیل کو سالانہ 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرنے والی مفاہمتی یادداشت 2028 کے اختتام پر ختم ہو رہی ہے۔
بی بی سی نے وضاحت کے لیے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے، جبکہ اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر کی جانب سے تا حال کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
فاکس نیوز سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل کو اب امریکی مالی امداد کی ضرورت نہیں رہی۔
انھوں نے کہا: ’جہاں تک اسرائیل کو ادائیگیوں کا تعلق ہے، نیتن یاہو اور میں نے یہ معاہدہ کیا تھا کہ ہم اسرائیل کو سالانہ چار ارب ڈالر دیتے ہیں، اور ہم نے چند ماہ قبل طے کیا کہ یہ سلسلہ بند کر دیا جائے گا۔‘
ٹرمپ نے ڈیموکریٹس پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ اسرائیل کے لیے امریکی امداد کو ریپبلکنز پر تنقید کے لیے ایک ’سیاسی نکتے‘ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹرمپ نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو اسرائیل امریکہ سے ہتھیار خرید سکتا ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج کی مدد کے لیے کسی نئے انتظام کی تفصیلات فی الحال واضح نہیں ہیں۔
مئی میں امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ امریکہ کی مالی امداد کو، جو اس وقت سالانہ 3.8 ارب ڈالر ہے، بتدریج کم کر کے ’صفر‘ تک لانا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا: ’آئیے ابھی آغاز کرتے ہیں اور اگلی ایک دہائی میں یہ عمل مکمل کرتے ہیں، لیکن میں یہ عمل ابھی شروع کرنا چاہتا ہوں۔ میں اگلی کانگریس کا انتظار نہیں کرنا چاہتا۔‘
دوسری عالمی جنگ کے اختتام سے اب تک اسرائیل امریکی امداد حاصل کرنے والا سب سے بڑا ملک رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
گذشتہ سال شائع ہونے والی کانگریس کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو دی جانے والی مجموعی امداد 174 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جس میں افراطِ زر کو شامل نہیں کیا گیا۔
اگرچہ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کو اب بھی دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے، لیکن اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد ڈیموکریٹس میں اسرائیل کے لیے حمایت میں کچھ کمی دیکھی گئی ہے۔
جولائی میں ریپبلکن رکنِ کانگریس تھامس میسی نے اسرائیل کے لیے 3.3 ارب ڈالر کی سکیورٹی امداد ختم کرنے کے بل پر ووٹنگ کروائی، جس کی حمایت ایوان میں 103 ڈیموکریٹس نے کی۔ اس ترمیم کی حمایت کرنے والے وہ واحد ریپبلکن تھے۔ تاہم یہ تجویز 104 کے مقابلے میں 314 ووٹوں سے مسترد ہو گئی۔
ستمبر میں کوئنی پیاک یونیورسٹی کے ایک سروے کے مطابق تقریباً نصف، یعنی 48 فیصد ووٹرز کا خیال ہے کہ امریکہ اسرائیل کی حد سے زیادہ حمایت کرتا ہے۔ 2017 میں یہ شرح 16 فیصد تھی۔
ڈیموکریٹس میں یہ شرح 67 فیصد جبکہ ریپبلکنز میں 17 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
ٹرمپ کے اس اعلان پر صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے ردِعمل سامنے آیا ہے۔
امریکی صحافی اور سیاسی مبصر گلین گرین والڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو دی جانے والی چار ارب ڈالر کی سالانہ امداد دراصل وہ کم از کم رقم ہے جس کی فراہمی 2016 کے اوباما۔نیتن یاہو معاہدے کے تحت لازم ہے۔
ان کے مطابق صدر جو بائیڈن نے صرف 2024 میں ہی، اس رقم کے علاوہ اسرائیل کو مزید 18 ارب ڈالر کی براہِ راست امداد دی۔ گرین والڈ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسرائیل کے دفاع کے لیے امریکی فوج کی تعیناتی اور امریکی ہتھیاروں کے ذخائر کے استعمال کی لاگت اس کے علاوہ ہے۔
اسرائیلی صحافی اور تجزیہ کار یاکوف کاٹز کا کہنا ہے کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعی وسط مدتی انتخابات کے روز یہ اعلان کیا ہے کہ امریکہ موجودہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی مدت ختم ہونے سے ایک سال پہلے ہی اسرائیل کو فوجی امداد دینا بند کر دے گا تو یہ ایک ’تشویش ناک‘ پیش رفت ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں یاکوف کاٹز نے کہا کہ موجودہ انتظام کے تحت امریکی فوجی امداد ویسے بھی اگلے سال کے اختتام پر ختم ہونا تھی، تاہم اب امداد ایک سال پہلے ختم کرنے کے اعلان سے ٹرمپ یہ سیاسی دعویٰ کر سکیں گے کہ انھوں نے اسرائیل کے لیے ایک سال کی امداد ختم کر کے امریکی ٹیکس دہندگان کے تقریباً چار ارب ڈالر بچائے ہیں۔
ان کے مطابق اس اعلان کے وقت سے ایسا نہیں لگتا کہ یہ اتفاقاً کیا گیا ہے۔ یاکوف کاٹز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کے لیے امداد میں کمی کا اعلان سینیٹ کی بعض نشستوں پر ریپبلکن امیدواروں کے لیے سیاسی فائدہ ثابت ہو سکتا ہے۔
یاکوف کاٹز نے کہا کہ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد کا معاملہ امریکی سیاست میں کتنا متنازع بن چکا ہے، اور یہ اختلاف صرف ڈیموکریٹس تک محدود نہیں بلکہ ریپبلکن پارٹی میں بھی اس کے آثار بڑھ رہے ہیں۔
نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں ہے۔




















