آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کوشش کیے بغیر زیادہ ورزش کیسے کی جا سکتی ہے؟
- مصنف, میلیسا ہوگن بوم
- عہدہ, سینیئر نامہ نگار برائے ہیلتھ، بی بی سی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
روزمرہ کی ایسی جسمانی سرگرمی جو غیر ارادی طور پر کی جائے، دل کی بیماریوں اور حتیٰ کہ موت کے خطرے کو بھی کم کر سکتی ہے۔ آپ اسے میٹنگ کے دوران، پرواز میں یا یہ مضمون پڑھتے ہوئے بھی آزما سکتے ہیں۔
پورا دن بیٹھے بیٹھے گزار دینا بہت آسان ہے۔ پہلے دفتر میں اپنی میز پر، پھر شاید گاڑی میں، اور اس کے بعد چند گھنٹے صوفے پر۔
دیکھتے ہی دیکھتے رات کا کھانا کھانے کا وقت آ جاتا ہے اور آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ نے سارا دن کوئی ورزش ہی نہیں کی۔
دنیا بھر میں ہونے والی کئی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ساکن (یا غیر فعال) طرزِ زندگی سنگین صحت کے مسائل میں اضافہ کر سکتا ہے۔ اس لیے بیٹھے رہنے کے وقت کو کم کرنے کے لیے ہم جو بھی اقدامات کریں، وہ ہماری مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں۔
لیکن اس کے لیے وقت نکالنا مشکل ہو سکتا ہے۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں اتفاقی ورزش (یعنی باقاعدہ ورزش کے علاوہ روزمرہ زندگی میں ہونے والی جسمانی حرکت) کام آتی ہے۔
اسے ’نان ایکسرسائز ایکٹیویٹی تھرموجینیسیس‘ یا این ای اے ٹی بھی کہا جاتا ہے۔ نیوزی لینڈ کی آکلینڈ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے تحقیقی فیلو اننتھا نارائنن کے مطابق اس سے مراد جسمانی حرکت کے ذریعے استعمال ہونے والی وہ تمام توانائی ہے جو سونے، کھانے یا باقاعدہ ورزش کے علاوہ ہو۔
اتفاقی ورزش اتنی سادہ بھی ہو سکتی ہے جیسے بیٹھے ہوئے ٹانگ ہلانا یا برتن دھونا۔ نارائنن کہتے ہیں: ’جسم کی پوزیشن بدلنا، کندھوں کو گھمانا یا پاؤں موڑنا جیسی چھوٹی حرکات بھی ورزش میں شمار ہوتی ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اتفاقی ورزش ہماری صحت کے تحفظ کا ایک حیرت انگیز طور پر مؤثر ذریعہ بن کر سامنے آ رہی ہے، جو زیادہ کیلوریز جلانے، دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے اور یہاں تک کہ موت کے خطرے میں بھی کمی لانے میں مدد دیتی ہے۔
ایک بار جب ہمیں اس ’اتفاقی سرگرمی‘ کا شعور ہو جائے تو ہم طرزِ زندگی میں چند سادہ تبدیلیوں کے ذریعے اسے اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا سکتے ہیں۔
ذیل میں ایسی چند تجاویز دی گئی ہیں۔
اضطراب اور بے چینی کے عالم میں ہاتھ پاؤں ہلانا
بچپن سے ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ بے چینی میں ہاتھ پاؤں نہ ہلائیں کیونکہ اسے بوریت اور عدم توجہ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس مشورے کو نظر انداز کرنے کی کئی وجوہات موجود ہیں۔
طویل عرصے تک بیٹھے رہنے کے دوران ہماری ٹانگوں کے عضلات نسبتاً غیر فعال رہتے ہیں۔ نارائنن کے مطابق اس سے پٹھوں کی وہ حرکات کم ہو جاتی ہیں جو خون میں موجود گلوکوز کو کم کرنے اور خون کی روانی کو بہتر رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔
حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہاتھ پاؤں ہلانے سے عضلات کی سرگرمی بڑھتی ہے اور اس طرح پُر سکون بیٹھے رہنے کے مقابلے میں زیادہ کیلوریز جلتی ہیں۔
نارائنن کہتے ہیں: ’اس سے پہلے کی گئی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹانگ ہلانا خون کی نالیوں کی کارکردگی برقرار رکھنے اور خون میں شوگر کے کنٹرول کو بہتر بنانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔‘
اگر یہ عمل کھڑے ہو کر کیا جائے تو فوائد مزید بڑھ سکتے ہیں۔
اسی طرح ایک چھوٹے پیمانے پر کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا کہ عادتاً ٹانگ ہلانے والے افراد ساکت بیٹھنے والوں کے مقابلے میں تقریباً 16 فیصد زیادہ توانائی خرچ کرتے ہیں۔
بار بار حرکت کریں
باقاعدہ ورزش کے برعکس، اتفاقی جسمانی حرکت کے لیے نہ جم کی رکنیت درکار ہوتی ہے اور نہ ہی مخصوص وقت نکالنا ضروری ہوتا ہے۔
ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ روزمرہ کے گھریلو کام بھی بیٹھے رہنے کے وقت کو کم کر سکتے ہیں۔ کھانا پکانا، باغبانی کرنا اور ویکیوم کلینر چلانا بھی اتفاقی ورزش کی اقسام ہیں۔
صحت بہتر کرنے کے لیے گھنٹوں حرکت کرنا ضروری نہیں۔ 2024 کی ایک تحقیق کے مطابق روزانہ صرف چار منٹ کی مختصر اتفاقی جسمانی سرگرمی، جس کا ہر دورانیہ ایک منٹ سے کم ہو، بیٹھے رہنے سے پیدا ہونے والے دل کی بیماریوں کے اضافی خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
اس تحقیق میں محققین نے برطانیہ کے 22000 سے زیادہ افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا، جنھوں نے ایسا آلہ پہن رکھا تھا جو دن بھر ان کی جسمانی حرکت کو ریکارڈ کرتا تھا۔ تحقیق صرف ان افراد تک محدود تھی جو باقاعدگی سے ورزش نہیں کرتے تھے۔
شرکا کا آٹھ سال تک مشاہدہ کیا گیا۔ محققین کو معلوم ہوا کہ زیادہ اتفاقی سرگرمی صحت کو لاحق ان خطرات کو کم کر سکتی ہے جو روزانہ 11، 11 گھنٹے بیٹھے رہنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ بعد کی تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اتفاقی سرگرمی قبل از وقت موت کا خطرہ بھی کم کر سکتی ہے۔
اس تحقیق کی قیادت کرنے والے آسٹریلیا کی موناش یونیورسٹی کے سینیئر تحقیقی فیلو نکولس کومیل کہتے ہیں کہ ان سرگرمیوں میں سیڑھیاں چڑھنا، بھاری شاپنگ بیگ اٹھانا یا بچوں کے ساتھ کھیلنا شامل ہو سکتا ہے۔
کومیل کے مطابق اگر ہم ان مواقع پر توجہ دیں جو دن بھر ہماری جسمانی حرکت میں اضافہ کر سکتے ہیں تو ہم ان سرگرمیوں کو بڑھا بھی سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے معمول سے زیادہ تیز چلنا یا خریداری کے لیے جاتے وقت گاڑی کچھ فاصلے پر کھڑی کرنا۔ اور جب آپ خریداری کر رہے ہوں تو ٹرالی کی بجائے ٹوکری استعمال کرنے پر غور کریں۔ ممکن ہے آپ کو احساس بھی نہ ہو اور چند کلو سامان اٹھا کر چلنے سے آپ کے پٹھے مضبوط ہو رہے ہوں۔
ایک عادت کے ساتھ نئی عادت جوڑنا
برطانیہ کی لافبرو یونیورسٹی میں بیہیویئرل میڈیسن کی پروفیسر امانڈا ڈیلی کہتی ہیں کہ جب آپ فٹنس کے لیے کوئی بڑا ہدف مقرر کریں تو بعض اوقات یہ آپ کو خوف زدہ کر سکتا ہے، اس لیے دن بھر حرکت بڑھانے کی ایک اور حکمتِ عملی یہ ہو سکتی ہے کہ آپ ایسی سرگرمی کو پہلے سے موجود کسی عادت کے ساتھ جوڑ دیں۔
اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ آپ کسی ایسی سرگرمی میں کچھ جسمانی حرکت شامل کریں جو آپ پہلے ہی کر رہے ہوں۔ مثال کے طور پر دانت صاف کرتے وقت پنڈلی کو اوپر اٹھانے کی ورزش کریں، میز کے نیچے اپنی ٹانگیں ہلائیں یا فون کال کے دوران بیٹھنے کے بجائے چہل قدمی کریں۔
امانڈا ڈیلی کہتی ہیں کہ ان کے گھر میں ایک اصول ہے کہ آن لائن منگوایا گیا ہر پارسل گھر پہنچانے کے بجائے قریبی لاکر میں پہنچایا جاتا ہے۔
’اگر ہمیں کچھ چاہیے تو جا کر خود لینا پڑتا ہے۔ یہ نوجوانوں کو ان کے کمروں سے باہر نکالنے اور ان کے دن میں کچھ واک شامل کرنے کا بھی اچھا طریقہ ہے۔‘
ہم کام کے دن میں بھی نئی عادات شامل کر سکتے ہیں۔ ایک تحقیق میں ڈیلی اور ان کے ساتھیوں نے ڈاکٹروں کو کھڑے ہو کر کام کرنے والی میزیں فراہم کیں۔
اس سے ان کے بیٹھے رہنے کا وقت، روزانہ کی بنیاد پر تقریباً دو گھنٹے کم ہو گیا۔ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس اقدام نے ڈاکٹروں کو اپنے مریضوں سے بیٹھے رہنے کے وقت میں کمی کے فوائد پر زیادہ گفتگو کرنے کی ترغیب دی۔
ڈیلی کہتی ہیں: ’اتفاقی سرگرمی جسمانی طور پر متحرک رہنے کا وقت بچانے والا طریقہ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ اس کے لیے ہمیشہ الگ سے بہت زیادہ وقت نکالنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ ضروری ہے کہ ایسے طریقے تلاش کیے جائیں جو کم خوف ناک محسوس ہوں اور جن پر عمل کرنا آسان ہو۔‘
نکولس کومیل کے مطابق سب سے اچھی بات یہ ہے کہ جتنی زیادہ اتفاقی سرگرمی آپ دن بھر کرتے ہیں، وقت کے ساتھ وہ اتنی ہی زیادہ شعوری اور مستقل عادت بن سکتی ہے۔
وہ کہتے ہیں: ’جب کوئی چیز غیر محسوس انداز میں آپ کے روزمرہ معمولات کا حصہ بن جائے تو در حقیقت وہ آپ کے طرزِ زندگی ہی میں شامل ہو چکی ہوتی ہے۔‘
’اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب میٹنگز کے دوران بلا جھجھک اپنی ٹانگیں ہلاؤں گا۔ ہو سکتا ہے لوگ عجیب نظروں سے دیکھیں، لیکن مجھے معلوم ہو گا کہ اس سے میری صحت کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔‘