آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مردان میں گوردوارے کے رکھوالے میاں، بیوی کا قتل اور ملزم کی گرفتاری: ’وہ بزرگ تھے، جن کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھے‘
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
’وہ بزرگ تھے، اُن کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔ وہ گوردوارے کے سیوک تھے، لنگر بناتے تھے اور اپنا زیادہ تر وقت گوردوارے کی صفائی اور دیگر کاموں میں صرف کرتے تھے۔‘
یہ کہنا ہے کہ مدن موہن کا، جو خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں گوردوارے میں فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے سکھ میاں، بیوی کے پڑوسی تھے۔
71 سالہ جگن ناتھ اور اُن کی 67 سالہ اہلیہ آساونتی کو گذشتہ روز (17 جون) حملہ آور نے گوردوارے کے اندر گُھس کر فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ دونوں میاں بیوی گردوارے کے رکھوالے تھے اور وہیں رہائش پذیر تھے۔
جمعرات کی شام مردان پولیس نے اس واقعے میں ملوث مبینہ حملہ آور کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مردان مسعود احمد نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ مبینہ حملہ آور کی شناخت شیر شاہ کے نام سے ہوئی ہے، جسے جدید طریقہ تفتیش اختیار کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ڈی پی او مردان کے مطابق ملزم سے ابتدائی تفتیش میں اُس کے کسی کالعدم تنظیم، دہشت گرد گروہ یا منظم نیٹ ورک سے تعلق کے شواہد سامنے نہیں آئے ہیں تاہم اس ضمن میں مزید تفتیش جاری ہے۔
قتل ہونے والے جوڑے کے پڑوسی مدن موہن کے مطابق اُن کی اس جوڑے سے اکثر ملاقاتیں رہتی تھیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے ایک رات قبل بھی وہ انھیں کے ساتھ بیٹھے تھے اور گوردوارے کے بارے میں ہی بات چیت ہو رہی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مدن موہن کے مطابق جگن ناتھ اور اُن کی اہلیہ گوردوارے کے ہی ایک کمرے میں رہائش پزیر تھے۔
مردان کے گنجان آباد علاقے بابو محلہ میں قائم اس قدیم گوردوارے میں سکھ کمیونٹی کے لوگ باقاعدگی سے عبادت کے لیے آتے ہیں۔
مدن موہن نے بتایا کہ اِس گوردوارے کے باہر ایک گھنٹی لگی ہوئی ہے اور لوگ جب عبادت کے لیے آتے ہیں، تو پہلے گھنٹی بجاتے ہیں جس پر کھول دیا جاتا ہے۔
اس کیس کی تفتیش سے منسلک ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ بدھ کے روز لگ بھگ صبح 10 بجے ملزم گوردوارے آیا تھا۔ اُن کے مطابق ابتدائی تفتیش سے پتا چلا ہے کہ دروازہ کھلوانے کے بعد حملہ آور نے اندر جا کر الگ الگ جگہ پر دونوں میاں بیوی کو قتل کیا۔
مقامی پولیس کے مطابق واردات کے بعد حملہ آور فوری طور پر موقع سے فرار ہو گیا تھا۔
اس واقعے سے متعلق ایف آئی امر جیت لعل کی مدعیت میں درج ہوئی ہے جو ہلاک ہونے والی خاتون آساونتی کے بھائی ہیں۔
مدعی مقدمہ نے پولیس کو بتایا کہ وہ بدھ کی صبح اپنی ورکشاپ میں موجود تھے جب انھیں اطلاع دی گئی کہ اُن کی بہن اور بہنوئی پر حملہ ہوا ہے۔ اُن کے مطابق وہ فوری طور پر گوردوارے پہنچے تو وہاں دونوں کی لاشیں پڑی تھیں۔
انھوں نے پولیس کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی اور انھیں یہ نہیں معلوم کہ اُن کی بہن اور بہنوئی پر کس نے اور کیوں حملہ کروایا۔
مقامی سکھ کمیونٹی کے رہنما اور رُکن صوبائی اسمبلی بابا جی گرپال سنگھ بھی اس واقعے کی بعد مردان پہنچے تھے۔
باباجی گرپال سنگھ کے مطابق مقامی افراد نے انھیں بتایا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حملہ آور اس گوردوارے کے راستوں کا علم رکھتا تھا کیونکہ وہ دروازہ کھلنے کے بعد سیدھا اس بزرگ جوڑے کے کمرے کی طرف گیا، عام طور پر جب کوئی شخص گوردوارے میں داخل ہوتا ہے تو وہ گوردوارے کے ہال کی طرف جاتا ہے۔
اس سے قبل مردان کے ضلعی پولیس افسر مسعود احمد نے بی بی سی کو بتایا تھا اِس گوردوارے کی جانب پانچ راستے آتے ہیں، جن میں سے دو کو کلیئر کیا گیا ہے جبکہ باقی تین پر کام جاری ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی ہے کہ چند گھنٹوں میں صورتحال واضح ہو پائے گی۔
’جگن ناتھ اور آساونتی طویل عرصے سے گردوارے کی سیوا کر رہے تھے‘
گرپال سنگھ نے بتایا کہ مردان کا یہ گوردوارہ پاکستان بننے سے پہلے سے یہاں قائم تھا اور یہ دونوں میاں بیوی طویل عرصے سے اس کی سیوہ یا رکھوالی کر رہے تھے۔
انھوں نے کہا کہ 20 سے 25 سال سے تو انھوں نے وہ خود انھیں یہاں دیکھ رہے تھے اور ہو سکتا ہے وہ اس سے پہلے سے یہاں کام کرتے ہوں گے۔
اُن کے پڑوسی مدن موہن نے بتایا کہ قتل ہونے والے میاں بیوی کی ایک ہی بیٹی ہے جو شادی شدہ ہے اور کسی دوسرے شہر رہائش پذیر ہے۔
مدن موہن نے بتایا کہ والدین پر حملے کے بعد اُن کی بیٹی اور جگن ناتھ کی بہن یہاں پہنچے ہیں۔ ’بیٹی انتہائی غم میں تھی وہ تو کسی سے بات بھی نہیں کر پا رہی تھی، بس یہی سوال پوچھ رہی تھی کہ ان بزرگوں نے کسی کا کیا بگاڑا تھا؟!
مدن موہن نے بتایا کہ جگن ناتھ کے دو بھائی تھے لیکن وہ فوت ہو چکے ہیں۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق مردان میں سکھوں اور ہندوؤں کی تعداد لگ بھگ 300 ہے۔ ان کے مطابق بابو محلہ، جہاں یہ گوردوارہ واقع ہے، میں ہندو اور سکھ آباد ہیں۔
اس واقعہ کے بعد خیبر پختونخوا اسمبلی میں اقلیتی نشستوں پر منتخب اراکین اسمبلی گرپال سنگھ، سریش کمار اور دیگر موقع پر پہنچے۔
گرپال سنگھ نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی تشویشناک واقعہ ہے کیونکہ اس سے قبل تو اقلیتوں پر حملے بازاروں میں اور راہ چلتے ہوتے تھے، مگر اب حملہ آور گرودوارے تک پہنچ گئے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگرچہ اِن دنوں محرم کے لیے سکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں مگر اس کے باوجود یہ واقعہ پیش آیا ہے۔
رکن صوبائی اسمبلی سریش کمار نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جائیں اور ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ گرپال سنگھ کا کہنا تھا کہ باقی ممالک میں حکومتیں اپنے شہریوں کا جیسے خیال رکھتی ہیں، ہم توقع کرتے ہیں کہ ہمارے وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ بھی اسی طرح ہر شہری کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔
خیبر پختونخوا میں اقلیتی برادری
خیبر پختونخوا میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشنز کے دوران اور امن و عامہ کی مجموعی صورتحال کے باعث صوبے سے بڑی تعداد میں سکھ اور دیگر اقلتی کمیونٹی کے لوگوں نے نقل مکانی کی تھی۔سنہ 2010 سے پہلے سکھ کمیونٹی کے لوگ قبائلی علاقوں میں مقیم تھے جن میں ضلع خیبر اور اورکزئی نمایاں تھے لیکن سنہ 2011 کے بعد یہ اپنے گھر بار چھوڑ کر پشاور اور دیگر شہری علاقوں میں منتقل ہو گئے تھے۔
تاہم بعدازاں پشاور میں بھی اقلیتی افراد پر حملے ہوئے لیکن اب بھی لوگ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں یہ آباد ہیں ۔
پشاور کا قدیم علاقہ ڈبگری اور اس سے ملحقہ محلہ جوگن شاہ تاریخی طور پر سکھ برادری کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ تقسیم ہند سے قبل اس علاقے میں سکھ تاجروں اور خاندانوں کی بڑی تعداد آباد تھی اور آج بھی پشاور میں مقیم سکھ برادری کی ایک قابل ذکر تعداد اسی علاقے یا اس کے گردونواح میں رہائش پذیر ہے۔ جوگن شاہ محلہ صدیوں سے سکھوں کی سماجی، مذہبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔
اس علاقے میں واقع گوردوارہ بھائی جوگا سنگھ پشاور کا سب سے معروف اور تاریخی گوردوارہ ہے۔ یہ گوردوارہ سکھ برادری کے لیے نہ صرف عبادت گاہ بلکہ ایک اہم تاریخی ورثہ بھی ہے۔ دو سو سال سے زائد قدیم سمجھی جانے والی اس عمارت میں مذہبی تقریبات اور مختلف تہواروں کے اجتماعات منعقد ہوتے رہے ہیں اور یہ پشاور میں سکھ برادری کی شناخت کی ایک اہم علامت تصور کی جاتی ہے۔