ایران سے مذاکرات ناکام: اب آگے کیا ہوگا؟

JD Vance speaks on the phone with Donald Trump

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنحال ہی میں ہنگری کے دورے کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ٹرمپ سے فون پر بات کرتے ہوئے (فائل فوٹو)
    • مصنف, لز ڈوسیٹ
    • عہدہ, نامہ نگار برائے عالمی امور
    • مقام, اسلام آباد
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

اکیس گھنٹے 47 سالہ دشمنی کو ختم کرنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوئے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے تاریخی اعلیٰ سطح کے مذاکرات، جو کئی ہفتوں کی تباہ کُن جنگ میں ایک وقفے کے دوران ہوئے، کسی اور نتیجے پر پہنچنے کے امکانات بہت کم تھے۔

ان طویل مذاکرات کو ناکامی کہنا، اُن بڑے چیلنجز کی اصل وسعت کا ادراک نہ کرنے جیسا ہے جو دونوں فریقوں کو درپیش تھے، چیلنجز ایسے پیچیدہ مسائل پر موجود وسیع اختلافات کو کم کرنے سے متعلق تھے، جن میں ایران کے جوہری پروگرام پر پرانی سے چلی آ رہی بداعتمادی سے لے کر اُن نئے مسائل تک شامل ہیں جو اس جنگ نے پیدا کیے ہیں۔ ان میں سب سے اہم آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول ہے، جس کی بندش پوری دنیا میں معاشی جھٹکے پیدا کر رہی ہے۔

کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے، دونوں فریقوں کو گہری بد اعتمادی کی خلیج بھی عبور کرنا تھی۔

ایک دن پہلے تک یہ بھی واضح نہیں تھا کہ دونوں فریق ملاقات کریں گے، اور اُس سے بھی بڑھ کر، ایک ہی کمرے میں بیٹھیں گے۔

ایک دیرینہ سیاسی دھبہ سمجھے جانے والی حقیقت اب ٹوٹ گئی ہے۔

اب فوری سوال یہ ہے: آگے کیا ہوگا؟

دو ہفتے کی اُس متنازع جنگ بندی کا کیا بنے گا جس نے دنیا کی توجہ اپنی طرف کر دی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اُس خوفناک دھمکی کو بھلا دیا کہ ایران میں ایک ’پوری تہذیب‘ کو تباہ کر دیں گے؟

کیا امریکی صدر اپنے مذاکرات کاروں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر بھیجنے کے لیے تیار ہوں گے؟

اسلام آباد میں موجود ذرائع سے یہ خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ کچھ بات چیت اُس کے بعد بھی جاری رہی، جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس علی الصبح اپنا جہاز لے کر روانہ ہوئے اور اعلان کیا کہ امریکی وفد نے اپنی ’آخری اور بہترین پیشکش‘ پیش کر دی ہے۔

کیا اب امریکہ مزید سختی کرے گا یا مذاکرات کا راستہ اپنائے گا؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ہم اب بھی یہ نہیں جانتے کہ اسلام آباد کے پرسکون مگر قلعہ بند فائیو سٹار ہوٹل میں بند دروازوں کے پیچھے کیا ہوا، جہاں مذاکرات رات گئے تک جاری رہے۔

ابھی تک دونوں فریقوں کے درمیان ہونے والے اختلافات اور بات چیت کی تفصیلات بہت کم سامنے آئی ہیں، خواہ پاکستانی ثالثوں کی معاونت ہو، یا ماہرین اور مشیروں سے کی جانے والی درجنوں کالز، اور وینس کے مطابق ٹرمپ کو کی جانے والی ’درجنوں‘ براہ راست فون کالز۔

نائب صدر نے فجر کے وقت ہونے والی مختصر پریس کانفرنس میں امریکہ کے ’بنیادی مقصد‘ پر بات کی۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمیں ایک واضح یقین دہانی درکار ہے کہ (ایران) نہ تو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرے گا، اور نہ ہی ایسی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی جو اسے تیزی سے جوہری ہتھیار بنانے کے قابل بنائے۔‘

فروری میں ہونے والے آخری دورِ مذاکرات کے دوران، جب دوبارہ فوجی حملے شروع ہونے سے پہلے، ایران نے کچھ نئی رعایتیں دی تھیں، جن میں اس کے 440 کلوگرام یورینیم کے ذخیرے (جو 60 فیصد تک افزودہ ہے اور ہتھیاروں کی سطح کے بہت قریب سمجھا جاتا ہے) کو کم سطح پر لانا شامل تھا۔

لیکن ایران اب بھی افزودگی کے اپنے ’حق‘ پر ڈٹا ہوا ہے اور اس ذخیرے سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں، وہ ذخیرہ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ گذشتہ سال امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد ملبے کے نیچے گہری جگہوں پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ایران نے بارہا مطالبات کے باوجود آبنائے ہرمز کھولنے سے بھی انکار کیا ہے، جس سے تیل، گیس اور دیگر اہم سامان کی آزادانہ نقل و حرکت ممکن ہو سکے اور وہ کہتا ہے کہ یہ صرف نئے معاہدے کی موجودگی میں ہی ہو سکتا ہے۔

A large, blue road-side sign which reads: Islamabad Talks, April 2026.

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنمذاکرات ختم ہونے کے بعد اتوار کو ان کی حمایت میں لگائے گئے بینرز اور نشانیاں ہٹا دی گئیں

دونوں، امریکی اور ایرانی، وفود اسلام آباد اس یقین کے ساتھ آئے کہ اس جنگ میں جیت اُن ہی کی ہوگی۔

اور وہ یہ جانتے ہوئے مذاکرات میں شامل ہوئے کہ اگر بات چیت ناکام بھی ہوئی تو ان کے پاس لڑائی جاری رکھنے کا اختیار موجود ہے، چاہے اس بڑھتی ہوئی جنگ کی قیمت اُن کی اپنی عوام کو کتنی ہی کیوں نہ چکانی پڑے، اور چاہے دنیا اس بھڑکتی آگ کے اثرات سے کتنی ہی لرز رہی ہو۔

چیتھم ہاؤس کی ڈاکٹر سانم وکیل کے الفاظ میں اس عمل میں ایک اور رکاوٹ یہ بھی تھی کہ فریقین کو اپنے ’حریف کی نفسیات اور اُن سمجھوتوں کی بہت محدود سمجھ تھی جو کسی حقیقی معاہدے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔‘

جے ڈی وینس نے کچھ اچھی خبروں کا ذکر کیا کہ ’ہم نے کافی بامعنی مذاکرات کیے ہیں‘ مگر بری خبر بھی یہی تھی: ’ہم کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے۔‘

اور انھوں نے واضح کیا کہ یہ ’ایران کے لیے امریکہ سے کہیں زیادہ بری خبر ہے۔‘

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایکس پر پوسٹ میں امریکہ کے ’غیر ضروری اور غیر قانونی مطالبات‘ پر تنقید کی۔

اور ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف، جو ایرانی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کر رہے تھے، نے لکھا کہ ’اس دور کے مذاکرات میں حریف فریق ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔‘

ایران اشارہ دے رہا ہے کہ وہ بات چیت جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے تمام فریقوں پر جنگ بندی برقرار رکھنے پر زور دیا اور کہا کہ وہ مذاکرات کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے، ایسے ہی جذبات دیگر متعلقہ دارالحکومتوں میں بھی سنے جا رہے ہیں۔

اگر تاریخ کوئی رہنمائی دیتی ہے، تو آخری بار جب ایران نے سنہ 2015 میں امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدہ کیا تھا، تو اس کے لیے 18 ماہ تک پیش رفت اور رکاوٹوں کا سلسلہ جاری رہا تھا۔

ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ طویل اور پیچیدہ مذاکرات میں الجھنا نہیں چاہتے۔ جے ڈی وینس پہلے ہی خبردار کر چکے تھے کہ اگر تہران نے ’ہمیں کھیلنے کی کوشش کی تو امریکہ اسے قبول نہیں کرے گا۔‘

پاکستانی صحافی کامران یوسف، جو بہت کم دستیاب تفصیلات کے باوجود کئی صحافیوں کی طرح پوری رات کوریج کرتے رہے، نے اس دور کو ’نہ کوئی بڑی پیش رفت، نہ مکمل ناکامی‘ قرار دیا۔

دنیا اب فیصلے کی منتظر ہے، سب سے بڑھ کر ٹرمپ کے (فیصلے کی)۔