لیبیا میں نائیکی کے کپڑے پہننے کے خلاف فتویٰ کیوں دیا گیا؟

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
- مصنف, بسمہ العتی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 4 منٹ
لیبیا کی اعلیٰ مذہبی اتھارٹی دار الافتا نے مسلمانوں کے لیے نائیکی کے لوگو والے کپڑوں کی خرید و فروخت اور انھیں پہننے کے خلاف فتویٰ جاری کیا ہے۔
طرابلس میں قائم دارالافتا کی جانب سے جاری کیے گئے فتوے میں کہا گیا ہے کہ امریکی سپورٹس ویئر کمپنی نائیکی کا نام یونانی فتح کی دیوی ’نائیکی‘ کے نام پر رکھا گیا تھا اور اس کا مشہور ’سووش‘ لوگو اس دیوی کے پروں سے متاثر ہو کر بنایا گیا تھا۔
فتوے میں کہا گیا ہے کہ نائیکی کے لوگو والے کپڑے پہننا ان علامات کی تشہیر کے مترادف ہے جو ’شرک‘ یعنی ایک سے زیادہ خداؤں کی عبادت کے زمرے میں آتا ہے۔
لیبیا میں قدیم یونانی شہر سائرین واقع ہے، جہاں آثارِ قدیمہ میں اسی نام کی یونانی دیوی کا ایک مجسمہ بھی شامل ہے۔
دارالافتا نے امریکی کمپنی نائیکی پر اسرائیل کی حمایت کا الزام بھی عائد کرتے ہوئے ایسی تمام کمپنیوں کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔
اس ضمن میں دارالافتا نے پانچ نومبر 2023 کو کونسل برائے تحقیق و شریعہ سٹڈیز کے جاری کردہ ایک بیان کا بھی حوالہ بھی دیا ہے، جس میں غزہ کی جنگ کے دوران اسرائیل کی حمایت کرنے والی مغربی کمپنیوں کے بائیکاٹ کی اپیل کی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
فتویٰ اسلامی قانون سے متعلق کسی معاملے پر دی جانے والی مذہبی رائے کو کہا جاتا ہے۔ اس فتوے کی منظوری لیبیا کے گرینڈ مفتی صادق الغریانی نے دی۔
بی بی سی نے اس معاملے پر مؤقف کے لیے نائیکی سے رابطہ کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دار الافتا طرابلس ایک بااثر مذہبی ادارہ ہے جو مغربی لیبیا میں قائم ہے۔
لیبیا 2011 میں طویل عرصے تک ملک پر حکمرانی کرنے والے معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے بدامنی کا شکار رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں مشرقی اور مغربی لیبیا میں الگ حکومتیں اور ادارہ جاتی ڈھانچے موجود ہیں۔
اگرچہ دار الافتا کے مذہبی فتاویٰ معاشرے پر خاصا اثر و رسوخ رکھتے ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ وہ حکومتی احکامات ہوں یا قانونی طور پر ان پر عمل درآمد لازم ہو۔
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
گذشتہ سال ادارے نے فرانسیسی لگژری جیولری کمپنی وان کلیف اینڈ آرپلز کے لوگو والی گھڑیوں اور زیورات کے استعمال کے خلاف بھی فتویٰ دیا تھا۔ دارالافتا کا مؤقف تھا کہ اس کمپنی کے چار پتوں والے شبدر (کلوور) کے ڈیزائن کا تعلق مسیحی عقائد اور خوش قسمتی کے تصور سے ہے، جو ادارے کے بقول اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتا۔
نئے فتوے میں نائیکی مصنوعات پر کسی سرکاری پابندی کا اعلان نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان افراد کے لیے کسی سزا کا ذکر کیا گیا ہے جو نائیکی کی مصنوعات خریدنا یا استعمال کرنا جاری رکھتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس فیصلے پر ملے جلے ردعمل سامنے آئے ہیں۔ بعض صارفین نے اس فتوے کا خیرمقدم کیا ہے، جبکہ دوسروں نے اس کی اہمیت پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے متضاد یا زیادہ اہم مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا۔
یہ فتویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لیبیا میں عوامی زندگی میں مذہبی قدامت پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بحث جاری ہے۔
2025 میں مشرقی لیبیا کے حکام نے ریپ موسیقی، تھیٹر اور رقص کی پرفارمنسز پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حکام کا کہنا تھا کہ بعض گیتوں کے بول اور پرفارمنسز عوامی اخلاقیات اور اسلامی اقدار سے متصادم ہیں۔
بعد ازاں ان اقدامات کی مغربی لیبیا میں بھی توسیع دے دی گئی۔
دارالافتا اس سے قبل موسیقی کے خلاف بھی مذہبی فتاویٰ جاری کر چکا ہے، تاہم ایسی کوئی واضح شہادت موجود نہیں کہ پرفارمنسز پر عائد کی گئی پابندیوں میں اس کا براہ راست کردار تھا۔
اگرچہ نائیکی لیبیا میں اپنا کوئی سرکاری سٹور نہیں چلاتی، تاہم اس کی مصنوعات مقامی سپورٹس ملبوسات فروخت کرنے والے دکانداروں کے ذریعے دستیاب ہیں۔
نائیکی اور ایڈیڈاس جیسے سپورٹس ویئر برانڈز شمالی افریقہ میں خاصے مقبول ہیں۔
لیبیا میں، خطے کے دیگر ممالک کی طرح، معروف سپورٹس ویئر برانڈز کی نقل شدہ مصنوعات بھی مقامی بازاروں میں فروخت کی جاتی ہیں۔
'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔
نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔




















