لندن میں دو یہودیوں پر چاقو سے حملہ کرنے والے شخص پر فردِ جرم عائد
میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق شمالی لندن کے علاقے گولڈرز گرین میں دو یہودیوں پر چاقو سے حملے کرنے کے واقعے میں عیسیٰ سلیمان پر اقدامِ قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
45 سالہ عیسیٰ سلیمان پر بدھ کے روز پیش آنے والے اس واقعے کے سلسلے میں اقدامِ قتل کی دو دفعات اور عوامی مقام پر تیز دھار ہتھیار رکھنے کی ایک دفعہ کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ اسی دن اس سے قبل ساؤتھوَرک کے علاقے گریٹ ڈوور سٹریٹ میں پیش آنے والے ایک علیحدہ واقعے کے حوالے سے بھی ان پر اقدامِ قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
اس واقعے کے بعد جمعرات کو برطانیہ میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح بڑھا کر ’شدید‘ کر دیا گیا ہے۔
گذشتہ روز برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹامر کا کہنا تھا کہ ملک میں یہود مخالف حملوں میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ یہودی لوگ اب ’اپنی شناخت ظاہر کرنے سے خوفزدہ ہیں‘، انھیں یہ خوف لاحق ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہ یا یونیورسٹی جائیں یا نہ جائیں اور اپنے بچوں کو سکول بھیجیں یا نہیں اور اپنے ساتھیوں کو اپنی شناخت بتائیں یا نہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی حکومت ’نفرت پھیلانے والوں کو‘ ملک میں داخل ہونے سے روکے گی اور انھیں یونیورسٹی کیمپسز، سڑکوں اور کمیونٹیز سے دور رکھا جائے گا۔