ایران کے شمال مغربی صوبے مغربی آذربائیجان کے شہر
ارومیہ میں پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس ونگ نے دو افراد کو اسرائیل کو حساس
معلومات فراہم کرنے کے شبہے میں گرفتار کر لیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ادارے تسنیم
کے مطابق گرفتار افراد پر الزام ہے کہ انھوں نے اسرائیل کو سکولوں، مساجد اور بسیج
مراکز کی تصاویر اور معلومات فراہم کیں۔ رپورٹ میں انھیں ’کرائے کے ایجنٹ‘ اور ’غدار‘
قرار دیا گیا ہے۔ تسنیم کے مطابق بعد ازاں ان افراد نے انہی مقامات کی تصاویر بھی
شیئر کیں جب وہ بمباری کا نشانہ بنے۔
سرکاری خبر رساں ادارے آئی آر آئی بی نیوز کے مطابق
پاسدارانِ انقلاب کی زمینی فورس کے حمزہ سیدالشہدا ہیڈکوارٹر نے بتایا کہ یہ
کارروائی ایران کے صوبے مغربی آذربائیجان میں انٹیلی جنس آپریشنز کے نتیجے میں عمل
میں آئی۔
بیان کے مطابق ضبط شدہ سامان میں جدید کیمرے اور
نگرانی کے آلات شامل تھے، جو مبینہ طور پر ’علیحدگی پسند گروہوں‘ تک پہنچائے جانے
تھے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ ان گروہوں کو ’دشمن کی خفیہ ایجنسیوں‘ کی حمایت حاصل ہے۔
صوبہ خوزستان میں پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے
264 آتشیں اسلحہ قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔
تسنیم نیوز کے مطابق پولیس ترجمان نے بتایا کہ
برآمد شدہ اسلحے میں 96 جنگی ہتھیار، 168 رائفلیں اور تقریباً چار ہزار گولیاں
شامل ہیں جبکہ کارروائیوں کے دوران 187 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
دوسری جانب ایرانی عدلیہ سے منسلک خبر رساں ادارے
میزان نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ صوبہ مرکزی میں ’دشمن کی حمایت‘ کے الزام میں 75
افراد کے اثاثے ضبط کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
میزان کے مطابق صوبہ مرکزی کے چیف جسٹس حجت اللہ
درودگر نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت اراک میں ’غیر ملکی میڈیا‘ سے رابطوں کے الزام
میں مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔
انھوں نے ایسے روابط کو ’ناقابلِ معافی جرم‘ قرار
دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی سلامتی اور اسلامی جمہوریہ ایران کا تحفظ ملک کی ’سرخ
لکیر‘ ہے۔
ان کے بقول ’غداری‘ اور غیر ملکی دراندازی کے خلاف
کارروائی میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی اور ملوث افراد کو سخت ترین
قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔