آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ڈھائی سیکنڈ میں 60 میل: 15 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کی ’لوس‘ الیکٹرک کار جسے کوئی ’کباڑ‘ تو کوئی ’گیم چینجر‘ کہہ رہا ہے
- مصنف, اوسمنڈ چیا
- عہدہ, بزنس رپورٹر
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
لگژری سپورٹس گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنی فراری نے اپنی پہلی مکمل الیکٹرک یعنی برقی کار کی رونمائی کی ہے جس کی قیمت چھ لاکھ 40 ہزار امریکی ڈالر ہے جو پاکستانی مالیت کے حساب سے 15 کروڑ روپے سے زیادہ بنتی ہے۔
تو آخر اس گاڑی میں ایسی کیا خاص بات ہے جس کی سوشل میڈیا پر دھوم بھی ہے اور صارفین کی جانب سے متضاد قسم کا ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔ چند لوگوں نے لانچ کے بعد نئے ماڈل کو ’ردی‘ قرار دیا جبکہ چند نے ڈیزائن کو سراہتے ہوئے اس ’ماسٹرکلاس‘ کہا۔
یہ فراری کی روایتی شکل سے ہٹ کر بنایا جانے والا ماڈل ہے جس میں پہلی بار اطالوی کارساز نے پانچ سیٹیں رکھی ہیں۔ اسے ’لوو فرام‘ ایجنسی کی شراکت داری میں تیار کیا گیا ہے جس کے بانی ایپل کے سابق چیف ڈیزائنر سر جونی آئیو ہیں۔
یاد رہے کہ لیمبورگنی اور پورشے جیسی کمپنیوں نے اپنے برقی گاڑیوں کے منصوبے کم قیمت والی چینی گاڑیوں کے مقابلے اور کم طلب کی وجہ سے محدود کر دیے ہیں۔
’پانچ سال میں تیار ہونے والی روشنی‘
فراری کے چیف ایگزیکٹیو بینیڈیٹو وگنا نے روم میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’لوس‘ کا لفظ اطلوی زبان میں روشنی کا مطلب رکھتا ہے اور اس ماڈل کو تیار ہونے میں پانچ سال کا عرصہ لگا۔
فراری نے اس سے پہلے صرف بجلی پر چلنے والی گاڑی تیار کرنے سے انکار کرتے ہوئے ہائبرڈ گاڑیوں کو چنا تھا جو پیٹرول اور بحلی دونوں استعمال کرتی ہیں۔
لوس کار کے ہر پہیے میں میں فراری کی ہی تیار کردہ موٹر نصب کی گئی ہے جن کی مدد سے صرف ڈھائی سیکنڈ میں یہ گاڑی 96 کلومیٹر کی رفتار پر سفر کر سکتی ہے۔
کمپنی کے مطابق اس کے تمام پرزے انھوں نے خود ہی تیار کیے ہیں جس کا مقصد مستقبل میں اس کی دیکھ بھال کو آسان بنانا ہے اور اس کی قدر کو بھی تحفظ فراہم کرنا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حالیہ برسوں میں الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری میں صنعت جو کافی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ فورڈ اور وولکس ویگن جیسی کمپنیاں خصوصا امریکہ میں اب پیٹرول پر چلنے والی گاڑیاں زیادہ تعداد میں تیار کر رہی ہیں کیوں کہ صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کی جانب سے الیکٹرک گاڑیاں خریدنے والوں کے لیے ترغیبات میں کمی کی گئی جس کی وجہ سے طلب بھی کم ہو گئی۔
حال ہی میں جیگوار کی الیکٹرک گاڑی کو کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا کہ برطانوی کارساز نے اپنا کلاسیکی سٹائل ترک کر دیا ہے۔ کچھ ایسا ہی فراری کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ ایکس سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک صارف نے لکھا کہ ’جیگوار کی طرح فراری نے بھی اپنا برینڈ خود ہی ختم کر دیا ہے کیوں کہ یہ ماڈل سیدھا کباڑ خانے میں جائے گا۔‘
ایک اور صارف نے لکھا کہ ’یورپی لگژری گاڑیاں بنانے والوں کو کیا ہو گیا ہے؟ پہلے جیگوار اور اب فراری۔‘
لیکن دوسری جانب چند لوگ ایسے بھی ہیں جو اس ماڈل کو سراہ رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ ڈیزائن کی ماسٹر کلاس ہے اور فراری نے لاجواب تصور پیش کیا جو سب کچھ بدل دے گا۔‘
فراری کے چیف ڈیزائن افسر فلیویو منزونی نے یو ٹیوبر کلیو ابرام کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی جدت میں ناقدین اہم ہوتے ہیں۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ الیکٹرک فراری کا تصور اختلاف کا باعث بن سکتا ہے لیکن انھیں امید ہے کہ آنے والے وقت میں لوگ اسے پسند کرنے لگیں گے۔
یہ ماڈل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فراری کا مقابلہ کرنے والے الیکڑک گاڑیوں کے معاملے میں پیچھے ہٹ رہے ہیں۔
لیمبورگنی نے ہائبرڈ ماڈل پر کام کرنا شروع کر دیا جبکہ جرمنی کی پورشے کمپنی نے کم طلب، امریکہ میں نئے محصولات اور چین میں فروخت کے مسائل کی وجہ سے ای وی منصوبے سے ہاتھ کھینچ لیے ہیں۔
اس کی ایک بڑی وجہ سستی چینی ای وی گاڑیاں ہیں جو زیادہ تعداد میں اور کم لاگت میں تیزی سے ای وی گاڑیاں بنا رہے ہیں۔