چار تہوں پر مشتمل سکیورٹی حصار، خفیہ کھانا اور ’ذاتی فوج‘: روسی صدر پوتن کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے؟

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

روس کے صدر ولادیمیر پوتن 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے انڈیا پہنچنے والے ہیں جو 12-13 ستمبر کو نئی دہلی میں منعقد ہونے والی ہے۔ اس سے پہلے پوتن نے چار سال کے وقفے کے بعد گزشتہ دسمبر میں دو طرفہ سربراہی اجلاس کے لیے انڈیا کا دورہ کیا تھا۔

کریملن کے ترجمان نے منگل کو کہا کہ اس دورے کے دوران صدر پوتن اور انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان ایک اور دو طرفہ ملاقات متوقع ہے جو جمعہ (11 ستمبر) کو ہونے والی ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ بہت سے معاملات پر عوامی سطح پر بات نہیں کی جا سکتی کیونکہ کچھ ممالک ایسے ہیں جو ہمارے تعاون کو آگے بڑھنے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس لیے ان پر خفیہ طور پر بات چیت کی جا رہی ہے، لیکن انتہائی تعمیری انداز میں۔

تاہم اس سب کے درمیان صدر پوتن کی سکیورٹی بھی موضوع بحث ہے۔ ولادیمیر پوتن 2000 سے برسراقتدار ہیں اور سوویت آمر جوزف سٹالن کے بعد یہ کسی بھی روسی رہنما کا سب سے طویل دور ہے۔

تقریباً 73 سال کی عمر میں، پوتن بطور صدر اپنی پانچویں مدت گزار رہے ہیں۔

پوتن کی سکیورٹی کے حوالے سے بات کی جائے تو سینکڑوں محافظ ان کی ہر حرکت پر کڑی نظر رکھتے ہیں جو 24 گھنٹے ان کے ساتھ رہتے ہیں۔

بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق پوتن کا کھانا خفیہ طور پر تیار کیا جاتا ہے اور وہ جو کچھ پیتے ہیں اسے سب سے پہلے ان کے قریبی مشیر چیک کرتے ہیں۔ کے جی بی کے سابق افسران پوتن کے گرد موجود خطرات سے بخوبی واقف ہیں۔

پوتن کی حفاظت کون کرتا ہے؟

روس کے پاس کئی سکیورٹی سروسز ہیں، جن میں سے ایک خاص طور پر صدر اور ان کے خاندان کی حفاظت کے لیے وقف ہے۔ یہ روسی صدارتی سیکورٹی سروس، یا ایس بی پی کے طور پر جانی جاتی ہے.

یہ روس کی فیڈرل سکیورٹی سروس کو رپورٹ کرتا ہے، جو روس کی انٹیلی جنس ایجنسی کے جی بی سے تشکیل دیا گیا تھا۔

سیاہ سوٹ میں ملبوس اور ائیرفون پہنے ہوئے، SBP کے گارڈز سائے کی طرح 24 گھنٹے پوتن کے ساتھ رہتے ہیں۔

روس کے سرکاری میڈیا رشیا بیونڈ کے مطابق ’جب یہ ایجنٹ پوتن کے ساتھ بیرون ملک سرگرمیوں پر جاتے ہیں تو وہ خود کو چار گروپوں میں تقسیم کر لیتے ہیں جس میں پہلا گروپ ذاتی محافظوں پر مشتمل ہے جبکہ دوسرا حلقہ ان محافظوں پر مشتمل ہوتا ہے جن پر عوام کی توجہ نہیں جاتی۔‘

’تیسرا حفاظتی دائرہ کسی بھی جگہ بھیڑ کے چاروں طرف قائم ہوتا ہے جو مشکوک لوگوں کو اس میں داخل ہونے سے روکتا اور چوتھا اور آخری دائرہ ارد گرد کی عمارتوں کی چھتوں پر تعینات سنائپرز پر مشتمل ہوتا ہے۔‘

مارک گیلیٹو ایک روسی سیکورٹی ماہر اور ملک میں سکیورٹی کے مسائل کا تجزیہ کرنے والی مایاک انٹیلیجنس نامی فرم کے ڈائریکٹر ہیں۔

بی بی سی منڈو سروس سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’پوتن کو ہیلی کاپٹر پسند نہیں، وہ عام طور پر موٹر سائیکل سواروں، کئی بڑی کالی کاروں وغیرہ کے ساتھ ایک بڑے قافلے میں سفر کرتے ہیں۔‘

’اس کے لیے بعض اوقات فضائی حدود میں کسی بھی ڈرون کو اڑانے پر پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں اور ٹریفک روک دی جاتی ہے۔‘

صدر کی ’ذاتی فوج‘

روسی صدارتی سیکورٹی سروس، یا SBP، روسی نیشنل گارڈ، کو کچھ لوگ صدر کی ’ذاتی فوج‘ کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

یہ روسی مسلح افواج سے الگ ہے، حالانکہ اس کا سرکاری مشن روسی سرحدوں کو محفوظ بنانا، دہشت گردی سے لڑنا اور عوامی امن و امان کی حفاظت کرنا ہے۔

عملی طور پر اس کا سب سے اہم کام پوتن کو خطرات سے بچانا ہے۔ سٹیفن ہال، جو برطانیہ کی یونیورسٹی آف باتھ کے ایک روسی ماہر تعلیم ہیں، نے بی بی سی منڈو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہر کوئی جانتا ہے کہ روسی نیشنل گارڈ پوتن کی ذاتی محافظ ہے۔‘

نیشنل گارڈ کی قیادت اس وقت پوتن کے سابق محافظ وکٹر زولوتوف کر رہے ہیں، جنھیں صدر کا وفادار سمجھا جاتا ہے۔

حالیہ برسوں میں اس سکیورٹی فورس میں فوجیوں کی تعداد میں تقریباً چار لاکھ کا اضافہ کیا گیا ہے۔

ہال کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ امریکی صدر کے سکیورٹی یونٹ میں گارڈز کی تعداد اس تعداد کے قریب بھی نہیں آتی۔‘

یہ جاننا مشکل ہے کہ پوتن کی حفاظت کے لیے کس حد تک کچھ خاص اقدامات کیے جاتے ہیں، لیکن کریملن اور روسی سکیورٹی ماہرین نے اس معاملے پر کچھ روشنی ڈالی ہے۔

جس چیز کے بارے میں پوتن کا سکیورٹی حلقہ سب سے زیادہ سخت ہے، وہ ہے ان کا کھانا۔

مارک گیلیوٹی کے مطابق ’زہر کے خوف کی وجہ سے پوتن کا ایک ذاتی ایسا محافظ ہے جو صدر کے پاس آنے والی ہر کھانے کی چیز کو چیک کرتا ہے۔‘

انھوں نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ ’یہ انداز کسی جدید صدر سے زیادہ قرون وسطیٰ کے بادشاہ جیسا ہے۔‘

جب پوتن روس سے باہر سفر کرتے ہیں تو صدر کی ٹیم ہر اس چیز کا بھی معائنہ کرتی ہے جسے وہ استعمال کرتے ہیں۔

گیلیوٹی کے مطابق ’وہ تمام کھانے پینے کی چیزیں لیتے ہیں جو پوتن کھانے جا رہے ہیں، مثال کے طور پر، اگر کوئی آفیشل شیمپین ٹوسٹ ہے، تو پوتن اس بوتل سے شیمپین لیتے ہیں جو ان کی ٹیم لاتی ہے، دوسری بوتلوں سے نہیں۔‘

سمارٹ فون پر پابندی

پوتن کی حفاظت کے لیے اہم سمجھا جانے والا ایک اور اقدام کریملن کے اندر سمارٹ فونز پر پابندی ہے۔ خود روسی صدر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ ان آلات کو استعمال نہیں کرتے۔

2020 میں، روسی خبر رساں ایجنسی TASS کے ساتھ ایک انٹرویو میں، انھوں نے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے مزید کہا تھا کہ اگر وہ کسی سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں تو ایسا کرنے کے لیے ایک آفیشل لائن موجود ہوتی ہے۔

اس کا اعتراف ان کے مشیروں نے بھی کیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بارہا کہا ہے کہ پوتن موبائل فون استعمال نہیں کرتے کیونکہ ان کے پاس وقت نہیں ہے۔

لیکن سچ یہ ہے کہ پوتن ایسا اس لیے نہیں کرتے کیونکہ انھیں انٹرنیٹ پر بھروسہ نہیں ہے۔

ماضی میں پوتن نے اشارہ دیا ہے کہ ’انٹرنیٹ سی آئی اے پروجیکٹ ہے‘ اور روسیوں پر زور دیا ہے کہ وہ گوگل سرچ استعمال نہ کریں۔ ان کا خیال ہے کہ امریکی تمام معلومات کی نگرانی کرتے ہیں۔

گیلیوٹی کا کہنا ہے کہ ’پوتن مشکل سے انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں، اور سب جانتے ہیں کہ انھیں فون پسند نہیں ہے۔ اور یہ ٹھیک ہے۔ پوٹن بالکل درست کہتے ہیں۔ سمارٹ فونز زیادہ محفوظ نہیں ہیں۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ پوتن کو تمام معلومات فائلوں کے ذریعے ان کے مشیر انھیں دیتے ہیں۔

ہال کا کہنا ہے کہ ’پوتن اپنے دن کا آغاز تین سکیورٹی بریفنگ کے ساتھ کرتے ہیں: ایک دنیا کے لیے، ایک روس میں جو کچھ ہو رہا ہے، اور ایک اشرافیہ کے اندر کیا ہو رہا ہے۔ ان کے لیے، یہ سب سے اہم معلومات ہیں اور یہ ان کے دن کا ایجنڈا طے کرتی ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ مجھے سفارت کاروں اور وزارت خارجہ کے اہلکاروں سے بات چیت یاد ہے۔ ’انھوں نے مجھے بتایا کہ اگر ان کے پاس ایسی معلومات ہیں جو انٹیلی جنس سروسز درست نہیں مانتی ہیں، تو پوتن سمجھتے ہیں کہ ان کے جاسوس درست ہیں اور سفارت کار غلط ہیں۔‘