غازان خان: ہلاکو خان کے پڑپوتے جنھوں نے اسلام قبول کر کے منگول سلطنت کی شناخت بدل دی

،تصویر کا ذریعہUniversal Images Group via Getty Images
- مصنف, وقار مصطفیٰ
- عہدہ, صحافی و محقق
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
سنہ 1295 کے موسمِ گرما میں ایران کے شمال میں، البُرز کے پہاڑی علاقے میں واقع داماوند کے لار میدان میں ایک غیر معمولی تقریب کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔
یہاں منگول سلطنت کے بانی چنگیز خان سے پانچ پشت بعد آنے والے، اور بغداد میں عباسی خلافت کا خاتمہ کرنے والے ہلاکو خان کے پڑپوتے غازان خان اسلام قبول کرنے والے تھے۔
وہ اس وقت خراسان کے گورنر اور منگول سلطنت کی ایرانی شاخ، ایلخانی سلطنت، کے تخت کے ایک طاقتور امیدوار تھے۔ ایلخانی سلطنت کی بنیاد ہلاکو نے اپنے بھائی، منگول فرمانروا منگکے خان، کے حکم پر 1256 میں ایران فتح کرنے کے بعد رکھی تھی۔ ایلخان کا مطلب تھا ’تابع خان‘، یعنی منگول عظیم خان کے ماتحت حکمران۔
انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق 1258 میں بغداد کی فتح کے بعد ایلخانیوں نے ایران اور عراق کے وسیع علاقوں کو ایک سیاسی وحدت میں ڈھال دیا تھا۔
غازان خان 5 نومبر 1271 کو ایران کے شہر آبسکون میں پیدا ہوئے۔
بریٹانیکا کے لیے کینتھ پلیچر کی تحقیق کے مطابق غازان کے دادا اباقا اور والد ارغون (1284-1291) دونوں بدھ مت کے پیروکار تھے، چنانچہ غازان کی پرورش بھی اسی مذہب میں ہوئی۔
’ارغون نے اپنے چچا تیکودار سے تخت چھینا، جنھوں نے اسلام قبول کر لیا تھا، اور ان کی اسلامی پالیسیاں ختم کر دیں۔ انھوں نے مملوکوں کے خلاف مسیحی مغربی طاقتوں سے اتحاد کی کوشش کی، مگر ناکام رہے۔ ان کے دور میں یہودی سعد الدولہ وزیرِ اعظم بنے، لیکن ارغون کی علالت کے دوران مخالفین نے انھیں قتل کر دیا۔
’ارغون کے بعد ان کے بھائی گیخاتو اور پھر چچا زاد بھائی بایدو حکمران بنے۔ ارغون نے 1284 میں غازان کو شمال مشرقی فارس کا نائب حکمران مقرر کیا تھا، جہاں انھوں نے اگلی ایک دہائی چغتائی منگولوں اور اپنے باغی نائب نورُوز کا مقابلہ کرتے ہوئے گزاری۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
کینتھ پلیچر کے مطابق گیخاتو سے غازان کے تعلقات کشیدہ رہے، جبکہ تخت پر قبضہ کرنے والے بایدو کے ساتھ ان کی کشمکش کھلی جنگ میں بدل گئی۔ ابتدائی جھڑپ اور عارضی صلح کے بعد غازان نے 1295 کا موسمِ گرما موجودہ تہران کے شمال میں واقع پہاڑوں میں گزارا۔
’وہاں انھوں نے نورُوز کے مشورے پر، جن سے اب ان کی صلح ہو چکی تھی، اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا۔‘
بعد میں درباری مؤرخ اور غازان خان کے وزیرِ اعظم بننے والے رشیدالدین ہمدانی اپنی تصنیف ’جامع التواریخ‘ میں لکھتے ہیں کہ غازان نے شیخ صدرالدین حَمَوی کی موجودگی میں کلمۂ توحید پڑھا اور ان کے ساتھ ان کے امرا نے بھی اسلام قبول کیا۔
انھوں نے اپنے لیے اسلامی نام محمود اختیار کیا اور بعد ازاں معزالدین کا لقب بھی اپنایا۔
رشیدالدین اس واقعے کو غازان کے مذہبی غور و فکر اور توحید کی طرف ان کے رجحان کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔
اس تقریب کے بعد جشن منایا گیا۔
جوناتھن براک نے ’میڈیئٹنگ سیکرڈ کنگ شپ‘ میں عبداللہ قاشانی سے منسوب ’تاریخِ مبارکِ غازانی‘ کے حوالے سے لکھا ہے کہ غازان نے علما، ائمہ اور سادات کی سرپرستی کا اعلان کیا اور مذہبی اداروں کے لیے عطیات اور وظائف مقرر کیے۔
انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا کے مطابق اس تبدیلی کی اہمیت صرف اس تقریب تک محدود نہیں تھی۔
’غازان کے اسلام قبول کرنے کے بعد منگول امرا اور سپاہیوں میں اسلام تیزی سے پھیلا اور ایلخانی سلطنت نے بتدریج ایک مسلم سلطنت کے طور پر اپنی شناخت قائم کی۔ ان کے دور میں مساجد، مدارس اور دیگر اسلامی اداروں کی تعمیر اور سرپرستی کو فروغ ملا۔‘
مورخ رووین امیتائی پریئس کے مطابق غازان خان نے اسلام قبول کرنے کے بعد ایک مسلمان لشکر کی قیادت کرتے ہوئے بایدو کو شکست دی۔
بریٹانیکا میں لکھا ہے کہ اس کے بعد بایدو کو اسی روز سزائے موت دے دی گئی جس دن غازان ایلخانی سلطنت کے دار الحکومت تبریز میں داخل ہوئے۔
ایلخانی فرمانروا

،تصویر کا ذریعہUniversal Images Group via Getty Images
غازان خان تین نومبر 1295 کو تخت نشین ہوئے۔
بریٹانیکا کے مطابق عہدِ حکومت کے پہلے ہی سال انھیں کئی بغاوتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان سب کو نہایت سختی سے کچل دیا گیا اور بغاوت میں ملوث ہونے کے الزام میں شاہی خاندان کے کم از کم پانچ شہزادوں کو سزائے موت دی گئی۔
’امیر نورُوز، جنھوں نے غازان کو تخت تک پہنچانے میں مدد دی تھی، بھی جلد ہی مملوکوں کے ساتھ مبینہ سازباز کے الزام میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔‘
غازان خان کے قبولِ اسلام سے منگول علاقوں میں اسلام کو فروغ ملا، تاہم انھوں نے مختلف مذاہب کے ساتھ رواداری کا رویہ بھی برقرار رکھا۔
سر ٹامس واکر آرنلڈ نے ’دی پریچنگ آف اسلام‘ میں لکھا ہے کہ جب غازان کو معلوم ہوا کہ بعض بدھ راہبوں نے اپنے معبدوں کی تباہی کے بعد محض جان بچانے کے لیے اسلام قبول کیا تھا تو انھوں نے انھیں تبت، کشمیر اور ہندوستان کے دیگر علاقوں میں واپس جانے کی اجازت دے دی، جہاں وہ آزادی سے اپنے مذہب پر عمل کر سکتے تھے اور بدھ مت کے دوسرے پیروکاروں کے ساتھ رہ سکتے تھے۔
مجموعی طور پر غازان خان کے قبولِ اسلام کو ذاتی عقیدے، سیاسی حکمتِ عملی اور منگول روایات کے ایک پیچیدہ امتزاج کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
امیتائی کے مطابق ان کے دورِ حکومت میں منگول قانون ’یاسا‘ نافذ رہا اور منگول ’شمن‘ مذہبی پیشوا سیاسی طور پر با اثر رہے۔ تاہم غازان کے بھائی اور جانشین اولجایتو کی وفات کے بعد قدیم منگول روایات بتدریج زوال پذیر ہو گئیں۔
غازان نے عیسائیوں کو جزیے سے مستثنیٰ قرار دیا۔ 1296 میں انھوں نے عیسائی پیشوا مار یابالاہا سوم کو دوبارہ ان کے منصب پر بحال کیا۔
اسی طرح رشیدالدین کے مطابق 21 جولائی 1298 کو تبریز میں گرجا گھروں اور یہودی عبادت گاہوں کو تباہ کرنے والے مذہبی انتہا پسندوں کو بھی مبینہ طور پر سزا دی گئی۔
مملوکوں سے دشمنی برقرار رہی
بریٹانیکا کے مطابق مسلمان حکمران اور ایک مسلم ریاست کے سربراہ بن جانے کے باوجود غازان نے اپنے خاندان کی مملوکوں کے ساتھ موروثی دشمنی جاری رکھی، جو اسلام کے محافظ ہونے کے دعوے دار تھے۔ 1299 اور 1300 میں انھوں نے شام پر حملہ کیا، حمص کے مقام پر مصری فوج کو شکست دی اور فاتحانہ انداز میں دمشق میں داخل ہوئے۔
’تاہم 1300 کے اوائل میں جب وہ فارس واپس پہنچے تو مملوکوں نے دوبارہ اس علاقے پر قبضہ کر لیا۔
’اسی سال موسمِ خزاں میں غازان نے دوبارہ حملہ کیا، لیکن خراب موسم کے باعث فوجی کارروائیاں ممکن نہ رہیں اور دشمن سے آمنا سامنا ہونے سے پہلے ہی یہ مہم ترک کر دی گئی۔‘
علما سے ملاقات
ڈینیز ایگل نے ’دی منگول اِنویژنز آف بلاد الشام بائی غازان خان اینڈ ابن تیمیہز تھری ’اینٹی منگول‘ فتاویٰ‘ میں لکھا ہے کہ غازان خان کی شام پر یلغار سے خوف زدہ مملوک حکمرانوں نے جنوری 1300 میں دمشق سے ممتاز علما اور ائمہ کا ایک وفد ان کے پڑاؤ النبک روانہ کیا تاکہ انھیں دمشق پر حملے سے باز رکھا جا سکے۔
وفد میں مسلم عالم، فقیہ اور محدث ابن تیمیہ بھی شامل تھے۔ روایت ہے کہ غازان خان کے سامنے موجود علما میں سے کسی کو گفتگو کی جرأت نہ ہوئی، سوائے ابن تیمیہ کے، جنھوں نے ان سے کہا: ’آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ مسلمان ہیں اور آپ کے ساتھ مؤذن، مفتی، امام اور شیخ بھی ہیں، لیکن آپ نے ہم پر حملہ کیا اور ہمارے ملک تک آن پہنچے۔ آپ کے والد اور دادا ہلاکو غیر مسلم تھے، مگر انھوں نے ہم پر حملہ نہیں کیا اور اپنے وعدے نبھائے۔ اس کے برعکس آپ نے وعدہ کیا اور اسے توڑ دیا۔‘
ابن کثیر کی کتاب البدایہ والنہایہ کے مطابق اسی ملاقات میں ابن تیمیہ نے غازان خان کے لیے کچھ اس انداز میں دعا بھی کی: ’اے اللہ! اگر غازان تیرے دین کے کلمے کی سربلندی اور تیری راہ میں جدوجہد کے لیے لڑ رہے ہیں تو ان کی مدد فرما، اور اگر ان کا مقصد صرف دنیاوی اقتدار اور مال و دولت حاصل کرنا ہے تو انھیں اسی کے مطابق بدلہ دے۔‘
تیسری فوجی مہم کے لیے غازان نے مسیحی مغرب سے اتحاد کی کوشش کی۔
بریٹانیکا کے مطابق 12 اپریل 1302 کو پوپ بونیفیس ہشتم کے نام اپنے خط میں انہوں نے شام پر حملے کے ایک تفصیلی منصوبے کا حوالہ دیا، جو اس سے پہلے یورپ کے حکمرانوں کو پیش کیا جا چکا تھا۔
انہوں نے لکھا: ’فی الحال ہم اسی منصوبے میں طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق اپنی تیاریاں کر رہے ہیں۔ آپ بھی اپنے لشکر تیار کریں، مختلف قوموں کے حکمرانوں کو اطلاع بھیجیں اور طے شدہ مقام پر پہنچنے میں کوتاہی نہ کریں۔ آسمان کی مرضی ہوئی تو ہم (یعنی غازان) اس عظیم مقصد، (یعنی مملوکوں کے خلاف جنگ) کو اپنی واحد ترجیح بنائیں گے۔‘
غازان نے جس مہم کا اس خط میں ذکر کیا تھا، وہ 1303 کے موسمِ بہار میں یورپی مدد کے بغیر شروع ہوئی۔
منگول لشکر کو شام میں ابتدا میں کسی بڑی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، لیکن دمشق کے جنوب میں انھیں فیصلہ کن شکست ہوئی۔
فوجی مہمات کے بعد غازان خان جولائی 1302 میں اپنے دار الحکومت اوجان واپس آ گئے۔
رشیدالدین کے مطابق اپنی اہلیہ کرامون کی وفات کے بعد غازان شدید افسردہ رہنے لگے تھے۔ انھوں نے ایک مرتبہ اپنے امیروں سے کہا تھا: ’زندگی ایک قید خانہ ہے، کوئی نعمت نہیں۔‘
سنہ 1303 کے موسمِ خزاں میں غازان ایک بیماری میں مبتلا ہو گئے، جس کے باعث چوتھی فوجی مہم ممکن نہ ہو سکی۔ مارچ یا اپریل 1304 میں انھوں نے اپنے بھائی اولجایتو کو اپنا جانشین نامزد کر دیا، کیونکہ ان کا کوئی بیٹا نہیں تھا۔
وہ کچھ عرصے کے لیے صحت یاب ہوئے، لیکن بیماری دوبارہ لوٹ آئی اور 11 مئی 1304 کو وہ وفات پا گئے۔ ان کی میت کو وادیِ لار کے پانی سے غسل دیا گیا۔
اسی پانی سے اسلام قبول کرنے سے پہلے انھوں نے وضو کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہUniversal Images Group via Getty Images
ورثہ اور تاریخی مقام
مورخین کا ماننا ہے کہ جب محمود غازان نے 1295 میں تخت سنبھالا تو منگول ایلخانی سلطنت ایک دوراہے پر کھڑی تھی۔ ایک طرف اس کا خانہ بدوش ماضی تھا اور دوسری طرف ایران کی قدیم تہذیب۔
ایک عشرے سے بھی کم عرصے میں غازان خان نے جنگوں سے تباہ حال منگول چوکی کو ایک طاقتور اور فارسی تہذیب سے آراستہ سلطنت میں بدل دیا۔
غازان خان کے قبولِ اسلام نے نہ صرف ان کے طرزِ حکمرانی بلکہ ایران کی ثقافتی اور سیاسی شناخت کو بھی بدل ڈالا۔ انھوں نے انتظامی، مالیاتی اور مذہبی اصلاحات کا ایک وسیع سلسلہ شروع کیا، سکے کے نظام کو معیاری بنایا، بد عنوانی پر قابو پایا اور فارسی فن، فنِ تعمیر، علم اور ادب کو دوبارہ فروغ دیا۔
تاہم ان کا عہد داخلی کشمکش سے بھی عبارت تھا: ایک منگول النسل حکمران، جو اسلامی بادشاہت کی پیچیدہ دنیا میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہا تھا اور جسے چنگیز خان کی تلوار اور فارسی اہلِ علم کے قلم کے درمیان توازن قائم کرنا تھا۔
غازان خان غیر معمولی علمی تجسس کے مالک تھے اور تاریخِ فطرت، طب، فلکیات اور علمِ کیمیا جیسے متنوع موضوعات سے واقفیت رکھتے تھے۔
انھیں کئی دست کاریوں میں بھی مہارت حاصل تھی۔
بازنطینی مورخ پاخیمیرس کے بقول: 'زین، لگام، رکاب، زرہ اور خود بنانے میں کوئی ان کا ہم سر نہ تھا۔ وہ دھات کو کوٹنے، سلائی کرنے اور پالش کرنے میں بھی ماہر تھے اور جنگ سے فراغت کے اوقات میں یہ کام کرتے تھے۔'
کہا جاتا ہے کہ اپنی مادری زبان منگولی کے علاوہ وہ عربی، فارسی، ہندی، کشمیری، تبتی، چینی اور فرنگی (غالباً فرانسیسی) زبانیں بھی جانتے تھے۔
ان ہی کے مشورے اور تعاون سے ان کے وزیر رشیدالدین نے منگولوں کی تاریخ مرتب کی، جسے بعد میں وسعت دے کر ایشیا اور یورپ کی ان تمام اقوام کی تاریخ بھی شامل کر لی گئی جن سے منگول فتوحات کے نتیجے میں ان کا واسطہ پڑا تھا۔
بریٹانیکا کے مطابق غازان کے بااثر وزیر رشیدالدین غالباً ان مالیاتی اصلاحات کے اصل معمار بھی تھے جو غازان کے نام سے منسوب ہیں۔ ان اصلاحات کا مقصد مستقل سکونت اختیار کرنے والی آبادی کو خانہ بدوش اشرافیہ کی ناجائز وصولیوں اور استحصال سے تحفظ دینا تھا۔
غازان خان کے قبولِ اسلام نے منگول فتوحات کے بعد قائم ہونے والی ایک بڑی سلطنت کی مذہبی سمت بدل دی۔
منگولوں اور ترکوں کا تعلق محض فاتح اور مفتوح کا نہیں رہا بلکہ وقت کے ساتھ دونوں کے درمیان نسلی، لسانی، عسکری اور تہذیبی امتزاج پیدا ہوا۔ منگول سلطنت کے قیام کے بعد وسطی ایشیا اور قپچاق میدانوں میں آباد ترک قبائل منگول فوج اور انتظامیہ کا حصہ بنے، جبکہ منگول حکمرانوں نے بھی مقامی ترک زبانوں اور رسوم و رواج کو اپنایا۔
مورخہ بیٹریس فوربز منز اپنی کتاب ’دی رائز اینڈ رول آف تیمورلین‘ میں لکھتی ہیں کہ منگول حکمرانوں نے مقامی آبادیوں کی ضروریات کے مطابق ایک ایسا نیا تمدن تشکیل دیا جس میں منگول خانہ بدوش روایات کے ساتھ مغربی میدانوں کے ترک قبائل اور آباد زرعی معاشروں کے ثقافتی عناصر شامل تھے۔
اس امتزاج کے نتیجے میں منگولوں کی کئی جانشین ریاستوں میں ایک نئی ترک۔منگول شناخت ابھری۔
یونیورسٹی آف ٹورانٹو کے محقق جو یوپ لی اپنے 2018 کے تحقیقی مقالے ’سم ریمارکس آن دی ترکِسائزیشن آف دی منگولز اِن پوسٹ منگول سینٹرل ایشیا اینڈ دی قپچاق سٹیپ‘ میں لکھتے ہیں کہ وسطی ایشیا اور قپچاق میدانوں کے ترک خانہ بدوش گروہ مختلف ترک قبائل اور منگولوں کے باہمی امتزاج سے وجود میں آئے۔
ان کے مطابق اس عمل میں منگول شناخت اور قبائلی روایات بھی برقرار رہیں؛ یہ محض ترک آبادی میں منگولوں کے ضم ہو جانے کا معاملہ نہیں تھا۔
گیون آر جے ہیمبلی کی تحقیق ہے کہ محمود غازان نے منگولوں کو مشرقِ وسطیٰ کی روایتی اسلامی تہذیب میں ضم کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا، اگرچہ ان کی وفات تک یہ عمل مکمل نہیں ہوا تھا۔
’انھوں نے ٹیکسوں اور زمین داری کے نظام میں وسیع اصلاحات کیں، جن کا مقصد کسانوں کی مشکلات کم کرنے کے ساتھ سرکاری آمدنی بڑھانا تھا۔ تاجروں کے تحفظ اور تجارت کے فروغ کے لیے سخت احکامات جاری کیے، جبکہ ڈاکوؤں اور قافلوں کو لوٹنے والے دیہاتیوں کے خلاف فوری انصاف یقینی بنایا۔
’پلوں کی مرمت، سڑکوں کی بہتری، اوزان و پیمائش کے معیار اور سکے کے نظام میں اصلاحات، اور سرحدوں پر محصول کی چوکیوں کا قیام بھی ان کے اقدامات میں شامل تھا۔‘
ان اصلاحات پر عمل درآمد کی تصدیق ان کے وزیرِاعظم رشیدالدین کے تحریر کردہ متعدد سرکاری خطوط اور انتظامی احکامات سے ہوتی ہے۔
گیون لکھتے ہیں کہ اپنی رعایا کے ساتھ حکمران کی ذمہ داری کے بارے میں ان کا تصور بھی اپنے پیش روؤں کے مقابلے میں زیادہ نرم اور فلاحی معلوم ہوتا ہے۔
بریٹانیکا کے مطابق اسلام قبول کرنے اور ان اصلاحات نے منگولوں اور فارسیوں کو ایک قوم میں ڈھالنے میں اہم کردار ادا کیا ہو گا، بالکل اسی طرح جیسے نارمن اور انگریز رفتہ رفتہ ایک قوم بن گئے تھے۔ اس طرح ایلخانی حکمران خاندان بھی پلانٹاجنیٹ خاندان کی طرح ایک حقیقی قومی سلطنت کی بنیاد بن سکتا تھا۔
’تاہم غازان خان نے شاہی خاندان کے تخت کے حریفوں کو بے رحمی سے ختم کر کے خود بھی ایلخانی خاندان کے زوال میں حصہ ڈالا۔ یہ خاندان ان کی وفات کے صرف 30 برس سے کچھ زیادہ عرصے بعد ختم ہو گیا۔‘
نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں ہے۔




















