’نیا ایران‘: کیا اسرائیل اور ترکی کے بیچ مسلح محاذ آرائی ہو سکتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہBBC/Getty Images
- مصنف, ہلکن دوغان بوران
- عہدہ, بی بی سی نیوز، ترکی
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
ترکی اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات گزشتہ تین سال کے دوران ایک ایسے مقام پر آن پہنچے ہیں جہاں اب یہ بحث ہو رہی ہے کہ کیا دونوں ممالک کے درمیان مسلح تنازع شروع ہو سکتا ہے۔
ایک جانب جہاں دونوں ملکوں کے رہنما ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی میں مصروف ہیں وہیں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا عسکری محاذ آرائی کا امکان بھی موجود ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے 11 اپریل کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا تھا کہ ’میری قیادت میں اسرائیل ایران کے دہشت گرد نظام اور اس کے نمائندوں کے خلاف لڑتا رہے گا، برخلاف اردوغان کے جو انھیں قبول کرتے ہیں اور اپنے کرد شہریوں کا قتل عام کرتے ہیں۔‘
ترک صدر نے اس سے قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ ’جنگ بندی کے دن، اسرائیل نے سینکڑوں بے گناہ لبنانیوں کو قتل کیا۔ نتن یاہو خون اور نفرت سے اندھے ہو چکے ہیں۔ اگر پاکستان کی ثالثی نہ ہوتی تو ہم جنگ میں شامل ہو جاتے۔‘
بی بی سی ترکی نے جن ماہرین سے بات چیت کی ہے ان کا ماننا ہے کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان محاز آرائی کا خطرہ بڑھ چکا ہے تاہم دونوں اطراف سے یہ کوشش بھی کی جا رہی ہے کہ یہ بات اور زیادہ نہ بڑھے۔
’سرد امن نہیں، سرد مقابلہ‘
سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد غزہ کی پٹی میں اسرائیلی کارروائی کے بعد سے ہی ترکی اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھنے لگی تھی۔
گزشتہ تین سال کے دوران تلخ بیانات اور الزامات کے ساتھ ساتھ سفارتی تعلقات معطل ہوئے اور ترکی نے اعلان کیا کہ اسرائیل سے تجارت روکی جا رہی ہے۔
تگچے ارسوئے ازمیر یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی امور میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’دونوں ملکوں کی اندرونی سیاست نے خارجہ پالیسی کو یرغمال بنا رکھا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتے ہیں کہ ’رویوں میں سختی، محاذ آرائی اور بیان بازی اندرونی سیاست میں ایندھن کا کام کرتے ہیں۔‘ ان کے مطابق ’نتن یاہو ایک سخت گیر رویہ دکھا کر اندرونی سیاست میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ترکی کے حولے سے اس کا تعلق خطے کی سربراہی سے ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ترکی اور اسرائیل ایک دوسرے کو ایسے کردار کے طور پر دیکھتے ہیں جو خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔ ہم ترکی اور اسرائیل کے تعلقات کو سرد امن قرار دیتے تھے اور اب ہم ایک سرد مقابلہ دیکھ رہے ہیں۔‘
سابق اسرائیلی سفارت کار ایلون پنکاس کا کہنا ہے کہ ’اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے ترکی کو دشمن قرار دینا خطرناک ہے۔‘
نیو یارک میں سنہ 2000 سے 2004 کے درمیان اسرائیلی قونصل جنرل رہنے والے ایلون پنکاس سابق اسرائیلی وزرائے خارجہ کے پرائیویٹ سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ بیان بازی خطرناک ہے خصوصی طور پر اس لیے کہ اردوغان اشتعال انگیز طریقے سے جواب دے کر صورت حال کو اور خراب کر رہے ہیں۔‘
’بیان بازی تنازع کا خطرہ بڑھا رہی ہے‘
امنون ایرن لندن کی سٹی سینٹ جارج یونیورسٹی میں بین الاقوامی امور کے پروفیسر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اردوغان کے لیے اپنی نظریاتی سیاسی حمایت اہم ہے اور یہ بیان بازی اسی کے لیے ہے جبکہ نتن یاہو اپنے نہایت دائیں بازو کے حامیوں کے لیے اس طرح کی بیان بازی کرتے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات اس وقت کئی سالوں بعد سب سے نچلی سطح پر آ چکے ہیں۔‘
’میرے خیال میں نتن یاہو اور اردوغان غیرذمہ دارانہ رویہ دکھا رہے ہیں۔ ایسی بیان بازی صرف دونوں ملکوں کے بیچ ممکنہ تنازع کا خطرہ بڑھا رہی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شام، قبرص اور مشرقی بحیرہ روم
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بی بی سی ترکی سے بات کرنے والے ماہرین کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان تنازع ایسے مقامات پر سامنے آ سکتا ہے جہاں دونوں کے مفادات موجود ہیں۔
تگچے ارسوئے کہتے ہیں کہ ’اگرچہ باقاعدہ کھلی جنگ کا امکان کم ہے لیکن شام، قبرص اور بحیرہ روم کے مشرقی حصے میں تنازع پیدا ہو سکتا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ دونوں ملک ایک دوسرے کے خلاف علاقائی ڈھال قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
ان کے مطابق اسرائیل کے نزدیک اردوغان اب ایک مخالف بن چکے ہیں۔ امنون ایرن کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں عسکری تنازع کا امکان زیادہ ہے لیکن اب بھی اس سے گریز کیا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق 2025 میں آزربائِیجان میں ترکی اور اسرائیلی حکام کی ملاقات ہوئی اور ’میرے خیال میں عسکری سطح پر کوشش کی گئی کہ کوئی ایسی غلطی نہ ہو جس سے تنازع بڑھ جائے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’اسرائیلی حکومت ترکی کو ایک خطرناک طاقت سمجھنے لگی ہے اور اسرائیل کی فوجی قیادت میں بھی یہ سوچ پائی جا رہی ہے۔‘
سابق اسرائیلی سفارت کار ایلون پنکاس نے ایک مثال دی کہ ’تصور کریں کہ ترکی کی بحریہ غزہ یا لبنان جانے والی بحری جہازوں کے ساتھ ہو اور اسرائیلی جنگی جہاز انھیں روکنے کی کوشش کریں تو ترکی کے جہاز فائر کر دیں اور اسرائیلی جوابی کارروائی کریں تو ایک چھوٹے پیمانے کی جنگ چھڑ سکتی ہے۔‘
تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں ایسا نہیں ہو گا۔‘
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’اسرائیلی اور ترکی کی فوجی قیادت سیاست دانوں سے زیادہ سمجھدار ہیں۔‘
سابق اسرائیلی سفارت کار ایلون پنکاس نے کہا کہ ’شام میں ایسا کوئی واقعہ زیادہ بری صورت حال پیدا کر سکتا ہے جہاں دونوں ملکوں کے جنگی ہوائی جہاز آمنے سامنے آ سکتے ہیں۔‘
تاہم انھوں نے کہا کہ ’مجھے اس بارے میں علم تو نہیں ہے لیکن مجھے حیرت نہیں ہو گی کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد اور ترکی کی عسکری انٹیلیجنس کے روابط موجود ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہGlobal Sumud Flotilla/Anadolu Agency/Getty Images
’نیا ایران‘
سابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے 17 فروری کو ایک بیان میں ترکی کو ’نیا ایران‘ قرار دیا تھا۔ اس بیان کے بعد اسرائیلی اور بین الاقوامی میڈیا میں مختلف آرا سامنے آئی تھیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے بھی ترکی پر ایران کی حمایت کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ دوسری جانب ترکی کے وزیرخارجہ نے 13 اپریل کو خبررساں ایجنسی انادولو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران کے بعد اسرائیل ایک دشمن کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ نتن یاہو کی انتظامیہ ہی نہیں بلکہ اپوزیشن رہنما بھی ترکی کو ایک نیا دشمن قرار دے رہے ہیں۔‘
سابق اسرائیلی سفارت کار ایلون پنکاس کہتے ہیں کہ ’ترکی نے ایران کی طرح اسرائیل کو نقشے سے مٹانے کی بات نہیں کی اور نہ ہی اسرائیل کے خلاف استعمال کے لیے جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔‘
’اردوغان کا مخالف بھی جانتا ہے کہ ترکی اسرائیل کا دشمن نہیں ہے۔ جو بھی ترکی کو ایران سے ملا رہا ہے، وہ غیرذمہ دارانہ کردار ادا کر رہا ہے۔‘
امنون ایرن بھی کہتے ہیں کہ ’ترکی نیا ایران نہیں ہے۔ ترکی نیٹو کا رکن ہے، امریکہ سے مضبوط تعلقات رکھتا ہے اور یورپی یونین نے تجارت کرتا ہے۔‘
تگچے ارسوئے بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’شاید وہ ترکی کو مغربی نظام سےعلیحدہ دکھا کر اسے تنہا کرنا چاہتے ہیں۔‘
’میں سمجھتا ہوں کہ مغربی میڈیا میں چند مضمون سوچے سمجھے منصوبے کے تحت لکھے جاتے ہیں اور ہم انھیں ایک ایسی کوشش کے طور پر دیکھ سکتے ہیں جو ایک ارادے کو ظاہر کرتے ہیں۔‘
تو کیا دونوں ملکوں میں اعتماد بحال ہو سکتا ہے؟
ایلون پنکاس کا کہان ہے کہ ’میرے خیال میں نتن یاہو کے جانے کے بعد حالات بہتر ہوں گے لیکن جیسا کہ آپ نے دیکھا نفتالی بینیٹ نے نتن یاہو سے بھی زیادہ بری باتیں کی ہیں ترکی کے بارے میں۔‘
اسرائیل میں 27 اکتوبر تک الیکشن ہونے ہیں اور نتن یاہو کو نفتالی بینیٹ اور یائیر لاپڈ کے اتحاد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امنون ایرن کا کہنا ہے کہ ’ترکی اور اسرائیل کے تعلقات موجودہ قیادت کے دور میں ٹھیک نہیں ہو سکتے۔‘
تگچے ارسوئے کہتے ہیں کہ ’بہتری کی جانب سفر کے لیے یہ ضروری ہے کہ اعتماد پہلے پیدا ہو۔‘

























