’غیر ضروری آرا اور تبصرے‘: رشمیکا مندانا کی شادی اور شوہر سے متعلق گفتگو بحث کا موضوع کیوں بنی؟

Rashmika Mandanna and Vijay Deverakonda
،تصویر کا کیپشنرشمیکا مندانا اور اُن کے شوہر وجے دیوراکونڈا گذشتہ دنوں ’کافی وِد کرن‘ میں ایک ساتھ شامل ہوئے تھے
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

انڈین اداکارہ رشمیکا مندانا اور ان کے شوہر وجے دیوراکونڈا اِس وقت سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں اور دونوں نے اپنے تعلق اور شادی سے متعلق ہونے والی حالیہ تنقید کے بعد سوشل میڈیا پر الگ الگ پوسٹس کے ذریعے ردِعمل دیا ہے۔

یہ معاملہ ٹی وی شو ’کافی ود کرن 9‘ کی ایک حالیہ قسط کے بعد شروع ہوا، جس میں رشمیکا مندانا اور وجے دیوراکونڈا ایک ساتھ شریک ہوئے تھے۔ اس پروگرام میں دونوں نے اپنے تعلق اور شادی کے بارے میں گفتگو کی تھی۔

اس گفتگو کے بعد سوشل میڈیا پر وجے دیوراکونڈا کے رویے اور ان دونوں کے تعلق سے متعلق بحث کا آغاز ہو گیا۔

بعض صارفین نے وجے کو ’ریڈ فلیگ‘ قرار دیا، جبکہ کچھ نے رشمیکا کو تعلقات کے حوالے سے مشورے دینا شروع کر دیے۔

اب رشمیکا نے ان تبصروں کا جواب ایک طویل پوسٹ کے ذریعے دیا ہے اور اس کے کچھ ہی دیر بعد وجے دیوراکونڈا نے بھی انسٹاگرام پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں انھوں نے کہا کہ وہ اور رشمیکا ’بہت خوش‘ ہیں۔

’میں نے تو آپ سے کہا تھا کہ بار بار پوچھیں‘

Rashmika Mandanna and Vijay Deverakonda

اداکارہ رشمیکا اور وجے دیوراکونڈا ’کافی ود کرن 9‘ میں کرن جوہر کے مہمان تھے اور باتوں باتوں میں شادی سے متعلق گفتگو چھڑ گئی۔

رشمیکا نے اس دوران بتایا کہ ’انھوں نے وجے دیوراکونڈا سے شادی کی درخواست کی تھی۔ اور وجے نے جواب میں اُن سے کہا تھا کہ وہ ان سے 100 بار یہ بات کہیں۔‘

رشمیکا کے مطابق اس کے بعد انھوں نے تقریباً ایک سال تک وجے سے شادی کے بارے میں پوچھنا جاری رکھا۔

تاہم یہ گفتگو نہایت ہلکے پھلکے ماحول میں ہو رہی تھی۔

وجے نے پروگرام میں کہا کہ وہ شادی جیسا بڑا فیصلہ جذبات کی بنیاد پر نہیں کرنا چاہتے تھے۔

Picture

اس گفتگو کا ایک حصہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا، جس کے بعد بعض صارفین نے وجے دیوراکونڈا کے رویے پر سوالات اٹھا دیے۔

ایک صارف نے وجے کو ’چلتا پھرتا ریڈ فلیگ‘ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ انھوں نے پوری دنیا کے سامنے اپنی اہلیہ کی تذلیل کی۔

ایک اور صارف نے رشمیکا کو مشورہ دیا کہ وہ اس سے بہتر شخص کی حقدار ہیں۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ رشمیکا وجے کو پسند کرتی ہیں، جبکہ وجے خود کو پسند کرتے ہیں۔

کچھ لوگوں نے وجے کے اس بیان پر بھی سوال اٹھایا کہ انھوں نے رشمیکا سے کہا تھا کہ وہ انھیں 100 بار شادی کے لیے کہیں۔ بعض صارفین نے اسے تعلق میں عدم مساوات کی علامت قرار دیا۔

تاہم بہت سے لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی ٹی وی پروگرام میں ہونے والی چند منٹ کی گفتگو کی بنیاد پر کسی جوڑے کے پورے تعلق کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

کچھ افراد نے وجے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا صارفین کسی شخص کو جانے بغیر ہی اسے ’زہریلا‘ یا ’مسئلہ پیدا کرنے والا‘ قرار دے رہے ہیں۔

لوگوں کو فکر کی ضرورت نہیں، رشمیکا کا جواب

Rashmica
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس کے بعد رشمیکا مندانا نے سوشل میڈیا پر ایک طویل وضاحتی پوسٹ لکھی۔

انھوں نے ابتدا میں کہا کہ وہ عموماً ایسے معاملات پر تبصرہ نہیں کرتیں کیونکہ ہر شخص کو اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے۔ تاہم ’اس بار انھوں نے وجے دیوراکونڈا کے ساتھ اپنے تعلق کے بارے میں جاری بحث پر بات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

رشمیکا نے لکھا کہ ’ہمارے دونوں سوشل میڈیا پروفائلز غیر ضروری آرا، تبصروں اور غیر ضروری مشوروں سے بھر گئے ہیں۔ مجھے واقعی حیرت ہوئی کہ لوگ کس کس طرح ہمارے پیچھے پڑ گئے۔ میں سوچ رہی تھی کہ آخر یہ ہو کیا رہا ہے؟ پھر میں نے دوبارہ اس معاملے پر غور کیا اور اب اپنی زندگی کے بارے میں اپنا مختصر نقطۂ نظر شیئر کرنا چاہتی ہوں۔‘

انھوں نے لکھا کہ ’سب سے پہلے یہ بات نہ تو اس بارے میں تھی کہ کتنی بار پوچھا گیا اور نہ ہی پورے ایک سال کے بارے میں۔ کچھ لوگ اسی بات پر اٹک گئے۔ جی ہاں، یہ گفتگو ضرور ہوئی لیکن ہم میں سے کوئی بھی کسی شاندار یا ڈرامائی انداز کی شادی کی پیشکش کا خواہاں نہیں تھا۔‘

انھوں نے لکھا کہ ’بات صرف یہ تھی کہ وہ چاہتے تھے کہ ہم ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے وقت اور موقع دیں، تاکہ یہ یقین کر سکیں کہ زندگی کے تمام نشیب و فراز، خوشیوں اور دباؤ کے باوجود ہم واقعی یہی چاہتے ہیں اور یہی درست وقت ہے۔ اور ہم نے ایسا ہی کیا۔ ہم نے ایک دوسرے کا انتخاب کیا۔‘

رشمیکا نے لوگوں سے کہا کہ انھیں ان کے اور وجے کے تعلق کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے شوہر کی ’دیوانی‘ ہیں اور سوال کیا کہ آخر کب سے اپنے شریکِ حیات سے اتنی محبت کا اظہار کرنا کوئی بُری بات بن گیا ہے۔

رشمیکا نے لکھا کہ ’اگر مجھے زندگی میں دوبارہ یہی انتخاب کرنا پڑا، تو میں ایک بار پھر وجے ہی کا انتخاب کروں گی۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ وجے سے یہ بات 100 نہیں بلکہ 1000 بار بھی پوچھنے کے لیے تیار ہوتیں۔

’یہ فیمنزم نہیں ہے‘

Rashmika Mandanna and Vijay Deverakonda

رشمیکا نے اُن لوگوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جنھوں نے اُن کی فکر مندی کے نام پر انھیں یہ تعلق ختم کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی خاتون اور اُس کی ذاتی یا خاندانی زندگی کے بارے میں اُسے جانے بغیر رائے دینا ’فیمنزم‘ نہیں ہے۔

ان کے مطابق، یہ فیمنزم کے نام پر ہراساں کرنے کی کوشش ہے۔

رشمیکا کی پوسٹ کے کچھ ہی دیر بعد وجے دیوراکونڈا نے بھی انسٹاگرام پر اپنی اہلیہ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں۔

انھوں نے لکھا کہ ’میری بہترین دوست، میری اہلیہ، میری روح کی ساتھی۔ وہ میری زندگی کے خوبصورت ترین حصوں میں سے ایک ہیں اور انھیں منتخب کرنا میرا درست فیصلہ تھا۔ جو لوگ ہماری فکر کرتے ہیں، انھیں بتانا چاہتا ہوں کہ ہم دونوں بہت خوش ہیں۔ میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’اگر پوری دنیا کے مقابلے میں صرف میں اور وہ ہی ہوں، تو پھر ایسا ہی سہی۔ اُن تمام لوگوں کے لیے بہت سا پیار جو محبت اور خوشی سے بھرپور سادہ زندگی کا جشن مناتے ہیں۔‘