دینی مدارس میں ریپ اور جنسی ہراسانی کے بڑھتے واقعات: ’ریپ کے بعد میرے بیٹے کے سر پر قرآن رکھ کر قسم لی کہ والدین کو کچھ نہیں بتانا‘

- مصنف, تفسیر بابو
- عہدہ, بی بی سی نیوز بنگلہ، ڈھاکہ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 14 منٹ
انتباہ: اس خبر میں شامل بعض تفصیلات کُچھ قارعین کے لیے تکلیف کا باعث بن سکتی ہیں۔
’میرے بیٹے نے ایک ایک شخص کا نام لے کر سب کچھ بتایا۔ کس نے اسے بیت الخلا میں لے جا کر، کس نے اسے بستر پر کا اس کا ریپ کیا اور کس کس استاد نے اُس کے ساتھ کیا کیا، اس نے مُجھ سے کُچھ نہیں چھپایا۔‘
نجی شعبے میں ملازمت کرنے والے خیرالبشار (فرضی نام) اپنے سات سالہ بیٹے کے ساتھ ریپ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔
چھ ماہ قبل خیرالبشار نے اپنے بیٹے کو مقامی دینی مدرسے میں اس امید کے ساتھ داخل کروایا تھا کہ وہ حافظِ قرآن بنے گا۔
لیکن ان کے بقول اسی مدرسے میں ان کے کم عمر بیٹےکا ریپ کیا گیا۔
خیرالبشار کا کہنا ہے کہ ’ان کا بیٹا شدید تکلیف میں تھا اور بہت رویا۔‘ ان کے مطابق بچہ بستر پر اس حالت میں پڑا تھا کہ اس کے لیے اٹھنا بھی مشکل تھا، لیکن تقریباً آدھے گھنٹے بعد دوبارہ اس کا ریپ کیا گیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ان کا بیٹا درد کی وجہ سے فجر کی نماز کے لیے بھی نہیں اٹھ سکا۔
خیرالبشار کے خاندان کا الزام ہے کہ بچے کے ساتھ ریپ اور جنسی ہراسانی کا یہ سلسلہ مدرسے کے عمر میں بڑے چند طلبہ نے شروع کیا، جس میں بعد میں ایک استاد بھی شامل ہو گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
خاندان کے مطابق بچے نے خود کو اس سلوک سے بچانے کے لیے مدرسے کے ایک سینئر استاد کو شکایت بھی کی، لیکن اسے کوئی تحفظ نہیں ملا۔
خیرالبشار کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے نے جب اس استاد کو بتایا کہ اس کے کپڑے اتار کر اسے ریپ کا نشانہ بنایا گیا ہے تو استاد نے مدد کرنے کے بجائے بچے کو کئی تھپڑ مارے۔
خیرالبشار نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ ’استاد نے کہا کہ یہ بات چار دیواری سے باہر نہیں جانی چاہیے۔ اس نے میرے بیٹے کے سر پر قرآن شریف رکھ کر قسم بھی دلوائی کہ وہ اپنے والدین کو بھی کچھ نہیں بتائے گا۔‘
اس کے بعد بچہ خوف کے باعث اپنے ساتھ ہونے والے واقعات کے بارے میں گھر والوں کو کچھ نہ بتا سکا۔ خاندان کو اس ریپ کا علم تقریباً چھ ماہ بعد ہوا۔
خیرالبشار کے مطابق مدرسے میں داخلے کے پہلے 20 دن ان کا بیٹا ٹھیک رہا، لیکن اس کے بعد وہ رات کو خوف کے باعث سو نہیں پاتا تھا۔
وہ بتاتے ہیں کہ جب بچہ رات کو اس استاد کو اٹھتے دیکھتا تو خود کو بچانے کے لیے مدرسے کے ایک سینئر استاد کے بستر کے نیچے جا کر چھپ جاتا۔ صبح تقریباً تین بجے جب سب کو جگایا جاتا تو وہ واپس اپنے بستر پر آتا۔
خیرالبشار کہتے ہیں کہ ان کے بیٹے کے ساتھ طلبہ اور اساتذہ دونوں نے مبینہ طور پر ریپ کیا اور اس کی زندگی کو شدید نقصان پہنچایا۔
اس واقعے پر خیرالبشار کی اہلیہ بھی شدید صدمے سے دوچار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بیٹے کو مدرسے میں داخل کروانے کے فیصلے پر اب انھیں بہت افسوس ہے۔
خیرالبشار نے غصے اور دکھ کے ساتھ کہا کہ ’میں اپنے بیٹے پر ہر رات گزرنے والی اذیت کو چھ ماہ تک برداشت کیے جانے کا تو سوچ بھی نہیں سکتا، چاہے اس کے بدلے مجھے پوری دنیا ہی کیوں نہ مل جائے۔ جس نے بھی میرے بیٹے کے ساتھ یہ سب کیا میں اسے انصاف کے کٹہرے میں لاؤں گا۔‘
خیرالبشار کے مطابق انھوں نے اس واقعے کے سلسلے میں 26 اگست کو مقدمہ درج کروایا۔ مقدمے میں 10 افراد کو نامزد کیا گیا، جن میں سے دو مدرسے کے اساتذہ سمیت پانچ افراد جیل میں ہیں۔ ان کے مطابق، دو ملزمان ضمانت پر ہیں جبکہ تین فرار ہیں۔

بنگلہ دیش میں خیرالبشار کے بیٹے کے ساتھ پیش آنے والا مبینہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں۔ حالیہ دنوں میں ملک کے مختلف ذرائع ابلاغ میں دینی مدارس میں لڑکوں کے ساتھ پیش آنے والے جنسی ہراسانی کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
ان واقعات کے بعد یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ دینی مدارس میں بچوں کے ساتھ ریپ اور جنسی ہراسانی کے کا مسئلہ کس حد تک پھیلا ہوا ہے اور ایسے واقعات اکثر سامنے کیوں نہیں آتے؟
دینی مدارس میں بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر انتظامات نہ ہونے پر بھی طویل عرصے سے تنقید کی جاتی رہی ہے۔
اسی دوران، تقریباً تین ہفتے قبل بنگلہ دیش میں دینی مدارس کے اعلیٰ ترین بورڈ نے طلبہ کو مار پیٹ کے ذریعے سزا دینے پر مکمل پابندی عائد کرنے کی ہدایت جاری کی۔
یہ ہدایات ’الہیات العلیا للجامعات القومیہ بنگلہ دیش‘ نامی ادارے نے جاری کیں، جو ملک کے چھ دینی مدرسہ بورڈز کی نگرانی کرتا ہے۔
ادارے نے یہ بھی تجویز دی کہ ہر مدرسے میں طلبہ کے تحفظ کے لیے ایک کمیٹی قائم کی جائے یا پہلے سے موجود کمیٹی کو دوبارہ فعال کیا جائے، تاکہ بچوں کے ساتھ مناسب سلوک یقینی بنایا جا سکے۔
مدارس سے وابستہ افراد کا خیال ہے کہ ان اقدامات کے ذریعے طلبہ کے ساتھ ریپ، ہراسانی، مار پیٹ اور دیگر نامناسب سلوک جیسے مسائل سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔
’ہم سب جانتے تھے کہ دینی مدارس میں ایسا ہوتا ہے‘
فیروز کریم (فرضی نام) کو ان کے خاندان نے سنہ 2003 میں ایک دینی مدرسے میں داخل کروایا تھا۔ اس وقت ان کی عمر صرف سات سال تھی۔
فیروز کریم کہتے ہیں کہ ’میری والدہ کی منت تھی کہ وہ مجھے قرآن حفظ کروائیں گی اور حافظ بنائیں گی۔ اسی لیے مجھے مدرسے میں داخل کروایا گیا۔‘
داخلے کے کچھ ہی عرصے بعد انھیں ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کے بقول انھیں بہانے سے مدرسے کی چھت پر بلایا گیا جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’چھت پر ایک کمرہ تھا، جہاں ایک بستر بھی تھا۔ تین طلبہ نے میرے دونوں ہاتھ باندھ دیے اور میرا ریپ کیا۔‘
فیروز کریم کے مطابق اس واقعے میں انھیں جسم کے مخصوص حصے پر شدید چوٹیں آئیں۔ وہ اس وقت بہت چھوٹے تھے اور انھیں اس قدر ڈرایا دھمکایا گیا کہ وہ خوف زدہ ہو گئے اور کسی کو کچھ نہ بتا سکے۔
اس واقعے کے کچھ عرصے بعد پڑھائی میں خاطر خواہ بہتری نہ آنے پر ان کے خاندان نے انھیں ایک دوسرے دینی مدرسے میں داخل کروا دیا۔ لیکن وہاں بھی انھیں ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس بار الزام ایک استاد پر ہے۔
فیروز کریم بتاتے ہیں کہ ’استاد نے مجھے سیون اَپ میں کوئی چیز ملا کر پلائی۔ ان کے کمرے میں وہ مشروب پینے کے بعد مجھے کچھ یاد نہیں۔ جب دوبارہ آنکھ کھلی تو میں اپنے بستر پر تھا۔ میری کمر کے پچھلے حصے پر کافی چوٹیں تھیں اور تھوڑا خون بھی بہہ رہا تھا۔‘
دو مختلف مدارس میں پیش آنے والے ان واقعات کا صدمہ وہ آج بھی اپنے ساتھ لیے ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے خاندان کو بھی کبھی ان واقعات کے بارے میں نہیں بتا سکے۔
فیروز کریم کے بقول ’جب سے میں مدرسے میں داخل ہوا تھا، مُجھے معلوم تھا کہ طلبہ کے درمیان ایسا ہوتا ہے۔ بڑے طلبہ چھوٹوں کے ساتھ یہ سب کرتے ہیں اور اساتذہ بھی ایسا کرتے ہیں۔ لیکن شرم، خوف اور دباؤ کی وجہ سے یہ باتیں باہر نہیں آ پاتیں۔‘
کیا مدارس کا رہائشی نظام ہی مسئلے کی وجہ ہے؟
حالیہ دنوں میں دینی مدارس میں لڑکوں کے ساتھ ریپ اور جنسی ہراسانی کے یکے بعد دیگرے واقعات سامنے آنے کے بعد ان واقعات کی تفصیلات جمع کرنے کے لیے دینی مدارس کے دو سابق طلبہ نے ایک ویب سائٹ بنائی ہے۔
ان میں سے ایک، صلاح الدین جہانگیر نے بی بی سی بنگلہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کے خیال میں مسئلے کی ایک بڑی وجہ مدارس کا رہائشی نظام ہے، جہاں طلبہ کو مدرسے ہی میں رہنا پڑتا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’میری معلومات، میرے دوستوں اور ان لوگوں کی باتوں سے جو خود اس کا شکار رہے ہیں، یہ واضح ہوتا ہے کہ ریپ اور جنسی ہراسانی کا یہ مسئلہ تقریباً ہر دینی مدرسے میں موجود ہے۔ ان سب کے حالات تقریباً ایک جیسے ہیں۔ جہاں اس طرح کا رہائشی نظام اور ماحول ہوگا، وہاں یہ مسئلہ پیدا ہونے کا خدشہ بھی رہے گا۔‘
صلاح الدین جہانگیر کے مطابق بچوں کے ساتھ ریپ کے واقعات زیادہ تر ابتدائی جماعتوں، خصوصاً حفظ کے شعبوں میں پیش آتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اس سے ایک نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو بچے خود تشدد اور ریپ کا شکار ہوتے ہیں، ان میں سے بعض بڑے ہو کر دوسروں کے ساتھ بھی ایسا کرنے لگتے ہیں۔ اب اگرچہ یہ واقعات کسی حد تک سامنے آ رہے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ایسا بہت پہلے سے ہوتا آ رہا ہے، بس شاید پہلے یہ واقعات اس طرح منظرِ عام پر نہیں آتے تھے۔‘
صلاح الدین جہانگیر نے اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر ’آواز ڈاٹ بی ڈی‘ کے نام سے ویب سائٹ بنائی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد خاص طور پر دینی مدارس میں ریپ اور جنسی ہراسانی کا شکار ہونے والے افراد کی کہانیاں سامنے لانا ہے۔ اس ویب سائٹ پر متاثرین اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر بھی اپنے واقعات درج کروا سکتے ہیں۔‘
ویب سائٹ شروع ہونے کے پہلے دس دنوں میں متاثرین نے اس پر 170 واقعات درج کروائے، جن میں سے 30 کا تعلق دینی مدارس سے تھا۔

ریپ کے واقعات سامنے کیوں نہیں آتے اور مسئلہ کہاں ہے؟
دیکھا گیا ہے کہ بہت سے دینی مدارس میں ریپ اور جنسی ہراسانی کے واقعات کے بارے میں ذاتی طور پر لوگوں کو علم ہوتا ہے، لیکن اکثر ان واقعات سے انکار کر دیا جاتا ہے یا انھیں منظرِ عام پر آنے نہیں دیا جاتا۔ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اور ان واقعات کو بار بار پیش آنے سے کیوں نہیں روکا جا رہا؟
دینی مدارس کے سابق اور موجودہ طلبہ، اساتذہ، والدین اور خود اس ظلم کا شکار ہونے والے افراد سمیت مختلف لوگوں سے بات چیت کے دوران اس کی چند وجوہات سامنے آئی ہیں۔
مدارس سے وابستہ افراد کا خیال ہے کہ اگر ریپ اور جنسی ہراسانی کے واقعات سامنے آ گئے تو مذہبی ادارے کی بدنامی ہوگی۔ اس کے نتیجے میں عطیات ملنا بند ہو سکتے ہیں یا طلبہ کے داخلوں پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
اسلامی موضوعات پر لکھنے والے اور سماجی کارکن صلاح الدین جہانگیر کے مطابق اسی وجہ سے ایسے واقعات پیش آنے پر اکثر انھیں نظرانداز کرنے یا دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ خصوصاً پولیس سے رجوع کرنے یا قانونی کارروائی کرنے جیسے اقدامات شاذ و نادر ہی کیے جاتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یا تو واقعے کو دبا دیا جاتا ہے یا پھر معمولی سزا دے کر متعلقہ استاد یا طالب علم کو مدرسے سے نکال دیا جاتا ہے۔ یہ کوئی بڑی سزا نہیں ہے۔ اگر ایسے معاملات میں پولیس کے حوالے کرنے کا رواج ہوتا تو شاید ان واقعات میں کمی آتی، کیونکہ سزا نہ ہو تو جرائم ہوتے ہی رہتے ہیں۔‘
صلاح الدین جہانگیر مزید کہتے ہیں کہ ’وہ یہ سوچ کر ان واقعات پر بات نہیں کرتے کہ اس سے مذہبِ اسلام کو نقصان پہنچے گا، لیکن وہ یہ نہیں سوچتے کہ خاموش رہنے کی وجہ سے ہزاروں مزید لڑکوں کی زندگیاں تباہ ہو رہی ہیں۔‘
نگرانی کرنے والا کوئی نہیں
اس مسئلے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ دینی مدارس میں ایسے معاملات کی نگرانی کرنے کے لیے کوئی مخصوص اور بااختیار ادارہ موجود نہیں۔
اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ دینی مدارس حکومت کے زیرِ انتظام نہیں ہیں اور اپنے معاملات خود چلاتے ہیں۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ دینی مدارس کے اپنے بورڈز میں بھی کسی ایک ادارے کو تمام مدارس پر مکمل اختیار حاصل نہیں۔ ملک میں دینی مدارس کم از کم چھ مختلف بورڈز کے تحت کام کرتے ہیں۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ ان بورڈز کی بنیادی ذمہ داری تعلیمی سرگرمیوں، نصاب اور امتحانات کی نگرانی کرنا ہے۔ اس کے علاوہ بدعنوانی، بے ضابطگیوں یا جنسی ہراسانی جیسے معاملات کی باقاعدہ نگرانی نہیں کی جاتی۔ بورڈز کے پاس اس کام کے لیے مطلوبہ عملہ بھی موجود نہیں۔
اس بارے میں دینی مدارس کے سب سے بڑے بورڈ، ’وفاق المدارس العربیہ بنگلہ دیش‘ کے نائب صدر مصلح الدین راجو نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ ’ایسے واقعات پیش آنے پر بورڈ کارروائی کرتا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’ایک دو جگہ ایسے واقعات پیش آتے ہیں تو ہم فوری طور پر کارروائی کرتے ہیں۔ بعض لوگ مقدمہ بھی درج کرواتے ہیں۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ معاملہ بورڈ تک پہنچنے سے پہلے ہی مدرسے کی انتظامیہ کمیٹی، مقامی لوگوں یا علاقے کے رہائشیوں کی جانب سے کارروائی کر دی جاتی ہے۔‘
تاہم، مقامی سطح پر جس کارروائی کا ذکر کیا جاتا ہے، اس میں عموماً ملزم کو مارنا پیٹنا یا اگر وہ طالب علم ہو تو اسے مدرسے سے نکال دینا شامل ہے۔ اگر ملزم استاد ہو تو اسے ملازمت سے برطرف کر دیا جاتا ہے۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مبینہ طور پر ریپ کرنے والے افراد باآسانی کسی دوسرے مدرسے میں ملازمت یا داخلہ حاصل کر سکتے ہیں۔
وفاق المدارس العربیہ کے نائب صدر مصلح الدین راجو کا کہنا ہے کہ ’بورڈ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بعض تبدیلیاں لانے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔‘
’ان میں سب سے اہم اقدام مدارس میں طلبہ کے تحفظ کے لیے کمیٹیاں قائم کرنا ہے۔ اس سلسلے میں بورڈ کی جانب سے ہدایات بھی جاری کی جا چکی ہیں۔‘

الہیات العلیا نے بتایا ہے کہ ’اس ہدایت نامے کو 12 ستمبر کو ادارے کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں حتمی شکل دی گئی۔ ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص واقعی کسی جرم یا غیر اخلاقی عمل میں ملوث ہو تو اس کی شفاف تحقیقات اور قانون کے مطابق انصاف یقینی بنایا جائے اور کسی بھی صورت میں مجرم کی سرپرستی نہ کی جائے۔‘
اس ہدایت نامے میں بنیادی طور پر چار امور پر توجہ دی گئی ہے، طلبہ کو سزا دینے کی حدود کا تعین، اصلاحی سرگرمیوں کو مضبوط بنانا، طلبہ کے تحفظ کی کمیٹیوں کو فوری طور پر فعال کرنا اور مدارس کے خلاف مبینہ منفی پروپیگنڈے کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنا۔
طلبہ کو سزا دینے کی شرعی حدود سے متعلق ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ سزا دینے کا واحد مقصد طالب علم کی اصلاح اور اس کی بھلائی ہونا چاہیے، نہ کہ انتقام لینا۔
ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ ’غصے کی حالت میں کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی۔ تادیبی کارروائی مرحلہ وار ہونی چاہیے۔ پہلے نرمی سے تنبیہ کی جائے، ضرورت پڑنے پر معمولی سرزنش کی جائے اور اس کے بعد سختی سے سمجھایا جائے۔ اگر یہ سب کافی نہ ہو تو آخری مرحلے میں والدین کو بلا کر تحریری طور پر آگاہ کیا جائے اور ان کی موجودگی میں ضروری کارروائی کی جائے۔ کسی بھی صورت میں طالب علم یا طالبہ کو سزا کے طور پر مارنا پیٹنا منع ہے۔ اس پر مکمل پابندی ہے۔‘
ہدایت نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’لاٹھی، چھڑی یا کسی دوسرے آلے سے مارنا، چہرے، سر یا جسم کے حساس حصوں پر ضرب لگانا اور ایسی کوئی سزا دینا جس سے ہڈی ٹوٹے، خون نکلے یا جسم پر نشان پڑیں، مکمل طور پر ممنوع ہے۔‘
’اسی طرح سب کے سامنے بے عزت کرنا، گالیاں دینا، توہین آمیز الفاظ استعمال کرنا، نفرت انگیز القابات سے پکارنا اور کسی بھی قسم کا ذہنی تشدد بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔‘
ہدایت نامے کے مطابق ان حدود کی خلاف ورزی کرنے والے استاد یا استانی کو شرعی اصولوں اور قواعد و ضوابط، دونوں کے تحت جواب دہ ہونا پڑے گا۔
اصلاحی سرگرمیوں کو مضبوط بنانے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ہر مدرسے میں اساتذہ اور طلبہ کے لیے باقاعدگی سے اصلاحی نشستیں منعقد کی جائیں۔ نئے تعینات ہونے والے اساتذہ کے لیے تربیتی نشستوں میں شرکت لازمی ہو اور والدین کے اجتماعات بھی منعقد کیے جائیں، تاکہ کسی بھی مسئلے کا علم جلد از جلد مدرسے کی انتظامیہ کو ہو سکے۔
مدارس میں اصلاحی سرگرمیوں کے ذریعے طلبہ کو اپنی اصلاح، کردار سازی اور روحانی تربیت کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف تربیتی ورکشاپس، تعلیمی نشستیں، اسلامی لٹریچر کا مطالعہ اور خصوصی خطابات منعقد کیے جاتے ہیں۔
طلبہ کے تحفظ سے متعلق ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ ہر مدرسے میں تحفظ کی کمیٹی قائم کی جائے یا پہلے سے موجود کمیٹی کو دوبارہ فعال بنایا جائے۔ کسی بھی شکایت کو کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کا موقع ہونا چاہیے اور سات دن کے اندر تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔
ہدایت نامے کے مطابق، اگر یہ ثابت ہو کہ کسی مدرسے میں تحفظ کی کمیٹی موجود نہیں یا غیر فعال ہے تو اس مدرسے کی بورڈ سے وابستگی معطل یا منسوخ کی جا سکتی ہے۔
ہدایت نامے میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ ہر مدرسہ بورڈ میں نگرانی کے لیے الگ سیل قائم کیا جائے اور ہر بورڈ کی سطح پر علیحدہ ہیلپ لائن شروع کی جائے۔
اس کے علاوہ اساتذہ اور دیگر عملے کی بھرتی میں احتیاط برتنے، شکایت موصول ہوتے ہی غیر جانب دارانہ تحقیقات شروع کرنے اور جھوٹے الزامات یا میڈیا ٹرائل کا سامنا کرنے والے بے گناہ افراد اور اداروں کو قانونی چارہ جوئی میں مدد فراہم کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔
دینی مدارس کے بورڈ کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بنگلہ دیش میں مختلف مدارس میں طلبہ کے ساتھ ریپ، جنسی استحصال اور جسمانی تشدد کے واقعات یکے بعد دیگرے منظرِ عام پر آئے ہیں۔
بورڈ کا خیال ہے کہ طلبہ کے تحفظ کی کمیٹیاں قائم ہونے اور ان ہدایات پر عمل درآمد سے ایسا باقاعدہ نظام بن سکے گا جس کے تحت طلبہ اپنی شکایات درج کروا سکیں گے اور ان کے ازالے کے لیے کارروائی کی جا سکے گی۔
الہیات العلیا کی انتظامی کمیٹی کے رکن مصلح الدین راجو نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ ’بورڈ نے ہر بورڈ میں الگ نگرانی سیل قائم کرنے اور علیحدہ ہیلپ لائن شروع کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔‘
ان کے مطابق ’پالیسی میں اساتذہ اور عملے کی بھرتی میں احتیاط، شکایت ملتے ہی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور جھوٹے الزامات یا میڈیا ٹرائل کا سامنا کرنے والے بے گناہ افراد اور اداروں کے لیے قانونی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کرنے کی ہدایات بھی شامل ہیں۔‘
حکومت کیا کہتی ہے؟
بنگلہ دیشی قانون کے تحت لڑکوں کا جنسی استحصال اور بدسلوکی قابلِ سزا جرائم ہیں، تاہم لڑکوں کے ساتھ مخصوص نوعیت کے جنسی استحصال کو خواتین اور بچوں پر تشدد کی روک تھام کے قانون میں واضح طور پر 2025 میں شامل کیا گیا۔
اس کے باوجود یہ الزامات سامنے آتے رہے ہیں کہ خصوصاً دینی مدارس میں ایسے واقعات کو چھپانے یا معمولی سزا دے کر معاملہ دبانے کا رجحان پایا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ متاثرہ بچوں کے خاندان کمزور سماجی حیثیت یا مذہبی دباؤ کے باعث اکثر قانونی کارروائی سے گریز کرتے ہیں اور بعض اوقات واقعات کو منظرِ عام پر بھی نہیں لانا چاہتے۔
بی بی سی بنگلہ نے یہ جاننے کے لیے وزیرِ تعلیم اور تعلیم کے مشیر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی کہ تعلیمی اداروں، خصوصاً دینی مدارس میں لڑکوں کے جنسی استحصال کی روک تھام کے لیے حکومت کیا اقدامات کر رہی ہے، لیکن ان کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔
تاہم، ابتدائی اور عوامی تعلیم کے نائب وزیر بابی حجاج نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگرچہ دینی مدارس براہِ راست حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہیں، لیکن حکومت ان کی نگرانی کا نظام قائم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’حکومت کی جو ذمہ داری ہے، وہ اسے پوری طرح ادا کرے گی۔ اس لیے تمام تعلیمی ادارے حکومتی نگرانی کے دائرے میں آئیں گے۔‘
یہ پوچھے جانے پر کہ ایسا کب تک ممکن ہو سکے گا؟ نائب وزیر نے کہا کہ اس میں وقت لگے گا۔
ان کے بقول ’نگرانی کی یہ صلاحیت اور ایک ضابطہ بنانے میں وقت لگے گا۔ ہم سنہ 2028 سے سرکاری اور نجی، دونوں شعبوں کے تعلیمی اداروں کی نگرانی شروع کر رہے ہیں۔ اس کے بعد ہمارا منصوبہ مدارس کی سطح تک پہنچنے کا ہے۔ لیکن مدارس کی تعداد بہت زیادہ ہے اور مختلف شعبوں میں مشکلات بھی الگ الگ ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس کام پر مامور افراد کو بھی تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ انہی معاملات کو درست کرنے کے لیے ہم وقت لے رہے ہیں۔‘




















