یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
19 جون کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
سینٹکام نے واضح کیا کہ ان کے بحری جہاز ’اس علاقے میں موجود رہیں گے تاکہ معاہدے کی تمام شقوں پر عملدرآمد اور پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔‘ دوسری جانب ایرانی رہبرِ اعلیٰ نے کہا ہے کہ صدر پزشکیان نے انھیں بتایا کہ اگر امریکہ حد سے زیادہ مطالبات کرے گا تو وہ اسے تسلیم نہیں کریں گے۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
19 جون کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ جنگ بندی ’تمام محاذوں پر‘ نافذ ہو جائے گی، جس میں لبنان میں اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے لڑائی بھی شامل ہے۔
ٹروتھ سوشل پر ایک نئی پوسٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ’ہماری مذاکراتی کوششوں کو جاری رکھنے کے عزم کو برقرار رکھیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’ہم تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع رکھتے ہیں، جس میں لبنان، حزب اللہ اور اسرائیل شامل ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جمعرات کی شام کو ایرانی میڈیا نے ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر ملک کے رہبرِ اعلی مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب ایک بیان نشر کیا ہے۔
اس پیغام کے متن کے مطابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ نے اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی منظوری دی تھی، تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ صدر مسعود پزشکیان نے انھیں بتایا ہے کہ اگر امریکہ حد سے زیادہ مطالبات کرے گا تو وہ اسے تسلیم نہیں کریں گے۔
اپنے اس پیغام میں خامنہ ای نے بالواسطہ طور پر ایرانی اور امریکی حکام کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی اجازت بھی دی اور کہا: ’آئندہ ہونے والے براہِ راست مذاکرات کا مقصد دشمن کے مؤقف کو تسلیم کرنا نہیں ہو گا۔‘

،تصویر کا ذریعہX/Centcom
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کی بحری ناکہ ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں سینٹکام نے لکھا کہ ’آج امریکی افواج نے صدر کی ہدایات کے مطابق ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخل ہونے اور نکلنے والے تمام سمندری جہازوں پر عائد ناکہ بندی کو ختم کر دیا ہے۔
’امریکی افواج خلیجِ فارس اور خلیجِ عمان میں ایرانی بندرگاہوں تک یا وہاں سے آنے والے جہازوں کی آمدورفت میں مداخلت نہیں کر رہیں۔ امریکی فوج کی جانب سے نافذ کردہ تمام بحری ناکہ بندی کے اقدامات ختم کر دیے گئے ہیں۔‘
تاہم سینٹکام نے واضح کیا کہ ان کے بحری جہاز ’اس علاقے میں موجود رہیں گے تاکہ معاہدے کی تمام شقوں پر عملدرآمد اور پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔‘
ایک صحافی نے وینس سے اس بارے میں بھی پوچھا کہ امریکی میڈیا ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے پر ’شدید برہم‘ ہیں۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ ’یہ بات نتن یاہو کے ساتھ ان کی بات چیت کی عکاسی نہیں کرتی۔‘ تاہم انھوں نے مزید کہا کہ جس چیز سے انھیں ’واقعی پریشانی ہوتی ہے‘ وہ اسرائیلی کابینہ کے ارکان کی جانب سے اس معاہدے اور ٹرمپ پر تنقید ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے لیے ان کا پیغام یہ ہے کہ ’ٹرمپ اس وقت پوری دنیا میں واحد سربراہِ مملکت ہیں جو اسرائیلی قوم کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔‘
انھوں نے اختتام پر کہا کہ ’ٹرمپ اسرائیل کے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔ اسرائیل میں جو کوئی یہ سمجھتا ہے انھیں ملک کو درپیش حقیقت کو سمجھنا چاہیے۔‘
امریکی نائب صدر نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم جمعے کو ہونے والی ایک مجوزہ تقریب کے انعقاد کے بارے میں ابھی غیر یقینی صورتحال ہے۔
وینس نے کہا کہ ’ہمارا منصوبہ سوئٹزرلینڈ جانے کا ہے لیکن مجھے درست طور پر معلوم نہیں کہ کب۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ اس کے وقت کا تعین جزوی طور پر اس بات پر منحصر ہے کہ ایرانی نمائندے وہاں کب پہنچ سکتے ہیں۔
ابتدائی طور پر توقع تھی کہ وینس جمعے کو ایک باضابطہ تقریب میں معاہدے پر دستخط کریں گے لیکن ٹرمپ نے اس کے بجائے بدھ کو ہی اس پر دستخط کر دیے۔
وینس نے کہا کہ معاہدے کے بعد مذاکرات اس ہفتے کے اختتام پر شروع ہونے کی توقع ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وینس سے پوچھا گیا کہ مستقبل میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے کیا چیز روکے گی۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ ایران کو ’بہت زیادہ رقم‘ درکار ہو گی کیونکہ امریکہ نے اس کے جوہری ڈھانچے کے ’اربوں ڈالر مالیت‘ کے حصے تباہ کر دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے پابندیوں کے ذریعے ایران کو ’معاشی طور پر جکڑ رکھا ہے‘ اور ’جب تک وہ بنیادی طور پر اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتا، ہم یہ دباؤ ختم نہیں کریں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ رویے میں تبدیلی کا مطلب افزودہ یورینیئم کے ذخیرے کا خاتمہ بھی ہو گا۔
دریں اثنا وینس سے آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے گزرنے والے جہازوں پر محصول عائد کرنے کے امکان کے بارے میں بھی پوچھا گیا۔
انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہیں محصولات سے آزاد ہونی چاہییں اور وہ نہیں چاہتے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ عالمی معیشت کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا جائے۔
وینس نے کہا کہ امن معاہدے کے حتمی مذاکرات میں یہ طے کیا جائے گا کہ آئندہ کیا ہو گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ خلیجی ریاستیں مستقبل میں آبنائے ہرمز کے لیے ’ایک مناسب سکیورٹی فریم ورک‘ طے کریں گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ مذاکرات میں امریکہ کے پاس ’اچھے پتے‘ ہیں اور ایران کو امن معاہدے کے فوائد حاصل کرنے کے لیے ’وہ چیزیں ہمیں دینی ہوں گی جو ضروری ہیں۔‘
پریس کانفرنس کے دوران وینس سے ڈونلڈ ٹرمپ کے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کے بارے میں مؤقف کے حوالے سے سوال کیا گیا۔ اس دوران لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر ٹرمپ کی حالیہ تنقید کا حوالہ بھی دیا گیا۔
وینس نے کہا کہ وہ اسرائیل کے حقِ دفاعِ خود کو محدود نہیں کرنا چاہتے۔ تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل ’سب کی طرح اس امن عمل کا دفاع کرنے کا پابند ہے۔‘
وینس نے ٹرمپ کی ناراضی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ ہم معاہدے میں ایک بڑی پیش رفت کے بالکل قریب پہنچ گئے تھے اور پھر اچانک بیروت کے ایک شہری آبادی والے علاقے میں ایک بڑا دھماکہ ہو گیا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ قابلِ قبول نہیں ہے۔‘
وینس نے کہا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ زیادہ قریبی ہم آہنگی اور ایک ’علاقائی فریم ورک‘ چاہتے ہیں تاکہ حزب اللہ تک پہنچنے والی مالی معاونت کا راستہ روکا جائے اور گروہ کو اسرائیل پر حملوں سے باز رکھا جائے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
وینس نے کہا کہ ایران کے اندر ’حقیقی اختلافات‘ موجود ہیں کہ آگے کیسے بڑھنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران میں ’عملی سوچ رکھنے والے لوگ جیت رہے ہیں‘ اور امریکہ بھی یہی چاہتا ہے۔
ایرانی قیادت کے رویے میں تبدیلی کے امکان کے بارے میں پوچھے جانے پر وینس نے کہا کہ ایران ’امریکی اثر و رسوخ کو تسلیم کرتا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ آیا اس سے رویے میں تبدیلی آئے گی یا نہیں۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ ’کیا اس کی کوشش کرنا مناسب نہیں؟‘
جے ڈی وینس کا مزید کہنا ہے کہ امریکی عوام کو ابھی سے ایران کے ساتھ معاہدے کے معاشی فوائد حاصل ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد آبنائے ہرمز سے 12.5 ملین بیرل تیل کی ترسیل ہوئی ہے۔
امریکی نائب صدر نے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز پر حملہ نہیں کیا جبکہ امریکہ نے اپنی بحری ناکہ بندی کے باوجود تقریباً ایک درجن جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے۔
انھوں نے کہا کہ تہران کا جوہری پروگرام اور روایتی فوجی صلاحیت تباہ ہو چکے ہیں۔
وینس نے یہ بھی کہا کہ مفاہمتی یادداشت کے ایک حصے کی ’غلط انداز میں تشریح کی گئی ہے‘۔ ان کا اشارہ 300 ارب ڈالر کے تعمیرِ نو فنڈ کی جانب تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کو ’ایک پیسہ بھی نہیں‘ بھیجا جائے گا اور ایران کو اس معاہدے سے فائدہ صرف اسی صورت میں ملے گا ’اگر وہ مکمل طور پر اس کی شرائط پر عمل کرے اور اپنا رویہ تبدیل کرے۔‘

،تصویر کا ذریعہWhite House
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ امریکہ کی طرف سے ایران کو کوئی مالی مدد فراہم نہیں کی جائے گی جبکہ ایران کو صرف اسی صورت مالی فوائد حاصل ہو سکیں گے اگر وہ مفاہمتی یادداشت کی شرائط پر عمل کرتا ہے۔
ایک پریس کانفرنس کے دوران مفاہمتی یادداشت میں ایران کے لیے 300 ارب ڈالر فنڈ کا حوالہ دیتے ہوئے وینس نے کہا کہ ایران کو اسی صورت رقم تک رسائی ملے گی اگر وہ شرائط پر عمل کریں گے۔ انھوں نے یہ بات دہرائی کہ یہ رقم امریکہ کی جانب سے ادا نہیں کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’خلیجی عرب ریاستیں اس مفاہمتی یادداشت کا خیر مقدم کر رہی ہیں۔ وہ اسے خطے کے لیے انقلابی قرار دے رہے ہیں۔‘
وینس نے یہ بھی کہا کہ ’تکنیکی سطح کی بات چیت کے لیے 60 روز کا وقت شروع ہو چکا ہے۔‘
ان کے مطابق امریکہ نے ایرانی بیلسٹک میزائل کے نظام تباہ کر دیے ہیں۔ ’ہمیں توقع ہے کہ معاہدے کے تحت ایران ایسے ہتھیار نہیں بنا سکے گا کہ خطے کو خطرہ لاحق ہو۔‘
امریکی نائب صدر نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ ایران خطے میں دہشت گردی کی معاونت نہ کرے۔‘
’ایران چاہے بھی تو جوہری ہتھیار نہیں بنا سکے گا کیونکہ ہم نے ان کی تنصیبات تباہ کر دی ہیں۔ مگر ہم چاہتے ہیں کہ مستقبل میں بھی وہ جوہری ہتھیار نہ بنائے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ تہران کو ایٹمی پروگرام دوبارہ شروع کرنے کے لیے بہت پیسہ چاہیے ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر کے ایران نے ’اپنی عزت کا سودا نہیں کیا۔‘
ایکس پر فارسی زبان میں دستخط شدہ دستاویز کی تصویر کے ساتھ ایک پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’یہ متن ایک ایسی قوم کی آواز کی عکاسی ہے جس نے کسی دھمکی یا دباؤ کے نتیجے میں اپنی عزت اور خودمختاری کا سودا نہیں کیا۔‘
’جو کچھ آج قلم بند ہوا، وہ قوم کی ثابت قدمی، سیاسی دانش مندی اور ذمہ دارانہ سفارت کاری کا نتیجہ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو فرانس میں امن معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی پوسٹ میں کہا ہے کہ ’تیل کی ترسیل جاری ہے‘ اور ایران ’کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔‘
ٹروتھ سوشل پر لکھے پیغام میں امریکی صدر نے کئی کامیابیوں کی فہرست پیش کی جنھیں وہ بظاہر اس معاہدے سے جوڑتے ہیں۔
انھوں نے لکھا کہ ’تیل کی ترسیل جاری ہے، ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا (دنیا محفوظ رہے گی!)، سٹاک مارکیٹیں زبردست کارکردگی دکھا رہی ہیں، روزگار ریکارڈ سطح پر ہے اور قیمتیں کم ہو رہی ہیں (قابلِ استطاعت!)‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’ہمارا ملک مضبوط، محفوظ اور پہلے سے کہیں زیادہ قابلِ احترام ہے۔‘
اس سے قبل ٹرمپ نے ناقدین پر تنقید کرتے ہوئے انھیں ’احمق‘ کہا تھا۔

،تصویر کا ذریعہ@qamaruk
پاکستان کے نامور کرکٹ صحافی قمر احمد 88 سال کی عمر میں کراچی میں وفات پا گئے ہیں۔
انھوں نے اپنے کیریئر کے دوران 400 سے زیادہ ٹیسٹ میچز اور 600 سے زیادہ ون ڈے میچز سمیت مختلف آئی سی سی ایونٹس کی کوریج کی تھی۔ اس کے علاوہ انھوں نے بی بی سی کے لیے بھی کام کیا تھا۔
قمر احمد 23 اکتوبر 1937 کو اتر پردیش میں پیدا ہوئے اور طویل عرصے انگلینڈ میں بھی مقیم رہے۔ وہ 17 فرسٹ کلاس میچز بھی کھیلے تھے اور انھوں نے قائد اعظم ٹرافی میں حیدر آباد ٹیم کی قیادت کی تھی۔
سابق پاکستانی کپتان راشد لطیف بتاتے ہیں کہ قمر احمد ’عارضہ قلب میں مبتلا تھے دو ہفتے قبل ان کا ایک آپریشن بھی ہوا تھا۔‘
قمر احمد کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے صحافی عبدالغفار نے لکھا کہ ’قمر صاحب نے اپنی زندگی کے تقریباً پچاس سال کھیلوں کی صحافت کے لیے وقف کیے اور ان کا شمار پاکستان کے معتبر ترین کرکٹ رائٹرز میں ہوتا تھا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’قمر صاحب کی وفات صرف پاکستانی سپورٹس جرنلزم ہی نہیں بلکہ عالمی سپورٹس جرنلزم کے لیے بھی ایک بڑا نقصان ہے۔
’ان جیسا تجربہ، مشاہدہ اور تاریخِ کھیل پر گرفت رکھنے والے صحافی کم ہی پیدا ہوتے ہیں۔‘
سلیم خالق نے لکھا کہ ’قمر احمد صاحب پاکستانی سپورٹس صحافت کا بہت بڑا نام تھے۔ ٹورز خاص طور پر انگلینڈ میں ان سے دلچسپ واقعات سننے کا بھی موقع ملتا تھا۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی تحریر کیں۔‘
مرزا اقبال بیگ یاد کرتے ہیں کہ ’مجھے یاد ہے کہ جب میں نے 1998 میں جنوبی افریقہ کا دورہ کمنٹری کے سلسلے میں کیا تھا تو اس دورے میں قمر احمد بھی موجود تھے۔ انھوں نے قدم قدم پر میری رہنمائی کی اور اپنی وسیع معلومات اور تجربے سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع فراہم کیا۔‘
کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو نے ایک پیغام میں لکھا کہ قمر احمد نے گواسکر کا 10000واں رن، ہیڈلی کی 400ویں وکٹ، کمبلے کی 10 وکٹیں، کرکٹ کا ہزارواں ٹیسٹ اور 2011 میں 2000واں ٹیسٹ کوور کیے تھے۔

،تصویر کا ذریعہPMO
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کا دورۂ سوئٹزر لینڈ ملتوی کر دیا گیا ہے۔
شہباز شریف نے ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے لیے جمعے کو منعقدہ تقریب میں شرکت کی غرض سے برگن سٹاخ جانا تھا۔
تاہم اسحاق ڈار کے مطابق امریکی اور ایرانی صدورکی جانب سے دستاویز پر الیکٹرانک دستخط کیے جانے اور جمعرات کو شہباز شریف کی بطور ثالث توثیق کے بعد یہ تقریب منسوخ کر دی گئی ہے۔
پاکستان کے سرکاری چینل پاکستان ٹی وی کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف کا دورۂ سوئٹزر لینڈ ملتوی کر دیا گیا ہے۔ پاکستان ٹی وی کے مطابق یہ دورۂ اس لیے ملتوی کیا گیا کیونکہ مفاہمتی یادداشت پر امریکہ اور ایران کی جانب سے الیکٹرانک دستخط کیے گئے ہیں۔
شہباز شریف نے ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے سے متعلق جمعے کو برگن سٹاخ میں منعقد ہونے والی تقریب میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ جانا تھا۔
تاہم پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اب یہ دورہ ملتوی کر دیا گیا ہے۔ ایک اور حکومتی اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تکنیکی بات چیت علیحدہ سے ہو گی۔
خیال رہے کہ ایران اور امریکہ کے صدور کی جانب سے مفاہمتی یادداشت پر بدھ کی شب الیکٹرانک دستخط کیے گئے تھے اور شہباز شریف نے جمعرات کو بطور ثالث اس دستاویز کی توثیق کی تھی۔
یادداشت پر دستخط کے بعد جمعرات کی شام وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلی فون پر گفتگو بھی ہوئی۔
وزیرِ اعظم ہاؤس کے مطابق شہباز شریف نے ایرانی صدر اور عوامِ کو ’تاریخی امن معاہدے‘ پر دستخط کی مبارکباد پیش کی۔
اس کے مطابق ’یہ تاریخی معاہدہ نہ صرف خطے میں امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ ایرانی قوم کی تعمیرِ نو اور پاکستان و ایران کے درمیان باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا باعث بھی بنے گا۔‘
وزیرِ اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے باہمی سہولت کے مطابق جلد از جلد ایک دوسرے کے دارالحکومتوں کے دورے کرنے پر اتفاق کیا تاکہ دوطرفہ اور علاقائی امور میں موجودہ بہترین تعاون کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہAFP VIA GETTY IMAGES
امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت اور اس میں موجود شرائط پر اسرائیل میں وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو سیاسی دباؤ کا شکار ہیں۔
ایک اپوزیشن جماعت کے سربراہ اویگدور لیبرمین نے کہا کہ ’میں مطالبہ کرتا ہوں کہ وزیرِ اعظم اسرائیل کے عوام کے سامنے آئیں اور یہاں بھی اور دنیا کے ممالک کے سامنے بھی واضح کریں کہ ہم اس معاہدے کا حصہ نہیں ہیں۔
’ہم ایرانی محاذ اور لبنانی محاذ کے درمیان کسی بھی تعلق کو قبول نہیں کرتے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم صرف اسرائیلی مفادات کے مطابق عمل کریں گے، نہ کہ عالمی سٹاک ایکسچینج میں ایندھن کی قیمتوں کے مطابق۔‘
لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق ملک میں آج صبح اسرائیلی حملوں میں کفر تبنیت اور زبدین کے قصبوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔
اسرائیلی فوج نے آج لبنان میں کسی حملے کی تصدیق نہیں کی تاہم اس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج ملک میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے تحت امریکہ اور ’اس کے اتحادی‘ لبنان میں کارروائیاں ختم کریں گے۔
امریکہ کے ساتھ مذاکراتی عمل میں جو سب سے بڑی شخصیت موجود نہیں ہے، وہ ایران کے سابق رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای ہیں۔ وہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی معاہدے کے سب سے بڑے مخالف تھے اور انھیں قتل کیے جانے کے بعد کسی نہ کسی طور پر معاہدے کی راہ میں موجود سب سے بڑی رکاوٹ ہٹ گئی۔
علی خامنہ ای کے بعض سخت گیر حامی اس معاہدے سے خوش نہیں ہیں۔ ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نے حالیہ دنوں میں معاہدے کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا اور کئی ماہ سے عوامی سطح پر بھی دکھائی نہیں دیے ہیں۔
تاہم کل اعلیٰ سطحی مذاکرات کاروں اور پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی گفتگو سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کے بعض فیصلے وہی کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ کے ساتھ ہماہمتی یاددشات کی تصویر شیئر کرتے ہوئے اسے ایک ’تاریخی دستاویز‘ قرار دیا ہے۔ اس معاہدے پر پزشکیان، ڈونلڈ ٹرمپ اور شہباز شریف کے دستخط موجود ہیں۔
ایکس پر پیغام میں پزشکیان نے کہا ہے کہ ’یہ ایک تاریخی دستاویز ہے اور ایک طاقتور ایران کا پیغام ہے۔ قیام امن باہمی احترام کے سائے میں ہو گا۔‘
’اسلامی جمہوریہ ایران اپنی عزت اور خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے ہمیشہ عالمی امن کے لیے پرعزم اور ثابت قدم رہا ہے اور ترقی و علاقائی تعاون کے لیے بھی اپنی وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہX/@drpezeshkian

،تصویر کا ذریعہX/@drpezeshkian

،تصویر کا ذریعہX/@drpezeshkian