ہم آج کی جھلسا دینے والی گرمی سے نمٹنے کے لیے 123 سال پرانے ایئر کنڈیشننگ نظام سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

ایئر کنڈیشنر

،تصویر کا ذریعہChris Baraniuk

    • مصنف, کرس بارانیوک
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 13 منٹ

موسمیاتی تبدیلی سے دنیا بھر کے شہر بھٹی کی طرح تپنے لگے ہیں ایسے میں کمزور اور حساس افراد کے لیے ایئر کنڈیشننگ زندگی اور موت کے درمیان فرق ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم اس کی بھاری قیمت بھی چکانی پڑتی ہے۔ عوامی مقامات پر ایئر کنڈیشننگ کی طویل تاریخ اس بات کو واضح کرتی ہے کہ اس معاملے میں کیا کچھ داؤ پر لگا ہے۔

میرے سامنے اینٹوں کی دیوار میں چھ بلیڈوں والا ایک دیوہیکل پنکھا نصب ہے۔ چمکدار سرخ رنگ سے رنگا یہ پنکھا دیوار میں بنے ایک گول سوراخ میں نہایت مہارت لگایا گیا ہے اور اس کا وزن کئی ٹن ہو گا۔ لیکن جب میں نے اس کے ایک بلیڈ پر ہاتھ رکھا تو یہ آسانی سے گھومتا چلا گیا۔ بنا کسی چرچراہٹ کے جیسے اسے کل ہی نصب کیا گیا ہو۔

شمالی آئرلینڈ کے شہر بیلفاسٹ میں واقع رائل وکٹوریہ ہسپتال کے سینئر سٹیٹس افسر ایلن لونی کہتے ہیں کہ 'یہ حیران کن نہیں؟ اتنے برس گزرنے کے باوجود آپ اسے گھما سکتے ہیں۔ میرا مطلب ہے کہ اس سے ذرا سی بھی آواز نہیں آتی۔'

میں اس وقت اینٹوں اور لوہے سے بنے 123 برس پرانے ایک ایئر کنڈیشننگ نظام کے اندر کھڑا ہوں۔

رائل وکٹوریہ ہسپتال کی عمارت دنیا کی ان پہلی عوامی عمارتوں میں شمار ہوتی ہے جن میں مکینکی ایئر کنڈیشننگ کا استعمال کیا گیا تھا۔ یہ ایئر کنڈیشننگ نظام 1903 میں ہسپتال کے وارڈز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے نصب کیا گیا تھا۔

ایک وقت تھا کہ یہ پنکھا ہوا کو ناریل کے ریشوں سے بنی رسیوں کے ایک گھنے جال سے گزارا کرتا تھا، جنھیں گرمیوں میں باقاعدگی سے ٹھنڈے پانی سے تر رکھا جاتا تھا۔ اس کے بعد یہ ہوا 150 میٹر (490 فٹ) لمبی ایک راہداری میں داخل ہوتی تھی جس کے فرش کا ڈھلوان اوپر کی جانب تھا۔ راہداری کی دیواروں میں بنے سوراخوں کے ذریعے درجہ حرارت اور نمی کے لحاظ سے متوازن ہوا پوشیدہ خانوں سے گزرتی ہوئے اوپر موجود ہسپتال کے وارڈز تک پہنچتی تھی۔

اس کا مقصد؟ مریضوں کی صحت یابی کا عمل بہتر بنانا اور بالآخر جانیں بچانا۔

عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافے اور ہیٹ ویو کے زیادہ عام ہونے کے ساتھ ہی عوامی صحت میں ایئر کنڈیشننگ کا کردار بھی اہم ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی ضرورت واضح ہے۔ گرمی کی شدت نہ صرف بعض اوقات جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے بلکہ یہ لوگوں کو زیادہ جارح مزاج بھی بنی سکتی ہے یا ان کی فیصلہ سازی کی صلاحیت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ گرمی کی شدت کے باعث بعض ادویات کی افادیت بھی کم کر سکتی ہے۔ دنیا کے کئی شہروں میں عوام کو ٹھنڈی جگہوں تک رسائی فراہم کرنے کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے، جبکہ بعض مقامات پر خاص طور پر ایئر کنڈیشنڈ موسمی پناہ گاہیں بھی قائم کی جا رہی ہیں۔

لیکن صحت کے تحفظ کے ایک مؤثر ذریعے کے طور پر ایئر کنڈیشننگ کی اصل اہمیت کو سمجھنے کے لیے اس کی تاریخی ابتدا کو جاننا ضروری ہے۔

رائل وکٹوریہ ہسپتال کی عمارت دنیا کی ان پہلی عوامی عمارتوں میں شامل ہوتی ہے جن میں مکینکی ایئر کنڈیشننگ کا استعمال کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہChris Baraniuk

،تصویر کا کیپشنرائل وکٹوریہ ہسپتال کی عمارت دنیا کی ان پہلی عوامی عمارتوں میں شامل ہوتی ہے جن میں مکینکی ایئر کنڈیشننگ کا استعمال کیا گیا تھا۔
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اگرچہ رائل وکٹوریہ ہسپتال میں نصب دیوہیکل پنکھے اور ناریل کے ریشوں پر مبنی ایئر کنڈیشننگ نظام کو اب جدید اور صحت بخش ٹیکنالوجی سے تبدیل کیا جا چکا ہے، تاہم یہ اب بھی اس بات کی مثال ہے کہ کیسے ایئر کنڈیشننگ سسٹم لوگوں کی جانیں بچانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔ ایئر کنڈیشنڈ عمارتوں تک رسائی گرمی سے متعلق اموات کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر دیتی ہے، اور ایک تحقیق کے مطابق ایئر کنڈیشننگ ہر سال دنیا بھر میں 65 برس سے زائد عمر کے تقریباً ایک لاکھ 95 ہزار افراد کی جانیں بچاتی ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس (یو سی ایل اے) کے فیلڈنگ سکول آف پبلک ہیلتھ سے وابستہ معالج اور صحت کے محقق ڈیوڈ آئزن مین کہتے ہیں کہ 'گرمی سے لاحق صحت کے خطرات کو کم کرنے کا سب سے اہم طریقہ ٹھنڈک فراہم کرنا ہے، اور اس کے لیے اکثر ایئر کنڈیشننگ یا فعال کولنگ ناگزیر ہوتی ہے۔'

ہسپتالوں میں ایئر کنڈیشننگ نہایت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ہیٹ ویو کے دوران یہ مریضوں کی اموات کے خطرے کو 40 فیصد تک کم کر سکتی ہے۔ گرم موسم کے دوران ہسپتالوں میں کولنگ کے آلات میں خرابی کو 'سنگین معاملہ' قرار دیا جاتا ہے۔

ایئر کنڈیشننگ کی ابتدا

نرسنگ کی بانیوں میں شمار ہونے والی سماجی کارکن فلورنس نائٹنگیل نے 19ویں صدی کے ہسپتالوں میں صفائی اور صحت سے متعلق مختلف اقدامات کی حوصلہ افزائی کی، جن میں تازہ ہوا کی فراہمی بھی شامل تھی۔ اس دور میں بیشتر ڈاکٹر اور نرسیں یہ کام کرنے کے لیے وارڈز کی کھڑکیاں کھول دیا کرتے تھے۔

1903 میں رائل وکٹوریہ ہسپتال کے وارڈز کے معماروں نے ایک ایسے شہر میں صحت مند ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جہاں شیر خوار بچوں کی شرح اموات بلند تھی اور فیکٹریوں اور ملوں سے پیدا ہونے والی آلودگی بھی بہت زیادہ تھی۔ پانی میں بھیگی ناریل کے ریشوں کی رسیاں نہ صرف آنے والی ہوا کو ٹھنڈا کرتی تھیں بلکہ فضا میں موجود گردوغبار کو بھی جذب کر لیتی تھیں۔

بیلفاسٹ ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر ٹرسٹ میں سٹیٹس آپریشنز کے سربراہ نائجل کیری کہتے ہیں 'اس کا مقصد ایسا ماحول پیدا کرنا تھا جسے آج ہم صحت بخش یا حفظانِ صحت کے مطابق ماحول کہیں گے۔ اس کا ایک فائدہ یہ تھا کہ کھڑکیاں کھولنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی، جہاں سے کوئلے کی گرد اور کالک اندر آتی تھی۔'

ان کے مطابق اس کے نتیجے میں قائم ہونے والا نظام، بہت مؤثر ثابت ہوا۔ اس سسٹم کے بعض حصے اسی کمپنی نے تیار کیے تھے جس نے ٹائٹینک کے لیے وینٹیلیشن پنکھے بنائے تھے۔

ہسپتال کے قیام کے بعد وہاں کام کرنے والے ڈاکٹروں نے گرمیوں میں سایہ دار مقامات پر بیرونی درجہ حرارت 26 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا۔ لیکن ایئر کنڈیشننگ نظام نے وارڈز کا درجہ حرارت 18 ڈگری سینٹی گریڈ پر برقرار رکھا۔

1860 کی دہائی میں ایک امریکی موجد نے ہسپتال کے لیے برف کی بنیاد پر ہوا کو ٹھنڈا کرنے کا ایک نظام تجویز کیا تھا۔ تاہم اس میں نمی پر قابو پانے کی سہولت شامل نہیں تھی۔

20ویں صدی کے اوائل میں ہسپتالوں کے ڈیزائنرز اور طبی ماہرین بظاہر اس بات کو سمجھ چکے تھے کہ عمارتوں کے اندر ہوا کو قابو میں رکھنا صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ رفتہ رفتہ لوگوں نے ایسے اقدامات کو دیگر مقامات پر بھی فروغ دینا شروع کر دیا۔

انڈیا کے شہر جودھپور میں ایک عوامی کولنگ سٹیشن موجود ہے۔

،تصویر کا ذریعہNRDC

،تصویر کا کیپشنانڈیا کے شہر جودھپور میں ایک عوامی کولنگ سٹیشن موجود ہے۔

گرم ہوتے شہروں کے لیے کولنگ سٹیشنز

آج انڈیا کے شہر جودھپور میں ایک عوامی کولنگ سٹیشن موجود ہے۔ یہ ایک کیبن نما عمارت ہے اور گذشتہ دو برس سے شدید گرمی کے دوران لوگوں کو راحت فراہم کر رہا ہے۔

جودھپور میں بعض اوقات درجہ حرارت تقریباً 50 ڈگری سینٹی گریڈ (122 ڈگری فارن ہائیٹ) تک پہنچ جاتا ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے اس کیبن کی دیواروں کا ایک حصہ خشک گھاس خس سے بنے ریشے دار پینلوں پر مشتمل ہے جن پر پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے۔ یہ گھروں اور دیگر عمارتوں کو ٹھنڈا رکھنے کا ایک روایتی طریقہ ہے، اور کافی حد تک رائل وکٹوریہ ہسپتال میں استعمال ہونے والی نم ناریل کی رسیوں سے مشابہت رکھتی ہے۔

جودھپور کے کولنگ سٹیشن میں شمسی توانائی سے چلنے والے برقی پنکھے نم خس کے پردوں سے ہوا گزارتے ہیں، جس سے اندر کا درجہ حرارت 12 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم ہو جاتا ہے۔

غیر منافع بخش تنظیم نیچرل ریسورسز ڈیفنس کونسل میں کولنگ اور موسمیاتی لچک کی ڈائریکٹر پریما مدن اس کولنگ سٹیشن کے ڈیزائن میں بھی شامل تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ '2024 میں افتتاح کے بعد سے اس کا باقاعدگی سے استعمال ہو رہا ہے۔'

اس سہولت سے خاص طور پر وہ لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو اپنے وقت کا بڑا حصہ کھلے مقامات میں گزارتے ہیں، جن میں خواتین، ڈیلیوری رائیڈرز اور سڑک کنارے کاروبار کرنے والے افراد شامل ہیں۔

عوام کے لیے قابلِ رسائی اور ایئر کنڈیشنڈ ٹھنڈی جگہیں فراہم کرنے کا یہ تصور تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔

سپین نے حال ہی میں ایک قومی پروگرام کا اعلان کیا ہے جس کے تحت موسمیاتی پناہ گاہوں کا ایک نیٹ ورک قائم کیا جائے گا۔ یہ ایئر کنڈیشنڈ مقامات ہوں گے جہاں عموماً پینے کا پانی اور بیٹھنے کی جگہ بھی دستیاب ہو گی۔

سپین میں باسک سینٹر فار کلائمٹ چینج سے وابستہ انا تیرا اموریم مایا ملک میں موسمیاتی پناہ گاہوں پر تحقیق کی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ 'اگر آپ کو پتہ ہو کہ آپ کے گھر یا کام کی جگہ سے صرف پانچ منٹ کی دوری پر، یا بازار سے واپسی کے راستے میں، جب آپ کو گرمی زیادہ محسوس ہونے لگے تو 100 میٹر کے اندر ایک موسمیاتی پناہ گاہ موجود ہے۔ میرے خیال میں یہ نہایت ضروری سہولت ہے۔'

لندن میں موجود ٹھنڈے مقامات کا نقشہ

ایسے شہر جہاں ماضی میں زیادہ گرمی نہیں پڑتی تھی اب وہاں بھی شہریوں کو گرمی سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے عوامی کولنگ سسٹمز کی جانب توجہ دی جا رہی ہے۔

لندن شہر کے حکام نے ایک انٹرایکٹو نقشہ جاری کیا ہے جس میں ایسی لائبریریوں، عجائب گھروں، کنسرٹ ہالز اور دیگر مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں نسبتاً ٹھنڈا ماحول میسر رہتا ہے۔ اس فہرست میں پتھروں سے تعمیر شدہ گرجا گھر بھی شامل ہیں جو گرم موسم میں قدرتی طور پر نسبتاً ٹھنڈے رہتے ہیں۔

کچھ لوگ اس سوال کا جواب خود تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ کہاں جا کر ٹھنڈک حاصل کر سکتے ہیں۔

لندن کے ایک رہائشی تیانیِن پان نے حال ہی میں ایک آن لائن نقشہ تیار کیا ہے جس میں ان کاروباری مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں ایئر کنڈیشننگ موجود ہے یا ہونے کا امکان ہے۔ انھوں نے 'سٹے کول' کے نام سے ایک آن لائن ڈائریکٹری بنائی ہے جس میں ریستورانوں، پبز اور کیفے کی فہرست شامل ہے۔ یہ فہرست عوامی طور پر دستیاب اعداد و شمار کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔

پان خبردار کرتے ہیں کہ یہ ویب سائٹ سو فیصد درست نہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اسے مسلسل بہتر اور تازہ معلومات سے ہم آہنگ بنانے پر کام کر رہے ہیں۔

برطانیہ میں قائم تھنک ٹینک سوشل مارکیٹ فاؤنڈیشن کی سینئر محقق نیام او ریگن کا کہنا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ عوام کی ٹھنڈی جگہوں تک رسائی کی ضرورت اور طلب بڑھتی جائے گی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میرے خیال میں شاید لوگ ابھی تک اس بات کو پوری طرح سمجھے نہیں ہیں کہ یہ صورتِ حال مستقبل میں کہیں زیادہ معمول کا حصہ بن جائے گی۔‘

2003 میں فرانس میں آنے والی گرمی کی شدید لہر کے دوران بہت سے ہسپتالوں کے پاس مناسب ٹھنڈک برقرار رکھنے کی سہولت موجود نہیں تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن2003 میں فرانس میں آنے والی گرمی کی شدید لہر کے دوران بہت سے ہسپتالوں کے پاس مناسب ٹھنڈک برقرار رکھنے کی سہولت موجود نہیں تھی

ماضی کی آفات سے سبق

2003 میں یورپ میں آنے والی ہلاکت خیز گرمی کی لہر اس بات کی واضح مثال ہے کہ شدید گرمی انسانی صحت کے لیے کس قدر تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے اور ایئر کنڈیشننگ سے اس پر کتنا فرق پڑ سکتا ہے۔

گرمی کی اس لہر کے دوران 20 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جن میں پیرس کے فونڈیشن ہسپتال سینٹ جوزف کے انتہائی نگہداشت کے شعبے (آئی سی یو) میں زیرِ علاج بعض مریض بھی شامل تھے۔ انتہائی نگہداشت کے معالج بینوا میسے اس وقت فونڈیشن ہسپتال میں خدمات انجام دے رہے تھے۔

ڈاکٹر میسے اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 'مجھے 2003 کی گرمی کی لہر بہت اچھی طرح یاد ہے۔ ہر دن انتہائی مشکل تھا۔'

انھیں اس وقت کے کچھ مخصوص واقعات آج بھی یاد ہیں۔ ایک نانبائی جو درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے اپنی روٹی پکانے والی بھٹی کے سامنے بے ہوش ہو گیا۔ تعمیراتی شعبے میں کام کرنے والا ایک مزدور۔ ایک نوجوان ڈاکیا جس کی گاڑی میں ایئر کنڈیشننگ کی سہولت نہیں تھی۔ میسے کے اندازے کے مطابق گاڑی کے اندر درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے بھی زیادہ ہو گیا تھا۔

ڈاکٹر میسے کہتے ہیں کہ 'وہ گاڑی سے باہر نکلا اور سڑک پر گر پڑا۔ اسے ہسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکا۔'

میسے اور ان کے ساتھی بھی شدید گرمی میں مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔ اس وقت ان کے آئی سی یو میں ایئر کنڈیشننگ کی سہولت نہیں تھی۔ بعض مریض شدید پانی کی کمی کا شکار ہو کر آ رہے تھے، لیکن بدترین متاثرین ایک طرح کی گرمی سے پیدا ہونے والی بے ہوشی کی کیفیت میں مبتلا تھے۔

مریضوں کو راحت پہنچانے کی کوشش میں میسے کے عملے نے پانی کی بوتلوں کو فرج میں ٹھنڈا کر کے مریضوں کے جسموں پر رکھنا شروع کر دیا۔

وہ یاد کرتے ہیں 'ریفریجریٹر اتنی مقدار میں پانی ٹھنڈا کرنے کے قابل نہیں تھے جتنی ضرورت تھی۔'

2006 میں میسے اور ان کے ساتھیوں نے ایک تحقیق شائع کی جس میں 2003 کی گرمی کی لہر کے دوران فرانس بھر کے 80 مختلف انتہائی نگہداشت کے یونٹوں میں داخل کیے گئے 340 سے زیادہ ہیٹ سٹروک کے مریضوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔

اگرچہ مریضوں کی بقا پر اثر انداز ہونے والے دیگر عوامل کو مکمل طور پر خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن تحقیق میں ایک نمایاں تعلق سامنے آیا: 'جن مریضوں کا علاج ایئر کنڈیشننگ کے بغیر کیا گیا، ان میں موت کا خطرہ 76 فیصد زیادہ تھا۔'

ماحولیاتی نقصان

اپنے تجربے اور تحقیق کے نتائج کے باوجود مسیٹ ایئر کنڈیشننگ کے بارے میں کسی حد تک محتاط رویہ رکھتے ہیں کیونکہ انھیں اس کے ماحولیاتی اثرات کے ساتھ ساتھ اسے نصب کرنے اور چلانے کے اخراجات پر بھی تشویش ہے۔

ایئر کنڈیشننگ پہلے ہی دنیا بھر میں استعمال ہونے والی بجلی کا تقریباً سات فیصد استعمال کرتی ہے، جبکہ فوسل ایندھن اور صنعتی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی عالمی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں اس کا حصہ 2.7 فیصد ہے۔

بعض تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایئر کنڈیشننگ نظاموں کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات عالمی حدت میں مزید اضافہ کریں گی اور 2050 تک یہ نظام امریکہ کے مجموعی اخراج سے بھی زیادہ موسمیاتی تبدیلی کا باعث بننے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کر سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ ایئر کنڈیشنرز میں استعمال ہونے والے ریفریجرینٹس بھی ایک مسئلہ ہیں۔ ان میں شامل بعض گیسیں عالمی حدت بڑھانے کے حوالے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ طاقتور اثر رکھتی ہیں۔

اس کے علاوہ دیگر مسائل بھی ہیں۔ یونان میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق اگر ایئر کنڈیشنرز کو چلانے کے لیے فوسل ایندھن سے پیدا ہونے والی بجلی استعمال کی جائے تو اس سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں آلودگی سے متعلق اموات بڑھ سکتی ہیں۔ یوں ایئر کنڈیشننگ کے صحت پر ہونے والے بعض فوائد اس کے منفی اثرات کے باعث جزوی طور پر زائل ہو سکتے ہیں۔

Chris Baraniuk

،تصویر کا ذریعہChris Baraniuk

تاہم برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیڈز میں ماحولیاتی انجینیئر کیتھرین نوکس کے مطابق بعض مقامات پر ’پیسو کولنگ‘ (غیر فعال ٹھنڈک) جیسے متبادل طریقے کافی ثابت نہیں ہو سکتے۔

غیر فعال ٹھنڈک میں عمارتوں اور کھڑکیوں کو سایہ فراہم کرنا، گرمی کو منعکس کرنے کے لیے چھتوں کو سفید رنگ کرنا یا گرمی کو اندر داخل ہونے سے روکنے کے لیے موصلیت (انسولیشن) کا استعمال شامل ہے۔

لیکن ان کے بقول شدید گرمی کی لہروں اور مسلسل بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کے تناظر میں، یہ اقدامات اکیلے بہت سی جگہوں پر مطلوبہ تحفظ فراہم نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا: ’ہم اس مرحلے سے آگے نکل چکے ہیں کہ ہر مسئلے کا حل صرف غیر فعال طریقوں سے نکالا جا سکے، خاص طور پر شہروں میں۔ جب باہر درجۂ حرارت انتہائی زیادہ ہو جائے تو حالات سے نمٹنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔‘

مثال کے طور پر بہت سے ہسپتال آج بھی ایئر کنڈیشننگ کے بغیر شدید مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، حالانکہ بیلفاسٹ کے رائل وکٹوریہ ہسپتال میں 120 سال سے زیادہ عرصہ پہلے ایک ابتدائی ایئر کنڈیشننگ نظام نصب کیا گیا تھا۔

کیتھرین نوکس کے مطابق آج ہسپتالوں کا عملہ اکثر برقی پنکھوں کا سہارا لیتا ہے، جو نسبتاً کم لاگت پر لوگوں کو ٹھنڈا رکھنے کا مؤثر ذریعہ ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ درجۂ حرارت تقریباً 40 ڈگری سینٹی گریڈ (104 فارن ہائیٹ) سے زیادہ نہ ہو۔

تاہم نوکس خبردار کرتی ہیں کہ پنکھے ہسپتال کے وارڈز میں فضا کے ذریعے پھیلنے والے جراثیم اور بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھا سکتے ہیں۔

ٹرین ٹیکنالوجیزمیں یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے گروپ صدر جوسے لا لوگیا کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا بھر کے ہسپتالوں میں ایئر کنڈیشننگ نظاموں کی طلب بہت زیادہ ہے۔ ان کی کمپنی کے صحتِ عامہ اور دواسازی کے شعبوں میں متعدد ادارے بطور کلائنٹ شامل ہیں۔

جون کے آخر میں سخت گرمی کی لہر کے دوران فرانس کو درپیش مشکلات کے پیشِ نظر، فرانسیسی حکومت نے حال ہی میں صحت کی سہولیات کے لیے 30,000 ایئر کنڈیشننگ یونٹس خریدنے کی غرض سے ہنگامی فنڈنگ کی مد میں 100 ملین یورو مختص کیے۔

دوسری جانب مئی 2026 میں برطانیہ کی حکومت کو مشورہ دینے والی آزاد کلائمیٹ چینج کمیٹی کی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ آنے والی دہائیوں میں انگلینڈ اور ویلز کی طبی سہولیات کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے سالانہ 144 ملین پاؤنڈ خرچ کرنا پڑیں گے۔

آج بھی بیلفاسٹ کا رائل وکٹوریہ ہسپتال مکمل طور پر ایئر کنڈیشنڈ نہیں ہے۔ کیری کے مطابق اس کی بنیادی وجہ لاگت ہے۔ انہوں نے کہا: ’یہ بہت مہنگا ہے۔‘

تاہم ان کے مطابق حالیہ برسوں میں ہسپتال کے اس ابتدائی اور انقلابی ایئر کنڈیشننگ نظام میں دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے۔

کیری کہتے ہیں: ’ہم انجینیئروں نے اس نظام کو زندہ رکھا۔ یہ ہسپتال کے ایک بھولے بسرے کونے میں موجود تھا۔‘

یہ نظام آج بھی تقریباً اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے، اگرچہ اب اسے ہسپتال کے فعال وارڈز سے منسلک نہیں رکھا گیا۔ اس کے باوجود یہ اس بات کی ایک یادگار مثال ہے کہ عوامی صحت کے لیے ایئر کنڈیشننگ کتنی اہم ہو سکتی ہے۔

لونی نے نظام کو دیکھتے ہوئے کہا: ’حیرت انگیز ہے، ہے نا؟‘