’ویژن 2030 پر اربوں ڈالر خرچ مگر مملکت کو محفوظ نہ بنا سکے‘: سعودی اپوزیشن محمد بن سلمان پر تنقید کیوں کر رہی ہے؟

Saudi Arabia
    • مصنف, بی بی سی مانیٹرنگ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

یمن میں جاری کشیدگی اور حوثی گروپ کے جانب سے سعودی عرب کے بنیادی انفراسٹرکچر پر حملے مملکت کی قیادت کے لیے ایک بڑا امتحان بن گئے ہیں۔

ریاض کے ایئرپورٹ اور توانائی کے شعبے کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملے ولی عہد محمد بن سلمان کے اہم معاشی منصوبے ویژن 2030 کے لیے خطرہ تصور کیے جا رہے ہیں، جس کا مقصد سعودی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر سرمایہ کاری، سیاحت اور تفریح کا عالمی مرکز بنانا ہے۔

یہ حملے سعودی عرب کی جانب سے استحکام اور سلامتی کا تاثر پیش کرنے کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

سعودی عرب پر حملوں کے تسلسل کے باعث بعض سعودی اپوزیشن شخصیات کا کہنا ہے کہ مملکت کے عملی حکمران محمد بن سلمان اپنے دورِ اقتدار کے ’بڑے ترین بحرانوں میں سے ایک‘ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس کی ایک وجہ امریکی حمایت میں کمی اور دیگر اتحادیوں کی محدود پشت پناہی بھی ہے۔

سعودی عرب میں اپوزیشن؟

سعودی عرب میں سیاسی جماعتوں پر پابندی ہے اور حکومت سیاسی اختلافِ رائے کو برداشت نہیں کرتی۔

اسی وجہ سے سعودی اپوزیشن زیادہ تر جلاوطنی میں سرگرم ہے۔ اس میں سنی اسلام پسند ناقدین، لبرل اور جمہوریت نواز اصلاح پسند، شیعہ حقوق کے کارکنان اور آزاد ناقدین شامل ہیں۔

AL-ISLAH

زیادہ منظم اپوزیشن جماعتوں میں نیشنل اسمبلی پارٹی (ناس) شامل ہے، جو مختلف نظریاتی پس منظر رکھنے والے کارکنوں اور سیاسی شخصیات کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتی ہے۔

اس کے علاوہ اپوزیشن سے وابستہ ذرائع ابلاغ بھی موجود ہیں، جن میں الاصلاح ٹی وی اور نبا ٹی وی شامل ہیں۔ ان کے پروگراموں اور ویڈیوز کو یوٹیوب پر لاکھوں افراد دیکھتے ہیں۔

’غیر ذمہ دارانہ فیصلے‘

اکتوبر میں سعودی عرب پر حوثی حملوں میں شدت آنے کے ساتھ ہی جلاوطن سعودی مخالف شخصیات نے جنگ کے حوالے سے قیادت کی پالیسیوں پر تنقید میں بھی اضافہ کر دیا اور اسے ایسی ناکامی قرار دیا جس نے مملکت کو پہلے سے زیادہ غیر محفوظ بنا دیا ہے۔

انسانی حقوق اور جمہوریت کے حامی کارکن یحییٰ عسیری نے جنگ میں ریاض کے کردار کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وہ مملکت کے عوام، وسائل یا بنیادی ڈھانچے کو کسی بھی قسم کے نقصان کے خلاف ہیں۔

انہوں نے ایکس پر لکھا ’حوثی جانتے ہیں کہ ہم ایک مظلوم اور شکست خوردہ قوم ہیں۔۔۔ اس جنگ کی اصل قیمت عام اور محروم لوگ ادا کر رہے ہیں، ایک ایسی جنگ جسے انھوں نے خود نہیں چنا۔‘

انھوں نے ریاض، محصور یمنی شہر تعز اور حوثیوں کے زیرِ کنٹرول شہروں صنعا اور الحدیدہ میں شہریوں کی ہلاکتوں کی بھی مذمت کی۔

SANAD WEBSITE

ان کی جماعت نیشنل اسمبلی پارٹی نے بھی جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے قیادت پر زور دیا کہ وہ ’ایسے غیر ذمہ دارانہ فیصلے کرنا بند کرے جنھوں نے ہم سب کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔‘

اسی طرح شیعہ رہنما علی الاحمد نے محمد بن سلمان پر زور دیا کہ وہ ’اس جنگ کا خاتمہ کریں، ایک معاہدہ کریں۔۔۔ اور جانیں بچائیں۔‘

مصنف اور شیعہ کارکن فواد ابراہیم نے بھی ایکس پر اسی مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ’یہ کھیل بند کریں۔۔۔ اب بہت ہو چکا۔۔۔ آپ کے جھوٹ پر دیوالیہ لوگوں کے سوا کوئی یقین نہیں کرتا۔‘

ناقدین نے جنگ کے دوران امریکی حمایت کو ناکافی قرار دیتے ہوئے معاہدۂ مکہ کی محدود افادیت کی جانب بھی توجہ دلائی ہے، جو ترکی اور پاکستان کے ساتھ طے پایا تھا۔

اگرچہ اس معاہدے کو نیٹو طرز کے باہمی دفاعی اتحاد کے طور پر پیش کیا گیا تھا، لیکن انقرہ اور اسلام آباد نے اب تک سعودی عرب کو کوئی نمایاں عملی مدد فراہم نہیں کی۔

محمد بن سلمان مخالف ویب سائٹ صوت الناس نے اس معاہدے کو ’محض ایک دکھاوا‘ قرار دیا ہے۔

احتساب کی آوازیں

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یمن میں حالیہ کشیدگی نے محمد بن سلمان کی داخلی پالیسیوں پر تنقید کو بھی ہوا دی ہے۔ جلاوطن ناقدین کا مؤقف ہے کہ مملکت نے تفریحی سرگرمیوں اور بڑے ترقیاتی منصوبوں پر بھاری اخراجات کیے، لیکن اس کے مقابلے میں قومی سلامتی کو نظر انداز کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر بھی احتساب کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ محمد بن سلمان نے ویژن 2030 پر اربوں ڈالر خرچ کیے، مگر مملکت کو محفوظ رکھنے میں ناکام رہے۔

برطانیہ میں مبینہ طور پر پناہ حاصل کرنے والے انسانی حقوق گروپ سند کے سربراہ سعید بن ناصر الغامدی نے 11 اکتوبر کو ایکس پر لکھا ’انھوں نے [یمن] جنگ شروع کی اور پورے ملک کو اس میں جھونک دیا۔۔۔ پھر 2022 میں حوثیوں کے ساتھ جنگ بندی کر لی اور خود تفریح، رقص کی تقریبات اور خیالی منصوبوں میں مصروف ہو گئے، جبکہ حوثی طویل جنگ کی تیاری کرتے رہے۔‘

دیگر ناقدین نے بھی سعودی عرب کی ثقافتی سرگرمیوں، کھیلوں کے بڑے مقابلوں اور موسیقی کے کنسرٹس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جو پہلے بھی متنازع موضوع رہے ہیں۔

خطے میں بعض سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ایسی سرگرمیاں اسلامی اقدار سے متصادم ہیں، جبکہ بعض نے سوال اٹھایا ہے کہ مملکت نے دفاع اور علاقائی سلامتی کے بجائے ثقافتی تقریبات کو کیوں ترجیح دی۔

حکومت مخالف گروپ سعودی بس کا کہنا ہے کہ سعودی شہری ’خوف کے بوجھ تلے زندگی گزار رہے ہیں’، جبکہ مملکت ’رقص اور موسیقی کے لیے اپنے دروازے کھول رہی ہے۔‘

اسی طرح ایکس پر ٹوورڈز فریڈم نامی اکاؤنٹ، جس کے 12 لاکھ فالوورز ہیں، نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں مختصر لباس پہنے خواتین ایک کنسرٹ میں رقص کرتی دکھائی دے رہی تھیں۔ ویڈیو کے ساتھ کیپشن میں لکھا گیا ’اگر آپ واقعی حوثیوں کا مقابلہ کرنے میں سنجیدہ ہیں۔۔۔ تو ایسی اخلاق باختہ تقریبات کو بند کرنا ہوگا۔‘

دوسری جانب حکومت مخالف صحافی ترکی الشلہوب نے اپنے 17 لاکھ فالوورز کو مخاطب کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ ’دفاعی صنعتوں کے وعدے اس وقت غائب ہو گئے جب مملکت کو ایک حقیقی فوجی امتحان کا سامنا کرنا پڑا۔‘

انھوں نے سوال اٹھایا ’تو پھر دفاعی صنعت کے لیے مختص کیے گئے اربوں ڈالر کہاں گئے؟‘

مبینہ سکیورٹی ناکامیوں کے تناظر میں بعض سعودی حکومت مخالف شخصیات نے سعودی قیادت میں تبدیلی کے مطالبات بھی مزید شدت سے اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔

ایکس پر ایک پوسٹ میں سعید بن ناصر الغامدی نے خبردار کرتے ہوئے کہا ’اگر اس طفیلی نظام [سعودی بادشاہت] کو یونہی پنپنے دیا گیا تو یہ اپنے ہی عوام کے لیے تباہی کا باعث بنے گا۔‘

’صہیونیوں کو تقویت‘

بعض سعودی اپوزیشن شخصیات کا یہ بھی مؤقف ہے کہ حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی جنگ نے بالآخر اسرائیلی مفادات کو فائدہ پہنچایا ہے۔

16 اکتوبر کو ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ریاض اسرائیلی حمایت ملنے پر ’بہت خوش‘ ہے اور یہ کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کا معاملہ پہلے سے کہیں زیادہ زیرِ غور ہے۔

عبداللہ العودہ، جو نیشنل اسمبلی پارٹی کے رکن اور امریکہ میں مقیم ایک محقق ہیں، نے اس بیان کی ویڈیو ایکس پر ’تطبیع غداری ہے‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ شیئر کی۔

انھوں نے جنگ میں کسی بھی امریکی مداخلت کی بھی مخالفت کی اور کہا کہ اس تنازعے کی قیمت سعودی عوام اور مملکت کے بنیادی ڈھانچے کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

اسی طرح سعید بن ناصر الغامدی نے ایکس پر لکھا کہ سعودی عرب نے رقص کی تقریبات اور فٹ بال سٹیڈیموں پر اربوں ڈالر خرچ کر دیے، جس کے نتیجے میں حوثی حملوں کے شروع ہوتے ہی اسے اسرائیل سے مدد طلب کرنے کی ضرورت پیش آئی۔

Videograb

11 اکتوبر کو ایک پوسٹ میں یحییٰ عسیری نے کہا کہ ’جنگ کو ہوا دینے والے عناصر‘ صرف خطے کے استحکام کو کمزور کریں گے اور ’صہیونیوں کو تقویت پہنچائیں گے۔‘

اس دوران سعودی لیکس ویب سائٹ نے بھی سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ قربت کا ذکر کیا اور یہ دعویٰ کیا کہ یمن میں حوثیوں کے خلاف حالیہ کارروائیوں میں اسرائیل نے بھی حصہ لیا تھا۔

وژن 2030 منصوبہ

2030 قریب آنے کے ساتھ ہی محمد بن سلمان کے معاشی وژن کو بھی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ وژن 2030، جس کا مقصد سعودی عرب کی تیل پر انحصار کرنے والی معیشت کو متنوع بنانا ہے، بنیادی طور پر استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منحصر ہے، جبکہ علاقائی تنازعات نے دونوں عوامل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

سعودی نژاد برطانوی پروفیسر مدوی الرشید نے ایکس پر لکھا کہ اگرچہ مغربی تجزیہ کاروں نے ویژن 2030 کی بھرپور تعریف کی تھی، تاہم ریاض کا یہ معاشی منصوبہ اب ’ماضی کی ایک بات‘ بنتا جا رہا ہے۔

انھوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ محمد بن سلمان مغربی میڈیا میں ’کامیابی اور خوشحالی کے بیانیے پر اپنی گرفت کھو چکے ہیں۔‘

لندن میں قائم موومنٹ فار اسلامک ریفارم اِن عریبیہ کے سربراہ اور الاصلاح ٹی وی کے میزبان سعد الفقیہ نے کہا کہ مغربی ذرائع ابلاغ اب سعودی قیادت کا ’مذاق اڑا رہے ہیں۔‘

اسی تناظر میں حکومت مخالف صحافی ترکی الشلہوب نے ایکس پر لکھا کہ ’شیشے کی عمارتوں اور ظاہری چمک دمک‘ کو ترجیح دینے سے سعودی شہریوں کا تحفظ یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔

یمن اور ایران سے متعلق تنازعات نے پابندیوں میں سختی کیسے پیدا کی؟

حالیہ کشیدگی کے دوران سعودی عرب میں بعض اپوزیشن اکاؤنٹس تک رسائی محدود کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق اگست میں ایکس پر سعودی حکومت کے ناقدین کے 60 سے زائد اکاؤنٹس سعودی عرب کے اندر بلاک کر دیے گئے تھے۔

اس سے قبل مئی میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے ایران سے متعلق تنازع کی رپورٹنگ پر خلیجی ممالک میں بڑھتی ہوئی پابندیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب میں ’سیاسی طور پر حساس موضوعات کی کوریج کو قومی سلامتی کا معاملہ سمجھا جاتا ہے۔‘

اسی مہینے برطانیہ میں قائم سند ہیومن رائٹس گروپ نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی حکام نے ٹک ٹاک، سنیپ چیٹ اور میٹا کے پلیٹ فارمز پر اپوزیشن اکاؤنٹس کو بلاک کر دیا ہے اور ایسی پابندیوں کو ایکس تک بھی توسیع دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اکتوبر میں، جب حوثیوں نے سعودی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، برطانیہ میں مقیم سعودی مخالف کارکن اور مزاح نگار غانم الدوسری نے الزام لگایا کہ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی حملے کے متاثرین کے بارے میں پوسٹ کرنے کے بعد ان کا ایکس اکاؤنٹ سعودی عرب میں بلاک کر دیا گیا۔

انھوں نے طنزیہ انداز میں کہا ’لیکن اس کے باوجود سعودی عرب حوثیوں کے میزائل اور ڈرون روکنے میں ناکام رہا۔‘