تین صفحات پر مشتمل امریکہ، ایران ’مفاہمتی یادداشت‘ کے اہم نکات کیا ہیں؟

    • مصنف, برنڈ ڈیبسمین جونیئر
    • عہدہ, وائٹ ہاؤس رپورٹر
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے ایک معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں اور یہ اب نافذ العمل ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے پر باضابطہ دستخط کیے جس کے تحت اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے۔

وہ فرانس کے شہر ایویان لیباں میں ہونے والے جی سیون سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے موجود تھے۔

14 نکات پر مشتمل یہ معاہدہ، جسے مفاہمتی یادداشت کہا جا رہا ہے، کے مطابق ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور اس میں ملک کی ’تعمیر نو اور اقتصادی ترقی‘ کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ کا بھی وعدہ کیا گیا ہے‘ اگرچہ امریکہ کے لیے اس میں حصہ ڈالنا ضروری نہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اس معاہدے کو ’کارکردگی پر مبنی‘ قرار دیا، جس کے تحت ایران کو اسی صورت میں فائدہ ہو گا جب وہ اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرے گا۔

اگرچہ معاہدے کے متن میں کئی سوالات کے جواب موجود نہیں اور بہت سے اہم مسائل ابھی بھی حل طلب ہیں لیکن اس کے اہم نکات کے بارے میں یہ معلومات دستیاب ہیں۔

نکتہ 1: ’تمام محاذوں پر‘ تنازعے کا خاتمہ

معاہدے کے پہلے پیراگراف میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، ایران اور ان کے اتحادی ’تمام محاذوں پر‘ فوجی کارروائیوں کے ’فوری اور مستقل‘ خاتمے کا اعلان کریں گے جن میں لبنان بھی شامل ہے۔

امریکی نقطہ نظر سے، ٹرمپ کو اس بات پر تشویش رہی ہے کہ حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائیاں ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو متاثر کر سکتی ہیں۔

دوسری جانب تہران بارہا کہتا رہا ہے کہ وہ توقع کرتا ہے کہ لبنان بھی اس جنگ بندی کے دائرہ کار میں شامل ہو گا۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے بدھ کے روز کہا کہ لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا کوئی بھی تسلسل ’یادداشت کی خلاف ورزی‘ ہو گا اور ’ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔‘

معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ’آج کے بعد‘ کوئی بھی فریق فوجی کارروائی شروع نہیں کرے گا یا ایک دوسرے کو دھمکی نہیں دے گا اور لبنان کی ’علاقائی سالمیت اور خودمختاری‘ کو یقینی بنایا جائے گا۔

دستاویز کے مطابق حتمی معاہدہ اس تنازعے کے مستقل ’خاتمے‘ کا باعث بنے گا۔

یہ واضح نہیں کہ اسرائیل اس نکتے پر کیسے ردِعمل ظاہر کرے گا۔

نکتہ 2: ’اندرونی معاملات‘ کا احترام

دستاویز کے متن میں جسے امریکی حکام کے ساتھ ایک کال کے دوران صحافیوں کو لفظ بہ لفظ پڑھ کر سنایا گیا، کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران ایک دوسرے کی ’خودمختاری اور علاقائی سالمیت‘ کا احترام کریں گے اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں گے۔

امکان ہے کہ ایرانی حکومت کے مخالف گروہ اس شق کو منفی انداز میں دیکھیں گے۔

اس سال کے آغاز میں ٹرمپ نے ایران کے مختلف شہروں میں پھیلنے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران مظاہرین سے کہا تھا کہ ’مدد آ رہی ہے۔‘

نکتہ 3: 60 دن کی قابلِ توسیع مدت

دستاویز کے تیسرے نکتے کے مطابق، امریکہ اور ایران 60 دن کی ’زیادہ سے زیادہ‘ مدت میں حتمی معاہدے پر بات چیت اور اسے مکمل کرنے کے لیے پُرعزم ہوں گے تاہم باہمی رضامندی سے اس مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔

اب 60 دن کا یہ وقت شروع ہو چکا ہے کیونکہ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط کر دیے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹرمپ نے بدھ کی رات فرانس میں پیلس آف ورسائی میں جی 7 اجلاس کے بعد ایک عشائیے کے دوران ایران سے متعلق اس دستاویز پر دستخط کیے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق اس پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی دستخط کیے ہیں۔

اس سے قبل، ٹرمپ اور ایرانی حکام دونوں نے عندیہ دیا تھا کہ اس ہفتے کے آخر میں جنیوا میں ایک باضابطہ دستخطی تقریب ہوگی۔ یہ واضح نہیں کہ آیا اب بھی یہ تقریب منعقد ہوگی یا نہیں۔

نکتہ 4: امریکہ ناکہ بندی ختم کرے گا

چوتھے نکتے میں کہا گیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنا شروع کرے گا اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد ’کسی بھی رکاوٹ یا پابندی‘ کو ہٹا دے گا۔

معاہدے اور ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ ناکہ بندی مکمل طور پر 30 دن کے اندر ختم کر دی جائے گی۔

اس دوران، ایرانی بندرگاہوں سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد کو اس تناسب کے مطابق رکھا جائے گا جس میں ایران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرے گا۔

حتمی معاہدے پر دستخط کے 30 دن کے اندر، امریکہ نے ’ایران کے قریب‘ سے اپنی افواج ہٹانے کا عہد بھی کیا ہے۔

عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی فوج اس حالت اور تعیناتی پر واپس آ جائے گی جہاں وہ 28 فروری کو کشیدگی شروع ہونے سے پہلے موجود تھی۔

نکتہ 5: آبنائے ہرمز

معاہدے کے ایک حصے میں کہا گیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ایران ’اپنی بھرپور کوششوں کے ساتھ انتظامات کرے گا‘ تاکہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنائی جا سکے، بغیر کسی فیس کے۔

جنگ کے آغاز اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد سے یہ امریکہ کا ایک اہم مقصد رہا کیونکہ اس کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ آمدورفت ’فوری طور پر‘ بحال ہونا شروع ہو جائے گی، جس میں تکنیکی اور فوجی ’رکاوٹوں‘ کو دور کرنے اور بارودی سرنگوں کی صفائی جیسے اقدامات کو مدنظر رکھا جائے گا۔

اس سے قبل بریفنگ کے دوران حکام نے بار بار یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔

دستاویز کے مطابق طویل مدت میں ایران عمان اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے ایک ’وسیع تر‘ معاہدہ تشکیل دے گا۔

ایک اہلکار کے مطابق امریکہ کا ماننا ہے کہ ایران اپنے حقوق کو ’سخت انداز میں‘ استعمال کرے گا لیکن خلیجی ممالک کبھی بھی ایسے مستقبل کو قبول نہیں کریں گے جس میں فیس یا ٹول کا نظام نافذ ہو۔

نکتہ 6: ایران کی تعمیر نو کے لیے مالی وسائل

مفاہمتی یادداشت کے چھٹے نکتے کے مطابق امریکہ اور علاقائی شراکت دار، ایران میں تعمیرِ نو اور معاشی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر (224 ارب پاؤنڈ) کے ایک ’حتمی، باہمی طور پر طے شدہ منصوبے‘ کو تیار کریں گے۔

حتمی طریقۂ کار پر حتمی معاہدے کے 60 دن کے اندر اتفاق کیا جائے گا اور تمام لائسنس، رعایتیں اور اجازت نامے امریکہ کی جانب سے فراہم کیے جائیں گے۔

تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ امریکہ مالی طور پر اس میں شامل ہوگا۔

ایک اہلکار نے واضح کیا کہ امریکہ ایران کو ’ایک پائی بھی‘ ادا کرنے یا اس فنڈ میں حصہ ڈالنے کا پابند نہیں۔

اہلکار نے کہا کہ اگر ایران ’مناسب رویہ اختیار کرے‘ تو متحدہ عرب امارات کے حکام امریکہ کی منظوری کے ساتھ ایران میں ایک بجلی گھر تعمیر کر سکتے ہیں۔

ٹرمپ اور دیگر حکام نے امریکی عوام کو یہ واضح کرنے کے لیے خاصی کوشش کی ہے کہ امریکہ براہِ راست ایران کو ادائیگی نہیں کرے گا، جس کے بارے میں انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ سنہ 2015 کے ایران اور اوبامہ انتظامیہ کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے سے نمایاں طور پر مختلف ہے۔

نکتہ 7: پابندیوں کا خاتمہ

امریکہ ایران کے خلاف تمام معاشی پابندیاں ختم کرے گا، جن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت عائد پابندیاں اور وہ پابندیاں بھی شامل ہیں جو امریکہ نے یکطرفہ طور پر نافذ کی تھیں۔

تاہم اس کے لیے وقت کا تعیّن واضح نہیں۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے شیڈول پر حتمی معاہدے کے حصے کے طور پر اتفاق کیا جائے گا لیکن دونوں فریق اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ آئندہ مذاکرات میں اس معاملے کو ’فوری طور پر‘ حل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ایران ان پابندیوں سے شدید متاثر ہوا ہے اور امریکہ کی ایک مہم ’آپریشن اکنامک فیوری‘ کا مقصد تہران کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ کرنا رہا ہے۔

نکتہ 8: کوئی جوہری ہتھیار نہیں

ایران اس بات پر متفق ہو گیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور نہ ہی خریدے گا اور دونوں فریق اس بات پر بھی متفق ہوئے ہیں کہ تہران کے پاس پہلے سے موجود افزودہ یورینیئم کے معاملے کو حل کیا جائے گا۔

اس مواد کو سنبھالنے کا کوئی طریقہ واضح نہیں کیا گیا۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اس کا طریقۂ کار بعد کے مذاکرات میں ’باہمی طور پر طے کیا جائے گا‘، تاہم کم از کم اسے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای سے) کی نگرانی میں اسی مقام پر ’کم افزودہ‘ کیا جائے گا۔

ایک سینیئر امریکی اہلکار نے اسے امریکہ کے لیے ’بڑی کامیابی‘ قرار دیا ہے۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اس سال کے آغاز میں آپریشن ایپک فیوری شروع کرنے کا ’99 فیصد‘ مقصد تھا۔

چونکہ امریکہ نے اس معاہدے کو کارکردگی سے مشروط قرار دیا ہے، اس لیے ساتویں نکتے میں بیان کردہ پابندیوں میں نرمی کا انحصار آٹھویں نکتے پر ایران کی جانب سے عمل درآمد پر منحصر ہو گا۔

نکات 9 اور 10: ’سٹیٹس کو‘

معاہدے کے نویں اور 10 ویں نکتے میں کہا گیا ہے کہ افزودہ یورینیم کے معاملے سے نمٹنے تک ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ’سٹیٹس کو‘ برقرار رہے گا۔

عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا۔

اس دوران وہ تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور متعلقہ خدمات، جیسے بینکاری لین دین اور نقل و حمل، کی برآمد کے لیے چھوٹ جاری کرے گا۔

نکتہ 11: منجمد فنڈز

یہ نکتہ مذاکرات میں بڑی رکاوٹ رہا۔

ایران طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ اس کے منجمد اثاثے جاری کیے جائیں تاکہ ملک کو ایک اور معاشی سہارا مل سکے۔

دستاویز کے گیارہویں نکتے میں کہا گیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد امریکہ ’منجمد یا محدود فنڈز کو مکمل طور پر دستیاب بنانے‘ کا عہد کرتا ہے اور اس کے طریقۂ کار پر مذاکرات کے دوران اتفاق کیا جائے گا۔

بدھ کے روز ایک امریکی اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ مفاہمتی یادداشت کے بعد جاری رہنے والے مذاکرات کے دوران کچھ اثاثے جاری کیے جائیں گے تاکہ جب ایران معاہدے کے پہلوؤں پر عمل کرے جیسے اپنے انتہائی افزودہ یورینیئم کے معاملے کو حل کرنے کا آغاز کرے تو اسے انعام دیا جا سکے۔

نکات 12 تا 14: نگرانی اور حتمی مذاکرات

دستاویز کے آخری چند نکات میں اس حوالے سے تفصیل بیان کی گئی ہے کہ یہ معاہدہ عملی طور پر کیسے آگے بڑھے گا۔

ان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد اور مستقبل کے معاہدے کی پاسداری کی نگرانی کے لیے ایک ’طریقۂ کار‘ قائم کریں گے تاہم عملی طور پر اس کی شکل کیا ہو گی، یہ واضح نہیں۔

اس کے بعد، جب مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو جائیں گے اور اس پر عملدرآمد شروع ہو جائے گا تو امریکہ اور ایران حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کا آغاز کریں گے۔

اور آخر میں مفاہمتی یادداشت میں واضح کیا گیا ہے کہ حتمی معاہدے کی توثیق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک پابند قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔