پمز آتشزدگی کی تحقیقاتی رپورٹ اور سی سی ٹی وی فوٹیج

،ویڈیو کیپشنپمز آتشزدگی کی تحقیقاتی رپورٹ اور سی سی ٹی وی فوٹیج
پمز آتشزدگی کی تحقیقاتی رپورٹ اور سی سی ٹی وی فوٹیج
وقت اشاعت

پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نومولود بچوں کی نرسری میں آتشزدگی کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کی نشاندہی پر ہسپتال کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عمران سکندر سمیت آٹھ افراد کو فوری طور پر معطل کر کے ان کے خلاف فوجداری کارروائی کی منظوری دے دی ہے۔

بدھ کے روز جب پمز ہسپتال کے زچہ و بچہ وارڈ کی نرسری میں آگ لگی تو اس وقت وارڈ میں 15 نومولود بچے موجود تھے جن میں سے صرف ایک کو زندہ بچایا جا سکا۔

سنیچر کے روز وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پمز آتشزدگی واقعے پر اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیرِ اعظم کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی کمیٹی نے اپنی عبوری رپورٹ پیش کی۔

وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے کمیٹی کی جانب سے نشاندہی کردہ ذمہ داران کے خلاف نہ صرف ڈیپارٹمنٹل کارروائی بلکہ فوجداری (کریمنل کوڈ) قوانین کے تحت کاروائی کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔