آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا کا امریکی سفارتکار کو طلب کر کے ’شدید احتجاج‘: عمان کے قریب آئل ٹینکر پر حملے میں تین انڈین ملاح ہلاک
انڈیا نے عمان کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر پر امریکی حملے میں تین انڈین ملاحوں کی ہلاکت کے معاملے پر سینیئر امریکی سفارت کار کو طلب کر لیا گیا ہے۔
انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے کے قائم مقام نائب سربراہ جیسن میکس کو طلب کیا تاکہ ’شدید احتجاج‘ ریکارڈ کرایا جائے۔
بدھ کے روز پالاؤ پرچم بردار جہاز سیٹبیلو پر حملے میں ہلاکت انڈین ملاحوں کی شناخت ڈیک کیڈٹ، آدتیہ شرما اور انجن فِٹر شیوانند چورسیا کے ناموں سے ہوئی ہے۔
انڈیا کے وزیرِ جہاز رانی نے ان ہلاکتوں کو ’ناقابلِ تلافی نقصان‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ اس ’افسوسناک واقعے‘ کی خبر سن کر ’گہرے صدمے‘ میں ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ان کی لاشیں جلد از جلد انڈیا واپس لائی جائیں گی۔
گذشتہ روز امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ اس نے خلیجِ عمان سے گزرنے والے ایک آئل ٹینکر کو غیر فعال بنا دیا ہے اور اس پر الزام عائد کیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہا تھا۔
انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے اس حملے کی مذمت کی ہے لیکن اپنے بیان میں امریکہ کا نام نہیں لیا۔ تاہم سوموار کو آئل ٹینکر ایم ٹی میریویکس پر امریکی حملے کے برعکس انڈیا نے بدھ کے حملے کی کھل کر مذمت کی۔ میریویکس پر موجود 24 انڈین ملاحوں کو عمانی فوج نے بچا لیا تھا۔ امریکہ اس جہاز پر پہلے ہی پابندی عائد کر چکا تھا۔
انڈیا میں امریکہ کے سفیر سرجیو گور قازقستان کے دورے پر تھے اس لیے امریکی سفارت خانے کے قائم مقام سربراہ کو طلب کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈیا کا احتجاج
’سیٹبیلو‘ نامی آئل ٹینکر پر موجود 21 ملاحوں کو بچا لیا گیا ہے، یہ جہاز امریکی فوج کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کی زد میں آیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا کہ آئل ٹینکر سیٹبیلو نے ایران سے تیل لے جاتے ہوئے جاری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی تھی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’امریکی افواج کی جانب سے بار بار وارننگ دینے کے باوجود جہاز کے عملے نے اسے نظرانداز کیا۔ اس کے بعد ایک امریکی طیارے نے جہاز کے انجن کو نشانہ بناتے ہوئے درست ہتھیاروں سے حملہ کیا۔‘
امریکی فوج نے اس کارروائی کی ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر خلیجی خطے میں جاری کشیدگی اور سمندری تجارتی راستوں کی سلامتی پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے، خاص طور پر جب اس حملے میں انڈین ملاحوں کی جانیں گئیں۔
آئل ٹینکر سیٹبیلو پر حملے کے بعد انڈیا نے امریکہ کے ساتھ سخت احتجاج کیا ہے۔
انڈین حکومت نے نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے کے نائب سربراہ جیسن میکس کو طلب کیا اور اس واقعے پر اعتراض کیا۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب صرف دو دن قبل ہی عمان کے ساحل کے قریب امریکی افواج نے ایک اور آئل ٹینکر میریویکس کو نشانہ بنایا تھا۔ اس میں سے 24 انڈین ملاحوں کو نکال لیا گیا تھا۔
انڈین وزارت خارجہ نے بدھ کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’عمان میں انڈین سفارت خانہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ تلاش اور بچاؤ کی کارروائی کے لیے عمانی حکام کے ساتھ فعال رابطہ برقرار ہے۔‘
سمندری انٹیلیجنس ویب سائٹ لائیڈز لسٹ کے مطابق، سیٹبیلو ان کئی جہازوں میں شامل تھا جو حالیہ دنوں میں عمان کے دُقْم بندرگاہ کے قریب رکے ہوئے تھے اور بظاہر امریکی بحریہ کی نگرانی میں تھے۔
اس سے قبل یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے ایک الرٹ جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ عمان کے سوحر سے تقریباً 20 سمندری میل شمال مشرق میں ایک ٹینکر کے انجن روم میں آگ لگ گئی ہے اور مقامی حکام عملے کو نکالنے میں مدد کر رہے ہیں۔
انڈین وزارتِ خارجہ نے کہا کہ خطے میں تجارتی جہازوں پر مسلسل حملے شدید تشویش کا باعث ہیں۔ انڈیا نے زور دیا کہ خطے میں تجارتی جہازوں اور سول انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا سلسلہ رُکنا چاہیے۔
فوجی تصادم کا خدشہ
جہازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹس کے مطابق، سیٹبیلو اس سے قبل چین جا چکا تھا۔ اس نے مارچ اور اپریل میں دو بار چین کا سفر کیا تھا۔ اپریل کے آخر سے مئی کے آغاز تک اس نے لیانیونگانگ بندرگاہ پر سامان اتارا تھا اور 12 مئی کو سنگاپور سے روانہ ہوا تھا۔
13 اپریل سے امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کی تھی، جب تہران نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت پر پابندیاں اور کنٹرول سخت کر دیا تھا۔
اس واقعے نے خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی، سمندری تجارت کے تحفظ اور بیرونی تنازعات میں پھنسے انڈین ملاحوں کی سلامتی کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔
اس دوران ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ امریکہ نے ایران پر دوبارہ حملے شروع کر دیے ہیں۔
ٹرمپ نے الزام لگایا ہے کہ ایران امن معاہدے پر دستخط کرنے میں ’بہت زیادہ وقت‘ لے رہا ہے اور ’امریکہ کو بیوقوف بنا رہا ہے۔‘
یہ جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی تھی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فوجی حملے کیے تھے۔ ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت ہوئی تھی۔
اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے اتحادی خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے۔
جلد ہی یہ تنازع تیزی سے پورے خطے میں پھیل گیا اور مارچ میں لبنان بھی اس کی زد میں آ گیا۔
اپریل میں امریکہ اور ایران جنگ بندی پر متفق ہوئے تھے، جسے ابتدائی طور پر دو ہفتوں کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔
تاہم مسلسل الزامات، نئے حملوں اور بڑھتے عدم اعتماد نے اس جنگ بندی کو انتہائی نازک بنا دیا ہے جس کے باعث خطے میں دوبارہ بڑے فوجی تصادم کا خدشہ برقرار ہے۔
امریکہ کا نشانہ بننے والا آٹھواں جہاز
سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایرانی ساحلوں کی امریکی ناکہ بندی کے آغاز سے اب تک ایم ٹی سیٹّبیلو امریکی افواج کی جانب سے ناکارہ بنایا جانے والا آٹھواں جہاز ہے۔
امریکہ نے 13 اپریل کو آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کی تھی اور اس کے بعد سے ایران کے ساحل کی طرف یا وہاں سے آنے جانے والے جہازوں کو روکنے یا واپس بھیجنے کا عمل جاری ہے۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ 134 جہاز امریکی افواج کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اپنا رخ تبدیل کر چکے ہیں جبکہ آٹھ ایسے جہاز جو ہدایات پر عمل نہیں کر رہے تھے جن میں پالاؤ کے پرچم بردار سیٹّی بیلو بھی شامل ہے اور انھیں 'ناکاره' بنا دیا گیا ہے۔ اس آئل ٹینکر کو بدھ کے روز امریکی افواج نے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں تین انڈین ملاح ہلاک ہو گئے۔
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ناکہ بندی کے آغاز کے بعد سے امریکی افواج نے 42 انسانی امداد کے جہازوں کو اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔
ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بدھ کے روز دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ایک 'خفیہ مشن' کے تحت 200 تجارتی جہازوں کو آبنائے سے گزرنے میں مدد فراہم کی۔
تاہم ایران کا اصرار ہے کہ یہ بحری گزرگاہ 'مکمل طور پر بند' ہے۔