سیکس، جھوٹ اور پولیس کے خفیہ جاسوس: ایک ’متنازع‘ انڈرکور افسر کی کہانی

- مصنف, جان آئرن مونگر
- عہدہ, مشرقی لندن اور لندن کی تحقیقات
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 14 منٹ
اینڈریو کولز چرچ کے کوائر میں گاتے ہیں، مقامی کنزرویٹو سیاست میں سرگرم ہیں اور کبھی میٹروپولیٹن پولیس کے ایک خفیہ افسر تھے، جنھیں عام طور پر ’جاسوس پولیس اہلکار‘ کہا جاتا ہے۔
جیسیکا، جو ان کا اصل نام نہیں، جانوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہیں، اور ان کے مطابق کولز نے دھوکے سے ان کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا۔
یہ سیکس اور جھوٹ کی کہانی ہے۔ لیکن سچ کون بول رہا ہے؟
66 سالہ کولز کیمبرج شائر کے دیہی علاقے میں اپنی بیوی اور ایک گرے ہاؤنڈ کتے کے ساتھ رہتے ہیں۔
وہ میڈیا کی معروف شخصیت اور پادری رچرڈ کولز کے بھائی ہیں۔
لیکن 1990 سے 1995 کے درمیان وہ میٹروپولیٹن پولیس سروس (ایم پی ایس) کے خفیہ سپیشل ڈیمانسٹریشن سکواڈ (ایس ڈی ایس) میں خدمات انجام دیتے رہے، جو سیاسی جماعتوں اور احتجاجی گروہوں میں خفیہ طور پر گھس کر معلومات حاصل کرتا تھا۔
گذشتہ ایک دہائی سے اس یونٹ کی سرگرمیوں کی جانچ انڈرکور پولیسنگ انکوائری (یو سی پی آئی) کے ذریعے کی جا رہی ہے۔
فورس کے کمشنر سر مارک راؤلی نے لکھا: ’ایم پی ایس اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ اینڈریو کولز کا جیسیکا کے ساتھ جنسی تعلق تھا، اور اسے اس بات پر افسوس ہے کہ انھوں نے انکوائری کو سچ نہیں بتایا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کولز پر یہ الزام بھی ہے کہ انھوں نے ساتھی اہلکاروں کو اسی طرح کے تعلقات قائم کرنے کا مشورہ دیا۔
وہ ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ وہ خود دھوکے کا شکار ہوئے ہیں۔
وہ کہتے ہیں: ’یہ محض بدلہ ہے، اور کچھ نہیں۔‘

بی بی سی سے خصوصی گفتگو میں کولز کہتے ہیں کہ ایک اچھے خفیہ پولیس افسر کے لیے ثابت قدمی، بہادری اور بے رحمی ضروری خصوصیات ہیں۔
کیا دھوکہ دینے کی صلاحیت بھی؟
وہ کہتے ہیں: ’شاید ہاں۔ اگرچہ میں نے اپنی اصل شخصیت سے زیادہ مختلف رویہ اختیار نہیں کیا۔‘

،تصویر کا ذریعہX.com
کولز کی موجودہ زندگی ان کے ماضی کے خفیہ کردار سے بہت مختلف ہے، جب ان کے بقول، انھیں کسی کا اعتماد حاصل کرنے اور اپنی شناخت چھپائے رکھنے کے لیے کبھی کبھی قانون بھی توڑنا پڑتا تھا۔
وہ کہتے ہیں: ’میں نے منشیات استعمال کیں، بھنگ۔ یہ ضروری تھا، تاکہ دوسرے لوگ آپ کے بارے میں گواہی دے سکیں۔
’مجھے ایک بوتل دی گئی، جس کے بارے میں کہا گیا کہ اس میں تیزاب ہے، اور میں نے اسے ایک قصائی کی دکان کی کھڑکی پر چھڑک دیا۔
’میں ایک مرغی فارم پر دھاوا بولنے میں بھی شامل تھا جہاں کچھ مرغیاں چوری کی گئیں اور املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔‘

،تصویر کا ذریعہNoor Admani/ARROW
کولز میٹروپولیٹن پولیس سروس میں کانسٹیبل تھے، جب انھیں سپیشل ڈیمانسٹریشن سکواڈ (ایس ڈی ایس) کے لیے منتخب کیا گیا تو اس ادارے کو قائم ہوئے 20 سال سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا تھا۔
انھوں نے فوت ہونے والے ایک بچے اینڈی ڈیوی کا نام اختیار کیا اور انتہا پسندانہ کارروائیاں کرنے والے گروہ اینیمل لبریشن فرنٹ میں روابط قائم کرنا شروع کیے۔
وہ کہتے ہیں: ’یہ کام ہر کوئی نہیں کر سکتا تھا، میں نے معاشرے کے ایک حصے کو کچھ انتہائی خطرناک لوگوں سے بچایا، اور میرا خیال ہے کہ میں نے اپنا کام اچھے طریقے سے کیا۔‘

1991 میں جیسیکا کی پہلی بار اینڈی ڈیوی سے ملاقات ہوئی۔
ان کے بقول وہ اس وقت 19 سالہ سادہ لوح نوجوان تھیں، مشرقی لندن کے ایک گھر میں رہتی تھیں اور مہم جوئی کی خواہش مند تھیں۔
اب 54 برس کی جیسیکا کو یاد ہے کہ ڈیوی ایک بڑی عمر کے شخص تھے جو وین چلاتے تھے، اور یہی بات انھیں دیگر ہم خیال کارکنوں میں مقبول بناتی تھی۔
وہ کہتی ہیں: ’شام گئے وہ گھر آ جاتے تھے اور ہمیں انھیں واپس بھیجنے میں مشکل پیش آتی تھی۔
’پھر ایک رات اچانک انھوں نے مجھے چومنے کی کوشش کی۔ مجھ میں اتنا اعتماد نہیں تھا کہ صورتحال سے نکل سکوں اور وہ میرے پہلے باقاعدہ بوائے فرینڈ بن گئے۔‘
لیکن جیسیکا کے خیال کے برعکس وہ 24 سال کے نہیں تھے، بلکہ ان کی عمر 32 سال تھی، وہ شادی شدہ اور بچوں کے باپ تھے۔
اور نہ ہی وہ اس گروہ کا حصہ تھے۔
اصل میں وہ اینیمل لبریشن فرنٹ کے بارے میں خفیہ معلومات اکٹھی کر رہے۔ اس گروہ کے کئی ارکان کو آتش زنی اور بم حملوں کے جرائم میں سزائیں سنائی جا چکی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہAndrew Coles
جیسیکا کہتی ہیں: ’انھوں نے جنسی مقاصد کے لیے میری ذہن سازی کی۔
’وہ ہفتے میں کئی بار میرے سنگل بیڈ پر سوتے تھے، اور مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ حقیقت میں کون ہیں۔‘
’یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ میرا ریپ کرتے تھے، لیکن وہ جانتے تھے کہ میرے ساتھ سیکس میری مرضی کے خلاف ہوتا تھا۔‘
کولز تسلیم کرتے ہیں کہ ایک موقع پر وہ جیسیکا کے ساتھ بستر پر سوئے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ کبھی کوئی جنسی تعلق نہیں بنا۔
وہ اصرار کرتے ہیں کہ جیسا کی ’کہانی سچ نہیں ہے، بالکل بھی سچ نہیں ہے۔‘
جب ان سے ان کے خلاف موجود شواہد کی مضبوطی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے تسلیم کیا: ’انھیں نظر انداز کرنا مشکل ہے۔‘

ان شواہد میں ہاتھ سے لکھے گئے دو خطوط بھی شامل ہیں جو 1993 میں جیسیکا نے اپنی بہترین دوست کو اس وقت لکھے تھے جب وہ فرانس میں قیام پذیر تھیں۔
پہلے خط میں وہ لکھتی ہیں: ’یہ بہت عجیب ہے، لیکن میں اب بھی اینڈی کے ساتھ تعلق میں ہوں۔‘
دوسرے خط میں وہ لکھتی ہیں: ’[اینڈی] نے تجویز دی کہ ہم دوسرے لوگوں سے بھی ملیں کیونکہ اگر میں نے ایک اور سال یہاں (فرانس میں) رہنے کا فیصلہ کیا، تو وہ (اینڈی) زیادہ سیکس نہیں کر پائیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہUndercover Policing Inquiry
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
کولز کے پاس ان خطوط کی اصلیت کے بارے میں ایک نظریہ ہے۔
وہ کہتے ہیں: ’پہلا خط تو ممکن ہے اسی وقت لکھا گیا ہو۔ لیکن دوسرے خط میں جس بات کا ذکر ہے وہ سراسر بے معنی ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ بہت بعد میں لکھا گیا اور پھر ثبوتوں کے مجموعے میں شامل کر دیا گیا۔
’اس کی لکھائی اصل خط میں موجود جیسیکا کی لکھائی سے بالکل مختلف ہے، جو تقریباً ایسی بے ترتیب ہے جیسی بچوں کی ہوتی ہے، دوسرا خط نہایت نفیس اور جڑی ہوئی خطِ تحریر میں لکھا گیا ہے۔‘
جیسیکا نے بی بی سی کو اسی دور کے مزید خطوط دکھائے ہیں، جن کی لکھائی واضح طور پر ایک دوسرے سے مختلف نظر آتی ہے۔
وہ کہتی ہیں: ’اگر میں آہستہ لکھوں تو میری لکھائی صاف ستھری ہو سکتی ہے، لیکن اگر میں جلدی میں ہوں یا غصے میں ہوں تو یہ بالکل مختلف ہو جاتی ہے۔
’یہ خطوط خود بھی میرے لیے کافی شرمندگی کا باعث ہیں، اور اگر میں کوئی بات خود سے گھڑ رہی ہوتی تو ان میں یہ ساری انتہائی ناگوار اور تکلیف دہ تفصیلات شامل نہ ہوتیں۔‘
فرانزک ماہرِ تحریر کیٹ بار نے بی بی سی کو بتایا کہ جیسیکا کی لکھائی ’مختلف ہوتی دکھائی دیتی ہے‘ اور یہ ممکن ہے کہ انھوں نے دونوں خطوط تقریباً ایک ہی وقت میں لکھے ہوں۔

،تصویر کا ذریعہUndercover Policing Inquiry
2015 میں تھیریسا مے کی جانب سے قائم کی جانے والی انڈرکور پولیسنگ انکوائری (یو سی پی آئی) ان الزامات کا جائزہ لے رہی ہے کہ پولیس اہلکاروں نے دھوکے سے خواتین سے جنسی تعلقات قائم کیے، قتل کیے گئے نوجوان سٹیفن لارنس کے خاندان کی جاسوسی کی، وفات پانے والے بچوں کے نام استعمال کیے اور بغیر مناسب جواز کے مختلف گروہوں میں خفیہ طور پر رسائی حاصل کی۔
2024 میں جب کولز گواہی دے رہے تھے، تو ان کی انٹیلیجنس رپورٹس میں خواتین کارکنوں کی ’خوبصورتی‘ سے متعلق حوالوں پر سوالات کیے گئے۔
ان سے پوچھا گیا: ’جن خواتین کے ساتھ آپ اٹھتے بیٹھتے تھے، کیا ان کی جنسی کشش آپ کے ذہن میں رہتی تھی؟‘
کولز نے جواب دیا: ’نہیں، میرے لیے نہیں، لیکن یہ یقیناً ایک ایسی بات تھی جسے نوٹ کیا جاتا تھا۔‘
اس کے بعد اینڈریو کولز سے مختلف گواہوں کے بیانات کے بارے میں سوالات کیے گئے، جن میں سے بہت سے جیسیکا کو جانتے بھی نہیں تھے، لیکن انھوں نے کولز کو ’جنسی کیڑا‘، ’ناگوار شخص‘ اور ’لیچ‘ قرار دیا۔
کچھ گواہوں کا الزام تھا کہ وہ خواتین کا تعاقب کرتے تھے اور ان کی خواہش کے بغیر جنسی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
تین افراد نے بتایا کہ انھوں نے کولز کو اپنی وین میں جیسیکا کے بہت قریب دیکھا تھا، یا انھیں صرف باکسر شارٹس پہنے جیسیکا کے بیڈ روم سے نکلتے ہوئے دیکھا تھا۔
کولز کا کہنا ہے کہ یہ تمام کہانیاں ’مکمل طور پر من گھڑت‘ ہیں۔
وہ مزید کہتے ہیں: ’یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ وہ مجھ سے بدلہ لینا چاہتے ہوں۔‘

اینڈریو کولز کی خفیہ شناخت غیر متوقع طور پر اپنے مشہور بھائی کی وجہ سے بے نقاب ہوئی۔
ان کے بھائی نے اپنی 2014 کی سوانح عمری میں لکھا: ’میرا بڑا بھائی اینڈی اپنا ہی ڈرامہ ساتھ لایا تھا۔
’وہ سپیشل برانچ میں شامل ہو گیا تھا اور انڈر کور ڈیوٹی انجام دے رہا تھا۔ وہ دوہری زندگی گزار رہا تھا، کسی خطرناک تنظیم میں خفیہ طور پر شامل تھا، جبکہ اس کی بیوی اور شیر خوار بیٹی کو اس کی غیر متوقع آمد و رفت کے ساتھ سمجھوتہ کرنا پڑ رہا تھا۔‘
2018 میں انڈرکور پولیسنگ انکوائری (یو سی پی آئی) میں تصدیق کی گئی کہ اینڈریو کولز ہی اینڈی ڈیوی یا خفیہ اہلکار ایچ این 2 تھے۔
کیا انھیں افسوس ہے کہ ان کے بھائی نے یہ باتیں لکھیں؟
کولز کہتے ہیں: ’اگر وہ یہ نہ لکھتے تو شاید میرے لیے آسان ہوتا، لیکن میرے دل میں ان کے لیے کوئی ناراضی نہیں۔ وہ میرے بھائی ہیں اور میں ان سے بہت محبت کرتا ہوں، اس لیے میرے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘
یہ انکشاف جیسیکا کے لیے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوا، جو اس وقت اپنا کاروبار اور ایک آرٹ سٹوڈیو قائم کرنے کے عمل میں تھیں۔
وہ کہتی ہیں: ’میری پوری دنیا بکھر کر رہ گئی۔‘
’انھوں نے اس شخص کو تخلیق کیا، پھر اسے میری زندگی اور میرے بستر تک پہنچا دیا۔ یہ (میرے اعتماد اور نجی زندگی کی) بہت بڑی پامالی تھی۔ ایسا تھا جیسے ریاست نے میرا ریپ کیا ہو۔
’وہ میرے والدین اور میرے دوستوں کی جاسوسی کر رہے تھے۔ اور کس لیے؟ میں تو تنظیم کی صرف ایک کارکن تھی، میرا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں۔۔۔
’اور یہ تمام افسران صرف اس وجہ سے لوگوں پر نظر رکھ رہے تھے کہ وہ مرغیوں کو بچانے کی کوشش کرتے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہMatt Crosswick/PA Wire
2012 میں اینڈریو کولز نے میٹروپولیٹن پولیس چھوڑنے کے بعد پیٹربورو سٹی کونسل میں خدمات انجام دیں اور کیمبرج شائر کے نائب پولیس کمشنر بھی رہے۔
لیکن ان کی خفیہ شناخت سامنے آنے کے بعد شدید ردعمل کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
جیسیکا اور ان کے حامیوں نے ان کے خلاف مہم چلائی، انھیں خواتین کے ساتھ بدسلوکی کرنے والا قرار دیا اور کونسل کے اجلاسوں میں احتجاج کیا۔
کولز کہتے ہیں: ’وہ کونسل کے سربراہ سے ملے، انھوں نے ان فلاحی اداروں کو خطوط لکھے جن سے میرا تعلق ہے اور کہا کہ اس شخص پر اعتماد نہ کریں۔ انھوں نے میرے خلاف پرچے (پمفلٹ) بھی تقسیم کیے۔‘
’یہ سب بہت تھکا دینے والا ہے اور ہمیشہ یہ خطرہ موجود رہتا ہے کہ کوئی آپ کے خلاف تشدد کا راستہ اختیار کر لے۔‘
اینڈریو کولز، جو پیٹربورو کنزرویٹو ایسوسی ایشن کے سابق صدر رہ چکے ہیں، 2024 میں اپنی کونسل نشست ہار گئے تھے اور دو بار انتخاب میں حصہ لے کر بھی کامیاب نہیں ہو سکے۔
جیسیکا کہتی ہیں: ’انھیں کسی ایسے منصب پر نہیں ہونا چاہیے جہاں ان کے پاس اختیار/طاقت ہو۔ جب میرا ان کے ساتھ تعلق تھا تو وہ با اختیار تھے، اور انھوں نے اس اختیار کا بد ترین انداز میں غلط استعمال کیا۔‘
کیا وہ ذاتی انتقام کے تحت یہ سب کر رہی ہیں؟
وہ جواب دیتی ہیں: ’نہیں، اس لیے کہ لوگوں کو یہ جاننا چاہیے، اور میں نہیں چاہتی کہ وہ کسی اور کے ساتھ بھی ایسا کریں۔‘

،تصویر کا ذریعہAcacia Redding/BBC
2019 میں اینڈریو کولز کا جیسیکا سے پیٹربورو کے ایک رہائشی علاقے میں سامنا ہوا۔
جیسیکا کہتی ہیں: ’میں مڑی تو وہ مجھ سے اور میرے ساتھی سے تقریباً 10 فٹ کے فاصلے پر کھڑے تھا۔ انھوں نے کیمرا میرے چہرے کے سامنے کر رکھا تھا، ہماری ویڈیو بنا رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تم جیل جاؤ گی۔
’وہ 30 سال بعد میرے اتنے قریب آئے تھے اور میں وہاں سے نکل جانا چاہتی تھی۔‘
کولز تسلیم کرتے ہیں کہ انھوں نے ایک شخص کے ہاتھ سے ’چند پمفلٹ چھین لیے تھے۔‘
وہ کہتے ہیں: ’میری تشویش یہ تھی کہ وہ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے مواد تقسیم کر رہے تھے۔
’اس کے بعد انھوں نے مجھ پر چوری اور جسمانی نقصان پہنچانے کا الزام لگایا، اور اس وقت پولیس نے مجھ سے تفتیش بھی کی، لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔‘

،تصویر کا ذریعہDorothy Allen Pickard
2017 میں میٹروپولیٹن پولیس نے اینڈریو کولز اور جیسیکا کے مبینہ تعلقات کی تحقیقات کیں۔
ان کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ قائم نہیں کیا گیا، لیکن انھیں بتایا گیا کہ اگر وہ پہلے ہی فورس نہ چھوڑ چکے ہوتے تو انھیں سنگین بد انتظامی کے الزام میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑتا۔
مہم چلانے والے گروپ ’پولیس سپائیز آؤٹ آف لائیوز‘ یعنی پولیس کے جاسوسوں کو اپنی زندگیوں سے دور کرو، کا کہنا ہے کہ خفیہ پولیس اہلکاروں نے 60 سے زیادہ خواتین سے دھوکے سے جنسی تعلقات قائم کیے۔
جیسیکا اور آٹھ دیگر خواتین کو با ضابطہ معذرت نامے موصول ہوئے ہیں اور انھیں لاکھوں پاؤنڈ مالیت کے ہرجانے میں حصہ بھی دیا گیا ہے۔
ان میں سے بعض افسران نے ایک خصوصی رہنما کتاب، ٹریڈکرافٹ مینوئل، سے رہنمائی حاصل کی تھی، جسے اینڈریو کولز نے 1995 میں تحریر کیا تھا۔
اس میں ’جنسی تعلقات‘ کے عنوان کے تحت انھوں نے لکھا تھا: ’اگر آپ کے پاس کسی ویئری [یہ اصطلاح وہ کارکنوں کے لیے استعمال کرتے تھے] کے ساتھ تعلق قائم کرنے کے سوا کوئی اور راستہ نہ ہو، تو آپ کو کوشش کرنی چاہیے کہ یہ تعلق مختصر مدت کا اور ناکام ثابت ہونے والا ہو۔‘

،تصویر کا ذریعہPolice Spies Out of Lives
کیا اینڈریو کولز دوسرے افسران کو ان لوگوں کے ساتھ سیکس کرنے کی ترغیب دے رہے تھے جن کی وہ جاسوسی کر رہے تھے؟
وہ کہتے ہیں: ‘نہیں، میں تعلقات کی بات کر رہا تھا۔ اگر کوئی شخص آپ میں دلچسپی لینے لگے اور یہ تعلق صرف دوستی سے آگے بڑھ جائے تو آپ اسے ختم کرنے کے لیے کچھ کر سکتے ہیں۔‘
تاہم کتاب کے اس حصے کا عنوان ’جنسی تعلقات‘ تھا۔
وہ مزید کہتے ہیں: ’مجھے معلوم ہے، اور جب میں نے یہ دیکھا تو مجھے بھی حیرت ہوئی کیونکہ میرا نہیں خیال کہ یہ الفاظ میں نے لکھے تھے۔‘
اس کے باوجود، اینڈریو کولز سے رہنمائی لینے والے بعض خفیہ افسران کے کارکنوں کے ساتھ طویل عرصے تک جنسی تعلقات رہے۔ کیا وہ خود کو اس کے لیے کسی حد تک ذمہ دار سمجھتے ہیں؟
وہ کہتے ہیں: ’اگر میں ان کی نگرانی اور انتظام کا ذمہ دار ہوتا تو یقیناً، لیکن میں تو صرف انھیں بنیادی تصورات اور طریقہ کار کی تربیت دے رہا تھا۔‘

انگلینڈ کے جنوب میں رہنے والی جیسیکا، جو مہم چلانے کے علاوہ گنی پگز کی نگہداشت بھی کرتی ہیں، کہتی ہیں کہ کولز کے ساتھ ان کے تعلقات کے اثرات ان کی زندگی پر ہمیشہ رہیں گے۔
وہ کہتی ہیں: ’مجھے ایسا لگتا ہے جیسے یہ میری سچائی اور دیانت پر حملہ ہے۔ مجھے یہ جدوجہد جاری رکھنی ہے، کیونکہ ایسا کسی اور کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے۔‘
کیا جیسیکا کبھی کولز کے ذہن میں آتی ہیں؟
وہ کہتے ہیں: ’میں ان کے بارے میں نہیں سوچتا۔ یہ میرے ماضی کا ایک بہت پرانا اور دور کا باب ہے۔ آج اس کی کوئی اہمیت نہیں۔‘
انڈرکور پولیسنگ انکوائری اپنے طے شدہ شیڈول سے کئی سال پیچھے چل رہی ہے اور اب تک اس کے اختتام کی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔
توقع ہے کہ اگلے سال اس کے سبکدوش ہونے والے چیئرمین، سر جان مِٹنگ، اس بارے میں فیصلہ دیں گے کہ اینڈریو کولز یا جیسیکا میں سے کون سچ بول رہا ہے۔




















