مکہ کی مسجد میں ’فحش حرکات‘ پر سزائے موت پانے والے بنگلہ دیشی شہری کی والدہ نے بی بی سی کو کیا بتایا؟

،تصویر کا ذریعہFamily handout
- مصنف, رقیب حسنات
- عہدہ, بی بی سی نیوز، بنگلہ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
بنگلہ دیش کی وزیرِ مملکت برائے خارجہ شمع عبید نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں جن دو افراد کو سزائے موت دیے جانے کی خبر سامنے آئی ہے، انھیں 2023 میں حراست میں لیا گیا تھا۔
انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ حکومت اس وقت فیصلے کی نقل موصول ہونے کا انتظار کر رہی ہے۔
تاہم سعودی عرب میں سزائے موت پانے والے دو بنگلہ دیشی شہریوں میں سے ایک کے خاندان نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ اس شخص نے ایک ہفتہ قبل بھی جیل سے اپنے اہلِخانہ سے بات کی تھی۔ اس وقت انھوں نے ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا تھا کہ انھیں سزائے موت دی جا سکتی ہے۔
گذشتہ بدھ سعودی میڈیا میں ایک بنگلہ دیشی خاتون اور ایک مرد کو سزائے موت دیے جانے کی خبر سامنے آئی تھی۔
سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے ’سعودی پریس ایجنسی‘ نے وزارت داخلہ کے بیان کے حوالے سے بتایا کہ بنگلہ دیشی مرد اور خاتون پر الزام تھا کہ انھوں نے مکہ کی ایک مسجد کے اندر ’فحش فعل کا ارتکاب کیا۔‘
سزائے موت پانے والے مرد بنگلہ دیش کے ضلع براہمنباریہ کے رہائشی تھے۔
اُن کی والدہ نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ ان کے بیٹے نے گذشتہ اتوار کو بھی سعودی جیل سے خاندان سے بات کی تھی۔
روتے ہوئے انھوں نے کہا: ’ہمیں معلوم تھا کہ وہ جیل میں ہے، لیکن ایسا ہو گا (یعنی انھیں پھانسی دے دی جائے گی)، یہ بات میرے بیٹے نے بھی ہمیں نہیں بتائی تھی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
’بدھ کی شام خبر آنے کے بعد لوگوں سے ہمیں اس بارے میں معلوم ہوا۔‘
انھوں نے اپنے بیٹے کی میت جلد از جلد بنگلہ دیش واپس لانے اور اس معاملے میں انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
براہمنباریہ کے ضلعی انتظامی افسر محمد ابو سعید نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ حکومت کو اب تک ایسی کوئی سرکاری اطلاع موصول نہیں ہوئی جس سے تصدیق ہو سکے کہ سعودی عرب میں سزائے موت پانے والے دو افراد میں یہ شخص بھی شامل تھے یا نہیں۔
سعودی عرب کے شہر مکہ میں دو بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دیے جانے کے واقعے کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ نے اتوار کو ڈھاکہ میں سعودی سفیر عبداللہ بن جعفر کو طلب کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کی ایک عدالت نے مکہ شہر کی ایک مسجد میں ’فحش فعل‘ کے مبینہ ارتکاب پر دونوں افراد کو مجرم قرار دیا تھا۔
جوڑے نے ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل بھی کی تھی، تاہم سپریم کورٹ نے فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے سزائے موت کو برقرار رکھا۔
اس کے بعد شاہی فرمان جاری کیا گیا اور 14 اکتوبر کو دونوں کو سزائے موت دے دی گئی۔
تاہم ڈھاکہ میں وزارتِ خارجہ نے ان دونوں شہریوں کی شناخت کے بارے میں معلومات جاری نہیں کی ہیں۔
بی بی سی بنگلہ کو سزائے موت پانے والے شخص کے قریبی ذریعے سے معلومات ملی تھیں، جس کے بعد ادارے نے خاندان سے رابطہ کیا۔
اس شخص کی والدہ نے تصدیق کی کہ سزائے موت پانے والا ان کا بیٹا تھا۔
انھوں نے کہا: ’تین سال اور تین ماہ سے میں نے اپنے بیٹے کا چہرہ نہیں دیکھا۔ کم از کم آخری بار تو اس کا چہرہ دیکھ سکوں۔‘

،تصویر کا ذریعہHASSAN AMMAR/AFP via Getty Image
سزائے موت پانے والے شخص کے بارے میں کیا معلوم ہوا؟
والدہ کے مطابق ان کے بیٹے نے مدرسے سے تعلیم مکمل کی تھی اور پھر ایک ایجنٹ کے ذریعے 10 نومبر 2022 کو سعودی عرب گئے تھے۔
یہ دو بھائیوں اور دو بہنوں میں سب سے بڑے تھے، اور ریاض میں صفائی کے کارکن کے طور پر کام کرتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ جس مسجد میں ان پر ’فحش فعل کے ارتکاب‘ کا الزام لگایا گیا، وہ وہیں صفائی کا کام کرتے تھے۔
ان کی والدہ نے بتایا: ’وہاں جانے کے چھ ماہ بعد ہی انھیں جیل میں ڈال دیا گیا۔ جیل جانے کے ایک ماہ بعد انھوں نے رابطہ کیا اور کہا کہ ماں، شاید مجھے کچھ عرصہ جیل میں رکھ کر چھوڑ دیں گے۔
’گذشتہ اتوار کو بھی ہماری بات ہوئی تھی اور پھر بدھ کو یہ خبر آ گئی۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے بیٹے نے حراست کی وجہ بتائی تھی تو انھوں نے کہا: ’نہیں، انھوں نے کوئی خاص بات نہیں بتائی تھی۔‘
تاہم خاندان کے ایک اور فرد نے بتایا کہ بعد میں اس شخص نے اہلِ خانہ کو ایک خاتون کے ساتھ رومانوی تعلقات کا بتایا تھا۔
والدہ کے مطابق ان کے بیٹے نے بتایا تھا کہ ایک دن ڈیوٹی پر پہنچنے کے بعد پولیس آئی اور انھیں اپنے ساتھ لے گئی۔
خاندان کے مطابق جیل جانے کے بعد وہ تقریباً ہر ہفتے مختصر فون کال پر گھر والوں سے بات کرتے تھے اور اسی دوران انھوں نے خاتون کے ساتھ رومانوی تعلقات کا ذکر بھی کیا تھا۔
سزائے موت پر عمل درآمد سے تین دن قبل، یعنی اتوار کو، انھوں نے آخری بار اپنے گھر والوں سے بات کی تھی۔
رحیمہ بیگم نے کہا: ’شروع میں زبان کی وجہ سے میرا بیٹا اپنی بات سمجھا نہیں سکا۔ ہم ایجنٹ کے پاس گئے تو انھوں نے کہا کہ سعودی عرب پہنچانے کے بعد ان کی کوئی ذمہ داری نہیں رہتی۔‘
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ جب ان کے بیٹے جیل گئے تو خاندان نے مقامی حکام سے اس معاملے میں کوئی رابطہ نہیں کیا تھا۔
مقامی افراد نے بی بی سی کو بتایا کہ سزائے موت پانے والے نوجوان کی عمر تقریباً 22 سال تھی۔ ان کے والد پہلے دوسروں کی زمینوں پر مزدوری کرتے تھے لیکن عمر بڑھنے کے باعث اب کام نہیں کر سکتے۔
خاندانی غربت کے باعث اس شخص کو ایک ایجنٹ کے ذریعے بیرونِ ملک بھیجا گیا تھا، لیکن سعودی عرب پہنچنے کے چھ ماہ بعد ہی 2023 میں انھیں حراست میں لے لیا گیا۔
بنگلہ دیشی حکومت نے کیا کہا؟

وزیرِ مملکت برائے خارجہ شمع عبید نے کہا کہ حکومت کو فی الحال اتنی معلومات ملی ہیں کہ سزائے موت پانے والی خاتون اور مرد دونوں کو 2023 میں گرفتار کیا گیا تھا۔
انھوں نے کہا: ’مزید معلومات کے لیے ہم نے خط لکھا ہے۔ فیصلے کی نقل ملنے کے بعد تفصیلات فراہم کریں گے۔‘
وزیرِ مملکت کے مطابق بنگلہ دیش کے جو افراد کام کے لیے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں، سعودی عرب ان کے لیے ایک مرکزی منزل ہوتی ہے، اور وہاں روزگار کمانے والے بنگلہ دیشی ملک کے لیے ترسیلاتِ زر کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔
شمع عبید نے کہا کہ سعودی عرب میں ’چار لاکھ سے زیادہ بنگلہ دیشی شہری موجود ہیں اور ان کی حفاظت یقینی بنانا ہماری ذمہ داری ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’سعودی عرب کے مختلف شہروں میں بہت سے بنگلہ دیشی شہری سزائیں کاٹ رہے ہیں۔ سعودی حکام وقتاً فوقتاً ہمیں فہرستیں بھیجتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کس شخص کو کب اور کن حالات میں گرفتار کیا گیا۔
’ہم یہ جانچ رہے ہیں کہ آیا ان دونوں کے نام ان فہرستوں میں شامل تھے یا نہیں۔ ہمیں خاندانوں سے بھی ایسی معلومات موصول نہیں ہوئی تھیں۔ ہمیں صرف اتنا معلوم ہے کہ یہ واقعہ 2023 میں پیش آیا تھا اور انھیں اسی سال گرفتار کیا گیا تھا۔'
ہمایوں کبیر بھی بنگلہ دیش میں وزیرِ مملکت برائے خارجہ امور ہیں۔ انھوں نے اس واقعے کو اپنے ملک کے لیے ’بد قسمتی' قرار دیا ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت سنائے جانے کی خبر موصول ہونے کے بعد بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ نے ڈھاکہ میں سعودی سفارت خانے سے رابطہ کیا۔
ہمایوں کبیر کے مطابق: ’دونوں ممالک نے جنیوا کنونشن پر دستخط کر رکھے ہیں۔ اگر ہم کسی سعودی شہری کو کسی فوجداری مقدمے میں گرفتار کریں تو سعودی حکام کو ضرور اطلاع دیں گے۔ اس شخص کو قونصلر خدمات حاصل کرنے کا حق ہو گا۔
’اسی طرح ہم توقع کرتے ہیں کہ سعودی عرب یا کوئی بھی دوسرا ملک ہمارے کسی شہری کو حراست میں لینے کی صورت میں ہمیں آگاہ کرے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
دوسری جانب بنگلہ دیش کے اپوزیشن رہنما اور جماعتِ اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمان نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر حکومت کو سزا پر عمل درآمد کے بعد اس معاملے کا علم ہوا تو پھر سفارت خانے اور قونصل خانے کا کردار کیا تھا۔
شفیق الرحمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر طویل پوسٹ میں لکھا: ’بیرونِ ملک مقیم شہریوں اور قومی وقار اور مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف ممالک میں ہمارے سفارت خانے اور قونصل خانے موجود ہیں۔
’یہ جاننا ضروری ہے کہ جب ان دونوں افراد کے خلاف عدالتی کارروائی جاری تھی تو اس دوران ہمارے سفارت خانے یا قونصل خانے کا کوئی کردار تھا یا نہیں۔
’یہ سوال بنگلہ دیشی حکام کے بیانات سے پیدا ہوتا ہے کیونکہ ان کے مطابق انھیں اس معاملے کا علم سزا پر عمل درآمد کے بعد ہوا۔
’بلا شبہ ہر ملک اپنے قوانین کے تحت عدالتی عمل مکمل کرتا ہے، لیکن چونکہ یہ دونوں بنگلہ دیشی شہری تھے اور معاملہ سزائے موت کا تھا، اس لیے حکومت کو عوام کے سامنے واضح کرنا چاہیے کہ سفارت خانے نے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں یا نہیں۔
’یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ اگر بیرونِ ملک مقیم بنگلہ دیشیوں کے درمیان اس نوعیت کے واقعات پیش آئیں تو حکومت یا سفارت خانے ان کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ میں مقیم بین الاقوامی قانون کے ماہر ڈاکٹر ریحان رشید کا کہنا ہے کہ وزیرِ مملکت کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزارتِ خارجہ کو گذشتہ تین برس سے ان دونوں کی گرفتاری کا علم تھا۔
بی بی سی بنگلہ سے گفتگو میں انھوں نے کہا: ’گرفتاری کے فوراً بعد معلومات جمع کرنا اور ضروری اقدامات کرنا سفارت خانے کی ذمہ داری تھی۔ تین سال تک متعلقہ حکام نے خاندان سے رابطہ نہیں کیا۔
’فہرستیں موصول ہونے کے باوجود سفارت خانے نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ کسی بھی غیر ملکی شہری کی گرفتاری کے ساتھ ہی اس کے قونصلر حقوق کا آغاز ہو جاتا ہے اور انھیں قونصلر معاونت حاصل کرنے کا حق ہوتا ہے۔‘
ڈاکٹر رشید کے مطابق: ’ممکن ہے کہ ایک مزدور کو اپنے ان حقوق کا علم نہ ہو۔ ایسے میں سعودی عرب کی بھی ذمہ داری تھی، جبکہ بنگلہ دیشی سفارت خانے کو بھی معاملے کی تفصیلات جان کر ضروری اقدامات کرنے چاہیے تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ 1963 کے ویانا کنونشن برائے قونصلر تعلقات کے آرٹیکل 36 کے تحت کسی غیر ملکی شہری کو گرفتاری یا قانونی کارروائی کی صورت میں اپنے ملک کے سفارت خانے سے مدد حاصل کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔




















