آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’سکول میں لڑکے مجھے مختلف القابات سے پکارتے اور بغیر رضامندی کے چُھوتے‘ : چھاتیوں کو چھوٹا کروانے کا رجحان کیوں مقبول ہو رہا ہے؟
- مصنف, ریچل فلن
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
رنویا اب بھی اس واقعے کو یاد کر کے خوف کا شکار ہو جاتی ہیں جب وہ صرف 11 برس کی تھیں اور ایک آئس کریم والے نے انھیں سیٹی بجا کر ہراساں کیا تھا۔
وہ اس سے چند سال پہلے بلوغت کو پہنچ گئی تھیں اور اسی وقت سے وہ کہتی ہیں کہ ان کی چھاتیوں کا سائز اس بات پر اثر انداز ہونے لگا کہ انھیں کس طرح سے دیکھا جاتا ہے اور وہ خود کو کس طرح سے دیکھتی ہیں۔
سکول میں لڑکے ان کی چھاتیوں کی وجہ سے انھیں مختلف القابات سے پکارتے تھے اور بغیر رضامندی کے انھیں چھوتے اور دباتے تھے۔
رنویا کہتی ہیں کہ ’میں ابھی بھی ایک بچی تھی لیکن اچانک میرے جسم کے یہ دو حصے ایسی توجہ کا باعث بن گئے جس کے لیے میں جذباتی طور پر تیار نہیں تھی۔‘
رنویا کی لیسٹر کے ایک جنوبی ایشیائی خاندان میں پرورش ہوئی تھی اور انھیں یاد ہے کہ وہ اپنی ہائی سکول کی دوستوں کے جیسے لباس نہ پہننے پر شرمندگی محسوس کرتی تھیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں کچھ مخصوص کپڑے نہیں پہن سکتی تھی کیونکہ ان میں میری چھاتیاں نظر آتی تھیں اور میری والدہ چونک کر کہتی تھیں کہ آپ یہ نہیں پہن سکتیں۔‘
اسی سبب رنویا کو جسمانی اثرات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ان کی کمر میں درد رہتا تھا، ان کی برا کی پٹیاں ان کے جسم میں دھنس جاتی تھیں اور ورزش کرنا بھی مشکل تھا۔
25 برس کی عمر میں ان کا وزن 50 کلو اور کپ کا سائز 32 جےجے تھا اور رنویا اس وقت تک ایسے موڑ پر پہنچ چکی تھی جہاں وہ یہ سب مزید برداشت نہیں کر سکتی تھیں
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتی ہیں کہ اس وقت انھیں فیس بُک پر بریسٹ ریڈکشن (چھاتی کا سائز کم کروانے) کے حوالے سے ایک گروپ کا پتا چلا اور یہ ان کے لیے ایک سہارا بن گیا۔ تقریباً چھ ہزار اراکین پر مشتمل گروپ کے ذریعے ہی انھوں نے اس طریقۂ کار کے بارے میں زیادہ تر تحقیق کی اور اس وقت وہ این ایچ ایس کے تحت اپنی سرجری کروانے کے لیے اپنے ڈاکٹر کے جواب کا انتظار کر رہی تھیں۔
رنویا کہتی ہیں کہ ’بار بار میں نے خواتین کو ایک ہی بات کہتے ہوئے دیکھا: ’کاش میں نے یہ پہلے کروا لیا ہوتا۔‘
ڈاکٹر کے ساتھ اپوائنٹمنٹ کے چھ ماہ بعد اور این ایچ ایس کی جانب سے کوئی جواب نہ آنے پر انھوں نے نجی طور پر یہ سرجری کروانے کا فیصلہ کیا۔
سرجری کے چند ماہ بعد رنویا کو بتایا گیا کہ ان کے کم بی ایم آئی کی بنیاد پر وہ این ایچ ایس کے تحت اس آپریشن کی اہل تھیں، بریسٹ سرجن لنڈزے ہائٹن کے مطابق ایسا صرف ’غیر معمولی حالات‘ میں ہی پیش آتی ہے۔
رنویا برطانیہ میں ان ہزاروں خواتین میں سے ایک ہیں جنھوں نے نجی طور پر بریسٹ ریڈکشن کے عمل کے لیے ادائیگیاں کی ہیں، جو کہ برٹش ایسوسی ایشن آف ایس تھیٹک پلاسٹک سرجنز (بی اے اے پی ایس) کے مطابق ایک تیزی سے مقبول ہوتا ہوا طریقۂ کار ہے۔
رنویا کہتی ہیں کہ ’جب میں سرجری کے بعد اٹھی اور نیچے دیکھا تو میں پہلی بار اپنا پیٹ دیکھ سکتی تھی‘۔
’میں زارو قطار رونے لگی۔ میں اتنے برسوں سے اس جسمانی اور جذباتی بوجھ کو اٹھائے ہوئے تھی اور اچانک میں خود کو دیکھ سکتی تھی۔‘
بی اے اے پی ایس کے اپریل کے اعداد و شمار کے مطابق پہلی بار بریسٹ ریڈکشن اور امپلانٹ ہٹانے کے مشترکہ پروسیجر کروانے والوں کی تعداد ان افراد سے زیادہ ہو گئی ہے جو چھاتیوں کے سائز میں اضافہ کروانے کا انتخاب کرتے ہیں۔
برطانیہ میں 2025 میں بریسٹ کے سائز میں اضافہ کروانے والوں کی تعداد میں آٹھ فیصد کمی واقع ہوئی۔
بی اے اے پی ایس کی صدر نورا نیوجنٹ کا ماننا ہے کہ یہ اعداد و شمار ’غیر معمولی خم و پیچ سے ہٹ کر ایک زیادہ فطری ساخت کی جانب وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتے ہیں، ایک ایسی ساخت جو فعال طرزِ زندگی اور ایتھلیزر فیشن کے بڑھتے ہوئے رجحان کے ساتھ زیادہ مطابقت رکھتی ہے۔‘
دا بیوٹی کرونکلز پوڈکاسٹ کی میزبان پروفیسر میریڈتھ جونز کے مطابق وزن کم کرنے والی ادویات کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بھی ’چھوٹے جسموں کی جانب ایک رجحان‘ کو جنم دیا ہے۔
مانچسٹر میں این ایچ ایس کی بریسٹ کنسلٹنٹ، جو نجی سرجریاں بھی کرتی ہیں، لنڈزے ہائٹن کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی ’کچھ حد تک‘ ان ہی رجحانات سے متاثر ہے، لیکن آج کل زیادہ تر خواتین کے لیے ترجیح فعالیت ہے، یعنی حرکت کرنے کے قابل ہونا اور خود اعتمادی محسوس کرنا۔
گریٹر مانچسٹر سے تعلق رکھنے والی 54 سالہ سو کو محسوس ہوا کہ وہ اپنے امپلانٹس سے اب آگے بڑھ چکی ہیں، جو انھوں نے برسوں تک بریسٹ فیڈنگ کے بعد لگوائے تھے۔
سو کہتی ہیں کہ ’یہ بہت بھاری محسوس ہوتے تھے۔ میں دوبارہ فٹ ہونا چاہتی تھی اور مجھے لگتا تھا جیسے یہ چیزیں ایک رُکاوٹ ہیں۔‘
تاہم نجی طور پر کروائی جانے والی بریسٹ سرجری سستی نہیں ہوتی اور اس کی قیمت ملک بھر میں مختلف ہوتی ہے۔
مانچسٹر میں سو نے 2025 میں اپنے امپلانٹس نکلوانے کے لیے تقریباً 9 ہزار 500 پاونڈ ادا کیے، جبکہ رنویا کی بریسٹ ریڈکشن سرجری پر تقریباً 8 ہزار پاونڈ خرچ ہوئے، جسے انھوں نے تین سال کے دوران ماہانہ قسطوں میں ادا کیا۔
این ایچ ایس کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں نجی طور پر بریسٹ ریڈکشن سرجری ’تقریباً 6 ہزار 500 پاونڈ ‘ میں ہوتی ہے، جس میں کنسلٹیشن یا بعد از سرجری دیکھ بھال شامل نہیں ہوتی۔
این ایچ ایس میں ریڈکشن کو ایک کاسمیٹک طریقۂ کار سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ دستیاب ہے لیکن لنڈزے ہائٹن کے مطابق اس تک رسائی حاصل کرنا ’تقریباً ناممکن‘ ہے۔
این ایچ ایس کی گائیڈلائنز کے مطابق اگر آپ کی چھاتیاں صحت کے مسائل کا باعث بن رہی ہوں اور دیگر طریقے، جیسے ان کے لیے بنائے گئے موزوں برا، مددگار ثابت نہ ہوئے ہوں تو آپ ریڈکشن سرجری کے لیے اہل ہو سکتے ہیں۔ اس دوران آپ کی چھاتیوں کا سائز، وزن اور مجموعی صحت پر بھی غور کیا جائے گا۔
لنڈزے ہائٹن کہتی ہیں کہ ’یہ عمل کچھ حد تک بقا کے اصول جیسا ہے۔‘
’یہ اس بات پر منحصر ہے کہ کون اتنا پُرعزم اور باخبر ہے کہ اس عمل کو مکمل طور پر انجام دے سکے۔ اور بالآخر جواب عموماً ’نہ‘ میں ہی ہوتا ہے۔‘
وہ مزید کہتی ہیں ’ظاہر ہے کہ این ایچ ایس میں فنڈنگ کے مسائل ہیں، لیکن میرا خیال ہے کہ یہ ایسا معاملہ ہے جسے مسترد کرنا نسبتاً آسان سمجھا جاتا ہے۔‘
ان کا ماننا ہے کہ جب خواتین کو بڑی چھاتیوں کے باعث واضح جسمانی مسائل کا سامنا ہو، تو ریڈکشن کو سرجری کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے، ’نہ کہ اسے کاسمیٹک قرار دے کر نظر انداز کر دیا جائے۔‘
بی بی سی نے این ایچ ایس انگلینڈ سے رابطہ کیا اور اس نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
بی بی سی نے گذشتہ چند برسوں میں نجی طور پر بریسٹ ریڈکشن سرجری کروانے والی ایک درجن سے زائد خواتین سے رابطہ کیا ہے۔
- سٹاکپورٹ سے تعلق رکھنے والی کیٹی کا کہنا ہے کہ سرجری سے پہلے ان کی زندگی ’چھاتیوں کے سائز‘ کے زیرِ اثر تھی۔ این ایچ ایس کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد انھوں نے نجی طور پر کروائی گئی سرجری کے ذریعے تین کلو وزن کم کیا، جو ان کے پہلے بچے کے پیدائشی وزن کے برابر تھا۔
- ناروچ سے تعلق رکھنے والی سنڈی کا کہنا ہے کہ انھیں 16 برس کی عمر میں ایک ڈاکٹر نے کہا تھا: ’سرجری کے لیے پیسے بچانا شروع کرو کیونکہ این ایچ ایس تمہاری مدد نہیں کرے گا۔‘ وہ اب باقاعدگی سے جم جانے جاتی ہیں اور کہتی ہیں: ’میری چھاتیاں اب میری روزمرہ زندگی کے فیصلوں میں کوئی کردار ادا نہیں کرتیں۔‘
- 36 سالہ رہیان نے 2025 میں اپنی سرجری کے لیے ادائیگی کرنے کی خاطر 21 سال کی عمر سے ہی ہر ہفتے 10 پاؤنڈ اپنے سیونگ اکاؤنٹ میں جمع کیے۔ اب وہ وزن اٹھا کر ورزش اور ہفتے میں چار بار دوڑنے کے قابل ہیں۔
- درہم کاؤنٹی سے تعلق رکھنے والی سارہ، جو آٹسٹک ہیں اور خود کو نان بائنری کے طور پر شناخت کرتی ہیں، کا کہنا ہے کہ ان کی بڑی چھاتیوں کے اثرات کے باعث انہیں سینسری (حسی) مسائل کا سامنا تھا اور انھیں محسوس ہوتا تھا کہ وہ ’عوامی ملکیت‘ بن گئی ہیں۔
- ارمسٹن سے تعلق رکھنے والی مشیل کو یاد ہے کہ ان کی 28ویں سالگرہ پر ان کی چھاتیوں کو چھوا گیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اس واقعے کے بعد میں کچھ عرصے تک باہر نہیں گئی۔ بریسٹ ریڈکشن کبھی بھی ظاہری خوبصورتی یا شکل و صورت کے بارے میں نہیں تھی، یہ زندگی کے معیار کے بارے میں تھی۔‘
لنڈزے ہائٹن کہتی ہیں کہ این ایچ ایس پر بریسٹ ریڈکشن سرجری تک رسائی میں مشکل اور نجی علاج کی زیادہ قیمت کے باعث زیادہ خواتین سستی سرجریوں کے لیے بیرونِ ملک سفر کر رہی ہیں۔
ایلکس (فرضی نام) نے گذشتہ سال کے آخر میں وسطی لندن میں اپنی بریسٹ ریڈکشن سرجری کے لیے 16 ہزار 500 پاونڈ ادا کیے، جس کے ذریعے ان کے سینے سے 4.2 کلو وزن کم کیا گیا۔ ان کا خیال ہے کہ ان کی سرجری خاص طور پر مہنگی اس لیے تھی کیونکہ ان کی چھاتیوں کے کپ کا سائز ’کے‘ تھا، اور اس لیے بھی کہ ان کے سرجن کو ’چھاتیوں کا مائیکل اینجلو‘ سمجھا جاتا ہے۔
ایلکس ہزاروں خواتین پر مشتمل ایک فیس بک گروپ پر سرگرم تھیں جہاں اس سرجری کے لیے یورپ بھر کا سفر کرنے پر تبادلۂ خیال کیا جا رہا تھا اور وہ خود بھی بیرونِ ملک جانے پر غور کر چکی تھیں۔
لیکن جب انھیں لتھوانیا میں بریسٹ ریڈکشن سرجری کے لیے تقریباً 4 ہزار پاونڈ کا تخمینہ ملا تو وہ اس خیال سے ’خوفزدہ‘ ہوگئیں کہ انھیں واپسی کی پرواز کے دوران طبی مسائل پیش آ سکتے ہیں۔
لنڈزے ہائٹن کہتی ہیں کہ اگر سرجری کے پیچیدگی پیدا ہو جائے تو اکثر جب لوگ برطانیہ واپس پہنچتے ہیں تو اس کا بوجھ این ایچ ایس پر آ جاتا ہے۔
بریسٹ ریڈکشن سرجری تک رسائی کے مختلف طریقے، چاہے وہ این ایچ ایس کے ذریعے ہوں، نجی طور پر علاج ہو یا بیرونِ ملک، سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر بیان کیے جاتے ہیں۔
ایلکس کا کہنا ہے کہ وہ ایسی خواتین کو جانتی ہیں، دوستوں کی دوست اور دیگر جنھیں انھوں نے وائرل ٹک ٹاک ویڈیوز میں دیکھا ہے، جو اس آپریشن کے لیے بے حد بے چین ہیں لیکن نجی علاج کی استطاعت نہیں رکھتیں اور این ایچ ایس کی جانب سے پہلے ہی مسترد کی جا چکی ہیں۔
ایلکس کہتی ہیں ’کسی کو یہ سمجھانا کافی مشکل ہوتا ہے کہ یہ معاملہ کیوں اتنا اہم ہے اور یہ محض کاسمیٹک نہیں ہے۔‘
’لیکن اگر مثال کے طور پر آپ کے ٹخنے یا بازو میں شدید درد ہو اور وہ آپ کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرے تو اس کا آپریشن ضروری ہوتا ہے۔‘
رنویا، جو پیر کی رات اپنے جم سیشن کے بعد مجھ سے بات کر رہی تھیں ہیں، کے لیے یہ ایک ایسی سرگرمی ہے جو انھوں نے بریسٹ ریڈکشن سے پہلے کبھی نہیں کی تھی، اس کا مطلب محض ایک خاص جسمانی ساخت حاصل کرنے سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔
’یہ محض ایک کاسمیٹک رجحان یا سادہ پہلے اور بعد کی کہانی نہیں ہے۔‘
’کئی خواتین کے لیے بریسٹ ریڈکشن کا تعلق آرام، تحفظ، خود اعتمادی اور اپنے جسم پر اختیار کو دوبارہ حاصل کرنے سے ہے۔‘