مخا بندرگاہ پر حوثی قبضے کی اطلاعات کے بعد مشرق وسطیٰ میں تناؤ بڑھنے کا خطرہ کیوں؟

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھ کر 105 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے اور مہنگائی میں بھی تیزی آئی ہے کیونکہ یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں تنازع جلد حل نہیں ہو سکے گا۔

حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعے میں شدت کے باعث خام تیل اور گیس دونوں کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

برینٹ خام تیل بدھ کے روز دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا اور اس میں ہونے والا اضافہ اب بھی جاری ہے۔

جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز عملاً بند ہو گئی ہے جس کے باعث خلیج سے تیل اور گیس کی رسد عالمی منڈیوں تک نہیں پہنچ پا رہی۔

مزید خدشات اس وقت پیدا ہوئے جب ایرانی حمایت یافتہ حوثی فورسز نے اطلاعات کے مطابق یمن کی مخا بندرگاہ پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ بحیرہ احمر کی ایک اہم بندرگاہ ہے۔

اس اقدام سے بحری جہاز رانی میں مزید رکاوٹوں کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔

زیادہ مہنگائی کے خدشات نے برطانیہ میں بانڈز کی منافعے کی شرح کو بھی کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح تک پہنچا دیا ہے۔

ٹیکساس میں بدھ کے روز ریپبلکن پارٹی کے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انھیں نہیں لگتا کہ لڑائی نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ختم ہوگی۔

عالمی منڈیوں میں قدرتی گیس کی قیمت بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ یورپ میں ذخائر کی سطح سال کے اس وقت کے معمول سے کہیں کم ہے اور موسمِ سرما سے قبل ذخائر بھرنے کی ضرورت نے قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔

حوثیوں کا مخا بندرگاہ پر قبضہ

عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ یمن کی حوثی تحریک نے سعودی حمایت یافتہ حکومت نواز فورسز سے بحیرۂ احمر کے اہم ساحلی شہر مخا کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

مخا پر قبضے کا مطلب ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ گروہ اب آبنائے باب المندب پر کنٹرول حاصل کرنے کے قریب ہے۔ باب المندب ایک اہم بحری تجارتی راستہ ہے جو جنوب میں تقریباً 75 کلومیٹر (46 میل) کے فاصلے پر واقع ہے اور بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایک ہفتہ قبل حوثیوں کی جانب سے جنوب مغربی ساحلی علاقے میں کارروائی شروع کیے جانے کے بعد سے سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔

اسی دوران، حوثیوں اور ہمسایہ ملک سعودی عرب کے درمیان جھڑپوں میں شدت آئی ہے، جس نے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔

سعودی حکام کے مطابق منگل کو حوثیوں نے جنوبی سعودی عرب پر درجنوں ڈرونز اور میزائل داغے، جس سے 73 شہری زخمی ہوئے اور تیل کی کئی تنصیبات میں آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں کارروائیاں عارضی طور پر روکنا پڑیں۔

حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ حالیہ دنوں میں شمال مغربی یمن میں اپنے زیرِ کنٹرول علاقے پر سعودی فضائی حملوں کے جواب میں کارروائی کر رہے تھے۔ ان حملوں میں صوبہ جوف کے قصبے حزم میں ایک جیل پر حملہ بھی شامل تھا جس کے بارے میں مقامی حکام کا کہنا ہے کہ اس میں کم از کم 23 شہری ہلاک ہوئے۔

سعودی قیادت میں عرب ریاستوں کے اتحاد نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے جاری یمن کی تباہ کن خانہ جنگی میں حوثیوں کے خلاف یمن کی حکومت کی حمایت کی ہے۔

چار سال پر مشتمل غیر رسمی جنگ بندی جولائی میں کمزور پڑنا شروع ہوئی جب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف ’بحری ناکہ بندی‘ کا اعلان کیا۔ اس دوران سعودی ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور بحیرۂ احمر میں تیل بردار جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملے شروع ہوئے۔

حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں کی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر سعودی ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ صنعا ہوائی اڈے پر ہونے والے ایک فضائی حملے کے جواب میں کارروائی کر رہے تھے۔ انھوں نے ان حملوں کا الزام سعودی عرب پر عائد کیا ہے۔

ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز عملاً بند ہے جس کے بعد بحیرۂ احمر سعودی عرب کی تیل کی برآمدات کے لیے انتہائی اہم ہے۔

مخا بندرگاہ کیوں اہم ہے؟

مخا بندرگاہ یمن کے صوبے تعز کے مغرب میں واقع ہے۔ یہ آبنائے باب المندب سے تقریباً 65 سے 75 کلومیٹر شمال اور ’تعز‘ شہر سے تقریباً 100 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔

یمنی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق مخا بندرگاہ اس بین الاقوامی بحری گزرگاہ سے صرف تقریباً چھ کلومیٹر دور ہے، جو بحرِ ہند اور بحیرۂ عرب کو بحیرۂ احمر اور نہرِ سویز سے ملاتی ہے۔

حوثی بحیرۂ احمر کی اہم بندرگاہوں پر قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور مخا بندرگاہ کا کنٹرول حاصل کرنے کا اقدام آبنائے باب المندب میں حوثیوں کا کنٹرول مزید مضبوط کر سکتا ہے۔

مخا شہر کی شہرت اس کی ’کافی‘ کی پیداوار کی وجہ سے ہوئی۔ 16ویں صدی سے مخا بندرگاہ یمن کی اہم ترین بندرگاہوں میں شمار ہونے لگی، جہاں یمن کے پہاڑی علاقوں میں پیدا ہونے والا اناج لایا جاتا اور پھر انڈیا، مشرقی افریقہ، سلطنتِ عثمانیہ اور یورپ کو برآمد کیا جاتا تھا۔

17ویں اور 18ویں صدی میں ڈچ، برطانوی اور فرانسیسی تجارتی کمپنیوں نے بھی شہر میں اپنے تجارتی مراکز قائم کیے۔ وقت کے ساتھ 'مخا' کا نام عالمی منڈیوں میں یمنی 'کافی' کے مترادف بن گیا۔ بعد میں یہی نام اس 'کافی' اور ’چاکلیٹ‘ سے بننے والے مشروب کے لیے بھی استعمال ہونے لگا جو آج دنیا بھر میں 'موکا' کے نام سے معروف ہے۔

بندرگاہ کی سرگرمیاں صرف 'کافی' تک محدود نہیں تھیں۔ یہاں سے لوبان، گوندِ مُر، ایلوویریا اور عرق سمیت مختلف اشیا برآمد کی جاتی تھیں، جبکہ انڈیا، مشرقی ایشیا اور افریقہ کا مشرقی علاقہ سے کپڑے، مصالحہ جات، مویشی اور دیگر مصنوعات درآمد کی جاتی تھیں۔

یورپی نوآبادیوں میں ایشیا اور امریکہ کے مختلف علاقوں میں 'کافی' کی کاشت شروع ہونے کے بعد المخا کی بندرگاہ اپنی اہمیت کھونے لگی۔ اس کے بعد سنہ 1839 میں برطانیہ کے ہاتھوں عدن پر قبضے اور عدن کی بندرگاہ کے عروج کے ساتھ ساتھ حدیدہ بندرگاہ کی ترقی نے بھی المخا کی تجارتی حیثیت کو مزید متاثر کیا۔

ان تبدیلیوں کے نتیجے میں المخا کا وہ کردار تقریباً ختم ہو گیا جو اسے صنعا اور وسطی یمن کے لیے ایک اہم تجارتی راستے کے طور پر حاصل تھا۔

مخا بندرگاہ کو جدید بنانے کا کام سنہ 1950 کی دہائی میں شروع جدید نوعیت کی تنصیبات سے آراستہ کیا گیا، جبکہ سنہ 1970 کی دہائی میں ان کی دوبارہ تعمیر اور توسیع کی گئی۔

بندرگاہ کو ایسے بنایا گیا ہے کہ یہاں سالانہ تقریباً 15 لاکھ ٹن سامان رکھنے کی گنجائش موجود ہے، تاہم اس کے بحری راستے کی گہرائی 7.2 سے 7.8 میٹر کے درمیان ہے، جس کے باعث یہاں بڑے کنٹینر بردار جہازوں اور بڑے ٹینکروں کی آمد ممکن نہیں۔

اس کے علاوہ بندرگاہ کو سامان کی نقل و حمل کے آلات اور عملے کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ سمندری راستے کی مسلسل ڈریجنگ اور مرمت بھی ضروری ہے۔

یمن میں سنہ 2014 کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد بندرگاہ کی معمول کی تجارتی سرگرمیاں معطل ہو گئیں۔ بعد ازاں مغربی ساحلی علاقوں میں حوثیوں کی پیش قدمی کے دوران بندرگاہ پر ان کا قبضہ ہو گیا، تاہم جنوری سنہ 2017 میں حکومت کے حامی فورسز نے اسے دوبارہ اپنے کنٹرول میں لے لیا۔

اس وقت بندرگاہ ’نیشنل ریزسٹنس فورسز‘ کے کنٹرول میں تھی۔ ستمبر 2021 میں بندرگاہ پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا گیا تھا۔

مہنگائی بڑھنے کا خدشہ

اگر قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہتی ہیں تو برطانیہ سمیت یورپی گھریلو صارفین کو زیادہ بلوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

توانائی کے اخراجات میں اضافے نے مہنگائی میں اچانک اضافے کے خدشات کو بھی بڑھا دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں سرکاری بانڈز کی منافعے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

برطانیہ میں آج 10 سالہ بانڈز کی منافعے کی شرح 2007 کے بعد کی بلند ترین سطح پر تھی۔ جبکہ 20 اور 30 سالہ بانڈز کی شرح 1998 کے بعد کی بلند ترین سطح پر تھی۔

اس کا مطلب ہے کہ حکومت کے لیے قرض لینے کی لاگت زیادہ ہو گئی ہے۔ وہ بھی ایسے وقت میں جب مالیاتی ادارے پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔

لیکن اس کے گھریلو صارفین پر بھی براہِ راست اثرات پڑ سکتے ہیں کیونکہ اس سے بعض مالیاتی مصنوعات پر صارفین کی جانب سے ادا کی جانے والی شرح متاثر ہوتی ہے۔