ٹرمپ کی خواہش کے راستے میں تہران اور نیتن یاہو کیسے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں؟

    • مصنف, جیریمی بوین
    • عہدہ, بین الاقوامی مدیر
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

امریکہ اور ایران دونوں نے ہی عندیہ دیا ہے کہ وہ جنگ کی طرف واپس نہیں لوٹنا چاہتے جو آٹھ اپریل کی جنگ بندی کے بعد سے چند واقعات کے باوجود اب تک دوبارہ شروع نہیں ہوئی۔

ان جھڑپوں اور بیانات کے باوجود دونوں اطراف نے پاکستان، قطر اور دیگر ممالک کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت بھی جاری رکھی ہے۔ دوسری جانب طاقتور امریکی بحری اور فضائی فوجیں ایران کے قریب موجود ہیں۔

یہ گمان کیا جا سکتا ہے کہ ایرانی افواج بھی ہائی الرٹ پر ہوں گی اور جنگ بندی کو دوبارہ سے منظم ہونے اور امریکی اور اسرائیلی حملوں میں پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کرنے کی کوشش کر رہی ہوں گی۔

خطے میں موجود تناؤ کے باعث یہ خطرہ موجود ہے کہ دونوں میں سے کوئی ایک فریق غلط قدم اٹھا سکتا ہے۔ امریکہ تہران پر دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ اس سے اپنی شرائط منوا سکے جس کے لیے اس نے اپنی افواج کو قریب ہی تعینات رکھا ہوا ہے جس کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ کسی بھی لمحے میں ایران کو پھر سے بھاری نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔

ایران نے امریکہ کو یاد دلایا ہے کہ مزاحمت کا عزم کم نہیں ہوا اور ضرورت پڑنے پر وہ امریکی اڈوں سمیت خلیج میں وسیع پیمانے پر انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

ایسے میں ایک بڑے معاہدے کی جانب جانے والے طویل راستے کا پہلا مقصد جنگ بندی کو قائم رکھنا ہے اور ایک ایسا ابتدائی معاہدہ کرنا ہے جو اس بات کو طے کر سکے کہ مذید بات چیت جاری رہے گی۔

لیکن ایسا ہونا بھی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کے اعلان نے ٹرمپ کو مذید مشکل میں ڈال دیا تھا۔ تاہم منگل کی صبح انھوں نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے لبنان پر حملے نہ کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ لیکن نیتن یاہو نے جنوبی لبنان پر حملے جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

نیتن یاہو کو یہ پریشانی نہیں ہے کہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ طے ہونے کے امکانات کو متاثر کریں گی۔ وہ ایران سے جنگ بندی کے حق میں بھی نہیں تھے۔ جہاں تک نیتن یاہو کا سوال ہے تو ان کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان کسی قسم کا معاہدہ ایک برا معاہدہ ہے۔

ایران بھی لبنان میں حزب اللہ کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اور تہران نے بارہا کہا ہے کہ امریکہ سے وسیع معاہدہ اسرائیلی حملوں کے خاتمے سے مشروط ہے۔ فی الحال ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ٹرمپ اسرائیل کو قابو میں لانے کی کوشش میں ہیں۔

جہاں تک آبنائے ہرمز کا معاملہ ہے تو اسے کھولنے کے لیے ایرانی حکومت کو کسی قسم کی قیمت درکار ہو گی چاہے وہ پابندیوں میں نرمی کی شکل میں ہو یا پھر منجمند اثاثہ جات کے حوالے سے کوئی قدم ہو اور یہ بھی سنجیدہ مذاکرات کی ایک شرط نظر آتی ہے۔

ایک مصروف آبی شاہراہ سے اس وقت بہت کم جہاز گزر رہے ہیں۔ ایران نے 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملے شروع ہونے کے بعد اسے بند کر دیا تھا۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اب اس مشکل سے نکلنے کے لیے آبنائے ہرمز سے دور علاقوں کے ذریعے تیل کی ترسیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن باقی دنیا تیل اور گیس کی 20 فیصد رسد کھو چکی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش پوری دنیا کی معیشت کے لیے تباہی کا باعث ہے۔ امریکہ اب مشرق وسطیٰ کے تیل پر انحصار نہیں کرتا لیکن امریکہ میں پیٹرول کی قیمت پر عالمی منڈی کے اثرات پڑتے ہیں۔

ٹرمپ ایک بڑی مشکل میں پھنس چکے ہیں۔ ایک آسان فتح سمجھتے ہوئے وہ جس جنگ میں کودے تھے اب انھیں اس غلطی کے نتائج کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

امریکی صدر اور ان کے قریبی اتحادی نیتن یاہو نے ایرانی مزاحمت کا بلکل غلط اندازہ لگایا تھا۔ ٹرمپ کے پاس اب اس مشکل سے نکلنے کا کوئی آسان راستہ موجود نہیں ہے اور ایران انھیں کوئی راستہ فراہم کر بھی نہیں رہا۔

ٹرمپ آبنائے ہرمز کھلوانا چاہتے ہیں۔ ایران جنگ امریکہ میں غیرمقبول ہے اور اس میں شدت مذید امریکی شہریوں کی رائے کو متاثر کرے گی۔

ٹرمپ کی ایک اور مشکل یہ بھی ہے کہ آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ایران کے لیے کسی قسم کی نرمی کی مخالفت ان کی اپنی جماعت کے کچھ لوگ کر رہے ہیں۔ ایک اور رکاوٹ ٹرمپ کی یہ خواہش بھی ہے کہ وہ اپنی فتح دکھا سکیں۔

ٹرمپ نہیں چاہتے کہ 2015 میں اس وقت کے صدر اوباما نے ایران سے جو معاہدہ کیا تھا، اس کے ساتھ کسی قسم کا موازنہ کیا جائے۔

دوسری جانب ایرانی حمکران سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی حکومت کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ مذید امریکی حملے، اسرائیلی مدد کے ساتھ یا ان کے بغیر، ایرانی حکومت کو بہت زیادہ متاثر نہیں کریں گے۔

مشرق وسطی کے عرب ممالک کافی دیرپا معاشی نقصان اٹھا چکے ہیں اور مذید نقصان نہیں اٹھانا چاہتے۔ ان کا اپنے ممالک کی ترقی کا منصوبہ اور کاروبار کا ماڈل اس بات پر منحصر ہے کہ وہ خود کو ایک محفوظ سرمایہ کاری کی جگہ دکھا سکیں۔ لیکن استحکام کو بحال کرنے میں انھیں بہت سال لگیں گے۔

قطر پاکستان کے ساتھ ثالثی میں شریک ہے جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے کافی مختلف طریقے سے ایران کے معاملے پر ردعمل دیا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے اسرائیل سے سٹریٹیجک شراکت داری کو بڑھا دیا ہے جنھوں نے ناصرف آئرن ڈوم دفاعی نظام فراہم کیا بلکہ اسے چلانے کے لیے اسرائیلی فوجی بھی بھجوائے۔

اب یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ سعودی عرب نے بھی ایران پر حملہ کیا تھا اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ایرانی حملوں کے ردعمل میں کیا گیا۔ لیکن سینئر سعودی ذرائع نے ایران پر واضح کیا ہے کہ وہ اسرائیلی اور امریکی اتحاد کے ساتھ مل کر نہیں بلکہ آزادانہ حیثیت میں ایسا کر رہے تھے۔

جب یہ جنگ شروع ہوئی تھی تو ٹرمپ اور نیتن یاہو نے کہا تھا کہ ان کے ملکوں کی فضائی طاقت تہران میں موجود حکومت کو گرانے کے لیے کافی ہے۔ لیکن وہ غلط تھے۔

انھوں نے ایک ایسی حکومت کے بارے میں غلط اندازے قائم کیے تھے جو نصف صدی سے پابندیوں، جنگوں اور عالمی تنہائی کے باوجود قائم رہی ہے۔ اب امریکہ اور اسرائیل کو نتائج کا سامنا ہے اور ان کے ساتھ ساتھ باقی دنیا کو بھی۔