بھوت دیکھنے یا انجانے وجود کی موجودگی کا احساس: ہمیں مافوق الفطرت تجربات کیوں ہوتے ہیں؟

An old-fashioned looking photo of a misty forest, with a carpet of red leaves on the floor. An ethereal, semi-transparent woman stands in the middle of the photo, facing away from the camera. She's got long dark hair and is wearing a white dress.
    • مصنف, ڈیزی اسٹیفنز
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

قدیم میسوپوٹیمیا کی ان کہانیوں سے، جن میں بھوت اپنے زندہ رشتہ داروں پر انحصار کرتے تھے، لے کر چارلس ڈکنز کے ’اے کرسمس کیرول‘ تک، انسانی تاریخ بھوتوں اور ماورائی مخلوقات کی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔

لیکن آخر بھوتوں میں ہماری دلچسپی آج بھی کیوں برقرار ہے؟

امریکہ کی یونیورسٹی آف ویسٹ جارجیا سے وابستہ ماہرِ نفسیات پروفیسر کرسٹین سممنڈز مور کہتی ہیں کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ لوگ ایسے تجربات سے گزرتے ہیں، جنھیں وہ مافوق الفطرت سمجھتے ہیں۔‘

یہ اصطلاح عام طور پر ایسے واقعات کے لیے استعمال ہوتی ہے، جن کی فی الحال سائنس کے پاس کوئی وضاحت موجود نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ تجربات لوگوں کے لیے ذاتی طور پر بالکل حقیقی ہوتے ہیں اور ان کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔‘

تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان تجربات کی وجہ لازماً کوئی مافوق الفطرت قوت ہوتی ہے۔

شعور کی بدلی ہوئی کیفیت

سممنڈز مور کے مطابق جب لوگوں کو کسی مافوق الفطرت قوت یا ماورائی چیز کا تجربہ ہوتا ہے تو اس وقت ان کے دماغ میں کئی طرح کے عمل ہو سکتے ہیں۔

اس کی ایک وجہ نیند اور جاگنے کے درمیان کی کیفیت ہو سکتی ہے، جسے ’ہائپناگوگک سٹیٹ‘ کہا جاتا ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سیمنڈز مور کہتی ہیں کہ ’ایسے کئی تجربات اس وقت ہوتے ہیں جب انسان پوری طرح بیدار نہیں ہوتا اور اس کا دماغ معمول سے مختلف انداز میں کام کر رہا ہوتا ہے۔‘

’اس کیفیت میں انسان کے اپنے خیالات اور باہر ہونے والی چیزوں کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ یوں اسے یہ سمجھ نہیں آتا کہ جو کچھ وہ محسوس کر رہا ہے، وہ حقیقت ہے یا اس کے ذہن کا خیال۔‘

اسی دوران بعض لوگوں کو ’سلیپ پیرالسس‘ بھی ہو سکتا ہے، جس میں انسان کا جسم عارضی طور پر حرکت کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ سنہ 2011 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق عام آبادی کے 7.6 فیصد افراد کو زندگی میں کبھی نہ کبھی یہ تجربہ ہو چکا تھا۔ اس تحقیق میں مختلف ممالک کے افراد شامل تھے، تاہم طلبہ اور نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنے والے افراد کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔

گولڈ سمتھز یونیورسٹی آف لندن کے پروفیسر کرس فرنچ کے مطابق یہ ایسی کیفیت ہے جس میں ’آپ کا جسم تو جاگ جاتا ہے لیکن دماغ ابھی سو رہا ہوتا ہے۔‘

پروفیسر فرنچ نے اسی یونیورسٹی میں ایک تحقیقی شعبہ قائم کیا ہے جو بظاہر مافوق الفطرت قوت یا ماورائی نظر آنے والے واقعات کی سائنسی وجوہات کا مطالعہ کرتا ہے۔‘

اس کیفیت میں کئی طرح کی علامات سامنے آ سکتی ہیں۔ ان میں ایک یہ احساس بھی ہے کہ کمرے میں آپ کے علاوہ کوئی اور بھی موجود ہے۔

کرس فرنچ کہتے ہیں کہ ’آپ کو کمرے میں کچھ دکھائی یا سنائی نہ بھی دے، تب بھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہاں کوئی موجود ہے۔‘

A photo taken from directly above, showing a man in a blue pyjama top lying in a double bed with white sheets. His head is turned to the side and he's staring straight ahead. The room is dark, and a pair of slippers can be seen on the floor next to the bed.
،تصویر کا کیپشنپروفیسر فرنچ کے مطابق، نیند کے دوران جسم مفلوج ہونے کی کیفیت میں نظر آنے والے مناظر انتہائی خوفناک ہو سکتے ہیں، لیکن وہ حقیقت نہیں ہوتے بلکہ ذہنی وہم ہوتے ہیں۔

نیند کے دوران جسم کے عارضی طور پر مفلوج ہونے کی کیفیت میں بعض لوگوں کو ایسی چیزیں بھی دکھائی یا محسوس ہو سکتی ہیں جو حقیقت میں موجود نہیں ہوتیں۔ ان میں جسمانی احساسات بھی شامل ہیں۔

پروفیسر کرس فرنچ کہتے ہیں کہ ’یہ تجربہ انتہائی خوفناک ہو سکتا ہے، لیکن دراصل یہ ذہن میں پیدا ہونے والا ایک وہم ہوتا ہے، حقیقت نہیں۔‘

ماہرین کے مطابق بعض اوقات ہمارا دماغ بے ترتیب چیزوں میں بھی کوئی شکل یا نمونہ تلاش کرنے لگتا ہے۔ اس کیفیت کو ’پیراڈولیا‘ کہا جاتا ہے اور یہ بھی لوگوں کو مافوق الفطرت تجربات کا احساس دلا سکتی ہے۔

کینیڈا کی میک ایون یونیورسٹی کے پروفیسر روڈنی شملٹز کہتے ہیں کہ ’ہمارے دیکھنے کا انداز ایسا ہے کہ کبھی آنکھ کے کونے سے کوئی چیز نظر آتی ہے تو ہم اسے غلطی سے کسی چہرے یا انسان کی شکل سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ وہ ایسی نہیں ہوتی۔‘

سممنڈز مور کے مطابق جب انسان ذہنی دباؤ کا شکار ہو تو اس کا دماغ بے ترتیب چیزوں میں ایسی شکلیں تلاش کرنے لگتا ہے اور اس طرح کے تجربات ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

A concrete block holding together two metal posts. The block has two circular holes and a larger square hole, so it looks like a face with its mouth open.
،تصویر کا کیپشنانسانی دماغ بے ترتیب چیزوں میں بھی چہرے تلاش کرنے لگتا ہے۔

بعض ماہرینِ نفسیات کا خیال ہے کہ جب ہم اکیلے ہوتے ہیں تو کبھی کبھی ہمیں کسی دوسرے کی موجودگی کا احساس بھی ایک نفسیاتی کیفیت کی وجہ سے ہو سکتا ہے، جسے ’ڈسوسی ایشن‘ کہا جاتا ہے۔

سممنڈز مور کے مطابق اس کیفیت میں انسان کو اپنے وجود کے کچھ حصے خود سے الگ محسوس ہونے لگتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شدید ذہنی دباؤ کے دوران، مثلاً کسی حادثے کے وقت، انسان کو ایسا محسوس ہو سکتا ہے جیسے وہ خود سے الگ ہو گیا ہو۔

تاہم یہ کیفیت روزمرہ زندگی میں بھی ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر گاڑی چلاتے ہوئے جب ہم کسی مانوس راستے پر اس قدر عادت کے تحت سفر کرتے ہیں کہ ذہن کسی اور طرف ہوتا ہے اور ہمیں راستے کا زیادہ احساس نہیں رہتا۔

سممنڈز مور کے مطابق جب کسی کو اپنے قریب کسی کی موجودگی محسوس ہوتی ہے تو ممکن ہے کہ وہ دراصل اپنے ہی وجود کے کسی حصے کو کسی دوسرے شخص یا مخلوق کی صورت میں محسوس کر رہا ہو۔

ان کا کہنا ہے کہ ذہنی دباؤ یا نیند کی کمی کے دوران اس طرح کی کیفیت پیدا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

An artistic picture showing rainbow clouds in the background, with the outline of the side profiles of lots of faces against it. The clouds and the faces are arranged in a swirl pattern in the middle of the image.
،تصویر کا کیپشنٹرانس لِمینیلٹی کی جانچ میں زیادہ نمبر لینے والے افراد کو مافوق الفطرت تجربات ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

کچھ تحقیقات میں مافوق الفطرت تجربات کے دعوؤں اور ایک نفسیاتی خصوصیت کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے، جسے ’ٹرانس لِمینیلٹی‘ کہا جاتا ہے۔

سممنڈز مور کے مطابق اس خصوصیت کو جانچنے کے لیے سوالات پر مشتمل ایک فارم استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں زیادہ نمبر حاصل کرنے والے افراد عموماً تخلیقی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں، ان کا تصوراتی ذہن مضبوط ہوتا ہے اور وہ فن یا موسیقی سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے خواب بھی زیادہ یاد رکھتے ہیں اور ان میں معنی تلاش کرتے ہیں۔

ان کے مطابق ایسے افراد کو کسی نظر نہ آنے والی ہستی کی موجودگی محسوس ہونے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔

ان میں بعض افراد کو ’سینستھیزیا‘ نامی کیفیت بھی ہو سکتی ہے۔ اس میں ایک حس کے ذریعے ملنے والی معلومات دوسری حس کو بھی متحرک کر دیتی ہیں۔

مثال کے طور پر سممنڈز مور کہتی ہیں کہ ’اگر اس کیفیت میں مبتلا کوئی شخص گلابی رنگ دیکھے تو اس کے ذہن میں لاشعوری طور پر گلاب کے پھول کا خیال آ سکتا ہے اور اسے یوں محسوس ہو سکتا ہے جیسے اسے گلاب کی خوشبو بھی آ رہی ہو۔‘

ان کے خیال میں بعض لوگوں کے لیے مختلف حواس کے اس طرح ایک ساتھ کام کرنے کا تجربہ، کچھ مافوق الفطرت تجربات اور واقعات کی وضاحت کر سکتا ہے۔

تاہم، ان تجربات کی ممکنہ وجوہات صرف نفسیاتی نہیں ہیں۔

ماحول کا اثر

پروفیسر کرس فرنچ کے مطابق کچھ جگہیں دوسری جگہوں کے مقابلے میں زیادہ خوفناک محسوس ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جب کوئی شخص زیادہ روشنی والی جگہ سے کم روشنی والی جگہ پر جاتا ہے تو اسے بے چینی محسوس ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اونچی چھت والے کمروں میں داخل ہونے پر بھی بعض لوگوں کو گھبراہٹ یا بے سکونی محسوس ہوتی ہے۔‘

ماحول کے کچھ دوسرے اثرات کو سمجھنا قدرے مشکل ہے۔ ان میں ایک وجہ ایسی آوازیں بھی ہو سکتی ہیں جن کی فریکوئنسی 20 ہرٹز سے کم ہوتی ہے۔ انھیں ’انفراساؤنڈ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ آوازیں مختلف مشینوں، ٹریفک اور یہاں تک کہ عمارتوں میں پانی کی پائپ لائنوں، ہیٹنگ اور دیگر نظاموں سے بھی پیدا ہو سکتی ہیں، خاص طور پر پرانی عمارتوں میں۔

کینیڈا کی میک ایون یونیورسٹی کے پروفیسر روڈنی شملٹز کے مطابق انسان ان آوازوں کو عام طور پر سن نہیں سکتا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کا جسم اور ذہن پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔

انھوں نے ایک تحقیق کی جس میں سامنے آیا کہ انفراساؤنڈ کی موجودگی سے شرکا کے لعاب میں کورٹیسول نامی ہارمون کی مقدار میں معمولی اضافہ ہوا۔ یہ ہارمون ذہنی دباؤ سے جڑا ہوتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ ایسی آوازوں کی موجودگی میں لوگوں نے خود کو زیادہ چڑچڑا محسوس کیا۔

A white sound wave crossing from one side of the image to another, against a dark blue background.
،تصویر کا کیپشنماہرین کے مطابق ہم انفراساؤنڈ سن نہیں سکتے لیکن اس کے باوجود یہ ہم پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

انفراساؤنڈ اور مافوق الفطرت تجربات کے درمیان تعلق پر ماہرین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ خود پروفیسر کرس فرنچ کی ایک تحقیق میں بھی ان دونوں کے درمیان تعلق کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

پروفیسر روڈنی شملٹز بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ صرف انفراساؤنڈ کی موجودگی کسی شخص کو ماورائی تجربے سے دوچار کرنے کے لیے کافی نہیں۔ تاہم، ان کے خیال میں یہ اس کی ممکنہ وجوہات میں سے ایک چھوٹی سی کڑی ہو سکتی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ذہنی دباؤ کے باعث ’پیراڈولیا‘ جیسی کیفیت بڑھ سکتی ہے، جس میں انسان بے ترتیب چیزوں میں بھی کوئی شکل یا چہرہ دیکھنے لگتا ہے۔

بے چینی محسوس کرنا یا یہ گمان ہونا کہ ہمارے آس پاس کوئی چیز موجود ہے، ایک بات ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اس احساس کو ماورائی یا غیر معمولی واقعہ کیوں سمجھنے لگتے ہیں؟

سچائی یا بقا؟

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس سوال کا جواب انسانی ارتقا میں چھپا ہو سکتا ہے۔

مافوق الفطرت تجربات اور چیزوں پر لوگوں کے یقین کی وجوہات کا مطالعہ کرنے والی ماہرِ لوک داستانیں ڈیبورا ہائیڈ کہتی ہیں ’ہمیں سچ جاننے کے بجائے زندہ رہنے کے لیے بنایا گیا ہے۔‘

ان کے مطابق ہمارے دماغ اور حواس اس طرح کام کرتے ہیں کہ ہم کسی صورتِ حال کی اصل حقیقت جاننے کے بجائے اپنی جان بچانے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔

ماضی میں خطرے کا بدترین امکان ذہن میں رکھنا ہمارے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا تھا۔ مثال کے طور پر، کسی سائے کو شکاری جانور سمجھ لینا یا کسی نامعلوم آواز کو ممکنہ خطرہ تصور کرنا۔

ہائیڈ کے مطابق انسانوں میں ایک ذہنی رجحان بھی پایا جاتا ہے جسے ’ایجنسی ڈیٹیکشن‘ کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم کسی واقعے کے پیچھے کسی جاندار یا ارادے کے ساتھ کام کرنے والی ہستی کو تلاش کرتے ہیں۔

پروفیسر کرس فرنچ کے مطابق ’جب ہمارے ساتھ کوئی عجیب واقعہ پیش آتا ہے تو ہمارا ذہن فوری طور پر یہ فرض کر لیتا ہے کہ اسے کسی ایسے شخص یا چیز نے جان بوجھ کر کیا ہے جس میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہے اور جس کا کوئی خاص مقصد ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’اس سوچ سے یہ خیال قائم کرنا زیادہ مشکل نہیں رہتا کہ ہمارے آس پاس کچھ ایسے خطرات بھی موجود ہو سکتے ہیں جو نظر نہیں آتے، مثلاً مختلف قسم کی غیر مرئی مخلوقات۔‘

An artistic image showing a person wearing hospital scrubs, pushing a gurney with a patient in it towards a bright light against a turquoise background.
،تصویر کا کیپشنہم بھوتوں کے وجود پر یقین رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ موت کے بعد زندگی ہونے کا ثبوت ہو سکتے ہیں۔

’کنفرمیشن بائس‘ یعنی پہلے سے قائم یقین کے مطابق شواہد تلاش کرنا بھی اس بات کی وضاحت کر سکتا ہے کہ لوگ غیر معمولی تجربات کو مافوق الفطرت واقعات کیوں سمجھتے ہیں۔

ماہرِ لوک داستانیں ڈیبورا ہائیڈ کہتی ہیں کہ ’مختلف ثقافتوں میں لوگوں کے عقائد تو الگ ہو سکتے ہیں لیکن مذہب اور توہم پرستی انسانی سوچ کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔‘

پروفیسر کرس فرنچ کے مطابق ’اگر آپ پہلے ہی یہ یقین رکھتے ہیں کہ بھوت واقعی موجود ہیں تو پھر یہ کہنا غیر منطقی نہیں لگتا کہ کسی عجیب واقعے کی وجہ بھوت ہی ہو سکتا ہے۔‘

اس کے ساتھ یہ بات بھی اہم ہے کہ انسان بعض اوقات بھوتوں پر یقین رکھنا چاہتا ہے۔

فرنچ کہتے ہیں کہ ’جب ہم پہلے سے کسی بات کو سچ مانتے ہیں یا چاہتے ہیں کہ وہ سچ ہو تو ہم ان شواہد پر زیادہ توجہ دیتے ہیں جو ہمارے یقین کی حمایت کرتے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’بھوتوں کا وجود موت کے بعد زندگی کے تصور کے حق میں ایک طرح کا ثبوت سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے اگر ہم موت کے بعد زندگی پر یقین رکھنا چاہتے ہیں تو ہمارے لیے یہ ماننا بھی آسان ہو جاتا ہے کہ شاید بھوت واقعی موجود ہیں۔‘

'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔

نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔