لائیو, آبنائے ہرمز پر کسی کا کنٹرول نہیں ہوگا، ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی پر بات نہیں ہو رہی: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یا تو یہ اسی طریقے سے حل ہو جائے گا، یا پھر ہمیں اسے ختم کرنا پڑے گا۔‘ ایرانی قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ’وہ کمزوری کی پوزیشن سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ لیکن دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ ممکن ہے ہمیں واپس جا کر معاملہ مکمل کرنا پڑے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ نہ کرنا پڑے۔‘
خلاصہ
امریکی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز 'سب کے لیے کھلی' ہوگی
ہم ایران کے ساتھ مذاکرات سے ابھی مطمئن نہیں، لیکن ہو جائیں گے: ٹرمپ
اُمید رکھتے ہیں کہ امن معاہدہ جلد طے پا جائے گا: شہباز شریف کی ایرانی ہم منصب سے فون پر گفتگو
ایرانی میڈیا کا امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا مسودہ حاصل کرنے کا دعویٰ، وائٹ ہاؤس کی تردید
ٹرمپ ممکنہ طور پر آئندہ چند گھنٹوں میں یکطرفہ طور پر معاہدے کو حتمی قرار دینے کا اعلان کر سکتے ہیں: ایرانی میڈیا
غزہ اور لبنان پر اسرائیل کے حملے، 34 افراد ہلاک
اسرائیل کا غزہ میں حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ محمد عودۃ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
جنگ کے خاتمے کے لیے ’باوقار فریم ورک‘ کے حصول کے لیے تیار ہیں: ایرانی صدر
لائیو کوریج
آبنائے ہرمز پر کسی کا کنٹرول نہیں ہوگا، ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی پر بات نہیں ہو رہی: صدر ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی کابینہ کے اجلاس
میں گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز ’سب کے لیے کھلی‘ ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی
بھی اسے (آبنائے ہرمز کو) کنٹرول نہیں کرے گا۔ ہم اس کی نگرانی کریں گے، اسے
دیکھیں گے لیکن اسے کوئی بھی کنٹرول نہیں کرے گا۔ یہ ان مذاکرات کا حصہ ہے جو ہم
کر رہے ہیں۔‘
اس موقع پر صدر ٹرمپ سے
سوال ہوا کہ کیا وہ ایران کو تیل کی فروخت کی اجازت دینے کے لیے اس پر عائد پابندیوں
میں نرمی پر غور کر رہے ہیں، تو ان کا کہنا تھا ’نہیں، ہم اس وقت پابندیوں میں
نرمی یا پیسے دینے پر بات چیت نہیں کر رہے۔ نہ پابندیاں ہٹ رہی ہیں اور نہ پیسے
دیے جا رہے ہیں۔‘
’ہمارے پاس اس پیسے کا
کنٹرول ہے جسے ایران اپنا کہتا ہے۔ جب تک وہ درست برتاؤ نہیں کرتے ہم اس پیسے پر
اپنا کنٹرول برقرار رکھیں گے۔ جب وہ درست برتاؤ کریں گے تو ہم انھیں ان کے پیسے تک
رسائی دے دیں گے۔ لیکن ہم فی الحال ایسا نہیں کر رہے۔‘
مذاکرات میں اچھی طرح آ گے بڑھ رہے ہیں، ایران کے ساتھ ’بہترین‘ معاہدہ چاہتے ہیں: امریکی صدر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی کابینہ کے اجلاس
میں ایران کے حوالے سے مزید بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ اس
وقت بھی ایران کے ساتھ ’اچھا معاہدہ‘ کر سکتا ہے لیکن ’شاید وہ بہترین نہ ہو۔‘
’اگر یہ معاہدہ بہترین نہیں ہوگا تو ہم کریں گے
ہی نہیں۔‘
صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ
بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں امریکہ مذاکرات میں اچھی طرح سے
آگے بڑھ رہا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ
امریکہ تہران میں حکومت کی تبدیلی کے مقصد سے آ گے نہیں بڑھا تھا ’لیکن اب ہم مختلف
لوگوں کے ایک گروہ سے بات کر رہے ہیں، جو کہ میں سمجھتا ہوں عقلمند اور مناسب ہیں۔
یہ ایک طریقے سے حکومت کی تبدیلی ہی ہے۔‘
اُمید ہے کہ امن معاہدہ جلد طے پا جائے گا: شہباز شریف کی ایرانی ہم منصب سے فون پر گفتگو
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر ایک دوسرے کو مبارکباد دی اور خطے کی صورتحال پر گفتگو کی۔
وزیراعظم آفس کے مطابق تقریباً تیس منٹ جاری رہنے والی اس گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے اپنے اپنے ممالک کے عوام اور پوری مسلم اُمہ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
ایرانی صدر نے خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب، قطر اور ترکی سمیت دیگر علاقائی ممالک بھی ان کوششوں میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے موجودہ بحران کے دوران ایرانی شہریوں کے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور ایران کی قیادت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا۔ انھوں نے ایرانی صدر کے خیرسگالی کے جذبات پر شکریہ بھی ادا کیا۔
وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ وہ اُمید رکھتے ہیں کہ امن معاہدہ جلد طے پا جائے گا اور یہ ایرانی قوم کے وقار کے مطابق ہوگا۔ ان کے مطابق خطے میں امن کے قیام سے ایران کی معاشی صلاحیت کو فروغ ملے گا جس سے پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان ایک برادر اور ہمسایہ ملک کی حیثیت سے ہمیشہ ایران کے ساتھ کھڑا رہے گا اور امن کی بحالی کے بعد دونوں ممالک کے لیے روشن مستقبل موجود ہے۔
گفتگو کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطے اور قریبی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ہم معاہدہ چاہتے ہیں، لیکن اگر یہ راستہ کام نہ کرے تو صدر کے پاس اور بھی آپشنز موجود ہیں: امریکی وزیر خارجہ
،تصویر کا ذریعہWhite House
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کابینہ اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ کے کہنے پر اپنی گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ ’ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔‘
انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح کہا کہ ’ایران دنیا میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور اسے کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں رکھنے چاہییں۔‘
مارکو روبیو نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کی ہمیشہ یہ ترجیح رہی ہے کہ ان معاملات کو ’مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے اور دیکھا جائے کہ کیا ہم کوئی معاہدہ کر سکتے ہیں۔ سفارتکاری ہمیشہ پہلا آپشن ہوتی ہے اور ہم اس پر مسلسل کام کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اگر ایسا کوئی معاہدہ ممکن ہو سکا، تو ہم چاہتے ہیں کہ وہ معاہدہ طے پا جائے،‘
اور مزید کہا کہ ’آنے والے گھنٹوں اور دنوں میں دیکھا جائے گا کہ کیا پیشرفت ہو سکتی ہے۔‘
امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ’میں صرف سب کو یاد دلانا چاہتا ہوں، اور مسٹر صدر، آپ یہ اچھی طرح جانتے ہیں، کہ اگر یہ راستہ کام نہ کرے تو آپ کے پاس دوسرے آپشنز بھی موجود ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’لیکن اصل بات یہ ہے کہ ہم مذاکرات اور سفارتکاری کے راستے کو ترجیح دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسے کامیاب ہونے کا ہر ممکن موقع دیا جائے۔ آپ (ٹرمپ) بھی اس کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن موقع فراہم کر رہے ہیں۔‘
ہم ایران کے ساتھ مذاکرات سے ابھی مطمئن نہیں، لیکن ہو جائیں گے: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہWhite House
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ’ابھی تک کامیاب نہیں ہوئے‘ اور ’ہم ابھی اس سے مطمئن نہیں ہیں، لیکن (یہ کامیاب) ہو جائیں گے۔‘
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’یا تو یہ اسی طریقے سے حل ہو جائے گا، یا پھر ہمیں اسے ختم کرنا پڑے گا۔‘
ایرانی قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ’وہ کمزوری کی پوزیشن سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ لیکن دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ ممکن ہے ہمیں واپس جا کر معاملہ مکمل کرنا پڑے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ نہ کرنا پڑے۔‘
انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ ان کے خیال میں ایران کی قیادت ’معاہدہ کرنے کے لیے بہت زیادہ تیار ہے۔‘
ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتے: ٹرمپ
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں اس وقت ایسا لگتا ہے کہ وہ (ایرانی) صرف معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، میرے خیال میں ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے۔‘
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’آپریشن ایپک فیوری کے دوران ہم نے واضح کر دیا تھا کہ دنیا کا سب سے بڑا ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کرنے والا ملک جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔‘
ٹرمپ ممکنہ طور پر آئندہ چند گھنٹوں میں یکطرفہ طور پر معاہدے کو حتمی قرار دینے کا اعلان کر سکتے ہیں: ایرانی میڈیا
ایران کے خبر رساں ادارے فارس کے مطابق امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ممکنہ طور پر آئندہ چند گھنٹوں میں یکطرفہ طور پر ایران کے ساتھ کسی معاہدے کو حتمی قرار دینے کا اعلان کر سکتے ہیں۔
ایجنسی کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن (جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا) نے کہا کہ:
’امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ابھی کچھ مسائل حل طلب ہیں، اور جب تک ایران سے متعلق تمام معاملات مکمل طور پر طے نہیں ہو جاتے، کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوگا۔‘
ذرائع کے مطابق ’اگر یہ باقی ماندہ معاملات مکمل طور پر حل ہو جائیں تو ایران خود باضابطہ طور پر نتائج کا اعلان کرے گا۔‘
فارس نیوز نے مزید لکھا کہ ’باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جلد ہی یکطرفہ طور پر ایران-امریکہ معاہدے کے حتمی ہونے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ اس اقدام کو اس نظر سے دیکھا جا رہا ہے کہ وہ عوامی رائے پر اثر انداز ہونے اور تنازع پوری طرح حل ہونے سے پہلے ہی معاہدے کا تاثر قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
گذشتہ 24 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز سے 23 جہاز گزرے، پاسداران انقلاب
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اس کی اجازت سے 23 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔ پاسداران کی بحریہ نے ایک روز قبل بھی بتایا تھا کہ اس کی ہم آہنگی سے 25 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے تھے۔
اس سے قبل ایرانی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ تہران کو امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کا ابتدائی اور غیر رسمی مسودہ موصول ہوا ہے۔
اس مبینہ مسودے کے مطابق ایران ایک ماہ کے اندر آبنائے ہرمز میں تجارتی آمدورفت کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرے گا، جبکہ اس کے بدلے میں امریکہ ایران کے اطراف سے اپنی فوجی موجودگی ختم کرے گا اور بحری ناکہ بندی بھی اٹھا لے گا۔
بریکنگ, ایرانی میڈیا کا امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا مسودہ حاصل کرنے کا دعویٰ، وائٹ ہاؤس کی تردید
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اسے تہران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کا ایک ابتدائی اور غیر سرکاری مسودہ موصول ہوا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس ممکنہ مفاہمت کے تحت ایران ایک ماہ کے اندر آبنائے ہرمز میں تجارتی آمدورفت کو جنگ سے پہلے والی سطح پر بحال کرے گا۔ اس کے بدلے میں امریکہ ایران کے اطراف میں تعینات اپنی فوجی موجودگی ختم کرے گا اور بحری ناکہ بندی بھی اٹھا لے گا۔
اطلاعات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جہازوں کے راستوں کے انتظام کے لیے ایران اور عمان کے ساتھ ہم آہنگی کی جائے گی۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹریٹ میں خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی سلامتی کے نائب سربراہ، علی باقری کنی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے ایک نئے طریقہ کار پر مشترکہ مذاکرات کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق، آبنائے ہرمز سے گزرنے کے شرائط اور طریقہ کار ایران سے متعلق تنازع سے پہلے کی صورتحال سے مکمل طور پر مختلف ہوں گے۔
علی باقری کنی نے مزید کہا کہ ’جب تک ہم تمام مسائل پر اتفاق نہیں کر لیتے، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کسی بھی معاملے پر اتفاق نہیں ہوا۔‘
وائٹ ہاؤس سے منسلک ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے کہا گیا ہے کہ ایرانی سرکاری میڈیا کی یہ رپورٹ درست نہیں ہے اور جس مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کو انھوں نے ریلیز کرنے کا دعویٰ کیا ہے وہ مکمل طور پر من گھڑت ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ایرانی ریاستی میڈیا کی جانب سے پیش کی جانے والی معلومات پر کسی کو یقین نہیں کرنا چاہیے۔ حقائق ہی اہمیت رکھتے ہیں۔
لاپتہ افراد کے لواحقین کا احتجاج: ’عید کے دن بھی خوشی میسر نہیں‘, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں عید الاضحیٰ کے موقع پر بھی لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس کا اہتمام تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے کیا تھا۔ کوئٹہ پریس کلب کے باہر ہونے والے اس مظاہرے میں خواتین اور بچے بھی شریک ہوئے۔
مظاہرین اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے اور ان کی بازیابی کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ، نیاز بلوچ اور بزرگ سیاسی رہنما مہیم خان بلوچ کے علاوہ لاپتہ افراد کے لواحقین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
لاپتہ افراد کے لواحقین کا کہنا تھا کہ جہاں ایک طرف ملک بھر میں لوگ عید کی خوشیاں منا رہے ہیں، وہیں دوسری جانب وہ اپنے پیاروں کی جدائی کے باعث اس دن بھی احتجاج پر مجبور ہیں۔
ان کے مطابق برسوں گزر جانے کے باوجود ان کے عزیزوں کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں، جس کے باعث ان کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
نصراللہ بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم مطالبہ کرتی رہی ہے کہ لاپتہ افراد کے مسئلے کو ملکی قوانین کے مطابق حل کیا جائے، تاہم ان کے بقول حکومت اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’جب حکومت اس مسئلے کو حل نہیں کر رہی تو ہم اسے سول سوسائٹی کے سامنے لے جا رہے ہیں تاکہ وہ اپنا کردار ادا کرے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ فروری میں متعارف کرائے گئے قانون کے ذریعے اس مسئلے کو حل کر لیا گیا ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
ان کے مطابق فروری سے اب تک ان کی تنظیم کے پاس مبینہ جبری گمشدگی کے 257 نئے کیسز رجسٹر ہو چکے ہیں، جبکہ سرکاری مراکز میں صرف محدود تعداد میں افراد موجود ہیں۔
نصراللہ بلوچ نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ گذشتہ چند ماہ سے سرکاری حکام کی جانب سے احتجاجی کیمپ کو ختم کروانے کے لیے کیمپ انچارج نیاز بلوچ کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔
دوسری جانب سرکاری حکام اس نوعیت کے الزامات کو مسترد کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ریاستی اداروں کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے مطابق حکومت نے قانون سازی کے ذریعے لاپتہ افراد کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کر دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ نئے قانون کے تحت مشتبہ افراد کو تحویل میں لے کر مخصوص مراکز میں رکھا جائے گا اور ان کے اہلِ خانہ کو اس حوالے سے آگاہ کیا جائے گا۔
’اسرائیلی حکومت‘ کا ترجمان مسلسل ایک ایسے ثالث کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم اور قابلِ قدر کردار ادا کیا: ایرانی سفارتخانے کی لنڈسے گراہم پر تنقید
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جاپان میں ایرانی سفارتخانے نے امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کے ایک ٹویٹ کے جواب میں سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ’اسرائیلی حکومت‘ کا ترجمان مسلسل ایک ایسے ثالث کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم اور قابلِ قدر کردار ادا کیا ہے، جبکہ ساتھ ہی ایک خودمختار ریاست پر اپنا ایجنڈا مسلط کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس نوعیت کا طرزِ عمل اقوام متحدہ کے منشور میں درج ریاستوں کی خودمختار برابری کے اصول کے منافی ہے اور اسے اس کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے اپنے ٹویٹ میں پاکستان کے بطور ثالث کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ’کچھ عرصے سے میرے لیے یہ واضح ہے کہ پاکستان بطور ثالث ایک مشکل انتخاب ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اسرائیل کے ساتھ ’طویل عرصے سے جاری کشیدگی‘ ایک پس منظر ہے۔
سینیٹر گراہم نے مزید دعویٰ کیا کہ ’ایرانی فوجی طیاروں کو پاکستانی فضائی اڈوں پر رکھا جا رہا ہے‘، تاہم انھوں نے اپنے اس الزام کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔ انھوں نے پاکستان کے وزیرِ دفاع کے ایک سابق بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابراہام اکارڈز میں شمولیت کے حوالے سے پاکستان کا عدم اعتماد ’تشویش کا باعث‘ ہے اور ان کے بقول یہ مؤقف تاحال برقرار ہو سکتا ہے۔
سینیٹر گراہم نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ابراہام اکارڈز میں شمولیت کے مطالبے پر اپنا واضح مؤقف پیش کرنا چاہیے۔
اقوام متحدہ سلامتی کونسل اجلاس: اسحاق ڈار کے خطاب کے بعد پاکستان اور انڈیا کے مندوبین کے ایک دوسرے پر الزامات
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں
پاکستانی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے تنازع کشمیر اور
سندھ طاس معاہدے کے ذکر کے بعد انڈیا کے مندوب نے پاکستان کو الزامات کا نشانہ بنایا اور پاکستان کی مندوب نے بھی جوابی الزامات عائد کیے۔
اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ سلامتی
کونسل تحت منعقد کردہ مباحثے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا جس کا موضوع تھا: ’بین
الاقوامی امن و سلامتی کا تحفظ: اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں کی
پاسداری اور اقوام متحدہ پر مبنی عالمی نظام کو مضبوط بنانا۔‘
امریکہ کے شہر نیو یارک میں ہونے والے
اس مباحثے میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا: ’تقریباً
آٹھ دہائیوں سے جموں و کشمیر کا تنازع حل طلب ہے، حالانکہ اس بارے میں سلامتی
کونسل کی متعدد قرار دادیں کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی ضمانت دیتی ہیں۔‘
پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ جنوبی
ایشیا میں پائیدار امن جبر پر قائم نہیں ہو سکتا اور ’نہ ہی یہ سندھ طاس معاہدے کو
معطل کرنے کی کوششوں کے ساتھ برقرار رہ سکتا ہے۔‘
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سندھ طاس
معاہدہ پانی کے حوالے سے تعاون اور علاقائی استحکام کے لیے ایک اہم فریم ورک ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’پانی کو کبھی ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے۔‘
وزیر خارجہ نے کہا کہ ’پاکستان
فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور سنہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک
آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے، جس کا
دارالحکومت القدس الشریف ہو۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جبر، بے دخلی اور بستیوں
کے غیر قانونی پھیلاؤ کے ہوتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن ممکن نہیں۔
جبکہ اقوام متحدہ میں انڈیا کے مستقل
مندوب ہریش پرواتھنینی نے الزام لگایا کہ پاکستان سرحد پار جارحیت کرتے ہوئے ان انڈین علاقوں
پر نظر رکھتا ہے جو انڈیا کا حصہ بن چکے ہیں۔
انھوں نے یہ
الزام بھی لگایا کہ پاکستان ’ہزار زخموں کے ذریعے انڈیا کو لہولہان کرنے‘ کے نظریے
پر عمل کرتا ہے۔
اس کا جواب
اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفارت کار صائمہ سلیم نے دیا۔
انھوں نے کہا
کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے اور ’اس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قرار دادوں
پر عمل در آمد سے انکار کر کے انڈیا اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔‘
صائمہ
سلیم نے بھی انڈیا پر پاکستان میں بد امنی پھیلانے کا الزام لگایا اور پاکستان میں بلوچ لبریشن
آرمی اور تحریک طالبان پاکستان کی کارروائیوں کا سہولت کار انڈیا کو قرار دیا۔
گذشتہ سال سے ایران میں قید 10 انڈین ملاح رہا کر دیے گئے
انڈیا کے بحری حکام نے اعلان کیا ہے
کہ جولائی 2025 سے ایران میں قید 10 انڈین ملاح ’مسلسل سفارتی کوششوں‘ کے بعد رہا
کر دیے گئے ہیں۔
انڈیا کے ڈائیریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ
نے بتایا کہ گذشتہ سال ایرانی بحریہ نے جہاز ایم وی ہاربر فینکس کو اپنی تحویل میں
لیا تھا اور جہاز پر سوار عملے کو قید کر لیا تھا۔
اس ادارے نے ایک بیان میں کہا: ’یہ
ملاح اب رہا ہو چکے ہیں اور مکمل طور پر محفوظ ہیں، انھیں جلد از جلد انڈیا واپس
بھیجنے کے لیے ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔‘
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ نے عملے کی
گرفتاری یا جہاز کی ضبطی کی وجہ کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
جہازوں
کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹس کے مطابق، یہ بحری جہاز ایک آئل ٹینکر ہے جو
پیٹرولیم مصنوعات لے جا رہا تھا اور پالاؤ کے پرچم تلے رجسٹرڈ ہے۔
ایران میں تبریز ایئرپورٹ دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے: سول ایوی ایشن تنظیم
،تصویر کا ذریعہMehr News
ایران کی سول ایوی ایشن تنظیم کے
ترجمان کے مطابق تبریز کا بین الاقوامی ہوائی اڈا، جو حالیہ جنگ کے دوران متاثر
ہوا تھا، آج سے دوبارہ فعال کر دیا جائے گا۔
مجید اخوان نے ایرانی میڈیا سے گفتگو
میں کہا کہ ہوائی اڈے کی بحالی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔
ان کے مطابق، تبریز ایئرپورٹ 21 واں
ہوائی اڈا ہے جو جنگ بندی کے بعد پھر سے فعال کیا جا رہا ہے۔
ایران کے مقامی میڈیا نے گذشتہ ہفتوں
میں رپورٹ کیا تھا کہ تبریز پر حملوں کے دوران اس ہوائی اڈے کا رن وے اور کنٹرول
ٹاور متاثر ہوا تھا۔
تبریز ایئرپورٹ ایران کے اہم ترین
ہوائی اڈوں میں شمار ہوتا ہے اور استنبول، بغداد، دبئی، باکو اور ہیمبرگ سمیت
تقریباً نو بین الاقوامی مقامات کے لیے یہاں سے پروازیں روانہ ہوتی ہیں۔
سول
ایوی ایشن تنظیم کے ترجمان نے خبر رساں ادارہ مہر سے گفتگو میں کہا کہ امریکہ اور
اسرائیل کی ایران کے خلاف 39 روزہ جنگ کے بعد ملک کے ہوائی اڈے بتدریج معمول کی
سرگرمیوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔
اسرائیل کے فضائی حملے میں 31 افراد ہلاک ہوئے: لبنان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
لبنانی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ
منگل کے روز جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں میں 31 افراد ہلاک ہو گئے، جن
میں دو بچے بھی شامل ہیں۔
جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے لبنان
پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا
کہ انھوں نے اسرائیلی فوج کو لبنان میں فوجی کارروائیاں بڑھانے کا حکم دیا ہے تاکہ
حزب اللہ کو ’کچل دیا جائے‘۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ بدھ کی صبح لبنان
سے ایک میزائل داغا گیا جو اسرائیل کے اندر داخل ہو کر ایک کھلے علاقے میں گرا۔ اس
سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے حزب
اللہ کے 100 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا، جبکہ اس نے جنوبی لبنان کے وسیع علاقوں کے رہائشیوں کو علاقہ چھوڑنے کی ہدایت دی ہے۔ اس
دوران یہ اطلاعات بھی ہیں کہ اسرائیلی فوجی لبنان میں ان علاقوں سے بھی آگے بڑھ
رہے ہیں جہاں وہ گذشتہ ماہ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد تعینات تھے۔
غزہ پر اسرائیلی حملوں میں تین افراد ہلاک، درجنوں زخمی
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
مقامی امدادی کارکنوں اور عینی
شاہدین کے مطابق غزہ شہر کے ایک مصروف ترین بازار میں واقع رہائشی عمارت پر
اسرائیل کے فضائی حملے کے نتیجے میں کم از کم تین فلسطینی ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے۔
اسرائیلی حملے میں غزہ شہر کے مرکز
میں واقع الکیالی عمارت کی بالائی تین منزلوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملہ ایسے
وقت کیا گیا جب علاقے میں لوگوں کی بڑی تعداد عید الاضحیٰ سے قبل خریداری کے لیے
آئی ہوئی تھی۔
امدادی اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر
جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، لیکن شدید تباہی اور علاقے میں ہجوم کے باعث عمارت کی
بالائی منزلوں تک رسائی میں مشکلات پیش آئیں۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ کم از کم
پانچ میزائل تقریباً بیک وقت اور مختلف سمتوں سے عمارت پر آ گرے۔
یہ
غزہ پر اسرائیل کا تازہ ترین مہلک حملہ ہے۔
اسرائیل کا غزہ میں حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ محمد عودۃ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ محمد عودۃ کو ہلاک کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے ایک بیان میں لکھا کہ محمد عودۃ 7 اکتوبر کے حملوں کے وقت حماس کی انٹیلیجنس کے سربراہ تھے اور انھیں عزالدین حداد کی موت کے بعد ایک ہفتے قبل ہی حماس کے عسکری ونگ کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ محمد عودہ اسرائیلی شہریوں اور فوجی اہلکاروں کے ’قتل، اغوا اور انھیں زخمی‘ کرنے کے ذمہ دار تھے۔
’ہم ان تمام لوگوں کا پیچھا کرنا جاری رکھیں گے جنھوں نے 7 اکتوبر کے قتلِ عام میں حصہ لیا تھا۔ جلد یا بدیر اسرائیل ان سب تک پہنچے گا۔‘
حماس نے تاحال محمد عودۃ کی موت کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔
جنگ کے خاتمے کے لیے ’باوقار فریم ورک‘ کے حصول کے لیے تیار ہیں: ایرانی صدر
،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ’باوقار فریم ورک‘ کے حصول کے لیے تیار ہے۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق منگل کو قطر کے امیر تميم بن حمد بن خليفہ آل ثانی سے ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کے دوران صدر پزشکیان نے امن کے لیے دوحہ کے تعمیری کردار اور حمایت پر قطری امیر کا شکریہ ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر پزشکیان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایران نے ہمیشہ سفارت کاری کے اصولوں اور معاہدوں کی روح کی پاسداری کی ہے۔‘
’اب وقت آ گیا ہے کہ دوسرا فریق بھی اپنے قول و فعل دونوں سے بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کرے۔‘
ایرانی صدر کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں استحکام کے لیے واضح راستہ فراہم کرنے کے لیے دستاویزات اور متون کو حتمی شکل دینے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔
آبنائے ہرمز میں ’پراجیکٹ فریڈم‘ دوبارہ شروع کرنے کی خبریں غلط ہیں: سینٹکام
،تصویر کا ذریعہCENTCOM/X
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ان میڈیا رپورٹس کو ’غلط‘ قرار دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی رہنمائی یا معاونت کرنے کا عمل دوبارہ شروع کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں سینٹکام کا کہنا تھا کہ ’پراجیکٹ فریڈم کو دوبارہ شروع نہیں کیا گیا ہے اور امریکی فورسز اس وقت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی حفاظتی رہنمائی نہیں کر رہیں۔‘
ایران اپنی خودمختاری کے دفاع میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا: وزارت خارجہ
،تصویر کا ذریعہReuters
ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ پر جنگ بندی کی ’واضح خلاف ورزی‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری کے دفاع میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔
منگل کو جاری کیے گئے ایک سرکاری بیان میں ایران کی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج نے 8 اپریل 2026 کو اعلان کردہ جنگ بندی کے بعد بھی اپنی ’غیر قانونی اور بلاجواز کارروائیاں‘ جاری رکھیں۔
بیان میں خاص طور پر گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ایرانی تجارتی جہازوں کے خلاف مبینہ ’سمندری قزاقی‘ کی متعدد کارروائیوں کا حوالہ دیا گیا، جنھیں صوبہ ہرمزگان کے قریب جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے جب پاکستان کی ثالثی میں سفارتی عمل جاری ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں سے امریکی قیادت کے ’بدنیتی پر مبنی عزائم‘ نہ صرف ایران بلکہ خطے کے عوام اور عالمی برادری کے سامنے بھی ایک بار پھر بے نقاب ہو گئے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہEPA
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کا امریکہ کے بارے میں ’گہرا عدم اعتماد‘ اس کے سابقہ طرزِ عمل کے تناظر میں ’منطقی اور حقیقت پسندانہ‘ ہے، اور یہ کہ ایرانی موقف میدانِ جنگ، عوامی سطح اور سفارتی سطح، تینوں محاذوں پر اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
ایران نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق 2(4) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی اقدامات عالمی قوانین اور جنگ بندی کے معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ تہران نے ان واقعات کے تمام تر نتائج کی ذمہ داری امریکہ پر عائد کرنے کا اعلان بھی کیا۔
ایران نے خبردار کیا کہ وہ کسی بھی ’جارحانہ اقدام‘ کو بلا جواب نہیں چھوڑے گا اور اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے بھرپور اقدامات کرے گا۔
تاہم اس حوالے سے امریکہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔