لائیو, ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کے بعد تہران کے کویت، بحرین اور اردن میں جوابی حملے
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ 12 اور 13 جولائی کی درمیانی شب ایران کے خلاف نئی کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں جن میں اس کے بقول آبنائے ہرمز پر بین الاقوامی جہاز رانی پر ایرانی حملوں کی صلاحیت کمزور کرنے کے لیے درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے بعد ایران نے میزائل اور ڈرونز کے ذریعے ’دشمن کے اڈوں‘ کے خلاف ایک آپریشن کا اعلان کیا ہے جس میں اس نے اردن، کویت اور بحرین میں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایران نے میزائل اور ڈرونز کے ذریعے ’دشمن کے اڈوں‘ کے خلاف آپریشن کا اعلان کیا ہے جس میں اس نے اردن، کویت اور بحرین میں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران پیر کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں چار فیصد کا اضافہ ہوا ہے
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے امریکہ اور ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حالیہ جھڑپوں کا سلسلہ بند کریں اور ان کے خاتمے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کریں
ایرانی میڈیا کے مطابق جنوب میں سیریک کے قریب اور قشم و جاسک کے علاقوں میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں
لائیو کوریج
امریکہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے: سابق سینٹکام سربراہ
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی
سینٹرل کمانڈ کے سابق کمانڈر جنرل ریٹائرڈ فرینک میکینزی کا کہنا ہے کہ ’اگر
صدر (کمانڈر اِن چیف) یہ حکم دیں تو امریکی افواج آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنے
کی صلاحیت رکھتی ہیں۔‘
سی
بی ایس کو دیے ایک انٹرویو میں جنرل میکینزی نے آبنائے ہرمز کی
بحالی کے لیے جزیرہ خارگ پر قبضے کا ایک منصوبہ بھی بیان کیا۔
ان کا کہنا
تھا کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اس آبی گزرگاہ میں امریکی جہازوں
کی تعیناتی درکار ہوگی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکی بحریہ ایسا کرنے میں دلچسپی
نہیں رکھتی۔ لیکن اس کے پاس ایسا کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔‘
سابق سینٹکام
کمانڈر نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ سفارتی حل کے
خواہاں ہیں لیکن تہران کی قیادت عموماً ’فوجی دباؤ کا جواب دیتی ہے۔‘
انھوں نے
مزید کہا کہ ’اگر آپ ایران سے رعایتیں حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو براہِ راست
حکومت پر دباؤ ڈالنا ہوگا اور یہ دباؤ اس نوعیت کا ہونا چاہیے کہ ان کے نقطۂ نظر
سے یہ ایک اہم اور وجودی مسئلہ بن جائے۔‘
وزیر اعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر قطر روانہ
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اپنے بھائی نواز شریف کے ہمراہ ایک روزہ دورۂ قطر پر روانہ ہوئے ہیں۔
وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق شہباز شریف اس دورے پر قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آلثانی سے ملاقات کریں گے اور سابق قطری امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کی وفات پر اظہار تعزیت کریں گے۔
اس دورے پر نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سابق وزیر اعظم نواز شریف ان کے ہمراہ ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان نے سابق قطری امیر کی وفات پر ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
گذشتہ روز قطر کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی کی وفات وئی تھی۔ وہ 1995 سے 2013 تک قطر کے امیر رہے۔ اُن کی عمر 74 برس تھی۔ شیخ حمد بن خلیفہ الثانی جدید کے اہم معماروں میں سے ایک تھے اور ان کے دورِ حکومت میں ملک نے تیز رفتار اقتصادی ترقی دیکھی۔
ان کے دورِ حکومت میں، ان کے حکم پر 1996 میں ’الجزیرہ انٹرنیشنل نیٹ ورک‘ کا آغاز کیا گیا تھا۔
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں مظاہروں پر پابندی کے بعد درجنوں گرفتار، کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس معطل, ریاض مسرور/ بی بی سی اُردو، سرینگر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
گذشتہ ہفتے سابق ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ کی آخری رسومات کے موقع پر انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں سرینگر
اور دیگر اضلاع میں امریکہ مخالف مظاہرے کیے گئے جن کے بعد مقامی حکومت نے سکیورٹی پابندیاں نافذ کیں اور احتجاجی مظاہروں کی اجازت نہیں دی
گئی۔
کئی علاقوں میں لوگوں نے پابندیوں کے باوجود مظاہرے کرنے کی
کوشش کی جس پر پولیس نے طاقت کا استعمال کرکے انھیں منتشر کیا۔ منگل کی رات کو
بھی پولیس نے اعلان کیا کہ سکیورٹی پابندیاں جاری رہیں گی۔ حکام نے سکولوں، کالجوں
اور یونیورسٹیوں میں درس و تدریس کا عمل سات
مارچ تک معطل رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس دوران موبائل انٹرنیٹ پر لگی پابندی
کو بدھ کی صبح جزوی طور پر ہٹایا گیا اور پولیس نے بتایا کہ حالات معمول پر آنے تک
ٹوجی سروسز دستیاب رہیں گی۔
مظاہروں کو روکنے کے لیے منگل کی
شب کئی علاقوں میں پولیس نے چھاپوں کے دوران درجنوں نوجوانوں کو گرفتار کرلیا ہے۔
رکن اسمبلی تنویر صادق نے ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ’ان
میں بڑی تعداد نابالغ لڑکوں کی ہے اور ان کے والدین ذہنی تناؤ کا شکار ہوگئے ہیں۔‘
دریں اثنا پولیس نے رکن پارلیمان آغا رُوح اللہ اور سابق میئر
جُنید عظیم متو کے خلاف ’تشدد پر اکسانے‘ اور ’امن عامہ میں رخنہ ڈالنے‘ کا مقدمہ
درج کرلیا ہے۔ دونوں نے مظاہروں اور منگل کی جھڑپوں
کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی تھیں۔
رُوح اللہ اور متو نے الگ الگ بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ
ان کی ذاتی محافظت پر تعینات سکیورٹی عملے کو ہٹا دیا گیا ہے۔ جُنید کا کہنا تھا کہ یہ ان کی جانب سے علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد مودی حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھانے کا نتیجہ ہے۔
ایکس پر آغا رُوح اللہ نے اپنے
ردعمل میں لکھا کہ ’جموں کشمیر پولیس اور
سِول انتظامیہ میں کچھ بے وقوف لوگ سمجھتے ہیں کہ سکیورٹی ہٹانے اور میرے فیس بُک
اکاونٹ کو معطل کرنے سے وہ مجھے اُن کے مظالم کی مذمت کرنے سے روک سکتے ہیں۔ ‘
گذشتہ دو روز کے دوران مظاہروں کے بارے میں خبریں شائع کرنے پر حکام نے معروف انگریزی اخبارات ’گریٹر کشمیر‘، ’کشمیر
لائف‘ اور ’رائزنگ کشمیر‘ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بھی معطل کروایا ہے۔
’کشمیر لائف‘ نے ایک بیان میں فیس
بک سمیت کئی پلیٹ فارمز کی ملکیت رکھنے والی کمپنی ’میٹا‘ کے مختصر بیان کا حوالہ
دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’ان ہینڈلز کو انڈیا کے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت معطل کیا گیا ہے۔‘
ان پابندیوں کو مختلف سیاسی حلقوں
نے اظہار رائے کی آئینی آزادی پر قدغن قرار دیا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھنے کے بعد پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ہفتے کے پہلے کاروباری روز میں مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور 100 انڈیکس میں 2700 پوائنٹس کی کمی آئی ہے۔
اس مندی کے بعد 100 انڈیکس 179448 پوائنٹس کی سطح تک گِر گیا ہے۔
مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز منفی زون میں ہوا اور کاروبار حصص کی فروخت کے رجحان کی وجہ سے دباؤ نظر آیا۔
سٹاک ایکسچینج کے تجزیہ کاروں نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کی نئی لہر کو اس مندی کی وجہ قرار دیا ہے۔ تجزیہ کار جبران سرفراز کے مطابق امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر نئے حملوں کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے جس کا پاکستانی سٹاک مارکیٹ پر منفی اثر ہوا۔
آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران اور امریکہ دوبارہ آمنے سامنے
،تصویر کا ذریعہReuters
ایرانی پاسداران انقلاب نے
اتوار کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا تھا کہ بحری تجارت کی اہم گزر گاہ آبنائے
ہرمز تمام آمد و رفت کے لیے بند ہے۔ تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ یہ سمندری
راستہ کھلا ہے اور اس پر ایران کو کوئی کنٹرول حاصل نہیں ہے۔
اگرچہ اتوار کو ایک بیان میں ٹرمپ نے
کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کا راستہ تمام جہازوں کے لیے کھلا ہے تاہم شپ ٹریکنگ پلیٹ
فارم کپلر کے ڈیٹا کے مطابق گذشتہ روز صرف چھ جہاز بحری وہاں سے گزر سکے ہیں۔
ایران نے کہا کہ اس نے آبنائے ہرمز
اس وقت بند کی جب ایک جہاز غیر منظور شدہ راستے پر سفر کر رہا تھا اور اسے نشانہ
بنایا گیا۔ ایران نے خبردار کیا کہ اس واقعے کے جواب میں کی جانے والی کسی بھی
کارروائی پر ’سخت ردعمل‘ دیا جائے گا۔
بینکاک کے ایک بار میں آگ لگنے سے کم از کم 27 افراد ہلاک
،تصویر کا ذریعہAPTN
بینکاک میں اتوار کی شب ایک بار میں آتشزدگی سے کم از کم 27 افراد ہلاک جبکہ آٹھ شدید زخمی ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق آگ مشہور علاقے چاتوچاک میں واقع اس بار کے سٹیج کے قریب لگی اور پھر تیزی سے پھیل گئی۔ اس دوران بجلی منقطع ہو گئی اور کمرہ دھوئیں سے بھر گیا۔
آن لائن پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خوفزدہ گاہک چیختے ہوئے شعلوں میں گھِرے مرکزی دروازے سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بعض افراد کے کپڑوں میں بھی آگ لگی ہوئی تھی۔
فائر فائٹرز، جو آدھی رات کے فوراً بعد موقع پر پہنچے، نے آگ پر جلد قابو پا لیا۔ انھیں زیادہ تر لاشیں ایک باتھ روم سے ملیں جہاں بظاہر وہ پناہ لینے گئے تھے۔
بینکاک کے محکمہ انسداد آفات کی ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آگ ممکنہ طور پر ایک ایئر کنڈیشنر میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگی تاہم ابھی تک اس کی کوئی سرکاری وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے پر مکمل اور جامع تحقیقات کی جائیں گی۔
اردن کا اپنی فضائی حدود میں ایرانی میزائلوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ
اردن کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اردن کی فوج نے فضائی حدود میں داخل ہونے والے چار ایرانی میزائلوں کو تباہ کیا ہے۔
اس کا مزید کہنا ہے کہ ایرانی حملے کے نتیجے میں کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔
اس سے قبل ایران نے اردن میں ایک فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔
اتوار سے اب تک چھ ملکوں میں ایرانی حملوں کی اطلاعات
،تصویر کا ذریعہReuters
پیر کے روز ایران نے بحرین، اردن اور کویت میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم اتوار سے اب تک مشرقِ وسطیٰ کے چھ ممالک نشانہ بنائے جانے کی اطلاع دے چکے ہیں جن میں قطر، عمان اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں۔
روئٹرز کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے تازہ بیان میں کہا ہے کہ اس نے امریکہ کے اتحادی ملک اردن میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اور ڈرون ہینگر تباہ کر دیے ہیں اور کویت میں ایک امریکی ریڈار سائٹ کے ساتھ ساتھ راکٹ لانچر نظام کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس نے عمان میں امریکی طیارہ بردار جہازوں کی معاونت کرنے والے پلیٹ فارمز پر حملہ کیا ہے اور قطر میں لڑاکا طیاروں کی دیکھ بھال کے کمانڈ سینٹر کو تباہ کیا ہے۔
قطر کے مطابق وہ اب ثالثی کا کردار ادا نہیں کرے گا۔ اس نے کہا کہ گرتے ہوئے دھاتی ٹکڑوں سے ایک بچہ سمیت تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔ قطر نے کہا کہ اس حملے کی ’مکمل قانونی ذمہ داری‘ ایران پر عائد ہوتی ہے۔
اتوار کو متحدہ عرب امارات نے کہا تھا کہ اس نے اپنی سرحدوں سے باہر میزائل خطرے کی نشاندہی کی۔ جبکہ بحرین نے کہا کہ اس نے ایران کے کئی فضائی حملوں کو ناکام بنایا ہے۔
اردن نے میزائل حملوں کی اطلاع دی جبکہ عمان نے کہا کہ اسے ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔
بعد ازاں کویت کی فوج نے حملوں سے ہونے والے نقصان کی اطلاع دی اور کہا کہ تیل کی تنصیبات پر حملے میں ایک کارکن زخمی ہو گیا ہے۔
عمان نے کہا کہ اس نے دو علاقوں میں ڈرون حملوں پر احتجاجاً ایرانی سفیر کو طلب کیا ہے۔ جبکہ عمان میں امریکی سفارت خانے نے دقم اور مسندم میں موجود اپنے شہریوں کو محفوظ پناہ لینے کی ہدایت جاری کی۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں چار فیصد کا اضافہ
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ کی ایران کے خلاف کارروائی اور تہران کے جوابی حملوں کے بعد پیر کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں چار فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کے کی قیمت چار فیصد اضافے کے ساتھ 79.11 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل بھی چار فیصد اضافے کے بعد 74.36 ڈالر فی بیرل فروخت ہو رہا ہے۔
امریکی حملوں کے بعد ایران کی جوابی کارروائیاں: ہمیں اب تک کیا معلوم ہے؟
امریکی سینٹکام کے مطابق 12 اور 13 جولائی کی درمیانی شب ایران کے خلاف نئی کارروائیاں کی گئیں جن کا مقصد اس ایرانی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز پر بحری جہازوں پر حملے کرتا ہے۔
سینٹکام کے مطابق اس دوران مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے لڑاکا طیاروں، بحری جہازوں، فضائی ڈرونز اور پہلی مرتبہ بار ’سمندری ڈرونز‘ کا استعمال کیا۔ اس کے مطابق ان حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار تنصیبات، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں اور چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا۔
دوسری طرف ایران کا کہنا ہے کہ میزائل اور ڈرونز کے ذریعے ’دشمن کے اڈوں‘ کے خلاف ایک آپریشن کا اعلان کیا ہے جس میں اس کے بقول اردن، کویت اور بحرین میں اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
ایران نے ان کارروائیوں میں اردن کے شہزادہ حسن ایئر بیس، بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئر بیس اور کویت میں دو فضائی اڈوں کا ذکر کیا ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ’آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔ ایران اس پر کنٹرول نہیں رکھتا۔‘
ایران کے کویت، بحرین اور اردن میں جوابی حملے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران نے میزائل اور ڈرونز کے ذریعے ’دشمن کے اڈوں‘ کے خلاف آپریشن کا اعلان کیا ہے جس میں اس نے اردن، کویت اور بحرین میں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ادھر بحرین کی وزارت داخلہ کے مطابق سائرن بجائے گئے ہیں اور لوگوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پُرسکون رہیں اور قریب ترین محفوظ مقام کی طرف چلے جائیں۔ جبکہ کویتی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فضائی دفاعی نظام ملک کی فضائی حدود کے اندر ’دشمن کے فضائی حملوں‘ کا مقابلہ کر رہا ہے۔
اس نے کہا کہ سنے جانے والے کسی بھی دھماکے کی آواز فضائی دفاعی نظام کی جانب سے حملوں کو ناکام بنانے کی کارروائی کا نتیجہ ہے، اور عوام سے اپیل کی کہ وہ حفاظتی اور سکیورٹی ہدایات پر عمل کریں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ان کارروائیوں کے بعد اردن کے شہزادہ حسن ایئر بیس پر ایندھن کے ٹینکوں اور اسلحہ ڈپوؤں میں آگ لگ گئی ہے۔ جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا کہ اردن میں واقع اس تنصیب پر حملہ ایرانی ساحلی اڈوں پر امریکی حملوں کے جواب میں اس کی کارروائی کے پہلے مرحلے کا حصہ تھا۔ اس نے خبردار کیا کہ جوابی آپریشن جاری ہے۔
پاسداران انقلاب کا کا کہنا ہے کہ اس کی ایرو سپیس فورسز نے بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئر بیس کو بھی نشانہ بنایا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ وہاں ہیلی کاپٹروں کی نگرانی کے لیے قائم تنصیب، جس کے ہینگر میں پی ایٹ طیارہ موجود تھا، اور امریکی ڈرون کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا کہ پاسداران انقلاب نے کویت میں دو فضائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا۔ یہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں کہ جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان جوابی حملوں کا سلسلہ مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ یہ آپریشن ان مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا جن کی نشاندہی گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ’دشمن کی نقل و حرکت‘ کی نگرانی کے بعد کی گئی تھی۔
ایک بیان میں پاسداران انقلاب نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں اس کی بحری کارروائی میں دو جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس نے ان پر ٹریکنگ نظام بند کرنے، جہازرانی کے قواعد کی خلاف ورزی کرنے اور بحری سلامتی کے لیے خطرہ بننے کا الزام عائد کیا۔
ایران کے خلاف امریکی کارروائیاں مکمل، پہلی بار سمندری ڈرونز استعمال کیے گئے: سینٹکام
،تصویر کا ذریعہReuters
سینٹکام کا کہنا ہے کہ 12 اور 13
جولائی کی درمیانی شب ایران کے خلاف نئی کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں جن میں اس کے
بقول آبنائے ہرمز پر بین الاقوامی جہاز رانی پر ایرانی حملوں کی صلاحیت کمزور کرنے
کے لیے درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
سینٹکام کے مطابق امریکی افواج نے لڑاکا
طیاروں، بحری جہازوں، فضائی ڈرونز اور پہلی مرتبہ بار ’سمندری ڈرونز‘ کا استعمال کیا۔
اس کا کہنا ہے کہ فضائی اور سمندری ڈرونز یکطرفہ حملوں کے لیے استعمال کیے گئے۔ اس کے
مطابق ان حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار تنصیبات، میزائل اور
ڈرون صلاحیتوں اور چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید کہا کہ
’آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔ ایران اس پر کنٹرول نہیں
رکھتا۔‘
’امریکی افواج اس بات کو یقینی بنانے کے لیے
تعینات اور تیار ہیں تاکہ تجارتی جہاز آزادانہ طور پر آمد و رفت کر سکیں، باوجود اس کے کہ ایران اپنی بلاجواز جارحیت، ہراسانی، دھمکیوں اور یک طرفہ
اعلانات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔‘
جنوبی ایران میں دھماکوں کی اطلاعات
ایران میں فوجی قیادت کے قریب سمجھی جانے والی خبر رساں ایجنسیوں نے سرک، بندر عباس اور جاسک کے قریب واقع دیہات کے اطراف میں دھماکوں کی آوازوں کی اطلاعات دی ہیں۔ خیال رہے کہ سینٹکام نے اعلان کیا ہے کہ اس کی افواج نے اتوار کو ایران کے خلاف حملوں کی نئی لہر شروع کی ہے۔
خوزستان میں مقامی حکام نے پیر کی صبح جنوبی ایران کے اس صوبے کے کئی شہروں پر امریکی فضائی حملوں کی اطلاع دی۔
سرکاری ایرانی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق خوزستان گورنریٹ کے حکام نے ان حملوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’آج رات 1:35 بجے اہواز کے اطراف میں دو مقامات کو امریکی دشمن کے میزائلوں نے نشانہ بنایا۔ اسی طرح 1:40 بجے بہبہان اور دزفول شہروں میں مقامات پر حملے کیے گئے، اور 1:45 بجے امیدیہ اور ماہشہر میں چار مقامات دشمن کے حملوں کا نشانہ بنے۔‘
دریں اثنا نیوز ایجنسی فارس نے خوزستان گورنریٹ کے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پیر کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً رات 2 بجے آبادان اور شادگان شہروں کے بعض حصے بھی فضائی حملوں کا نشانہ بنے۔
تاہم خوزستان کے نائب گورنر نے بندر خمیر پر حملے اور دھماکے کی آواز سنے جانے کی تردید کی ہے۔
اقوام متحدہ کے بیان پر ایران کا ردعمل: ’ایران کو اپنے دفاع کے لیے موردِ الزام ٹھہرانا غیر ذمہ دارانہ ہے‘
،تصویر کا ذریعہReuters
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے اتوار کو ایران اور امریکہ سے ایک دوسرے پر فوجی حملے بند کرنے کی اپیل کے بعد ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’ایران نے کہیں بھی حملہ نہیں کیا۔ خلیج فارس کے جنوبی ساحل پر واقع امریکی فوجی اڈوں اور اثاثوں کے خلاف ایران کی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے حقِ دفاع کا استعمال ہیں۔‘
بقائی نے کہا کہ ’آپ کو ان ممالک سے پوچھنا چاہیے جو اپنی سرزمین اور اڈے امریکہ کو فراہم کرتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرانے کے بجائے ایران کو اپنے دفاع کے لیے موردِ الزام ٹھہرانا غیر ذمہ دارانہ ہے۔‘
ان بیانات کے اختتام پر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان کو طنزیہ انداز میں خلیج فارس کے نام سے متعلق سرکاری دستاویزات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’درست نام ’خلیج فارس‘ ہے۔ براہِ کرم اقوام متحدہ کی متعلقہ ہدایات پر عمل کریں۔۔۔ جن کے مطابق مکمل نام ’خلیج فارس‘ کا استعمال لازمی ہے۔‘
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے اپنے بیان میں ’خلیجی خطے‘ کہا تھا۔
خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے اتوار کو امریکہ اور ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حالیہ جھڑپوں کا سلسلہ بند کریں اور ان کے خاتمے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔
گوتریس نے خاص طور پر ایران کے خلاف امریکہ کے حملوں اور آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ایران کے حملوں اور خلیج فارس کے خطے میں امریکہ کے اتحادیوں کے ٹھکانوں پر حملوں کا ذکر کیا۔
امریکہ کے ایران پر نئے حملے، تہران کا انتقامی کارروائیوں کا اعلان: ’فوجی جارحیت میں مدد کرنے والے ممالک جائز اہداف ہوں گے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اتوار کی شام ایران
کے خلاف حملوں کا اعلان کیا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز پر
جہاز رانی کی بحالی اور تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کی صلاحیت کمزور کرنا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اس کی افواج یہ کارروائیاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کی جا رہی ہیں جو کہ مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف ہیں۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق جنوب میں سیریک کے قریب اور قشم و جاسک کے علاقوں میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ جبکہ ایران کی خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق ملک کے جنوب میں واقع صوبہ بوشہر کے بعض حصوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
ایران نے اپنی سرزمین پر امریکی حملوں کی تازہ لہر کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں نے گذشتہ مہینوں کی تمام سفارتی کوششوں کو ’ناکام بنا دیا‘ ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل اور ایرانی پارلیمان کے فیصلوں کے مطابق ان حملوں کا جواب دینے کی پابند ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران کے خلاف کسی بھی اقدام کو جواب کے بغیر نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔‘
سرکاری ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق وزارت خارجہ کے پیر کی صبح جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ یہ ’وحشیانہ حملے نہ صرف اقوام متحدہ کے اصولوں، خصوصاً آرٹیکل 2 کی شق 4، کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکہ نے بعض خلیجی ممالک کی سرزمین اور تنصیبات کو ’ایران کے خلاف فوجی جارحیت‘ کے لیے استعمال کیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے ان ملکوں کو امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی معاونت کے خلاف خبردار کرتے ہوئے زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پابندی کریں، ورنہ وہ ’ایرانی فوج کی دفاعی کارروائیوں کے لیے جائز اہداف ہوں گے۔‘
پیر کے روز نئے تجارتی ہفتے کے آغاز پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا جس کی وجہ ہفتے کے اختتام پر ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی کشیدگی میں دوبارہ اضافہ اور تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان تھا۔
بی بی سی کی نئی لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید
مشرق وسطی، پاکستان اور دنیا بھر سے اہم خبروں، تبصروں اور تجزیوں کے لیے بی بی سی کی نئی کوریج شروع کی گئی ہے۔