آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’تاریخ کا علم ہوتا تو یہاں تصویر نہ کھنچواتے‘: امریکی سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو، تاج محل اور ایرانی سفارت خانے کا طنز
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو انڈیا کا چار روزہ دورہ مکمل کر کے واپس روانہ ہو چکے ہیں، تاہم اُن کا یہ دورہ اب بھی سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔
یہ بحث اُس وقت شروع ہوئی جب اُنھوں نے اپنی اہلیہ کے ہمراہ آگرہ میں تاج محل کے سامنے تصاویر بنوائیں۔ اس پر سب سے پہلے ایرانی حکام نے طنزیہ ردِعمل دیا، جس کے بعد یہ معاملہ مزید توجہ حاصل کر گیا۔
بعد ازاں جب مارکو روبیو واپس روانہ ہوئے تو ایئرپورٹ پر اُنھیں الوداع کرنے کے لیے کوئی نمایاں سیاستدان یا اعلیٰ سفارتی شخصیت موجود نہیں تھی، جس پر سوشل میڈیا صارفین نے اُن کے استقبالیے اور پروٹوکول کے معیار پر سوالات اٹھانے شروع کر دیے۔
سوشل میڈیا پر شیش پال وید نامی ایک صارف نے لکھا ’مودی حکومت نے امریکہ کے وزیرِ خارجہ، جو دنیا کی واحد سپر پاور کے تیسرے طاقتور ترین عہدے دار سمجھے جاتے ہیں، اُن کی حیثیت کو ایک تھانے کے ایس ایچ او کی سطح تک گرا دیا۔ کم از کم میں نے اس سے پہلے امریکہ کے وزیرِ خارجہ کے ساتھ ایسا غیر مہذب سلوک نہیں دیکھا۔ یہ ٹرمپ کے ’شِٹ ہول‘ بیان کا کیسا جواب ہے؟‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 23 اپریل کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں امریکہ میں پیدائش پر شہریت کے حق سے متعلق ایسا بیان ’ری پوسٹ‘ کیا تھا جس پر انڈیا میں اپوزیشن جماعتوں اور صارفین کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی۔
دوسری جانب سیاسی رہنما ابھیشیک سنگھوی نے لکھا کہ ’اگر امریکہ انڈیا کے خلاف دباؤ کی حکمتِ عملی اختیار کرتا ہے تو اسے بدلے میں ریڈ کارپٹ سفارت کاری کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔‘
اُن کے مطابق، ’مارکو روبیو کے لیے نسبتاً کم سطح کا پروٹوکول اس بات کی یاد دہانی ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں احترام دوطرفہ ہونا ضروری ہے، اور انڈیا خود کو کسی تابع ریاست کے طور پر نہیں بلکہ ایک برابر کے شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے۔‘
سوشل میڈیا پر ایک اور صارف گنیش نے رائے دی کہ ’دنیا کے طاقتور ترین افراد میں شمار ہونے والے مارکو روبیو کو جے پور سے رخصت کرنے کے لیے صرف ایس ایچ او، کانسٹیبل، سب انسپکٹر اور چند نچلے درجے کے اہلکار موجود تھے، جبکہ کسی وزیرِ مملکت سطح کے عہدیدار نے شرکت نہیں کی۔ یہ کسی امریکی اعلیٰ اہلکار کے لیے اب تک کے سرد ترین استقبالات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سلیل ماتھر نامی صارف نے مختلف زاویہ پیش کرتے ہوئے لکھا کہ ’اگرچہ پروٹوکول بظاہر مناسب تھا، لیکن مارکو روبیو کا استقبال کسی حد تک سرد محسوس ہوا۔ میری رائے میں امریکہ کو دیا جانے والا پیغام بالکل درست تھا۔‘
سابق لیفٹیننٹ کرنل سشیل سنگھ شیوران نے لکھا کہ ’مارکو روبیو امریکہ کے وزیرِ خارجہ ہیں۔ انھیں رخصت کرنے کے لیے تعینات یونیفارم میں ملبوس اہلکاروں کا غیر رسمی رویہ انڈین افواج کے بارے میں اچھا تاثر پیش نہیں کرتا۔ آپ ممکن ہے کہ امریکہ سے خوش نہ ہوں، لیکن دنیا کے سامنے اس طرح کی ناقص پیشکش نہیں ہونی چاہیے۔ آپ صرف اپنی فورس کی نمائندگی نہیں کر رہے بلکہ اپنے ملک کی بھی نمائندگی کر رہے ہیں۔‘
ایک اور صارف، جو ’آئینی ڈاکو‘ کے نام سے شیوم اکاؤنٹ چلاتے ہیں، نے اس دورے پر تبصرہ کیا کہ ’کم سے کم سفارتی پروٹوکول برقرار رکھا گیا، مگر کوئی اضافی مراعات یا گرمجوشی دکھائی نہیں دی۔ مزید یہ کہ روبیو کو 45 ڈگری کی شدید گرمی میں بھی رکھا گیا۔ آگرہ کا پروگرام صبح ساڑھے گیارہ بجے اور جے پور کا دو بج کر پینتالیس منٹ پر کس بنیاد پر ترتیب دیا گیا؟ یہ تاثر ملتا ہے کہ شاید جان بوجھ کر انھیں مشکل صورتِ حال میں ڈالا گیا ہو۔‘
اویناش شیشو نامی صارف نے اپنی رائے میں لکھا: ’میرا خیال ہے کہ انڈیا اور امریکہ کے درمیان کچھ ایسا ضرور ہوا ہے جو عوامی سطح پر سامنے نہیں آیا۔ بصورتِ دیگر مارکو روبیو کو اس قدر سرد استقبال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ حتیٰ کہ اگر عاصم منیر بھی دورے پر آئیں تو اُن کا استقبال اس سے کہیں بہتر ہوتا۔‘
پولیس سروس سے تعلق رکھنے والے نیڈ ڈونووَن نامی صارف نے لکھا کہ ’امریکی وزیرِ خارجہ کو قریبی تھانے کے سب انسپکٹر کی جانب سے دیا گیا سرکاری الوداع بلاشبہ ایک بھرپور انڈین انداز ہی ہے۔‘
تاج محل کا دورہ، ایرانی طنز اور سوشل میڈیا پر بحث
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے انڈیا کے دورے کے دوران آگرہ میں تاج محل کا رخ کیا اور اپنی اہلیہ کے ہمراہ یادگاری تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔ بظاہر یہ ایک معمول کا سفارتی اور ثقافتی دورہ تھا، تاہم یہ تصاویر جلد ہی سوشل میڈیا پر بحث کا مرکز بن گئیں۔
یہ معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب انڈیا کے شہر حیدرآباد میں قائم ایرانی قونصل خانے نے روبیو کے تاج محل کے دورے پر کھلے عام طنز کیا۔
ایرانی قونصل خانے نے اپنے بیان میں یاد دہانی کرائی کہ تاج محل مغل بادشاہ کی ایرانی نژاد ملکہ ممتاز محل کی محبت کی یادگار ہے، اور اس کی تعمیر میں فارسی معماروں کی مہارت شامل تھی۔
بیان میں واشنگٹن کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور امریکی حکومت پر دوہرے معیار کا الزام عائد کیا گیا۔ قونصل خانے کے مطابق، ایک طرف امریکہ ایرانی تہذیب کو مٹانے کی بات کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب اُس کے حکام بیرونِ ملک اسی تہذیب کے تاریخی ورثے کی تعریف کرتے نظر آتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ایرانی ردِعمل نے اس بحث کو محض تاریخی دائرے تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ اسے سیاسی رنگ بھی دے دیا۔ یہ بحث ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں، اور دونوں ممالک کے بیانات اکثر سوشل میڈیا پر بھی نمایاں ہوتے رہتے ہیں۔
ایرانی طنز کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا، جہاں مختلف نوعیت کے ردِعمل دیکھنے میں آئے۔ بعض صارفین نے مارکو روبیو کو طنز کا نشانہ بنایا اور کہا کہ تاریخی پس منظر کو سمجھے بغیر ایسے مقامات پر تصاویر بنوانا مناسب نہیں۔
کچھ تبصرے اس سے بھی آگے بڑھ گئے اور اسے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جانے لگا، جبکہ بعض صارفین نے اس تصویر کو ایک طرح کی ’سفارتی علامت‘ قرار دیا۔
رضوان شاہ نامی ایک صارف نے ایرانی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے لکھا کہ اگر مارکو روبیو اس یادگار کی تاریخ سے واقف ہوتے تو شاید وہ یہاں تصاویر نہ بنواتے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ عمارت ایک ایرانی ملکہ کے لیے فارسی معماروں نے تعمیر کی تھی، اور یہ ایک ایسی تہذیب کی علامت ہے جسے اُن کی حکومت اس وقت خطرے میں ڈال رہی ہے اور اس کا احترام نہیں کر رہی۔‘
تاج محل
سنگِ مرمر سے تعمیر کردہ تاج محل دنیا کے عجائب میں سے ایک ہے، جسے مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے اپنی بیوی ممتاز محل کی محبت میں 17 ویں صدی میں تعمیر کیا تھا۔ ممتاز محل اور شاہجہاں یہیں دفن ہیں۔
ممتاز شاہ جہاں کی تیسری اور سب سے زیادہ محبوب اہلیہ تھیں اور ان کی محبت کی داستان ایک انوکھی کہانی ہے۔
عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ ممتاز بہت خوبصورت اور علم والی شریکِ حیات تھیں لیکن بہت زیادہ بچے پیدا کرنے کے معاملے پر ان کا اپنے شوہر سے اختلاف بھی تھا۔
شادی کے محض 19 برس بعد چودھویں زچگی کے دوران 38 برس کی عمر میں 17 جون 1631 کو ممتاز محل کی وفات جریان خون کے باعث ہوئی تھی۔
مورخین کے مطابق تاج محل 1632 سے 1648 میں تعمیر ہوا تھا۔ مورخ رعنا صفوی نے لکھا ہے کہ بادشاہ کے سرکاری مورخ عبدالحمید لاہوری نے اپنی کتاب ’بادشاہ نامہ‘ میں اس کی تعمیر کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ 'روضہ منورہ (تاج محل) کی تعمیر کا کام اس کی بنیاد رکھنے کے ساتھ شروع ہو گیا ہے۔'
رعنا صفوی نے مزید لکھا ہے کہ مورخ آر ناتھ نے اپنی کتاب ’تاج محل: ہسٹری اینڈ آرکیٹکٹ‘ میں لکھا ہے کہ ’شہنشاہ نے ممتاز محل کی قبر کے اوپر ایک بڑے گنبد کے ساتھ ایک ایسی شاندار عمارت تعمیر کرانے کا فیصلہ کیا جو یوم حشر تک باقی رہے اور جو ان کی طاقت اور شان و شوکت کے مطابق ہو ۔ جو ممتاز محل کی یاد کو دائمی بنا سکے۔ شاہجہاں نے ایسے عظیم مقبرے کی بنیار رکھی۔‘
ماضی میں بی جے پی کے کئی رہنما یہ کہہ چکے ہیں کہ تاج محل دراصل ایک ہندو مندر ہے۔