سری لنکا نے پاکستان کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر سہ فریقی سیریز کے فائنل میں جگہ بنا لی

Getty Images
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

سری لنکا نے پاکستان کو سہ فریقی سیریز کے پانچویں میچ میں آٹھ وکٹوں سے شکست دے دی ہے۔

سری لنکن ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے پولنگ کا فیصلہ کیا تھا جو اس کے لیے درست ثابت ہوا۔ پاکستانی بلے باز سری لنکن بولرز کے سامنے زیادہ دیر نہ ٹھہر سکے اور ٹاپ آرڈر کے ساتھ مڈل آرڈر بھی خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہا۔

سیریز کے پانچویں میچ میں پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ ایک بار پھر مشکلات کا شکار نظر آئی اور پوری ٹیم 26ویں اوور میں 110 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

پاکستان پہلے ہی فائنل کے لیے کوالیفائی کر چکا ہے، جبکہ سری لنکا کو فائنل میں جگہ بنانے کے لیے یہ میچ جیتنا ضروری تھا اور اس کامیابی کے بعد اب پاکستان اور سری لنکا کے درمیان اس سہ فریقی سیریز کا فائنل 31 اکتوبر کو لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

سری لنکا کی اس کامیابی کے بعد اب انگلینڈ سہ فریقی کرکٹ سیریز کے فائل کی دوڑ سے باہر ہو گیا ہے۔

پاکستان کی اننگز اور ٹاپ اور مڈل آرڈر کی ناکامی

پاکستان کی جانب سے فخر زمان اور معاذ صداقت نے اننگز کا آغاز کیا، تاہم دونوں اوپنرز بالترتیب پانچ اور آٹھ رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ سعد بیگ بھی پانچ رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

سلمان علی آغا نو رنز بنا سکے، جبکہ بابر اعظم 29 رنز کے ساتھ پاکستان کے نمایاں بلے باز رہے۔ شاداب خان صرف دو رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

اس کے بعد عرفات منہاس نے 10، حسن نواز نے 17 اور حارث رؤف نے ایک رن بنایا۔ پاکستان کی پوری ٹیم 110 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔

پاکستانی کپتان شاہین آفریدی نے ٹاس کے بعد کہا تھا کہ وہ بھی پہلے بولنگ کرنا چاہتے تھے، تاہم اب ان کی کوشش ہو گی کہ ٹیم 300 رنز کا ہدف دے۔

سی لنکا کی جانب سے دلشان مدھوشنکا نے نو اوورز میں 34 رنز دے کر سب سے زیادہ پانچ وکٹیں حاصل کیں، جبکہ سہان آراچّیگے نے پانچ اوورز میں 24 رنز دے کر دو وکٹیں اور ایشان ملنگا، دُنِت ویلالاگے اور اسیتھا فرنینڈو نے ایک ایک کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

پاکستان نے اس میچ کے لیے اپنی ٹیم میں دو تبدیلیاں کی تھیں۔ صائم ایوب اور رضا اللہ کی جگہ معاذ صداقت اور نسیم شاہ کو شامل کیا گیا، جبکہ انگلینڈ کے خلاف اپنے گذشتہ میچ میں کامیابی حاصل کرنے والی سری لنکن ٹیم نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔

پاکستان نے اس سے قبل سری لنکا کو پہلے میچ میں 37 رنز سے شکست دی تھی، جبکہ انگلینڈ کے خلاف دونوں میچز میں بھی کامیابی حاصل کی۔ سری لنکا نے انگلینڈ کے خلاف ایک میچ دو وکٹوں سے جیتا تھا۔

سری لنکا کی انگز

پاکستان کی جانب سے دیے جانے والے 111رنز کے آسان ہدف کا تعاقب سری لنکا نے پر اعتماد انداز میں کیا۔

سری لنکا کے اوپنر کمینڈو مینڈس نے ناقابلِ شکست 62 رنز کی انگز کھیلی، انھوں نے 59 گیندوں کا سامنا کیا اور آٹھ چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے اپنی نصف سینچری مکمل کی۔

کمینڈو مینڈس کا ساتھ پون رتھیانائکے نے دیا انھوں نے 26 گیندوں کا سامنا کیا اور دو چوکوں کی مدد سے 23 رنز بنائے اور وہ بھی ناٹ آوٹ رہے۔ سری لنکا کی جانب سے آؤٹ ہونے والے دو کھلاڑیوں میں اویشنکا فرنینڈو اور کوشال مینڈس تھے۔

اویشینکا نے 17 گیندوں کا سامنا کیا اور دو چوکوں کی مدد سے 19 رنز بنائے اور شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر فخر زمان نے ان کا کیچ لیا جبکہ کوشال مینڈس کو عرفات منہاس نے آٹھ رنز پر بولڈ کیا۔

پاکستان کی جانب سے آج کے میچ میں صرف شاہین شاہ آفریدی اور عرفات منہاس کی وکٹیں لینے میں کامیاب ہوئے دونوں نے ایک ایک سری لنکن کھلاڑی اور آؤٹ کیا۔

Getty Images

سوشل میڈیا پر پاکستان کی کارکردگی پر ہونے والی بحث

سری لنکا کے خلاف پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ میں ناکامی کے بعد سوشل میڈیا پر شائقین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

پاکستان کی بیٹنگ، ٹاپ آرڈر کی کارکردگی اور ٹیم کے انتخاب سے متعلق آرا اس بحث کا حصہ رہیں۔

سابق پاکستانی بلے باز احمد شہزاد نے پاکستان اور انڈیا کی بیٹنگ کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ویلنگٹن میں انڈیا صرف سات اوورز میں 150 رنز بنانے کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے، جبکہ قذافی سٹیڈیم میں پاکستان اب بھی یہ سمجھنے میں لگا ہے کہ 50 اوورز کیسے پورے کھیلنے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ایک ہی دن میں جدید کرکٹ کھیلنے کے دو بالکل مختلف انداز دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ کرکٹ کے شائقین کے لیے بھی کیا ہی وقت ہے!‘

x.com
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سپورٹس جرنلسٹ سہیل عمران نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کے حوالے سے دو پوسٹس کیں۔

اپنی پہلی پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’سری لنکا نے پاکستان کو یکطرفہ مقابلے کے بعد آٹھ وکٹوں سے شکست دے دی۔ پاکستانی بیٹنگ مایوس کن رہی اور بلے باز مقابلے کے قابل ہدف دینے میں ناکام رہے۔‘

اپنی دوسری پوسٹ میں سہیل عمران نے لکھا کہ ’سری لنکا کے خلاف پاکستان کا ٹاپ آرڈر بالکل ناکام رہا اور پوری بیٹنگ لائن فلاپ ہو گئی۔ اگر پاکستان فائنل میں ناقابلِ شکست رہتے ہوئے پہنچتا تو ٹیم کا اعتماد اور اپنی رفتار برقرار رکھنے کا معاملہ مختلف ہوتا۔ تاہم، پاکستانی ٹیم جلد اپنی خامیوں پر قابو پا لے گی۔ فائنل سے پہلے پاکستان کے پاس تیاری کے لیے تین دن ہیں۔‘

ایکس صارف محمد سجیل نے بھی پاکستانی ٹیم کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’پاکستان لاہور میں صرف 110 رنز پر آل آؤٹ ہو گیا، جبکہ سری لنکا نے باآسانی آٹھ وکٹوں سے کامیابی حاصل کر لی۔ لاہور میں پاکستان کو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بیٹنگ کی یہ کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی۔‘

صدیق ساجد نامی ایک ایکس صارف نے لکھا کہ ’پاکستان کرکٹ ٹیم اور اسلام آباد کے سیاسی موسم کا کوئی پتا نہیں چلتا، کب کس وقت کیا رنگ دکھا دیں اور بدل جائیں۔۔۔‘

فیروز زکا نامی ایک اور ایکس صارف نے پاکستانی کھلاڑیوں اور سلیکشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کے بعض سپر سٹار کھلاڑی صرف سینٹرل کنٹریکٹ کے اہل ہونے کے لیے مجبوری میں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلتے ہیں، ورنہ وہ اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی نیت سے فرسٹ کلاس کرکٹ کے ایک دو میچ بھی نہیں کھیلتے۔‘

منظر سبحان نامی ایک ایکس صارف نے لکھا کہ ’پاکستانی ٹیم کے لیے شرمناک کارکردگی! سری لنکا کے خلاف ایک میچ میں 75 رنز پر آل آؤٹ اور اب 110 رنز پر پوری ٹیم پویلین لوٹ گئی۔‘

’حریف وہی، بیٹنگ کی تباہی بھی وہی! آخر پاکستان کرکٹ میں ہو کیا رہا ہے؟ ہموار پچز اور چھوٹی باؤنڈریز کے باوجود جب کارکردگی دکھانے کا وقت آتا ہے تو پاکستانی بیٹنگ بری طرح بکھر جاتی ہے۔‘