ایشین گیمز: صاحبزادہ فرحان کی قیادت میں 15 رُکنی سکواڈ سے ’بڑے نام‘ ڈراپ، ’جب کوئی آئی سی سی ایونٹ آئے گا تو سپر سٹارز پھر واپس آ جائیں گے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے رواں برس ستمبر، اکتوبر میں شیڈول ایشین گیمز کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم کے 15 رُکنی سکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔ شاہین شاہ آفریدی کی جگہ صاحبزادہ فرحان کو ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے جبکہ کئی نئے چہروں کو بھی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
15 رُکنی سکواڈ میں کپتان صاحبزادہ فرحان کے علاوہ عبدالصمد، ابرار احمد، احمد دانیال، عاکف جاوید، علی رضا، عرفات منہاس، حیدر علی، حسن نواز، معاذ صداقت، سلمان مرزا، سعد مسعود، صائم ایوب، سفیان مقیم اور عثمان خان شامل ہیں۔
رواں برس ورلڈ کپ میں پاکستان کی قیادت کرنے والے کپتان سلمان آغا، شاہین شاہ افریدی، فہیم اشرف، نسیم شاہ، عثمان طارق، شاداب خان، بابر اعظم، محمد نواز، فخر زمان کو ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔
بعض ماہرین پاکستان کے نئے چہروں پر مشتمل سکواڈ کو 2028 کے ٹی 20 ورلڈ کپ کی منصوبہ بندی قرار دے رہے ہیں تاہم پی سی بی کے اعلامیے کے مطابق ٹیم کا انتخاب فی الحال ایشین گیمز کے لیے کیا گیا۔
واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی تینوں فارمیٹ میں حالیہ کارکردگی مایوس کن رہی ہے جبکہ ٹی 20 ورلڈ کپ کے گذشتہ دو ایڈیشنز میں پاکستانی ٹیم سیمی فائنل تک بھی رسائی حاصل نہیں کر سکی تھی۔
اس دوران سلمان علی آغا کو ٹی 20 ٹیم کا کپتان برقرار رکھنے اور شاداب خان سمیت کچھ کھلاڑیوں کو شامل کرنے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ٹیم میں جن نئے کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا، ان میں علی رضا، سعد مسعود، معاذ صداقت اور عاکف جاوید نے تاحال پاکستان کی ٹی 20 میں نمائندگی نہیں کی جبکہ حیدر علی کی پاکستان کے ٹی 20 سکواڈ میں واپسی ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہPCB
سوشل میڈیا پر ردِعمل
نئے چہروں پر مشتمل پاکستان کے ٹی 20 سکواڈ کا سوشل میڈیا پر بھی چرچا ہے، بہت سے صارفین اسے پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے بہترین فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سابق کرکٹر باسط علی نے اپنے وی لاگ میں ٹیم کے انتخاب کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان چاہے ایشین گیمز ہار جائے لیکن مستقبل کو دیکھتے ہوئے یہ بہترین فیصلہ ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ انڈیا نے اس ایونٹ کے لیے بہت مضبوط سکواڈ تشکیل دیا ہے جس میں بمراہ بھی شامل ہیں۔ ایسے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے یہ فیصلہ بہت دلیرانہ ہے۔
سپورٹس جرنلسٹ شاہد ہاشمی نے ایکس پر لکھا کہ پاکستان نے ایشین گیمز کے لیے مضبوط سکواڈ تشکیل دیا تاہم بطور کپتان یہ صاحبزادہ فرحان کے لیے سیکھنے کا موقع ہو گا۔
اے کے نام سے ایک صارف نے ایکس پر لکھا کہ میرے خیال میں کئی سال میں یہ پہلا موقع ہے جب میں نے پی سی بی کو خالصتاً میرٹ پر ٹیم کا انتخاب کرتے دیکھا۔ کوئی بابر، آغا، رؤف، شاداب یا شاہین نہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ انڈیا کی ٹیم نے بڑے ناموں پر مشتمل سکواڈ تشکیل دیا اور یہ دیکھنا اچھا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس دباو میں نہیں آیا اور نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہX/@was_abdd
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سپورٹس جرنلسٹ عمر فاروق کالسن نے ایکس پر لکھا کہ پاکستان کا ایشین گیمز سکواڈ بڑی حد تک بینچ پر بیٹھے رہنے والے کھلاڑیوں پر مشتمل ہے اور سینیئر کھلاڑیوں کو شامل نہیں کیا گیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ تجربہ کار کھلاڑیوں کی غیر موجودگی میں نئے کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دینا ہے۔ لہذا یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ پاکستانی ٹیم اب تبدیلی کے لیے تیار ہے لیکن یہ نوجوان کرکٹرز کا امتحان بھی ہو گا کہ وہ سینیئرز کی غیر موجودگی میں ٹیم کا بوجھ اُٹھا سکتے ہیں یا نہیں۔
عبداللہ نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ یہ بہترین سکواڈ ہے لیکن اگر حنین شاہ یا عبید شاہ میں سے کسی کو شامل کر لیا جاتا تو ٹیم مزید بہتر ہوتی اور صاحبزادہ فرحان کے بجائے فہیم اشرف یا فخر زمان کو کپتانی سونپی چانی چاہیے تھی۔
رضا نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ سب سے زیادہ خوشی عاکف جاوید، علی رضا اور سفیان مقیم کو دیکھ کر ہوئی لیکن کیا فائدہ پھر جب کوئی آئی سی سی ایونٹ آئے گا تو پھر ’سپر سٹارز‘ واپس آ جائیں گے۔
یاد رہے کہ صاحبزادہ فرحان پاکستان کی جانب سے 46 ٹی 20 میچز میں 1305 رنز بنا چکے ہیں جن میں دو سنچریاں اور 10 نصف سنچریاں شامل ہیں جبکہ نائب کپتان عبدالصمد پاکستان کی جانب سے پانچ ٹی 20 میچز کھیل چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایشین گیمز
20 ویں ایشین گیمز جاپان کے شہر ناگویا اور صوبہ آئیچی میں منعقد ہونے والے ہیں۔ یہ ایونٹ 19 ستمبر سے چار اکتوبر تک ہو گا۔
ایشین گیمز میں مردوں کے ٹی20 ایونٹ میں 10 ٹیمیں شرکت کریں گی جبکہ میڈل کے لے فائنل مقابلے تین اکتوبر کو کھیلے جائیں گے۔
ایونٹ میں پاکستان اور انڈیا کے علاوہ بنگلہ دیش، افغانستان، سری لنکا، جاپان، نیپال، ملائیشیا، عمان اور ہانگ کانگ کی ٹیمیں شامل ہیں۔


























