آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, امریکی سینیٹ میں ایران جنگ کے خاتمے کے لیے قرارداد پھر ناکام: جنگ بندی کے نتیجے میں لڑائی ختم ہو چکی ہے، ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ

امریکی سینیٹ نے ایران میں امریکی فوجی کارروائیاں ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی قرارداد ایک بار پھر مسترد کر دی ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اپریل کے اوائل میں ہونے والی جنگ بندی کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان لڑائی ختم ہو چکی ہے۔

خلاصہ

  • ایران نے جنگ شروع نہیں کی صرف اپنے دفاع کا حق استعمال کیا ہے: تہران کا سکیورٹی کونسل میں خلیجی ممالک کے خط کا جواب
  • پاکستانی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا
  • تہران میں فضائی دفاعی نظام نے چھوٹے ڈرونز کو نشانہ بنایا: ایرانی خبر ایجنسی
  • تہران میں فضائی دفاعی نظام نے چھوٹے ڈرونز کو نشانہ بنایا: ایرانی خبر ایجنسی
  • ایران فُٹبال ورلڈ کپ کے میچز امریکہ میں کھیلے گا: فیفا صدر
  • ایران معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے، اس کی جوہری صلاحیت ختم کر دی: صدر ٹرمپ کا دعویٰ

لائیو کوریج

  1. لندن میں دو یہودیوں پر چاقو سے حملہ کرنے والے شخص پر فردِ جرم عائد

    میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق شمالی لندن کے علاقے گولڈرز گرین میں دو یہودیوں پر چاقو سے حملے کرنے کے واقعے میں عیسیٰ سلیمان پر اقدامِ قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    45 سالہ عیسیٰ سلیمان پر بدھ کے روز پیش آنے والے اس واقعے کے سلسلے میں اقدامِ قتل کی دو دفعات اور عوامی مقام پر تیز دھار ہتھیار رکھنے کی ایک دفعہ کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔

    اس کے علاوہ اسی دن اس سے قبل ساؤتھوَرک کے علاقے گریٹ ڈوور سٹریٹ میں پیش آنے والے ایک علیحدہ واقعے کے حوالے سے بھی ان پر اقدامِ قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    اس واقعے کے بعد جمعرات کو برطانیہ میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح بڑھا کر ’شدید‘ کر دیا گیا ہے۔

    گذشتہ روز برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹامر کا کہنا تھا کہ ملک میں یہود مخالف حملوں میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ یہودی لوگ اب ’اپنی شناخت ظاہر کرنے سے خوفزدہ ہیں‘، انھیں یہ خوف لاحق ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہ یا یونیورسٹی جائیں یا نہ جائیں اور اپنے بچوں کو سکول بھیجیں یا نہیں اور اپنے ساتھیوں کو اپنی شناخت بتائیں یا نہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی حکومت ’نفرت پھیلانے والوں کو‘ ملک میں داخل ہونے سے روکے گی اور انھیں یونیورسٹی کیمپسز، سڑکوں اور کمیونٹیز سے دور رکھا جائے گا۔

  2. ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں پاکستان ہی باقاعدہ ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، اسماعیل بقائی

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت میں پاکستان باقاعدہ ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’اس معاملے میں بہت سے ممالک مدد کے لیے تیار ہیں، تاہم مذاکرات میں پاکستان ہی باضابطہ ثالث ہے۔‘

    بی بی سی فارسی کے مطابق انھوں نے ایک ٹیلی وژن انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ اگر مذاکرات کے انعقاد کا فیصلہ ہوتا ہے تو ہم اس بارے میں باضابطہ طور پر سب کو مطلع کریں گے۔

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ دورۂ روس اور صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ سٹریٹجک پارٹنرشپ معاہدے کے تحت ایران اور روس کے درمیان سیاسی، سکیورٹی اور معاشی شعبوں میں وسیع تعاون موجود ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ایران مختلف ممالک کے ساتھ بات چیت کر کے اپنے مؤقف کی وضاحت کر رہا ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ روس اور چین کے ساتھ اس سفارتی تعاون کے نتیجے میں ایران اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ان کے بقول ’خطے کے بعض ممالک کی شرپسندانہ کارروائیوں‘ پر قابو پانے میں کامیاب رہا ہے۔

  3. امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے نتیجے میں لڑائی ختم ہو چکی ہے، ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ

    ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئیر عہدیدار نے جمعرات کے روز دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اپریل کے اوائل میں ہونے والی جنگ بندی کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان لڑائی ختم ہو چکی ہے۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وار پاورز سے متعلق کانگریس کی مقررہ ڈیڈ لائن ختم ہو رہی ہے۔

    صدر ٹرمپ کے پاس جمعے تک کا وقت ہے کہ وہ یا تو ایران کے ساتھ جنگ ختم کریں یا پھر اسے جاری رکھنے کے لیے کانگریس سے رجوع کریں اور اس جنگ کی وجوہات پیش کریں۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس عہدیدار نے انتظامیہ کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’وار پاورز ایکٹ کے حوالے سے 28 فروری کو شروع ہونے والی لڑائی ختم ہو چکی ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا ہے کہ تین ہفتے قبل ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے امریکی اور ایرانی مسلح افواج کے درمیان کسی قسم کی لڑائی نہیں ہوئی ہے۔

    1973 کے قانون کے تحت صدر کو یہ اجازت حاصل ہے کہ وہ کانگریس سے اجازت حاصل کیے بغیر 60 دن تک فوجی کارروائی جاری رکھ سکتے ہیں، تاہم اس کے بعد یا تو اسے ختم کرنا ہو گا یا پھر مسلح افواج کی سلامتی کے لیے ’فوری فوجی ضرورت‘ کی بنیاد پر کانگریس سے اجازت یا 30 دن کی توسیع طلب کرنا ہو گی۔

  4. امریکی سینیٹ میں ایران جنگ کے خاتمے کے لیے قرارداد چھٹی مرتبہ ناکام

    جمعرات کے روز امریکی سینیٹ نے ایران میں امریکی فوجی کارروائیاں ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی قرارداد مسترد کر دی ہے۔

    معروف ڈیموکریٹک سینیٹر ایڈم شِف کی جانب سے پیش کیے گئے وار پاورز بل کو 47 ووٹ ملے جبکہ اس کی مخالفت میں 50 ووٹ پڑے۔ یہ چھٹی مرتبہ ہے کہ سینیٹ نے اس طرز کے بل کو مسترد کیا ہے۔

    پینسلوینیا سے تعلق رکھنے والے جان فیٹر مین واحد ڈیموکریٹ رکن تھے جنھوں نے اس بل کے خلاف ووٹ دیا، جبکہ دو ری پبلکن سینیٹرز، سوزن کولنز اور رینڈ پال نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔

    یہ پہلا موقع ہے کہ سوزن کولنز نے اس بل کی حمایت میں ووٹ دیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’جیسا کہ میں ایران کے تنازع کے آغاز سے کہتی آ رہی ہوں، بطور کمانڈر اِن چیف صدر کے اختیارات لامحدود نہیں ہیں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ آئین کے مطابق کانگریس کا جنگ اور امن سے متعلق فیصلوں میں ایک اہم کردار ہے۔ کولنز کا کہنا ہے کہ وار پاورز کے تحت غیر ملکی تنازعات میں امریکہ کی شمولیت کی منظوری یا خاتمے کے لیے 60 روز کے اندر کانگریس سے منظوری لازمی ہے۔

    سوزن کولنز نے اس بات پر زور دیا کہ ’ایران کے خلاف کسی بھی مزید فوجی کارروائی کے لیے واضح مشن، قابلِ حصول اہداف اور تنازع کے خاتمے کی صاف حکمتِ عملی ہونا ضروری ہے۔ میں نے اس وضاحت کے سامنے آنے تک عارضی طور پر ان فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔‘

  5. اسلحے ذخائر کی بحالی میں چند مہینوں سے لے کر چند برس تک لگ سکتے ہیں: امریکی وزیرِ دفاع

    امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کانگریس کے ارکان کو بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اور حالیہ برسوں میں دیگر فوجی تنازعات کے نتیجے میں استعمال ہونے والے امریکہ کے اسلحہ ذخائر کی بحالی میں ’چند مہینوں سے لے کر کئی برسوں‘ تک لگ سکتے ہیں۔

    ایریزونا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مارک کیلی کی جانب سے سینیٹ کے فلور پر پیٹ ہیگسیتھ سے سوال کیا گیا کہ یہ ہتھیار دوبارہ بنانے میں کتنا وقت درکار ہو گا۔ ہیگستھ کا کہنا تھا: ’ان میں سے کئی کارروائیوں میں ہم اپنے بہترین ہتھیار استعمال کرتے ہیں، اور بڑی تعداد میں کرتے ہیں۔ اسی طرح انٹرسیپٹرز بھی استعمال ہوتے ہیں۔ یہ گولہ بارود راتوں رات تیار نہیں کیا جا سکتا۔‘

    سینیٹر کیلی کا مزید کہنا تھا کہ بجٹ درخواست سے ظاہر ہوتا ہے کہ محکمۂ دفاع کو اس مسئلے کا ادراک ہے، اور انھوں نے ان نظاموں کی بحالی کے لیے ایک واضح ٹائم لائن کا مطالبہ کیا ہے۔

    پیٹ ہیگسیتھ نے جواب دیتے ہوئے کہا، ’یہی وہ سوال ہے جو پوچھے جانے کی ضرورت ہے۔‘ انھوں نے زور دیا کہ اسلحے ذخائر کی بحالی میں ہتھیاروں کے نظام کی نوعیت کے لحاظ سے چند مہینوں سے لے کر چند برس تک لگ سکتے ہیں۔

  6. اگر ہم ابھی ایران کو چھوڑ دیں تو انھیں تعمیرِ نو میں 20 سال لگیں گے، ٹرمپ کا دعوی

    آمریکی نشریاتی ادارے نیوزمیکس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ’ہم ایران میں جنگ جیت چکے ہیں‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اس جنگ کو ’مزید بڑے مارجن سے جیتنا چاہتے ہیں۔‘

    سی بی ایس نیوز نے نیوزمیکس کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی بحریہ اور فضائیہ تباہ ہو چکی ہیں اور ملک کی قیادت کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ امریکی انتظامیہ جنگ کے ابتدائی دنوں سے ہی اس طرز کے دعوے یہ کرتی آ رہی ہے۔

    تاہم اس معاملے سے متعلق خفیہ معلومات سے آگاہ متعدد امریکی حکام نے گذشتہ ہفتے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ایران کے پاس اب بھی وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کی جانب سے عوامی طور پر تسلیم کردہ فوجی صلاحیتوں سے کہیں زیادہ صلاحیتیں موجود ہیں۔

    ان حکام میں سے تین نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ اپریل کے اوائل میں جنگ بندی کے آغاز تک ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے کا تقریباً نصف حصہ اور ان سے منسلک لانچ سسٹمز محفوظ تھے۔

    جمعرات کے روز صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم نے سب کچھ تباہ کر دیا ہے۔ اگر ہم ابھی نکل جائیں تو اگر وہ کر پائے تو بھی انھیں تعمیر نو میں 20 سال لگیں گے۔‘ تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ’کافی نہیں۔‘

    صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ہمیں اس بات کی ضمانت چاہیے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کریں گے۔

  7. امریکہ کا ایرانی حکومت کے بیرونِ ملک موجود پنشن فنڈز کے اکاؤنٹس منجمد کرنے پر غور

    امریکہ کے وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ایرانی حکومت کے بیرونِ ملک موجود پنشن فنڈز کے اکاؤنٹس منجمد کرنے پر غور کر رہا ہے۔

    سکاٹ بیسنٹ نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ناکہ بندی کے علاوہ امریکہ ایران پر مزید سخت معاشی دباؤ برقرار رکھے گا۔

    امریکی وزیرِ خزانہ کا مزید کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان سے ایران پر دباؤ بڑھانے کو کہا ہے.

    بیسنٹ کے مطابق اسی وجہ سے امریکہ نے ایرانی تیل کے خریداروں کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ان صنعتوں اور بینکوں پر ثانوی پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو ایرانی تیل کی خرید و فروخت میں ملوث ہیں۔

  8. متحدہ عرب امارات نے اپنے شہریوں کے ایران، لبنان اور عراق سفر پر پابندی عائد کر دی

    متحدہ عرب امارات نے’خطے میں موجودہ پیش رفت کی روشنی میں‘ اپنے شہریوں کے ایران، لبنان اور عراق کے سفر پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے اپنے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان ممالک سے فوراً واپس آ جائیں۔

  9. آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کا گلا گھونٹ رہی ہے، اقوامِ متحدہ

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا کہ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کا گلا گھونٹ رہی ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق گوتریس کا کہنا تھا کہ اگر پابندیاں فوراً ختم کر دی جائیں تو بھی سپلائی چینز کو بحال ہونے میں کئی مہینے لگیں گے، جس کے نتیجے میں معاشی پیداوار میں کمی اور قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے مزید حملے کیے تو وہ امریکہ کے خلاف ’طویل اور تکلیف دہ‘ حملے کرے گا۔

  10. ایران نے جنگ شروع نہیں کی صرف اپنے دفاع کا حق استعمال کیا ہے: تہران کا خلیجی ممالک کی جانب سے سکیورٹی کونسل کو بھیجے گئے خط کا جواب

    اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایراوانی کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک نے اپنی سرزمین پر قائم فوجی اڈے ایران کے خلاف جارحیت کے لیے فراہم کر کے اس میں حصہ لیا اور ان اڈوں سے ایران پر میزائل اور فضائی حملے کیے گئے۔

    انھوں نے یہ بات اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو بھیجے ایک خط میں کہی۔ ایراوانی نے یہ خط خلیجی ممالک کی جانب سے ایران کے ان کی سرزمین پر کیے گئے مبینہ فوجی حملوں کے خلاف حالیہ احتجاجی خطوط کے ردِعمل پر لکھا تھا۔

    اپنے خط میں ایرانی مندوب کا کہنا تھا کہ ایران نے ’اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں دیے گئے اپنے جائز حقِ دفاع کو جارحیت کے جواب میں استعمال کیا۔‘

    امیر سعید ایراوانی کے مطابق ’ایران نے اس تنازع یا جنگ کا آغاز نہیں کیا‘۔

    ان کے بقول ’جو ممالک ایران کے خلاف جارحیت میں شریک ہوئے یا جنھوں نے اپنے فوجی اڈوں، فضائی حدود، علاقائی پانیوں اور سرزمین کو ایران پر حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی، وہ ذمہ دار ہیں اور انھیں جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔‘

    قطر، متحدہ عرب امارات، اردن، بحرین، کویت اور سعودی عرب کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجے گئے احتجاجی خطوط میں ایران پر ان کی سرحدوں کی خلاف ورزی اور فوجی حملے کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے اور ان حملوں کی مذمت کا مطالبہ کیا ہے۔

  11. پاکستانی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا

    پاکستانی حکومت نے ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔

    پیٹرولیم ڈویژن سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں چھ روپے 51 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے فی لیٹر ہوگی۔

    اس کے علاوہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 19 روپے 39 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے فی لیٹر ہوگی۔

    یاد رہے کہ گذشتہ روز تقریباً سات فیصد اضافے سے برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت 126 ڈالر سے اوپر چلی گئی تھی۔ یہ سنہ 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔

    امریکہ اور ایران میں امن مذاکرات تعطل کا شکار دکھائی دیتے ہیں، مرکزی بحری گزر گاہ آبنائے ہرمز عملی طور پر بند ہے اور اس وجہ سے رواں ہفتے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

  12. تہران میں فضائی دفاعی نظام نے چھوٹے ڈرونز کو نشانہ بنایا: ایرانی خبر ایجنسی

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے رپورٹ کیا ہے کہ جمعرات کے روز ایرانی فضائی دفاعی نظام نے دارالحکومت تہران کے بعض علاقوں میں چھوٹے اور جاسوس ڈرونز کا کو نشانہ بنایا ہے۔

    یہ اطلاعات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب شہر کے مغربی، وسطی اور جنوب مشرقی حصوں میں فضائی دفاعی فائر کی آوازیں سنی گئی تھیں۔

  13. ایران فُٹبال ورلڈ کپ کے میچز امریکہ میں کھیلے گا: فیفا صدر

    فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو کا کہنا ہے کہ ایران اس برس ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ میں ’شرکت کرے گا‘، جو کہ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں کھیلا جائے گا۔

    امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے سبب ایرانی ٹیم کی ورلڈ کپ میں شرکت پر شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

    تاہم فیفا کے صدر کا کہنا ہے کہ ’ایران ضرور امریکہ میں کھیلے گا۔ اس کی وجہ بہت سادہ ہے، ہمیں متحد رہنا ہے۔ ہمیں لوگوں کو جوڑنا ہے۔‘

    کینیڈا میں منعقد ہونے والی فیفا کانگریس میں ایرانی فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج سمیت دیگر حکام کو بھی شریک ہونا تھا، مگر 211 ممالک میں سے ایران ہی وہ واحد ملک تھا جس کے نمائندے وہاں موجود نہیں تھے۔

    ایران کی تسنیم ایجنسی نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ ان کا وفد کینیڈا میں امیگریشن حکام کے رویے کے سبب بارڈر کنٹرول سے ہی واپس لوٹ گیا تھا۔

    کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتی ہیں کہ ایرانی وفد کے ملک میں داخلے کی اجازت کو ’منسوخ‘ کر دیا گیا تھا۔

    کہا جاتا ہے کہ ایرانی فٹبال ایسوسی ایشن کے سربراہ تاج مہدی کے پاسدارانِ انقلاب سے تعلقات ہیں۔

    جمعرات کو صدر ٹرمپ سےجب ایران کے فُٹبال ورلڈ کپ میں حصہ لینے کے حوالے سے پوچھا گیا، تو ان کا کہنا تھا کہ ’اگر جیانی کہتے ہیں تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔ میرے خیال میں انھیں کھیلنے دینا چاہیے۔‘

  14. ایران معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے، اس کی جوہری صلاحیت ختم کر دی: صدر ٹرمپ کا دعویٰ

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے تاکہ وہ جوہری بم نہ حاصل کر سکے۔

    اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ’میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ ایران کوئی معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو ختم کر دیا ہے اور اس کی ڈرون فیکٹریاں 82 فیصد اور میزائل فیکٹریاں 90 فیصد ختم ہو چکی ہیں۔

    ’ہم نے ان کے بہت سارے میزائل تباہ کر دیے ہیں۔‘

    امریکی صدر نے کہا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے سکتے۔

    ایران کی بحری ناکہ بندی پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ’ان کی معیشت تباہ ہو رہی ہے۔ ہماری ناکہ بندی شاندار رہی ہے اور ایران اب تیل سے کوئی پیسے نہیں کما پا رہا۔‘

  15. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھ کر لالچ کی بنیاد پر فساد برپا کرنے والے غیرملکیوں کی جگہ خلیج فارس کے پانیوں کی تہہ کے سوا کہیں اور نہیں ہے۔
    • جمعرات کے روز تقریباً سات فیصد اضافے کے بعد برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت 126 ڈالر سے اوپر چلی گئی ہے۔ یہ سنہ 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔
    • متحدہ عرب امارات نے’خطے میں موجودہ پیش رفت کی روشنی میں‘ اپنے شہریوں کے ایران، لبنان اور عراق کے سفر پر پابندی عائد کر دی ہے۔
    • ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکہ کی بحری ناکہ بندی خلیج میں بد امنی کو مزید بڑھائے گی اور اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکے گی۔
    • اسرائیلی وزارت خارجہ نے جمعرات کو کہا کہ اسرائیلی افواج نے غزہ کی جانب جانے والے امدادی قافلے کے 20 جہازوں پر سوار تقریباً 175 کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔
    • امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق بحیرۂ عرب میں ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے دوران اب تک 44 تجارتی جہازوں کو واپس مڑنے یا بندرگاہ لوٹنے کی ہدایت دی جا چکی ہے۔
  16. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔