آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

شہباز شریف سے گفتگو میں ایرانی صدر کا ’معاہدے تک پہنچنے کے لیے موثر کوششوں‘ پر پاکستان کا شکریہ

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے گفتگو میں انھوں نے ’معاہدے کے لیے قدم بڑھانے اور اس تک پہنچنے کے لیے موثر کوششیں کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔‘ جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ’معاہدے کے بہت قریب ہیں۔‘

خلاصہ

  • امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے لیے ابتدائی معاہدہ طے پا گیا: امریکی حکام
  • مجتبیٰ خامنہ ای: ’امریکہ اور اسرائیل ایران کو غیر مستحکم کرنے کے درپے ہیں‘
  • وزیر خارجہ اسحاق ڈار کل سرکاری دورے پر واشنگٹن روانہ ہوں گے، 'مارکو روبیو سے بھی ملاقات ہوگی': دفتر خارجہ
  • اسرائیل کے لبنان پر حملوں کی نئی لہر، شہر صور کو نشانہ بنایا
  • تین دن میں امریکہ کا ایران پر دوسرا حملہ، ایران کا جواب میں امریکہ کے فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
  • آبنائے ہرمز سے گزرنے والے امریکی آئل ٹینکر پر فائرنگ کر کے اسے واپس جانے پر مجبور کر دیا: ایران
  • ٹرمپ کا ایران معاہدہ دیگر ممالک کی معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کرنے کا عندیہ

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    29 مئی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. شہباز شریف سے گفتگو میں معاہدے تک پہنچنے کے لیے موثر کوششوں پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا: ایرانی صدر

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے پاکستان کی ’موثر کوششوں‘ پر شکریہ ادا کیا ہے۔

    انھوں نے لکھا: ’ملیشیا اور پاکستان کے وزرائے اعظم سے عید الاضحیٰ کی مبارک باد کے لیے گفتگو کی۔‘

    مسعود پزشکیان کے مطابق گفتگو کے دوران انھوں نے ایران کی سفارت کاری سے وابستگی پر زور دیا۔

    انھوں نے لکھا: ’انسانی ہمدردی پر مبنی موقف پر ملائیشیا کا اور معاہدے کے لیے قدم بڑھانے اور اس تک پہنچنے کے لیے موثر کوششیں کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔‘

    مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کی پالیسی تمام شعبوں میں مسلمان اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا ہے۔

  3. امریکہ اور ایران معاہدے کے ’بہت قریب‘ تو ہیں مگر ابھی معاہدے تک ’پہنچے نہیں ہیں‘: جے ڈی وینس

    نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ جنگ کے بارے میں کسی معاہدے تک پہنچنے سے پہلے امریکہ اور ایران کو اب بھی کئی اہم نکات طے کرنا ہوں گے۔

    بی بی سی کے اس سوال پر، کہ کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی معاہدے پر دستخط کے قریب ہیں، وینس نے کہا کہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ دونوں فریق ’کب اور کیا‘ کسی معاہدے کو حتمی شکل دیں گے۔

    اطلاعات کے مطابق یہ معاہدہ جنگ بندی میں 60 دن کی توسیع کرے گا اور ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل پر بات چیت کا آغاز کرے گا۔

    اس سے پہلے جمعرات کو امریکی حکام نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ دونوں ممالک ایک معاہدے کے فریم ورک پر متفق ہو چکے ہیں، بس ٹرمپ اور ایران کی قیادت کی منظوری کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

    تاہم ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے رپورٹ کیا کہ معاہدے کو نہ تو حتمی شکل دی گئی ہے اور نہ ہی اس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    جمعرات کی شام نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ مذاکرات کار معاہدے میں استعمال کی جانے والی ’زبان پر بات کر رہے ہیں‘ جس میں ’افزودگی کا سوال‘ بھی شامل ہے۔

    انھوں نے صحافیوں سے کہا: ’ہم ابھی معاہدے تک نہیں پہنچے لیکن اس کے بہت قریب ہیں اور اس پر کام جاری رکھیں گے۔‘

    امریکہ طویل عرصے سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی روکے اور اپنے پاس پہلے سے موجود ذخیرے کو ختم کرے۔ کہا جاتا ہے کہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم جوہری ہتھیار بنانے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    واشنگٹن ڈی سی میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران وینس کا لہجہ پرامید تھا، انھوں نے کہا کہ امریکہ کو یقین ہے ایرانی ’نیک نیتی‘ کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔

  4. امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے لیے ابتدائی معاہدہ طے پا گیا: امریکی حکام, میکس ماٹزا اور برنڈ ڈیبُسمن جونیئر، وائٹ ہاؤس رپورٹر

    امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے لیے ایک ابتدائی معاہدہ طے پا گیا ہے، تاہم امریکی حکام کے مطابق اسے ابھی حتمی منظوری درکار ہے۔

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں نے ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق کیا ہے جس کے تحت جنگ بندی کو مزید 60 دن تک بڑھایا جائے گا اور اس عرصے میں ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل پر مذاکرات شروع کیے جائیں گے۔

    حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نئے جنگ بندی معاہدے کی ابھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا ایرانی قیادت نے منظوری نہیں دی۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھ رہی ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اس نے امریکہ کی جانب سے جنوبی ایران پر حالیہ فضائی حملوں کے جواب میں خطے میں موجود ایک امریکی اڈے کو نشانہ بنایا۔

    گذشتہ چند دنوں کے دوران امریکہ اور ایران دونوں ایک دوسرے پر نازک جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

    ایران نے وائٹ ہاؤس کے بیان کی تصدیق نہیں کی۔

    بدھ کے روز ایرانی سرکاری میڈیا نے ایک غیر سرکاری مسودے کے کچھ نکات شائع کیے، جسے 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت قرار دیا گیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ اس مجوزہ مسودے کے تحت امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا، ایران کے قریب سے امریکی افواج واپس بلائی جائیں گی، اور آبنائے ہرمز میں غیر فوجی بحری آمد و رفت بحال کی جائے گی، جس کا نظم و نسق ایران اور عمان کے پاس ہوگا۔

    دنیا کی تقریباً ایک تہائی مائع قدرتی گیس اور تیل اس اہم بحری راستے سے گزرتے ہیں، اور اس کی بندش نے عالمی توانائی تجارت کو متاثر کیا ہے۔

    تاہم وائٹ ہاؤس نے اس مبینہ مسودے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’مکمل طور پر من گھڑت‘ قرار دیا۔

    گذشتہ ہفتے دونوں فریقوں نے معاہدے کی جانب پیش رفت کے اشارے دیے تھے، جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں کہ جلد کوئی اعلان متوقع ہے۔

    8 اپریل کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے صدر ٹرمپ بارہا یہ کہتے رہے ہیں کہ دونوں ممالک کسی معاہدے کے قریب ہیں، لیکن اب تک کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

    مثال کے طور پر، چند روز بعد اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات بھی کسی ٹھوس نتیجے پر ختم نہیں ہوئے تھے۔

    تقریباً ہر موقع پر، اور حالیہ دنوں میں بھی، ٹرمپ اور دیگر امریکی حکام یہ واضح کرتے رہے ہیں کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو ’دوسرا راستہ‘ یعنی فوجی کارروائی اب بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔

    گذشتہ ہفتے ٹرمپ نے بتایا کہ وہ ایران پر دوبارہ حملے کا حکم دینے سے صرف ایک گھنٹہ دور تھے، لیکن اتحادی ممالک کی درخواست پر انھوں نے ایسا نہیں کیا۔

    بدھ کو کابینہ اجلاس میں ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں، مگر ایران کی پیشکش ابھی قابلِ قبول سطح تک نہیں پہنچی اور مزید کام باقی ہے۔

    یہ واضح نہیں کہ اگلے 24 گھنٹوں میں کیا پیش رفت ہوئی یا صدر ٹرمپ اس مجوزہ معاہدے کی منظوری کب، یا آیا دیں گے بھی یا نہیں۔

    تاہم اگر جنگ بندی میں توسیع ہو جاتی ہے تو دونوں ممالک کو پیچیدہ معاملات، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام اور اس کے افزودہ یورینیم کے ذخائر، پر تفصیلی بات چیت کا موقع ملے گا۔

    ٹرمپ نے پہلے یہ تجویز دی تھی کہ امریکہ اس یورینیم کو اپنے قبضے میں لے سکتا ہے یا ایران کے ساتھ مل کر اسے کسی تیسرے مقام پر کم درجے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

    امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کے مطابق، ٹرمپ کو اس مجوزہ معاہدے پر بریفنگ دی جا چکی ہے، مگر انھوں نے فوری منظوری نہیں دی اور مزید چند دن غور کرنے کا کہا ہے۔

    امریکی ذرائع کی جانب سے اس رپورٹ کی تصدیق اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ دونوں ممالک کسی معاہدے کے پہلے سے زیادہ قریب آ چکے ہیں، اگرچہ حتمی پیش رفت ابھی باقی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق، اس معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بلا رکاوٹ جاری رہ سکے گی، جبکہ ایران کو 30 دن کے اندر اس راستے سے بارودی سرنگیں ہٹانا ہوں گی۔

    اس کے بدلے میں امریکہ اپنی ناکہ بندی ختم کر سکتا ہے اور ایران کو تیل کی فروخت دوبارہ شروع کرنے کے لیے پابندیوں میں نرمی دے سکتا ہے۔

    امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے وائٹ ہاؤس بریفنگ میں اس معاہدے کی تصدیق کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ ’صدر سے پہلے کوئی حتمی بات کہنا درست نہیں، یہ فیصلہ انہی نے کرنا ہے۔‘

  5. روس کا امریکہ اور ایران سے جنگ سے گریز کا مطالبہ

    روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے امریکہ اور ایران پر زور دیا کہ وہ جنگ کی طرف لوٹنے سے گریز کریں اور بات چیت جاری رکھیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ روس ایران سے افزودہ یورینیم ہٹانے میں مدد کے لیے تیار ہے لیکن ماسکو ’یہ پیشکش نہیں کرے گا۔‘

    ماریا زاخارووا نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن نے ابھی تک اس سلسلے میں روس کی تجویز کو قبول نہیں کیا ہے جو کئی ماہ قبل پیش کی گئی تھی۔

  6. وزیر خارجہ اسحاق ڈار کل سرکاری دورے پر واشنگٹن روانہ ہوں گے، ’مارکو روبیو سے بھی ملاقات ہوگی‘: دفتر خارجہ

    پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اپنے دورہ امریکہ کے اختتام پر کل بروز جمعہ 28 مئی کو ایک سرکاری دورے پر واشنگٹن روانہ ہوں گے۔

    پاکستانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ اسحاق ڈار، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک گئے ہیں، کل واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات اور بات چیت کریں گے۔

    پاکستان دونوں ممالک کے درمیان حالیہ امن مذاکرات کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان باضابطہ ثالث ہے۔

    پاکستانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دور حاضر کے اہم مسائل پر تعاون کو مضبوط بنانا، بشمول بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے پاکستان کی کوششیں، اسحاق ڈار کے دورہ واشنگٹن کے محور میں شامل ہوں گی۔

  7. امریکہ کا ایرانی ایئرلائنز کی ہوائی اڈوں تک رسائی اور ایندھن بھرنے پر پابندی کا اعلان

    امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے جمعرات کو کہا کہ واشنگٹن ایران پر دباؤ اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کی کوششوں کے تحت ایرانی ایئرلائنز کو ہوائی اڈوں تک رسائی سے روک دے گا۔

    سکاٹ بیسنٹ نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر ایک پیغام میں لکھا ہے کہ امریکہ ’دونوں ایرانی ایئر لائنز کو لینڈنگ، ایندھن بھرنے اور ٹکٹوں کی فروخت سے روک دے گا،‘ لیکن انھوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    انھوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ صرف ’مذاکرات میں تسلی بخش نتیجہ حاصل کرنے سے ہی اس گراوٹ کے رجحان کو ختم کیا جا سکتا ہے۔‘

  8. مجتبیٰ خامنہ ای: ’امریکہ اور اسرائیل ایران کو غیر مستحکم کرنے کے درپے ہیں‘

    ایرانی میڈیا نے آج رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب ایک تحریری پیغام شائع کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ’امریکہ اور اسرائیل شکست کے بعد ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور اور غیر مستحکم کرنے کے درپے ہیں۔‘

    اس تحریری پیغام میں 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای، جو اقتدار میں آنے کے بعد سے عوام کے سامنے نہیں آئے، نے ایرانی قوم کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔

    اسلامی مشاورتی اسمبلی کے قیام کی سالگرہ کے موقع پر جاری ہونے والے اس پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ پارلیمنٹ کو ’بنیادی مسائل خاص طور پر معیشت، روزگار، مہنگائی کو روکنے، پیداوار میں اضافے اور معاشرے میں امید پیدا کرنے‘ پر توجہ دینی چاہیے۔

    پیغام میں یہ بھی کہا گیا کہ ’ایران اس وقت گہری اقتصادی کساد بازاری کا سامنا کر رہا ہے اور امریکی اور اسرائیلی حملوں کی وجہ سے صنعتی انفراسٹرکچر کی تباہی، طویل مدتی انٹرنیٹ کی بندش اور شدید مہنگائی نے عوام کو مشکل معاشی صورتحال میں ڈال دیا۔‘

  9. ایران کی بندر عباس پر حملے اور عمان کے بارے میں ٹرمپ کے تبصروں کی مذمت

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے آج صبح بندر عباس کے علاقوں پر امریکی حملے کی ’سختی سے مذمت‘ کرتے ہوئے اسے ’بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔

    اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’جارحیت کا یہ عمل ایران کی علاقائی سالمیت اور قومی خودمختاری کے خلاف ہے اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔‘

    انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو امریکہ کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔‘

    وزارت خارجہ کے ترجمان نے عمان کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کی بھی مذمت کی۔

    عمان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اقوام متحدہ کے ایک رکن ملک کو تباہ کرنے کی دھمکی جس نے خطے میں ثالثی اور تعمیری کردار ادا کیا، بین الاقوامی تعلقات میں لاقانونیت اور غنڈہ گردی کی خطرناک علامت ہے۔‘

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو وائٹ ہاؤس میں کابینہ کے اجلاس کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایک بیان دیا جس میں انھوں نے کہا کہ ’عمان کو باقی سب کی طرح برتاؤ کرنا ہوگا، ورنہ ہمیں انھیں تباہ کرنا پڑے گا۔‘

  10. کینیا کے ایک سکول میں آگ لگنے سے 16 طالبات ہلاک: مقامی پولیس

    کینیا کے دار الحکومت نیروبی سے تقریباً 120 کلومیٹر مغرب میں واقع گلگل کے ایک بورڈنگ سکول میں آگ لگنے سے 16 طالبات ہلاک ہو گئی ہیں۔ یہ بات موقع پر موجود ایک پولیس اہلکار نے صحافیوں کو بتائی۔

    کینیا ریڈ کراس اور پولیس کے مطابق اتومیشی گرلز سکول میں یہ آگ جمعرات کی صبح اس وقت لگی جب طالبات سو رہی تھیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ حکام ابھی تک آگ لگنے کی وجہ کا تعین نہیں کر سکے۔

    حالیہ برسوں کے دوران کینیا کے کئی بورڈنگ سکولوں میں آگ لگنے کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ زیادہ جانی نقصان کی وجہ اکثر حفاظتی ہدایات پر عمل نہ کرنے کو قرار دیا جاتا ہے۔

  11. یوکرین جنگ میں روس کے تقریباً پانچ لاکھ فوجی ہلاک ہوئے، برطانوی انٹیلی جنس ایجنسی کا دعویٰ, فرینک گارڈنر، نامہ نگار برائے سکیورٹی امور اور ہنری مور

    برطانیہ کی سب سے بڑی انٹیلی جنس ایجنسی جی سی ایچ کیو (گورنمنٹ کمیونیکیشنز ہیڈکوارٹرز) کے مطابق 2022 میں شروع ہونے والی یوکرین جنگ میں روس کے تقریباً پانچ لاکھ فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

    یہ اعداد و شمار جی سی ایچ کیو کی ڈائیریکٹر، این کیسٹ بٹلر نے پیش کیے۔

    انھوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ برطانوی سر زمین پر جاسوسی کی متعدد سازشوں کے پیچھے کریملن کا ہاتھ ہے اور حالیہ برسوں میں برطانیہ سمیت دیگر نیٹو ممالک کے خلاف روس ایک غیر اعلانیہ ’ہائبرڈ جنگ‘ جاری رکھے ہوئے ہے۔

    روس اور یوکرین دونوں وقتاً فوقتاً ایک دوسرے کے فوجی نقصانات کے اعداد و شمار جاری کرتے رہے ہیں، تاہم اپنے نقصانات کی تفصیلات دینے سے گریز کرتے ہیں۔

    تاہم فروری میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے کہا تھا کہ 2022 سے اب تک یوکرین کے 55 ہزار فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

  12. اسرائیلی فوج کے جنوبی لبنان پر حملے

    جنوبی لبنان کے شہر صور کے رہائشیوں کو انخلا کی وارننگ جاری کرنے کے بعد اسرائیلی فوج نے یہاں حملے شروع کر دیے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ شہر کے اطراف میں حزب اللہ کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہی ہے۔

    اپنے بیان میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ حزب اللہ کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرنے پر مجبور ہے۔ فوج نے یہ بھی کہا کہ بعض عمارتوں کے اطراف رہنے والے افراد اس علاقے کو چھوڑ کر دریائے زہرانی کے شمال کی جانب منتقل ہو جائیں۔

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق جمعرات کی صبح اسرائیل نے دو بار فضائی حملے کیے اور شہر صور اور اس کے مشرق میں ایک علاقے کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں ایک عمارت کو نقصان پہنچا اور شہر میں کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔

  13. امریکہ نے آبنائے خلیج فارس اتھارٹی پر پابندیاں عائد کر دیں

    امریکی وزارت خزانہ نے آبنائے خلیج فارس اتھارٹی پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    امریکی وزارت خزانہ نے اپنے بیان میں اس ادارے کے قیام کو پاسداران انقلاب کی جانب سے ’آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے آمدنی حاصل کرنے کی کوشش‘ قرار دیا ہے۔

    ایران نے آبنائے ہرمز بند کیے جانے اور امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے کے بعد جہازوں کی آمدورفت کی نگرانی کے لیے اس ادارے کو قائم کیا تھا۔

    ایک بیان میں آبنائے خلیج فارس اتھارٹی نے آبنائے ہرمز میں ’نگرانی کے دائرہ کار‘ کا نقشہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس علاقے میں آمد و رفت ’اس ادارے کے ساتھ ہم آہنگی سے مشروط‘ ہے۔

    اس بیان کے مطابق یہ دائرہ کار آبنائے کے مشرق میں ’ایران کے کوہ مبارک اور متحدہ عرب امارات کے جنوبی فجیرہ کو ملانے والی لکیر‘ سے لے کر مغرب میں ’ایران کے جزیرہ قشم کے آخری حصے اور متحدہ عرب امارات کے ام القیوین کو ملانے والی لکیر‘ تک پھیلا ہوا ہے۔

  14. اُس امریکی ایئربیس کو نشانہ بنایا جہاں سے ایران پر حملے کیے گئے تھے: پاسداران انقلاب

    ایرانی شہر بندر عباس کے قریب امریکی فضائی حملے کے رد عمل میں پاسداران انقلاب نے اُس امریکی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جہاں سے ایران پر حملے کیے گئے تھے۔

    پاسداران انقلاب کا بیان خبر رساں ادارے تسنیم نے شائع کیا۔ اس کے مطابق ’آج امریکی فوج کی جانب سے بندر عباس ایئرپورٹ کے قریب فضائی حملے کے بعد، صبح چار بج کر 50 منٹ پر اُس امریکی ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے جارحیت کا ارتکاب کیا گیا تھا۔‘

    خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پاسداران انقلاب نے کہا کہ ’یہ جواب ایک سنجیدہ تنبیہ ہے تاکہ دشمن جان لے کہ جارحیت کا جواب ضرور دیا جائے گا، اور اگر اسے دہرایا گیا تو ہمارا رد عمل زیادہ فیصلہ کن ہو گا۔ اس کے نتائج کی ذمہ داری جارح فریق پر ہو گی۔‘

    امریکی اڈے کو نشانہ بنانے کا پاسداران انقلاب کا بیان کویت کی فوج کے اس بیان کے ساتھ ہی سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’کویت کا فضائی دفاع کا نظام اس وقت دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔‘

    تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ پاسداران انقلاب کا بیان کردہ حملہ اور کویت کے بیان کا آپس میں کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

    امریکی فوج کی مرکزی کمان، سینٹکام، نے بھی جمعرات کی صبح ایک بیان میں کہا کہ اس نے چار ایرانی ڈرونز اور ایک ڈرون لانچ کرنے کے مقام کو نشانہ بنایا۔ سینٹکام نے اس حملے کو اپنے دفاع میں کی گئی کارروائی بیان کیا تھا۔

    دوسری جانب خبر رساں ادارے تسنیم نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے لکھا تھا کہ ایک امریکی آئل ٹینکر نے اپنا ریڈار بند کر کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کی، جسے انتباہی فائرنگ کر کے واپس جانے پر مجبور کر دیا گیا۔

  15. آبنائے ہرمز سے گزرنے والے امریکی آئل ٹینکر پر فائرنگ کر کے اسے واپس جانے پر مجبور کر دیا: ایران

    کچھ دیر پہلے رپورٹ کیا گیا تھا کہ امریکہ نے تین دنوں کے دوران ایران پر دوسرا حملہ کیا ہے، امریکی سینٹرل کمانڈ جسے اپنے دفاع میں کی گئی کارروائی قرار دے رہی ہے۔

    اب اس حوالے سے ایران کا موقف بھی سامنے آیا ہے۔

    انڈیا کے شہر ممبئی میں ایرانی قونصل خانے کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ سے پوسٹ کیا گیا: ’(خبر رساں ادارے) تسنیم سے بات کرنے والے ایک با خبر فوجی ذریعے کے مطابق ایک امریکی آئل ٹینکر نے اپنا ریڈار بند کر کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کی۔‘

    بیان کے مطابق ایران کی بحریہ نے انتباہی فائرنگ کی اور جہاز کو واپس جانے پر مجبور کر دیا۔

    ایرانی قونصل خانے کی پوسٹ میں درج کیا گیا ہے کہ ’امریکی فوج نے بندر عباس کے قریب ایک غیر آباد علاقے پر فائرنگ کی۔ علاقے میں سنی جانے والی دھماکوں کی آوازیں اسی واقعے سے منسلک تھیں۔‘

    ایکس پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی حملے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

  16. کویت پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے: فوج

    کویتی فوج کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ سے پوسٹ کیا گیا ہے کہ ’کویت کا فضائی دفاع کا نظام اس وقت دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔‘

    پاکستانی وقت کے مطابق صبح سات بج کر 40 منٹ پر پوسٹ کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ اگر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں تو وہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے دشمن کے حملوں کو ناکام بنانے کی کارروائی کا نتیجہ ہیں۔

    کویتی فوج کی ایکس پوسٹ میں شہریوں سے کہا گیا: ’گزارش ہے کہ متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ سکیورٹی اور حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔‘

  17. تین دن میں امریکہ کا ایران پر دوسرا حملہ

    امریکی فوج نے ایران میں نئے حملے کیے ہیں، جن میں ساحلی شہر بندر عباس کے ایک فوجی مقام کو نشانہ بنایا گیا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی ہے کہ اس کی فورسز نے چار ایرانی حملہ آور ڈرون بھی مار گرائے ’جو آبنائے ہرمز کے اطراف خطرہ بن رہے تھے۔‘

    سینٹکام کے بیان میں گیا گیا کہ امریکی فوج نے بندر عباس میں ایران کے عسکری مقام کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہاں سے پانچواں ڈرون لانچ کیا جانے والا تھا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق شہر کے مشرق میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان ایک نازک جنگ بندی برقرار ہے، اور تین ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے طویل مذاکرات جاری ہیں۔

    سینٹکام کے مطابق یہ نئے حملے اس نے اپنے دفاع کی خاطر ایک ’محتاط‘ در عمل کے تحت کیے۔

    اس سے قبل پیر کے روز بھی امریکہ نے جنوبی ایران میں حملے کیے تھے اور ایران کے میزائل اڈوں سمیت ان کشتیوں کو نشانہ بنایا تھا جو امریکی فوج کے مطابق سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

    سینٹکام نے اس حملے کو بھی اپنے دفاع میں کی گئی کارروائی قرار دیا تھا۔

    ایران نے پیر کے روز ہوئے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں ’جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا تھا اور عزم ظاہر کیا تھا کہ ایرانی حکومت ’ہر حملے کا جواب دے گی۔‘

    ایران کے پاسداران انقلاب نے منگل کو یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اس نے ایران کی فضائی حدود میں داخل ہونے والا ایک امریکی ڈرون مار گرایا اور ایک لڑاکا طیارے اور ایک اور ڈرون پر فائرنگ کی۔ تاہم یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ واقعہ پیش کب آیا۔

    پاسداران انقلاب کے مطابق امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کے خلاف ایران کو جوابی کارروائی کا ’جائز اور قطعی‘ حق حاصل ہے۔

  18. ٹرمپ کا ایران معاہدے کو سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کی معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کرنے کا عندیہ، عمان کو تباہ کرنے کی دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ہم چاہتے ہیں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر ممالک فوراً معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو جائیں۔‘

    امریکی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کے دوران ٹرمپ کا کہنا تھا: ’ایمانداری سے بات کروں تو they owe it to us‘۔ یعنی وہ ممالک معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونے کی ہماری بات ماننے کے پابند ہیں۔

    پھر انھوں نے مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف کو مخاطب کر کے پوچھا: ’سٹیو!ً کیا آپ انھیں (معاہدے پر) دستخط کے لیے آمادہ کر لیں گے؟‘

    اس پر جواب دیا گیا: ’جناب صدر! ہم یقینی طور پر اس کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر انھوں نے دستخط نہ کیے تو میں پُر یقین نہیں ہوں کہ کیا ہمیں معاہدہ کرنا بھی چاہیے۔‘

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم بھرپور انداز میں درخواست کریں گے کہ وہ اس (معاہدہ ابراہیمی) میں شامل ہوں۔‘

    رپورٹر نے سوال کیا، تو کیا ایران کے ساتھ معاہدہ اس بات کے ساتھ مشروط ہو گا کہ مزید ممالک بھی معاہدہ ابراہیمی کا حصہ بنیں؟

    ٹرمپ نے جواب دیا: ’میں یہ نہیں کہنا چاہتا، میں نہیں بتانا چاہتا کہ کیا مشروط ہے اور کیا نہیں۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہم ابھی ایک اچھا معاہدہ کر سکتے ہیں لیکن شاید وہ زبردست معاہدہ نہ ہو۔ اور اگر وہ معاہدہ زبردست نہیں ہے تو ہم کر ہی نہیں رہے۔‘

    امریکی صدر سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ کیا وہ ایک ایسا قلیل مدتی معاہدہ قبول کر لیں گے جس کے تحت ایران اور عمان آبنائے ہرمز کو کنٹرول کریں؟

    اس کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز ہر کسی کے لیے کھلی رہے گی۔ ہم اس کی نگرانی کر رہے ہوں گے لیکن کوئی بھی اس پر کنٹرول نہیں کر رہا ہو گا۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ عمان کا رویہ بھی ایسا ہی ہو گا جیسا کہ دیگر ممالک کا ہو گا ورنہ ’ہمیں اس کو تباہ کرنا پڑے گا، وہ اس بات کو سمجھتے ہیں۔‘

  19. آبنائے ہرمز پر کسی کا کنٹرول نہیں ہوگا، ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی پر بات نہیں ہو رہی: صدر ٹرمپ

    امریکی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز ’سب کے لیے کھلی‘ ہوگی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی بھی اسے (آبنائے ہرمز کو) کنٹرول نہیں کرے گا۔ ہم اس کی نگرانی کریں گے، اسے دیکھیں گے لیکن اسے کوئی بھی کنٹرول نہیں کرے گا۔ یہ ان مذاکرات کا حصہ ہے جو ہم کر رہے ہیں۔‘

    اس موقع پر صدر ٹرمپ سے سوال ہوا کہ کیا وہ ایران کو تیل کی فروخت کی اجازت دینے کے لیے اس پر عائد پابندیوں میں نرمی پر غور کر رہے ہیں، تو ان کا کہنا تھا ’نہیں، ہم اس وقت پابندیوں میں نرمی یا پیسے دینے پر بات چیت نہیں کر رہے۔ نہ پابندیاں ہٹ رہی ہیں اور نہ پیسے دیے جا رہے ہیں۔‘

    ’ہمارے پاس اس پیسے کا کنٹرول ہے جسے ایران اپنا کہتا ہے۔ جب تک وہ درست برتاؤ نہیں کرتے ہم اس پیسے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھیں گے۔ جب وہ درست برتاؤ کریں گے تو ہم انھیں ان کے پیسے تک رسائی دے دیں گے۔ لیکن ہم فی الحال ایسا نہیں کر رہے۔‘

  20. مذاکرات میں اچھی طرح آ گے بڑھ رہے ہیں، ایران کے ساتھ ’بہترین‘ معاہدہ چاہتے ہیں: امریکی صدر

    امریکی کابینہ کے اجلاس میں ایران کے حوالے سے مزید بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ اس وقت بھی ایران کے ساتھ ’اچھا معاہدہ‘ کر سکتا ہے لیکن ’شاید وہ بہترین نہ ہو۔‘

    ’اگر یہ معاہدہ بہترین نہیں ہوگا تو ہم کریں گے ہی نہیں۔‘

    صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں امریکہ مذاکرات میں اچھی طرح سے آگے بڑھ رہا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ تہران میں حکومت کی تبدیلی کے مقصد سے آ گے نہیں بڑھا تھا ’لیکن اب ہم مختلف لوگوں کے ایک گروہ سے بات کر رہے ہیں، جو کہ میں سمجھتا ہوں عقلمند اور مناسب ہیں۔ یہ ایک طریقے سے حکومت کی تبدیلی ہی ہے۔‘