ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کو ہوٹل میں بدلنے کا منصوبہ، مالکان کے مستقبل پر سوالات اور جے آئی ٹی رپورٹ کے انکشافات

Getty Images
    • مصنف, عبید ملک، شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

حکومتِ پاکستان نے اسلام آباد کے متنازع ون کانسٹیٹیوشن ایونیو منصوبے کو نئی شکل دینے اور اس کی دوبارہ ٹینڈرنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے والے حقیقی خریداروں اور سرمایہ کاروں کے مفادات کا مکمل تحفظ کیا جائے گا۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’قانون سب کے لیے برابر ہے اور دارالحکومت میں امیر اور غریب کے درمیان امتیازی سلوک کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو منصوبے کے معاملے کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے منصوبے کے ابتدائی معاہدے اور اس سے وابستہ سرکاری حکام کا تعین کیا ہے۔ ان کے مطابق رپورٹ میں ان افراد کے تحفظ کی بھی سفارش کی گئی ہے جنھوں نے اپنی جائز آمدن سے منصوبے میں فلیٹس خریدے یا سرمایہ کاری کی تھی۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ’حکومت منصوبے کو نئے سرے سے ترتیب دے گی، اس کی ری ٹینڈرنگ اور ری ڈیزائننگ کی جائے گی اور اس کے کاروباری ماڈل میں بھی تبدیلی لائی جائے گی۔‘ ان کے مطابق ایسے سرمایہ کار جنھیں مبینہ بے ضابطگیوں یا کنٹریکٹ کی تفصیلات کا علم نہیں تھا، ان کے حقوق بھی محفوظ رکھے جائیں گے۔

APP

وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ اس معاملے میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی تحقیقات آئندہ تین ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد عدالتی کارروائی کا آغاز ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کو وفاقی کابینہ نے سراہا ہے اور اس کی توثیق بھی کی ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ حکومت نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا قبضہ حاصل کر لیا ہے اور منصوبے کو اس کے اصل تصور کے مطابق ایک فائیو سٹار ہوٹل میں تبدیل کیا جائے گا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران محسن نقوی نے کہا کہ حکومت وفاقی دارالحکومت میں سرکاری اراضی واگزار کرانے اور تجاوزات کے خاتمے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس میں احتساب کے عمل کو شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے گا، جبکہ منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے مفادات کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے گا۔

ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے بارے میں حکومتی فیصلے، عدالتی کارروائی اور سرمایہ کاروں کے مستقبل سے متعلق بحث اب سوشل میڈیا تک پہنچ گئی ہے، جہاں ماہرینِ معیشت، شہری منصوبہ بندی کے ماہرین اور رہائشی اس معاملے پر اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔

بعض صارفین کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں اور ریگولیٹری نظام کی طویل ناکامی کا بوجھ فلیٹس خریدنے والے افراد پر نہیں ڈالا جانا چاہیے، جبکہ کچھ افراد حکومتی کارروائی کو قانون کی بالادستی کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں کیا کہا گیا ہے؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ عبدالحفیظ شیخ اور سی ڈی اے کے اس وقت کے کچھ افسران اس منصوبے میں ہونے والی بےقاعدگیوں میں شامل تھے۔

بدھ کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ1997 میں اس وقت کی وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ریڈ زون میں ایک فائو سٹار ہوٹل بنانے کے منصوبے کی منظوری دی گئی تھی جس پر عمل درآمد سنہ 2004 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں اس وقت کے سی ڈی اے کے چیئرمین کامران لاشاری نے شروع کروایا تھا۔

رپورٹ کے مطابق مختلف مراحل میں یہ منصوبہ چلتا رہا اور پھر ساڑھے تیرہ ایکڑ اراضی پر مشتمل زمین کے اس حصے پر فائیو سٹار ہوٹل کی بجائے اپارٹمنٹس بنانے کا عمل شروع کیا گیا۔

اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سی ڈی اے نے تعمیراتی کمپنی بی این پی اور عبدالحفیظ شیخ کو ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے دو ٹاورز میں مجموعی طور پر 120 اپارٹمنٹس بنانے کی منظوری دی تھی تاہم سرکاری دستاویزات میں ردوبدل کرنے کے بعد 254 اپارٹمنٹس بنائے گئے اور عبدالحفیظ شیخ نے ان اپارٹمنٹس کے مالکان سے مجموعی طور پر ساڑھے نو ارب روپے وصول کیے تھے جن کی دستاویزات جے آئی ٹی کے پاس ہیں اور اس اپارٹمنٹس میں رہنے والے افراد نے رقم کی ادائیگی کی رسیدیں بھی پیش کیں۔

اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ جب یہ معاہدہ ہوا تھا تو اس میں یہ واضح طور لکھا گیا تھا کہ جب تک زمین کی قیمت مکمل طور پر ادا نہیں کی جاتی اس وقت تک زمین سی ڈی اے کی ہی ملکیت رہے گی۔

سپریم کورٹ نے سنہ 2019 میں جس کمپنی کو یہ منصوبہ دیا گیا تھا، اسے 17 ارب روپے سی ڈی اے کو ادا کرنے کا کہا لیکن جب رقم کی ادائیگی نہ ہوئی تو سی ڈی اے نے سنہ 2023 میں اس لیز کو کینسل کر دیا اور سنہ 2026 میں سپریم کورٹ نے سی ڈی اے کے اس فیصلے کو برقرار رکھا۔

جے آئی ٹی کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس لیز کے اصل دستاویزات سی ڈی اے کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہی نہیں تھیں بلکہ عبدالحفیظ شیخ نے جے آئی ٹی کو یہ دستاویزات دی تھیں اور جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے پاس یہ دستاویزات کہاں سے آئیں تو انھوں نے اس کا تسلی بخش جواب نہیں دیا۔

اس رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کی تعمیر کے نقشے میں بھی بہت سی بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں اور اس کے علاوہ سی ڈی اے کو رقم کی ادائیگی کے لیے بینک آف پنجاب سے قرضے کے مد میں جو معاہدہ ہوا اس میں بھی بےقاعدگیاں سامنے آئی ہیں۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی ڈی اے اس منصوبے کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے اور جن افراد نے اس عمارت میں جو اپارٹمنٹس لیز پر یا خریدے تھے انھیں ان کا معاوضہ ادا کیا جائے۔

جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں عبدالحفیظ شیخ اور اس منصوبے پر کام کرنے والی تعمیراتی کمپنی بی این پی کو بلیک لسٹ کرنے کی سفارش کی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ مستقبل میں کوئی سرکاری ٹھیکہ ان کو نہ دیا جائے۔

سوشل میڈیا پر بحث

معاشی ماہر اور ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے رہائشی ندیم الحق نے ایکس پر حکومت کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’فلیٹ مالکان کو ان کی اصل سرمایہ کاری کی رقم اور اس پر منافع واپس کرنے کی پیشکش مناسب نہیں۔‘

ان کے مطابق ’اگر حکومت منصوبے کے متاثرین کو معاوضہ دینا چاہتی ہے تو یہ موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق ہونا چاہیے، کیونکہ فلیٹ مالکان کو نہ صرف اپنے گھروں سے محروم ہونا پڑ رہا ہے بلکہ انھوں نے گذشتہ دو دہائیوں کے دوران وقت، سرمایہ کاری کے مواقع اور جائیداد کی قدر میں اضافے سے حاصل ہونے والے ممکنہ فوائد بھی کھوئے ہیں۔‘

ندیم الحق نے کہا کہ ’21 برس تک جاری رہنے والی انتظامی اور ریگولیٹری ناکامیوں کے بعد مالکان کو صرف اصل قیمت اور منافع کی ادائیگی درحقیقت ان پر اضافی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔‘ ان کا سوال تھا کہ اگر جائیداد کے مالکان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے گا تو کیا مستقبل میں سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے پر اعتماد کریں گے؟

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ پیشکش جائیداد کے حقوق اور مارکیٹ کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتی اور اس سے متاثرہ فریقین کے نقصانات کا مکمل ازالہ نہیں ہوتا۔‘

معاشی ماہر ندیم الحق کی تنقید کے برعکس بعض صارفین نے حکومتی اقدام کو ریاستی مؤقف کی کامیابی قرار دیا ہے۔ ایکس صارف حبیب اللہ خان نے لکھا کہ ’ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کی جنگ ختم ہو چکی ہے اور ریاست جیت گئی ہے۔‘

ان کے بقول اب اس عمارت کو اس کے اصل مقصد کے مطابق ایک فائیو سٹار ہوٹل میں تبدیل کیا جائے گا اور توقع ہے کہ یہ منصوبہ آئندہ سال شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس سے قبل مکمل کر لیا جائے گا۔

x.com

صحافی مہتاب حیدر نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے جائیداد کے مالکان کے حقوق کے تحفظ پر سوالات اٹھائے۔

ایکس پر جاری اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ ’ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا معاملہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ملک میں انفرادی ملکیتی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر نظام موجود نہیں۔‘ ان کے مطابق ’اگر کسی نے دھوکہ دہی یا بدعنوانی کی ہے تو اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جانی چاہیے، لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اپنی محنت کی کمائی سے جائیداد خریدنے والے افراد کے حقوق کا تحفظ کیسے کیا جائے گا۔‘

مہتاب حیدر کا کہنا تھا کہ ’جن لوگوں نے قانونی طور پر فلیٹس خریدے اور اپنی سرمایہ کاری اس منصوبے میں لگائی، انھیں انتظامی اور ریگولیٹری ناکامیوں کی قیمت نہیں چکانی چاہیے۔‘ ان کا مؤقف تھا کہ اصل ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور عام خریداروں کے حقوق کا تحفظ بیک وقت ممکن ہونا چاہیے۔

X.com

ون کانسٹیٹیوشن ایونیو تنازع کا پس منظر

ون کانسٹیٹیوشن ایونیو اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع ایک بڑے کثیرالمقاصد منصوبے کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا۔ منصوبے کی ویب سائٹ کے مطابق یہ ساڑھے 13 ایکڑ رقبے پر مشتمل ہے، جس میں رہائشی اپارٹمنٹس، دفاتر، شاپنگ ایریا اور ایک فائیو سٹار گرینڈ حیات ہوٹل شامل ہونا تھا۔ تاہم سی ڈی اے کا مؤقف ہے کہ 2004 میں یہ زمین صرف ہوٹل کی تعمیر کے لیے 99 سالہ لیز پر دی گئی تھی۔

سی ڈی اے کے مطابق منصوبہ تیار کرنے والی کمپنی نے بعد میں ہوٹل کے لیے مختص زمین پر رہائشی اپارٹمنٹس اور تجارتی یونٹس تعمیر کیے، جو لیز کی شرائط اور اصل منصوبے کے منافی تھا۔ اسی بنیاد پر سی ڈی اے نے 2016 میں لیز منسوخ کر دی، جس کے بعد معاملہ عدالتوں میں چلا گیا۔

oneconstitutionave

ابتدائی طور پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے گرینڈ حیات ہوٹل کے بجائے لگژری اپارٹمنٹس کی تعمیر کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے لیز کی منسوخی برقرار رکھی، تاہم 2019 میں سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مخصوص شرائط کے ساتھ منصوبے کو بحال کر دیا۔ عدالت نے کمپنی کو سی ڈی اے کو اربوں روپے کی ادائیگیاں کرنے اور مالی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند بنایا تھا۔

سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ منصوبہ ساز کمپنی سپریم کورٹ کی جانب سے عائد کردہ مالی شرائط پوری نہ کر سکی۔ ادارے کے مطابق تقریباً 17.5 ارب روپے کی واجب الادا رقم میں سے صرف ایک حصہ ادا کیا گیا جبکہ 2022 کی ایک بڑی قسط اور مطلوبہ بینک گارنٹی بھی فراہم نہیں کی گئی۔

اسی تناظر میں سی ڈی اے نے 2023 میں لیز دوبارہ منسوخ کر دی۔ حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ کمپنی مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور لیز کی شرائط پر عمل درآمد میں ناکام رہی، لہٰذا لیز کی منسوخی کو چیلنج کرنے کے لیے اس کے پاس کوئی قابلِ قبول قانونی بنیاد موجود نہیں۔ یہی عدالتی فیصلہ حالیہ کارروائیوں اور منصوبے کے مستقبل سے متعلق حکومتی اقدامات کی بنیاد بنا ہے۔

نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔