آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’یہ ناقابلِ برداشت ہے‘: جاپان میں ’غیر قانونی‘ مسجد اور افتتاحی تقریب میں پاکستانی سفیر کی شرکت پر تنازع
جاپان کے شہر کاواگوے میں ایک مسجد اس وقت خبروں میں آئی جب حکام نے کہا کہ اسے ’بلا اجازت‘ تعمیر کیا گیا ہے۔ مگر یہی وہ مسجد تھی جس کی افتتاحی تقریب میں پاکستانی سفیر نے بھی شرکت کی تھی۔
جہاں اس افتتاحی تقریب میں شرکت کرنے پر پاکستانی سفارتخانہ تنقید کی زد میں آیا وہیں کاواگوے کی میئر ہتسوئی موریتا نے موجودہ صورتحال کو ’ناقابلِ برداشت‘ قرار دیتے ہوئے اس مسئلے کے فوری حل کا وعدہ کیا ہے۔
جاپانی اخبار سانکے کے مطابق کاواگوے کی میئر کا ایک پریس کانفرنس میں ’جامع مسجد رمضان‘ کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’یہ غیر قانونی عمارت ہے جسے اربن ڈویلپمنٹ کنٹرول ایریا میں بغیر اجازت بنایا گیا ہے اور ہم ایک ایسی پالیسی کے تحت کام کر رہے جس میں ہم موجودہ صورتحال برداشت نہیں کر سکتے۔‘
اس مسجد کی افتتاحی تقریب رواں برس اپریل کے مہینے میں منعقد ہوئی تھی جس میں پاکستانی سفیر عبدالحمید بھی شریک ہوئے تھے۔
جاپان میں پاکستانی سفارتخانے نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستانی سفیر نے اس معلومات کی بنیاد پر دعوت نامہ قبول کیا تھا کہ وہاں (مسجد کی تعمیر کے لیے) جاپانی قانون کے مطابق سارے اجازت نامے حاصل کر لیے گئے تھے۔‘
دسمبر 2024 میں کیے جاپانی امیگریشن ایجنسی کی جانب سے کیے گئے ایک سروے کے مطابق جاپان میں اس وقت 30 ہزار سے زیادہ پاکستانی شہری رہائش پذیر تھے۔ پیو ریسرچ سینٹر کی جانب سے کیے گئے ایک سروے کے مطابق سنہ 2020 تک جاپان کی تقریباً ایک فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی۔
مسجد کا معاملہ ہے کیا؟
میئر ہتسوئی موریتا مسجد کی عمارت کو غیرقانونی قرار دے چکی ہیں۔ دوسری جانب کاواگوے کے سٹی ڈویلپمنٹ گائیڈنس ڈویژن نے بھی اس حوالے سے ایک جاپانی خبر رساں ادارے سے بات کی ہے۔
سٹی ڈویلپمنٹ گائیڈنس ڈویژن نے جے کاسٹ نیوز کو بتایا کہ شہری انتظامیہ کو اکتوبر 2024 میں پہلی مرتبہ ایک شہری کے ذریعے معلوم ہوا تھا کہ اربن ڈویلپمنٹ کنٹرول ایریا میں بلا اجازت اس مسجد کی تعمیر تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شہری ادارے نے مزید بتایا کہ اس کی جانب سے فوجیمی شہر میں قائم اس زمین کی مالک کمپنی سے بھی رابطہ کیا گیا تھا، جس نے اسے بتایا کہ ’یہ زمین فروخت ہو چکی ہے۔‘
ادارے کا کہنا ہے کہ زمین کا نیا مالک کون ہے یہ بات غیر واضح تھی، اسی لیے تعمیر رکوانے کے لیے نوٹس جاری کیا گیا۔
تاہم موقع پر موجود غیر ملکی کارکنان نے کہا کہ وہ جاپانی زبان نہیں سمجھتے اور انھوں نے تعمیراتی کام جاری رکھا۔
جاپانی اخبار سانکے کے مطابق زمین کی مالک پاکستانی شہری کی ایک کمپنی ہے، جسے مسجد مسمار کرنے کا نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا۔ اس کے بعد کمپنی نے شہری انتظامیہ کو مسجد کی عمارت ختم کرنے کے لیے ایک پانچ سالہ منصوبہ دیا۔
گذشتہ روز کاواگوے کی میئر نے کہا تھا کہ ’دوسرے فریق نے پانچ سالہ مدت تجویز کی تھی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم یہ پانچ سالہ منصوبہ قبول کر لیں۔‘
دوسری جانب سٹی ڈویلپمنٹ گائیڈنس ڈویژن کا کہنا ہے کہ ’ہم اس زمین تک رسائی تو نہیں بند کر رہے لیکن یہ عمارت کسی بھی اجتماع یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہو سکتی۔‘
’مسجد اس پراپرٹی کے پچھلے حصے میں قائم کی گئی ہے، جس کے باہر باڑ لگی ہے اور اسی سبب سڑک سے دیکھا نہیں جا سکتا۔‘
’ہم چاہتے ہیں کہ یہ عمارت جلد از جلد ختم کر دی جائے اور ہم اس حوالے سے غور کر رہے ہیں کہ ان کی رہنمائی کیسے کی جائے۔‘
پاکستانی سفارتخانے کا کیا موقف ہے؟
جاپان میں پاکستانی سفارتخانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تصدیق کی ہے کہ تین اپریل کو منعقد ہونے والی اس مسجد کی افتتاحی تقریب میں پاکستانی سفیر موجود تھے۔
تاہم سفارتخانے کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی سفیر نے اس معلومات کی بنیاد پر دعوت نامہ قبول کیا تھا کہ وہاں جاپانی قانون کے مطابق سارے اجازت نامے حاصل کر لیے گئے تھے۔‘
پاکستانی سفارتخانے نے اپنے بیان میں جاپان میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو تاکید کی کہ ’وہ جاپانی قوانین کی تمام معاملات میں مکمل طور پر پاسداری کریں، خصوصی طور پر عبادت گاہوں کی تعمیر کے سلسلے میں۔ پاکستانی سفارتخانے کا ایسے تمام منصوبوں سے کوئی تعلق نہیں ہے جو مقامی حکومتوں کے قوانین کے مطابق نہ ہوں۔‘
’سفارتخانہ کمیونٹی کے تمام متعلقہ ارکان سے پرزور درخواست کرتا ہے کہ جاپانی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔‘
سوشل میڈیا پر جاپانی صارفین ناخوش
اس معاملے پر جاپانی صارفین کی جانب سے بھی ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس ایک صارف نے پاکستانی سفارتخانے کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے لکھا کہ ’میں چاہوں گا کہ آپ صرف بیانات جاری نہ کریں بلکہ جاپان میں پاکستانی کمیونٹی کے لیے آگاہی بڑھانے اور تعلیمی کوششیں جاری رکھیں۔‘
انھوں نے کہا کہ وہ امید رکھتے ہیں کہ پاکستانی سفارتخانہ جاپان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ تحقیقات کے دوران تعاون جاری رکھے گا۔
ایک اور صارف نے جاپانی زبان میں لکھا کہ اگر پاکستانی سفارتخانے کے بیان کو درست مان لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ’مسجد تعمیر کرنے والوں نے سفیر کو دھوکہ‘ دیا ہے۔
’کیا اسلام میں جھوٹ بولنے کی اجازت ہے؟‘
کاواگوے کی شہری انتظامیہ کا بھی ماننا ہے کہ پاکستانی سفیر نے مسجد کی افتتاحی تقریب کی اجازت نہیں دی تھی۔
جے کاسٹ نیوز کے مطابق سٹی ڈویلپمنٹ گائیڈنس ڈویژن کے ایک عہدیدار نے اسے بتایا کہ ’یہ بات درست نہیں کہ انھوں (پاکستانی سفیر نے) اس کی اجازت دی تھی۔ وہ صرف دیگر شرکا کی طرح وہاں موجود تھے اور ہمیں ان کے اور زمین کے مالک کے درمیان تعلقات کا علم نہیں، اس لیے ہم اس پر تبصرہ نہیں کریں گے۔‘
’تاہم ہم اس بات کو سراہتے ہیں کہ ان کی طرف سے جاپانی قوانین کی پاسداری کرنے کا پیغام جاری کیا گیا ہے۔‘