’ہماری بھی نقل کی‘: ایپل کے پہلے فولڈیبل آئی فون ’ڈوؤ‘ پر سام سنگ کا طنز

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

ایپل نے اپنی کمپنی کی تاریخ کا پہلا فولڈیبل فون متعارف کروا دیا ہے، جسے ’ڈوؤ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ مگر اس پر اس کے حریف سام سنگ نے طنز کرتے ہوئے اسے اپنے فون کی نقل کہا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایپل کے فولڈیبل کی ساخت پاسپورٹ جیسی ہے، تاہم اس کے کنارے گول ہیں۔ فون کھلنے کی صورت میں اس فون کا سائز سات اعشاریہ چھ انچ ہو جاتا ہے اور اسے عمودی انداز میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

فون فولڈ ہونے کی صورت میں اس کے سامنے کی جانب بھی ایک چھوٹی سنگل سکرین موجود ہے۔ کمپنی کے مطابق ’ڈوؤ‘ ایپل کا اب تک کا سب سے پتلا فون ہے۔

کمپنی نے اپنے فولڈیبل فون کی قیمت ایک ہزار 999 ڈالر رکھی ہے۔ یہ فون 23 اکتوبر سے مارکیٹ میں دستیاب ہوگا۔

کمپنی کے مطابق اس فون میں آئی فون کی 18 پرو سیریز ہی کی طرح 48 میگا پکسل ’فیوژن الٹرا وائڈ‘ کیمرہ نصب ہے۔

ایپل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جان ٹرنس نے کیلیفورنیا میں کمپنی کے ہیڈکوارٹرز میں واقع سٹیو جابز تھیٹر میں دکھائی جانے والی ایک ویڈیو میں کہا ’دوسروں نے فولڈیبل ڈیوائسز بنائی ہیں، لیکن وہ محض ایسے محسوس ہوتی ہیں جیسے دو فونز کو غیر موزوں انداز میں آپس میں جوڑ دیا گیا ہو۔‘

خیال رہے سام سنگ نے 2019 میں اپنا پہلا فولڈیبل فون 'گلیکسی فولڈ' متعارف کروایا تھا۔

سام سنگ نے ایپل کی جانب سے بالآخر سات سال بعد فولڈیبل فون متعارف کروائے جانے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں انتظار کروا رہے ہیں؟ ٹھیک ہے، ہم یہیں ہوں گے، تین تہوں میں (فون) فولد کرتے ہوئے۔‘

کورین موبائل کمپنی نے بظاہر ایپل فولڈیبل فون کے نام ’ ڈوؤ‘ کا بھی مذاق اڑاتے ہوئے ترجمہ کرنے والی ایپلیکیشن ’ڈوؤ لِنگو‘ کو ایکس پر ٹیگ کرواتے ہوئے لکھا ’آئی ایم سوری، ڈوؤ لِنگو۔ انھوں نے ہماری بھی نقل کی ہے۔‘

دوسری جانب چینی فون کمپنیوں ہواوے اور شیاؤمی نے پہلے ہی رواں ہفتے اپنے جدید فولڈیبل سمارٹ فون متعارف کروا دیے ہیں۔

دنیا کی تیسری بڑی سمارٹ فون ساز کمپنی شیاؤمی نے سوموار کے روز شیاؤمی 18 فولڈ کروایا جبکہ ہواوے نے بھی اس ہی روز اپنا جدید ترین میٹ ایکس ٹی 2 متعارف کروایا، جو اس کی تین بار فولڈ ہونے والی (ٹرائی فولڈ) سمارٹ فون سیریز کی تیسری نسل ہے۔

ٹرنس نے ’ڈوؤ‘ کی خصوصیات بتاتے ہوئے مزید کہا کہ ’یہ بالکل نیا ہے لیکن ساتھ ہی حیرت انگیز طور پر مانوس سا بھی محسوس ہوتا ہے۔ تقریباً آپ کے پاسپورٹ کے سائز کا یہ ڈیوائس ہاتھوں کو مانوس سا لگتا ہے اور ایک ہاتھ سے استعمال کرنے میں آرام دہ محسوس ہوتا ہے۔‘

ایپل کے مطابق آئی فون ’ڈوؤ‘ میں ڈسپلے کو چلانے کے لیے اے 20 چِپ استعمال کی جائے گی، جبکہ اس میں ایپل کی تیار کردہ نئی سی ٹو موڈیم چِپ بھی شامل ہوگی۔ یہ اقدام وائرلیس ڈیٹا چِپس کے لیے کوالکوم پر انحصار کم کرنے کی ایپل کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس

کیلیفورنیا میں ایپل کے ایگزیکٹوز نے آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس کی بھی نمائش کی، جو ایپل کی معروف سمارٹ فون سیریز کے تازہ ترین ماڈلز ہیں اور فولڈ نہیں ہوتے۔

آئی فون 18 پرو کی ابتدائی قیمت 1,199 ڈالر جبکہ آئی فون 18 پرو میکس کی ابتدائی قیمت 1,299 ڈالر رکھی گئی ہے، جو آئی فون 17 پرو اور 17 پرو میکس کی ابتدائی قیمتوں کے مقابلے میں 100 ڈالر زیادہ ہے۔

ایپل نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار یا ترمیم شدہ تصاویر کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات سے نمٹنے کے لیے بدھ کے روز ایک نیا فیچر بھی متعارف کروایا ہے، جسے ’ایپل ریفرنس امیج‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اس فیچر کے ذریعے یہ معلوم کیا جا سکے گا کہ آئی فون پرو کے کیمروں سے لی گئی تصاویر مستند ہیں۔

ایپل نے یہ بھی کہا کہ وہ SynthID کے ابھرتے ہوئے معیار کی حمایت کرے گی، جو ان تصاویر کی شناخت کے لیے تیار کیا گیا ہے جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائی گئی ہوں۔

تاہم ’ایپل ریفرنس امیج‘ کا فیچر یورپی یونین اور چین میں دستیاب نہیں ہوگا۔

آئی فون 18 پرو میں نئی اے 20 پرو چِپ بھی شامل ہوگی، جو جدید مصنوعی ذہانت ماڈلز کو براہِ راست آئی فون پر چلانے کے لیے بہتر کارکردگی اور اضافی صلاحیتیں فراہم کرے گی۔

ایپل نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس کے ایئرپوڈز کا ایک نیا ورژن 129 ڈالر کی ابتدائی قیمت کے ساتھ متعارف کروایا جائے گا، جس میں نوائز کینسلیشن کی سہولت شامل ہوگی۔ کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ 149 ڈالر مالیت کا ایک ورژن اضافی خصوصیات کے ساتھ دستیاب ہوگا، جس میں وائرلیس چارجنگ اور ایئربڈ کے ڈنڈی نما حصے پر والیوم کنٹرول شامل ہے، جس کے ذریعے صارفین اوپر یا نیچے سوائپ کر کے آواز کم یا زیادہ کر سکیں گے۔

اس کے علاوہ کمپنی نے ایپل واچ سیریز 12 اور ایپل واچ الٹرا 4 بھی متعارف کرائی ہیں اور ان میں صحت سے فیچرز کو اپ گریڈ کیا گیا ہے۔

ان میں ایک نیا ڈیزائن کیا گیا سینسر سسٹم شامل ہے، جو پہلے کے مقابلے میں زیادہ بار دل کی دھڑکن کا ڈیٹا جمع کرتا ہے اور نئی خصوصیات کو فعال بناتا ہے جو جسمانی بحالی اور فٹنس کی حالت کا اندازہ لگاتی ہیں۔

کمپنی کے مطابق ان گھڑیوں میں نئی ایپل سیلیکون چِپس اور بہتر سینسرز استعمال کیے گئے ہیں، جن کی بدولت وہ پہننے کے قابل آلات میں دل کی دھڑکن کی ’اب تک کی سب سے درست نگرانی‘ فراہم کرتی ہیں۔