ہرکیولیس کی کہانی: گود لیا بھالو جو بین الاقوامی سٹار بنا اور اپنے مالک کے پہلو میں دفن ہے

    • مصنف, بی بی سی منڈو
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

جب سے ہرکیولیس وسطی سکاٹ لینڈ کے علاقے ڈنبلین میں واقع اینڈی اور میگی روبن کے گھر آیا، تب ہی سے تینوں کے درمیان ایک ایسا رشتہ قائم ہوا کہ وہ علیحدگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔

وہ اپنی صبح کا آغاز باورچی خانے میں ناشتے سے کرتے تھے، کافی، انڈوں اور ساسیجز سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ اس کے بعد پورا دن کھیلتے ہوئے، ورزش کرتے ہوئے یا ایک دوسرے کی موجودگی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے گزرتا تھا۔

یہ واضح طور پر ایک خاندان کی طرح نظر آتے تھے، لیکن یہ خاندان ذرا الگ قسم کا تھا۔

کیوں کہ اینڈی اور میگی کے گھر میں ان کے ساتھ رہنے والے ہرکیولیس کوئی انسان نہیں بلکہ ایک بھالو تھا۔

جی ہاں، ایک بڑا سا بھالو، جسے اس جوڑے نے صرف نو مہینے کی عمر مِیں گود لیا تھا۔ بڑے ہو کر اس بھالو کا قد ڈھائی میٹر لمبا ہو گیا اور وزن 190 کلوگرام سے زیادہ ہو گیا۔

’بالکل بیٹے کی طرح‘

میگی کو ہمیشہ سے جانوروں میں دلچسپی رہی تھی۔ وہ سکاٹ لینڈ کے ایک اصطبل میں پلی بڑھی تھیں اور ان کے مطابق ان کا پہلا پیار گھوڑے تھے۔

بچپن میں انھوں نے نہ صرف گھڑسواری سیکھی بلکہ کئی انعامات بھی جیتے۔ جب ان کے شوہر اینڈی، جو ان سے 15 برس بڑے اور ایک پہلوان تھے، نہ ایک بھالو کے بچے کو گود لینے کی تجویز دی تو میگی نے بغیر انتظار کیے ہامی بھرلی۔

میگی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مجھے آج بھی یاد ہے کہ اینڈی نے مجھ سے پوچھا کہ وہ ایک بھالو کا بچہ لا رہے ہیں۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ہماری زندگی کیسی ہوگی اور ہم ایک جادوئی رشتے میں بندھ جائیں گے۔‘

اینڈی کو یہ آئیڈیا کینیڈا میں اس وقت آیا جب انھیں وہاں ’ٹیڈ دا ٹیریبل‘ نامی ایک بھالو سے لڑائی کے لیے ایک ہزار ڈالر کی پیشکش ہوئی۔ اس جانور کے ساتھ لڑائی نے اینڈی کو اتنا حیران کیا کہ انھوں نے ایک بھالو کو گود لینے کا فیصلہ کر لیا۔

ان کے خاندان والوں اور دوستوں نے اس خیال کو غیرحقیقی قرار دیا۔ لیکن اینڈی اور میگی اپنے خیال پر عملدرآمد کرنا چاہتے تھے اور پھر انھیں سکاٹ لینڈ کے چڑیا گھر میں ایک بھالو کا بچہ نظر آ گیا۔

انھوں نے اس ننھے بھالو کو گھر لانے کے لیے تمام انتظامات مکمل کیے اور بالآخر 31 اگست 1975 میں 67 ڈالر کے عوض اسے خرید کر گود لے لیا۔

انھوں نے اس ننھے بھالو کو ہرکیولیس کا نام دیا۔ چڑیا گھر میں پیچھے رہ جانے والے اس کے دو بھائیوں کے نام ایٹلس اور سیمسن تھے۔

انھوں نے اس کا نام ہرکیولیس اس لیے رکھا کیونکہ وہ اپنے دونوں بھائیوں کے مقابلے میں پُرسکون اور محبت کرنے والا تھا اور اپنی ماں سے زیادہ محبت کا اظہار کرتا تھا۔

اس کے باوجود بھی جب وہ میگی کے گھر آیا تو بہت جنگلی معلوم ہوتا تھا، لیکن میگی کے لیے وہ ان کا بیٹا ہی تھا۔

میگی کہتی ہیں کہ ’چاہے بچہ ہو یا جانور، وہ معصوم ہی ہوتا ہے۔ اسے کسی نے کبھی دھوکا نہیں دیا ہوتا، کسی نے اسے تکلیف نہیں پہنچائی ہوتی۔ اچھا ہے اگر آپ اسے ایسے ہی رہنے دیں۔‘

حادثہ

یہ تینوں انتہائی محبت سے ساتھ رہتے تھے۔ ہرکیولیس اینڈی کے ساتھ ریسلنگ پروگراموں میں کام کرتا تھا اور ان کے ساتھ دیگر سرگرمیوں میں بھی کافی متحرک رہتا تھا۔

وہ میگی اور اینڈی کے پب بھی جایا کرتا تھا، گاہکوں کے ساتھ گھل مل جایا کرتا تھا اور یہاں تک کہ شراب سے بھی لطف اندوز ہوتا تھا۔

اس کا پسندیدہ مشروب لیموں کا رس اور بیئر تھا۔

ہرکیولیس کا جسم بہت بڑا تھا لیکن اس کے پُرسکون اور محبت کرنے والے رویے نے مقامی برادری میں بچوں اور بڑوں دونوں کا دل جیت لیا تھا۔

میگی کہتی ہیں کہ ’وہ ڈنبلین کے معاشرے کا ایک اہم حصہ بن چکا تھا۔‘

مشہور ہونے کے سبب ہی 1980 میں ہرکیولیس کو ایک بڑے برینڈ کی طرف سے ٹوائلٹ پیپر کا ایک کمرشل بھی آفر ہوا تھا۔

اس کمرشل کی ریکارڈنگ سے قبل ہرکیولیس اینڈی کے ساتھ تیراکی سے لطف اندوز ہونے کے لیے چلا گیا۔

ہرکیولیس کے گلے میں رسی بندھی ہوئی تھی اور وہ اینڈی کے ساتھ پانی میں کود گیا۔ تاہم سردی کے باعث رسی سکڑ گئی، گٹھان کھل گئی اور معلوم ہی نہیں ہوا کہ ہرکیولیس کب اپنے مالک سے بچھڑ گیا۔

یہ واقعہ اچانک ہی ایک سانحے میں بدل گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہرکیولیس نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔

سرچ آپریشن

ہرکیولیس کو ڈھونڈنے میں 24 دن لگے۔ اس آپریشن میں سینکڑوں رضاکاروں نے حصہ لیا اور اس بھالو کو زمینی اور فضائی دونوں طریقوں سے ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی۔

میڈیا نے بھی اس آپریشن کی بہت قریب سے نگرانی کی اور ہرکیولیس کا سراغ لگانے میں مدد دی۔

میگی کہتی ہیں کہ جب ہم نے اسے دیکھا تو ’وہ کسی خالی فر کوٹ کی طرح لگ رہا تھا، بری حالت میں تھا اور بہت کمزور ہو گیا تھا۔‘

اس کا وزن تقریباً پہلے کے مقابلے میں آدھا رہ گیا تھا۔

میگی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس رات اور اگلی صبح علاقے کے لوگ ہرکیولیس کے لیے 50 لیٹر سے زیادہ دودھ لائے اور اس کے بعد ہی وہ ہوش میں آ سکا۔‘

اس کے بعد ہرکیولیس کو انتہائی احتیاط سے گھر منتقل کیا گیا اور وہاں جا کر وہ بالآخر پہلے کی طرح معمول پر آ گیا۔

اس واقعے کے بعد ہرکیولیس کی شہرت میں اضافہ ہوا اور وہ ایک بین الاقوامی سٹار بن گیا۔ ہر کوئی اس کی کہانی کا حصہ بننا چاہتا تھا۔

وہ امریکہ، جاپان اور دیگر ممالک گیا، سیاسی اور ٹی وی شخصیات سے بھی ملا، جن میں سابق وزیرِ اعظم مارگریٹ تھیچر بھی شامل تھیں۔ وہ نہ صرف انٹرٹینمنٹ پروگراموں میں نظر آیا بلکہ اس نے جیمز بانڈ کی فلم آکٹوپسی میں راجر مور کے ساتھ بھی کام کیا۔

بیماری

سنہ 2000 میں ہرکیولیس کی صحت خراب ہونے لگی۔ ان کی کمر میں زخم آیا تھا اور اس کے سبب وہ اپنے پاؤں نہیں ہلا سکتا تھا۔

تاہم بہت کوششوں کے بعد اینڈی اسے ٹھیک کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

میگی کہتی ہیں کہ ’ہر روز میں اسے سوئمنگ پول میں تیرنے کے لیے کہتی تھی اور وہ تیرتا تھا۔‘

اس کی حالت میں بہتری ضرور آئی تھی لیکن یہ بہتری زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی۔

اینڈی اور میگی کو ہرکیولیس کی کمر پر ایک بار پھر زخم نظر آیا اور اس بار وہ اسے بچا نہیں سکے۔

فروری 2001 میں وہ 25 برس کی عمر میں چل بسا۔

اینڈی کی وفات سنہ 2019 میں 84 برس کی عمر میں ہوئی اور انھیں ہرکیولیس کے برابر میں ہی دفن کیا گیا۔

میگی کہتی ہیں کہ ’جب میں ان کی قبروں پر آتی ہوں تو مسکرائے بنا نہیں رہ سکتی۔ یہ ایک خوبصورت مقام ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اینڈی اور ہرکیولیس کے درمیان تعلق انتہائی غیرمعمولی تھا۔‘

’ہرکیولیس نے لوگوں کے تمام شکوک و شبہات کو شکست دی اور ثابت کیا کہ محبت سے سب کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘