مکہ کی مسجد میں فحاشی کا الزام: بنگلہ دیش اپنے شہریوں کے جرم اور سزائے موت کے عمل سے لاعلم، کیا سعودی عرب نے ویانا پروٹوکول کی خلاف ورزی کی؟

HASSAN AMMAR/AFP via Getty Image
،تصویر کا کیپشنسعودی عرب کے میڈیا کی رپورٹس کے مطابق دو بنگلہ دیشی باشندوں کو ملکی سکیورٹی فورسز نے غیر اخلاقی سرگرمیوں کے الزام میں گرفتار کر لیا۔
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

بنگلہ دیش نے مکہ شہر کی ایک مسجد میں ’غیر اخلاقی‘ حرکات کے مرتکب دو بنگلہ دیشی شہریوں کو پھانسی دیے جانے کے بعد سعودی عرب میں متعلقہ حکام سے تفصیلی وضاحت طلب کی ہے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سعودی عرب نے دونوں بنگلہ دیشیوں کی پھانسی کے بارے میں اہل خانہ یا سفارتخانے کو اطلاع نہ دے کر ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی؟

یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ قانونی طور پر یہ ملک بنگلہ دیش کو اس کی وضاحت کرنے کا کس طرح پابند ہے اور کس طرح سے دونوں بنگلہ دیشیوں کی لاشیں بنگلہ دیش پہنچیں گی۔

جدہ میں بنگلہ دیش کے سفارت خانے کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سعودی حکام نے بنگلہ دیش کے سفارت خانے کو ان دونوں کی حراست، مقدمے کی سماعت اور پھانسی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی۔

لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ کیا سعودی عرب بنگلہ دیش کی طرف سے مانگی گئی وضاحت پر جواب دینے کا پابند ہے؟

سابق سفیر ہمایوں کبیر کا کہنا ہے کہ اگر کسی شہری کو بیرون ملک ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اپنے ملک سے قونصلر سے رابطے کا کہہ کر اُن سے مدد حاصل کر سکتا ہے۔

انھوں نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ ’لیکن ہمیں نہیں معلوم کہ اس معاملے میں کیا ہوا۔ چونکہ مقدمے کی سماعت سعودی عرب کے داخلی قانونی عمل کا حصہ ہے، اس لیے سعودی حکام پر بنگلہ دیش کو مطلع کرنے کی کوئی قانونی پابندی نہیں۔ تاہم، اگر بنگلہ دیش اس بارے میں جاننا چاہے تو ممکن ہے کہ سعودی حکام جواب دے دیں۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے دونوں بنگلہ دیشی شہریوں کے اہلِ خانہ اور بنگلہ دیشی سفارت خانے کو مطلع کیے بغیر سزا پر عمل درآمد کر کے ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سعودی عرب ویانا کنونشن کا فریق ہے۔ ملک نے سنہ 1981 میں ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات پر دستخط کیے تھے، جسے ویانا پروٹوکول بھی کہا جاتا ہے۔

اس پروٹوکول کے آرٹیکل 36 کے مطابق، اگر کسی غیر ملکی شہری کو گرفتار یا حراست میں لیا جائے تو اس کی درخواست پر بلا تاخیر اس کے ملک کے سفارت خانے کو مطلع کرنا ضروری ہے۔

برطانیہ میں مقیم بین الاقوامی قانون کے ماہر ڈاکٹر ریحان رشید کا کہنا ہے کہ ’اب تک سامنے آنے والی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں بنگلہ دیشی شہریوں کو اپیل کے مراحل مکمل ہونے کے بعد سزائے موت سنائی گئی، یعنی یہ کارروائی اچانک نہیں ہوئی۔‘

انھوں نے بی بی سی بنگلہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بنگلہ دیشی سفارت خانے کو اس بارے میں معلوم ہونا چاہیے تھا۔ یہ قابلِ قبول نہیں کہ سفارت خانے کو اس وقت تک کچھ معلوم نہ ہو جب تک متاثرہ شخص یا سعودی حکام اسے اطلاع نہ دیں، کیونکہ یہ عمل ایک دن میں مکمل نہیں ہوا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ویانا کنونشن کے مطابق، ان دونوں شہریوں کو بار بار یہ اطلاع بھی دی جانی چاہیے تھی کہ آیا وہ قونصلر سہولیات حاصل کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ اگر وہ یہ سہولیات حاصل نہیں کرنا چاہتے تو اس کے ذمہ دار سعودی حکام نہیں ہیں۔‘

Aditya Irawan/NurPhoto via Getty Images
،تصویر کا کیپشنسعودی عرب میں اکثر سزائے موت دی جاتی ہے۔ یہ احتجاج 2018 میں جکارتہ میں سعودی سفارت خانے کے سامنے ایک انڈونیشین شہری کی پھانسی کے خلاف احتجاج کے لیے کیا گیا تھا۔

ہم اس واقعے کے بارے میں کیا جاتے ہیں؟

سعودی پریس ایجنسی نے بدھ کو ملک کی وزارتِ داخلہ کے حوالے سے دو بنگلہ دیشی شہریوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کی خبر دی۔

خبر کے مطابق ان دونوں کو مکہ کی ایک مسجد میں غیر اخلاقی اور نازیبا حرکات میں ملوث ہونے کے بعد سعودی سکیورٹی فورسز نے گرفتار کیا تھا۔

اس خبر کے سامنے آنے کے بعد جدہ میں بنگلہ دیشی قونصل خانے نے جمعرات کو سعودی وزارتِ خارجہ کو خط لکھ کر واقعے کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست کی۔

وہاں بنگلہ دیشی سفارت خانے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی حکام نے بنگلہ دیشی شہریوں کی گرفتاری، مقدمے کی سماعت اور سزا کے بارے میں سفارت خانے کو کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔

ذرائع کے مطابق سعودی حکام نے سفارت خانے کے ذریعے اس بات کی تصدیق بھی نہیں کی کہ دونوں افراد بنگلہ دیشی شہری تھے۔ حالانکہ ویانا پروٹوکول کے تحت کسی بھی ملک کے شہری کو حراست میں لینے یا قید کرنے کی صورت میں متعلقہ ملک کے سفارت خانے کو مطلع کیا جانا چاہیے۔

بی آر اے سی کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ شریف الحسن کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے اس پورے عمل کے دوران ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی ہے۔

ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات سنہ 1961 میں اقوامِ متحدہ کی کوششوں سے مختلف ممالک کے درمیان طے پانے والا ایک معاہدہ ہے، جس میں سفارت کاروں کے طرزِ عمل سے متعلق اصول وضع کیے گئے ہیں۔

اس کنونشن میں درج قواعد و ضوابط کے تحت ممالک میں دوسرے ملکوں کے سفارتی مشن یا نمائندے تعینات ہوتے ہیں۔

FAYEZ NURELDINE/AFP via Getty Images
،تصویر کا کیپشنسعودی عرب میں غیر ملکی کارکنوں کی بڑی تعداد کام کرتی ہے۔

دنیا کے 180 سے زائد ممالک کی جانب سے اس معاہدے کی توثیق کے بعد یہ بین الاقوامی قونصلر قانون اور قانونی کارروائی کے تقاضوں کو یقینی بنانے کی بنیادی بنیادوں میں سے ایک بن چکا ہے۔

اس کنونشن کا آرٹیکل 36 کسی دوسرے ملک میں گرفتار یا حراست میں لیے جانے والے شہری کو اپنے ملک کے سفارت خانے (قونصل خانے) سے رابطہ کرنے اور قانونی معاونت حاصل کرنے کا حق دیتا ہے۔

اس کے تحت قونصلر شعبے کے اہلکار زیرِ حراست شخص سے ملاقات کر سکتے ہیں، بات چیت کر سکتے ہیں یا اس سے رابطہ رکھ سکتے ہیں۔ اس شخص کی خواہش پر اس کے لیے قانونی نمائندگی کا انتظام بھی کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر ریحان رشید کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش اور سعودی عرب دونوں نے ویانا کنونشن پر دستخط کر رکھے ہیں، اس لیے کسی غیر ملکی شہری کو حراست میں لیے جانے کی صورت میں دونوں ممالک اس کی شقوں پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’حراست میں لیے گئے افراد کو قونصلر سہولیات حاصل کرنے کے حق سے آگاہ کیا جانا چاہیے اور سعودی عرب کے پاس اس بات کا ثبوت ہونا چاہیے کہ آیا ایسا کیا گیا تھا۔‘

بنیادی طور پر ویانا کنونشن کا آرٹیکل 36 غیر ملکی شہریوں کے قونصلر اور قانونی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ یعنی کسی غیر ملکی شہری کو حراست میں لیے جانے پر اس کے ملک کی قونصلر سروس کو مطلع کیا جائے گا۔ قونصلر حکام اپنے ملک کے شہری سے بات کر سکتے ہیں اور اس کے لیے ضروری قانونی معاونت کا انتظام کر سکتے ہیں۔

بی آر اے سی کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ شریف الحسن نے کہا کہ ’لیکن اس معاملے میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔ سعودی عرب اس سے پہلے بھی بنگلہ دیشی شہریوں کے ساتھ ایسا کر چکا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر یہ دونوں امریکی شہری ہوتے تو کیا سعودی عرب ان کے ساتھ بھی ایسا ہی کرتا؟‘

سفیر ہمایوں کبیر کا کہنا ہے کہ ’اگر کسی ملک میں غیر ملکی شہری کسی جرم میں ملوث ہوں تو اس ملک کی داخلی قانونی کارروائی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی اور نہ ہی قانونی طور پر اس پر لازم ہے کہ وہ متعلقہ شہری کے سفارت خانے کو اس بارے میں اطلاع دے۔‘

انھوں نے بی بی سی بنگلہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’تاہم، کئی ممالک میں حکام کسی غیر ملکی شہری کو حراست میں لینے پر اس کے سفارت خانے کو مطلع کر دیتے ہیں۔ اسی طرح، اگر کوئی ملک اپنے شہری کی گرفتاری یا حراست کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہے تو متعلقہ ملک یہ معلومات فراہم کر دیتا ہے۔ لیکن اس معاملے میں ایسی کوئی قانونی پابندی نہیں ہے۔‘

میّتیں کب بنگلہ دیش پہنچیں گی؟

ڈھاکہ میں وزارتِ خارجہ اور جدہ میں بنگلہ دیشی مشن کے سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی حکام نے اب تک ان دو افراد کے بارے میں بنگلہ دیشی حکام کو کوئی معلومات فراہم نہیں کیں جن کی سزاؤں پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے۔

اس کے نتیجے میں کسی کو معلوم نہیں کہ دونوں کی میتیں کہاں ہیں اور انھیں بنگلہ دیشی حکام کے حوالے کیسے اور کب کیا جائے گا۔

دوسری جانب، بنگلہ دیش کو باضابطہ طور پر مطلع نہ کیے جانے کے باعث سفارت خانہ دونوں بنگلہ دیشی شہریوں کے اہلِ خانہ سے رابطہ کرنے یا انھیں کوئی معلومات فراہم کرنے سے بھی قاصر ہے۔

اگر اہلِ خانہ درخواست کریں تو سفارت خانہ ان کی درخواست کے مطابق میتوں کو وطن واپس لانے میں مدد کرتا ہے۔

شریف الحسن نے کہا کہ ’لیکن اس معاملے میں سعودی حکام نے نہ تو سفارت خانے سے رابطہ کیا اور نہ ہی خاندان کے کسی فرد سے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ دونوں افراد کو اپنا دفاع کرنے کا موقع ملا تھا یا نہیں۔‘

اُن کے مطابق ’غیر ملکی شہری ہونے کے ناتے انھیں قونصلر سہولیات کے تحت اپنے سفارت خانے کے ذریعے قانونی معاونت حاصل کرنے کا حق تھا۔ لیکن سعودی عرب نے اس معاملے میں سب کو لاعلم رکھا ہے۔‘