آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو , اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو کو برتری حاصل مگر اکثریت سے محروم

اسرائیل ایک بار پھر سیاسی بحران کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ 85 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد نہ موجودہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور نہ ہی ان کے بڑے حریف گاڈی آئزنکوٹ حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرتے نظر آ رہے ہیں۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. اردوغان اور ٹرمپ کی ٹیلی فون پر گفتگو، آبنائے ہرمز اور یمن کی صورتحال پر تبادلۂ خیال

    ترکی کے سرکاری محکمۂ اطلاعات کے مطابق، ترک صدر رجب طیب اردوغان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران دوطرفہ تعلقات اور علاقائی و عالمی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔

    ترکی کی سرکاری خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق سرکاری محکمۂ اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ طیب اردوغان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو بتایا کہ مکہ جوائنٹ ڈیفنس الائنس آبنائے ہرمز اور یمن کی صورتحال پر ’قریبی نظر‘ رکھے ہوئے ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ترکی آبنائے ہرمز اور یمن کی صورتحال کے حوالے سے سفارتی حل کی کوشش کر رہا ہے۔

    بیان کے مطابق، ترک صدر نے امریکہ کے ساتھ دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے اور تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    ترکی کے سرکاری محکمۂ اطلاعات نے بتایا کہ اردوان نے یوکرین اور روس کے درمیان سفارتی مذاکرات کی بحالی اور جنگ ختم کرانے کی کوششوں میں تعاون کے لیے ترکی کی آمادگی کا بھی اظہار کیا۔

    بیان کے مطابق، گفتگو کے دوران ٹرمپ نے اردوان اور ترک عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارک باد دی۔

    امریکی صدر نے تنظیمِ ترک ریاستوں کے سربراہی اجلاس کی میزبانی کے لیے بھی ترکی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

  2. ہسپانوی حکام ٹرین حادثے کے متاثرین کے اہلِ خانہ کی شناخت کے لیے ڈی این اے استعمال کر رہے ہیں

    سپین کی سول گارڈ کے مطابق ٹرین حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے رشتہ داروں کی ڈی این اے نمونوں کی مدد سے شناخت کرنا ان کی ’اولین ترجیح‘ ہے۔

    سول گارڈ کے مطابق متاثرین کے اہلِ خانہ کی مدد کے لیے میڈرڈ اور سپین کے دیگر علاقوں میں چار مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

    ہسپانوی حکام اب تک حادثے میں 68 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر چکے ہیں، جبکہ درجنوں دیگر افراد شدید زخمی ہیں۔

  3. سپین میں حادثے کے مقام پر امدادی کارروائیاں جاری، ملبہ ہٹانے کے لیے کرین بھی پہنچا دی گئی

    سپین میں ٹرین حادثے کے مقام سے سامنے آنے والی تازہ تصاویر میں امدادی کارکنوں کو ملبہ ہٹانے کی کوششیں جاری رکھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    سپین کی وزارتِ داخلہ نے سوشل میڈیا پر اپنی تازہ ترین اپ ڈیٹ میں بتایا ہے کہ شہری تحفظ اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے جنرل سیکریٹریٹ کے 102 اہلکار جائے حادثہ پر موجود ہیں۔

    اس کے علاوہ سول گارڈ کے 422 اہلکار بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں، جبکہ تین ہیلی کاپٹر، ڈرونز اور کھوج لگانے والے کتوں کی مدد بھی حاصل کی جا رہی ہے۔

    شام ڈھلنے کے ساتھ جائے حادثہ پر روشنی کا انتظام کیا گیا ہے، جبکہ ملبہ ہٹانے کے لیے ایک بڑی کرین بھی وہاں موجود ہے۔

    اس سے قبل مقامی حکام نے تصدیق کی تھی کہ حادثے کے مقام سے 68 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

  4. عدن ایئرپورٹ پر حوثیوں کا حملہ: ’متعدد شہری زخمی ہوئے اور املاک کو نقصان پہنچا‘ سعودی قیادت میں قائم اتحاد

    سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ حوثی جنگجوؤں نے بدھ کو یمن کے عدن ایئرپورٹ پر حملہ کیا۔ روئٹرز کے مطابق یہ حملہ حوثیوں کی جانب سے لوگوں کو ایئرپورٹ خالی کرنے کی تنبیہ کے بعد کیا گیا۔

    عدن کے رہائشیوں نے بتایا کہ انھوں نے ایئرپورٹ کے قریب دھماکے کی آواز سنی۔

    یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج کے مطابق حملے میں شہری زخمی ہوئے اور املاک کو نقصان پہنچا۔

    ایک امدادی کارکن نے روئٹرز کو بتایا کہ اقوامِ متحدہ کا کچھ عملہ حملے سے کچھ دیر پہلے ہی ایئرپورٹ سے نکل گیا تھا اور کوئی بھی زخمی نہیں ہوا۔

    حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ایئرپورٹ خالی کرنے کی تنبیہ اس لیے جاری کی گئی تھی کیونکہ وہاں اسلحہ لے جانے والا سعودی فوجی کارگو طیارہ موجود تھا۔

  5. سات روزہ منصوبے پر ثالثوں سے مسلسل رابطے میں ہیں: عباس عراقچی

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کو کہا ہے کہ ’تہران اپنے مجوزہ منصوبے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے طریقوں پر ثالثوں سے قریبی اور مسلسل رابطے میں ہے۔‘

    ایران اس سے قبل جنگ کے خاتمے کے لیے سات روزہ منصوبہ پیش کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔

    عباس عراقچی نے کہا کہ ’ایران سفارت کاری کو کامیاب ہونے کا موقع دے رہا ہے۔‘ ان کے مطابق اگر تہران کے مجوزہ ’سات روزہ منصوبے پر عمل درآمد ہو جائے تو اس مقصد کو ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘

    عراقچی اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ اس منصوبے کے تحت بعض شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔ ایران کا سات روزہ منصوبہ جنگ بندی، امریکی پابندیوں میں نرمی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس تجویز کو پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں، جس کے بعد قطر نے ثالثی کی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں۔

  6. اقتدار کے لیے ہر جماعت کا رہنما کس حد تک جانے کو تیار ہے؟, نامہ نگار برائے بین الاقوامی امور لیز ڈوسیٹ کا تجزیہ

    اب جب زیادہ تر ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے تو اسرائیل میں سیاسی تعطل کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ وزیرِاعظم بنیامن نتن یاہو اپنے حریف اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ سے آگے ہیں، لیکن انھیں اب بھی پارلیمان میں اکثریت حاصل نہیں ہو سکی۔

    نتن یاہو سیاسی جوڑ توڑ کے ماہر سمجھے جاتے ہیں، لیکن موجودہ صورتِ حال ان کے لیے اب تک کا سب سے بڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔ کیا وہ دائیں بازو کے ان سیاست دانوں کو دوبارہ اپنے ساتھ ملا سکتے ہیں جو ماضی میں اختلافات کے باعث ان کا ساتھ چھوڑ کر انھیں اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کرنے والے دھڑے میں شامل ہو گئے تھے؟

    کیا نتن یاہو کوئی ایسا قدم اٹھا سکتے ہیں جس کا تصور بھی مشکل ہو یعنی عرب جماعتوں میں سے کسی ایک کے ساتھ اتحاد کر لیں؟ فی الحال اس کا امکان بہت کم دکھائی دیتا ہے کیونکہ ان کی جماعت لیکوڈ نے ابھی عرب جماعتوں پر ’انتخابات چرانے‘ کا الزام لگایا ہے۔

    اس وقت قومی اتحاد کی حکومت بنانے کے مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں لیکن موجودہ حالات میں مختلف جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنا مشکل نظر آتا ہے۔

    گادی آئزن کوٹ کی جماعت ’یاشار‘ گذشتہ برس ہی قائم ہوئی تھی۔ اس کے نام کا مطلب ’سیدھا‘ یا ’براہِ راست‘ ہے، لیکن آنے والے ہفتوں میں حکومت سازی کے لیے سیاسی مذاکرات اور اختلافات کا عمل اتنا سیدھا دکھائی نہیں دیتا۔

    عرب اکثریتی جماعتوں کے ارکان سمیت کئی حلقے آئزن کوٹ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ اتحاد کریں۔ ان جماعتوں کو ملا کر پارلیمان میں ایک مضبوط دھڑا بن سکتا ہے۔

    تاہم سابق فوجی سربراہ اس نوعیت کے اتحاد پر پہلے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں یا اس کے لیے شرائط عائد کر چکے ہیں۔ ان کی اپنی صفوں میں شامل دائیں بازو کی جماعتوں نے بھی ایسے اتحاد کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔

    قومی اتحاد کی حکومت کا خیال بھی مشکلات سے دوچار ہے، کیونکہ آئزن کوٹ نتن یاہو کو حکومت کرنے کے لیے نااہل قرار دے چکے ہیں۔

    اسی صورتِ حال کے پیشِ نظر اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے، جنھیں حکومت بنانے کے لیے کسی رہنما کو نامزد کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ آگے بڑھیں۔

  7. عرب اسرائیلی بین گویئر کو عہدے سے ہٹانے اور بہتر زندگی کے خواہاں ہیں: یوسف جبارین

    عرب اسرائیلیوں کی جماعت جوائنٹ عرب لسٹ کے رہنما یوسف جبارین نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’عرب اسرائیلیوں نے اس امید پر ووٹ دیا کہ اسرائیل کے انتہا پسند وزیرِ قومی سلامتی اتمار بین گویئر کو عہدے سے ہٹایا جا سکے اور ان کی روزمرہ زندگی بہتر ہو۔‘

    یوسف جبارین کے مطابق عرب آبادی میں ووٹ ڈالنے کی شرح زیادہ رہنے کی ایک بڑی وجہ یہ امید تھی کہ بین گویئر سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

    انھوں نے بین گویئر کے رویے اور اقدامات کو ’نسل پرستانہ‘ اور ’فاشسٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ عرب برادری کو اشتعال دلانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ جبارین نے شمالی اسرائیل کے عرب اکثریتی شہر ام الفحم کا حوالہ بھی دیا، جہاں وہ خود رہتے ہیں اور جہاں بین گویئر مکانات مسمار کرنے کے احکامات دینے کے لیے آئے تھے۔

    جبارین نے وزیرِاعظم بنیامن نتن یاہو کی حکومت پر ملک کی عرب اقلیت کے ساتھ منظم امتیازی سلوک کا الزام لگایا۔

    ان کے مطابق عرب آبادی کو وسائل کی فراہمی میں رکاوٹوں، جرائم پیشہ گروہوں کے تشدد پر قابو پانے میں ناکامی، گھروں کو مسمار کرنے کے احکامات اور نسل پرستانہ بیانات جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ عرب اقلیت اسرائیل کی مجموعی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’نتن یاہو کی حکومت کے دور میں یہ ایک مشکل عرصہ رہا ہے اور لوگ ووٹ کے ذریعے نتن یاہو، بین گویئر اور انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ خزانہ بتسلئیل سموترچ کو سزا دینا چاہتے تھے۔ تاہم ان کے مطابق ووٹ ڈالنے کی زیادہ شرح کا مقصد صرف ان رہنماؤں کو ہٹانا نہیں، بلکہ اپنی روزمرہ زندگی میں بہتری لانا بھی تھا۔‘

    یوسف جبارین کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت یہودی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے تاکہ انھیں حکومت بنانے میں مدد دی جا سکے، تاہم ان کے اپنے بھی مطالبات ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’جوائنٹ عرب لسٹ کا سیاسی ایجنڈا مساوات اور مساوی شہریت کے فروغ پر مبنی ہے۔‘ ان کے بقول عرب آبادی نے نتن یاہو کی حکومت کے دور میں بہت مشکلات برداشت کی ہیں اور اب حقیقی تبدیلی کا وقت آ گیا ہے۔

  8. عمران خان کی بہن نورین نیازی کو طبیعت کی خرابی کے باعث ہسپتال منتقل کر دیا گیا، وکیل کا دعویٰ, ترہب اصغر، بی بی سی اردو لاہور

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن نورین نیازی کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے طبی معائنے کے لیے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لے جایا گیا ہے۔

    ان کے وکیل مدثر عمر نے دعویٰ کیا ہے کہ نورین نیازی کو طبیعت کی خرابی کے باعث ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ حکومتی نے حکام نے اس معاملے پر تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

    عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو ستمبر میں مینٹیننس آف پبلک آرڈر کے تحت 30 دن کے لیے حراست میں لیا گیا تھا، جس میں بعد میں توسیع کر دی گئی تھی۔

  9. عدن ایئرپورٹ پر حوثیوں کے دو میزائل حملے، الجوف میں سعودی فضائی کارروائی میں 14 ہلاکتوں کا دعویٰ

    بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے ہے کہ حوثی گروہ انصار اللہ نے بدھ کے روز عدن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دو حملوں میں ’متعدد بیلسٹک میزائلوں‘ فائر کیے ہیں۔

    وزارتِ ٹرانسپورٹ نے ایک بیان میں حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ چند ہی دنوں میں ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کے واقعات کی تعداد چھ تک پہنچ چکی ہے۔

    بیان کے مطابق بدھ کو حملے مقامی وقت کے مطابق ’دوپہر ایک بجے‘ اور ’تین بجے‘ کیے گئے۔

    وزارت کا کہنا تھا کہ ہوائی اڈے کو بار بار نشانہ بنانا ’مسافروں، فضائی عملے اور عملے کی جانوں کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔ ان حملوں سے شہریوں کی نقل و حرکت کے ساتھ ساتھ انسانی اور امدادی سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔‘

    اس سے قبل بدھ کے روز حوثیوں نے عدن کے ہوائی اڈے پر موجود افراد سے فوری انخلا کا مطالبہ کیا تھا۔ حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے ایکس پر بیان میں دعویٰ کیا کہ ہوائی اڈے پر ایک سعودی فوجی کارگو طیارہ موجود ہے، جو یمنی عوام کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیار منتقل کر رہا ہے۔

    انھوں نے کہا تھا کہ ’ہماری مسلح افواج عدن ہوائی اڈے پر موجود تمام افراد سے فوری انخلا کی اپیل کرتی ہیں کیونکہ وہاں سعودی دشمن کا ایک فوجی مال بردار طیارہ موجود ہے جو یمنیوں کو قتل کرنے کے لیے ہتھیار لا رہا ہے۔‘

    تقریباً ایک گھنٹے بعد یحییٰ سریع نے دوبارہ ہوائی اڈہ خالی کرنے کی اپیل کی۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عدن پولیس کے دو ذرائع نے بتایا کہ حوثیوں کی جانب سے داغے گئے دو میزائل شہر کے ہوائی اڈے پر گرے۔

    اس دوران حوثیوں سے وابستہ المسیرہ ٹی وی نے سعودی عرب پر شمال مغربی یمن کے صوبے الجوف کے دارالحکومت الحزم پر فضائی حملے کا الزام عائد کیا۔

    چینل کے مطابق ’حزم الجوف پر سعودی جارحیت‘ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 14 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 15 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

    المسیرہ کے مطابق حملے میں الحزم کے ایک بازار اور گیس اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار کو ابتدائی قرار دیا گیا ہے۔

  10. نیتن یاہو کی عوامی مقبولیت کی جڑیں گہری ہیں, پال ایڈمز، نامہ نگار برائے سفارتی امور

    ان کے مخالفین کے نزدیک بنیامین نیتن یاہو بہت سی چیزوں کی علامت ہیں: بدعنوانی، اقتدار پرستی، بے باک سیاسی جوڑ توڑ اور سب سے بڑھ کر وہ شخص جو 7 اکتوبر 2023 کی ہولناکیوں کو روکنے میں ناکام رہا۔

    لیکن ان کے حامیوں کے لیے وہ اب بھی ’بی بی، اسرائیل کا بادشاہ‘ ہیں۔

    ان کی دیرپا سیاسی کامیابی کے اسباب پیچیدہ ہیں۔ بلاشبہ وہ اسرائیل کے گہرے سیاسی اختلافات سے بھرپور منظرنامے میں راستہ نکالنے کے لیے درکار سیاسی مہارتوں میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں۔

    تاہم ان کی عوامی مقبولیت کی جڑیں اس سے کہیں زیادہ گہری ہیں۔ اس کی بنیاد 1970 کی دہائی میں اسرائیلی سیاست میں آنے والی اس بڑی تبدیلی میں ملتی ہے، جب ملک کے سیکولر، نسبتاً بائیں بازو کے اور یورپی النسل (اشکنازی) سیاست دانوں کی طویل حکمرانی کا خاتمہ ہوا اور مناخم بیگن کی دائیں بازو کی لیکوڈ جماعت اقتدار میں آئی۔

    اس جماعت کو مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے محرومی اور ناراضی کا شکار مزراحی یہودیوں کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی۔

    بیگن کی طرح نیتن یاہو نے بھی بہت جلد اس بات کی اہمیت کو سمجھ لیا تھا کہ مزراحی برادری کی حمایت حاصل کی جائے۔ یہ وہ طبقہ تھا جسے بعض اشکنازی حلقے ایک توہین آمیز اصطلاح سے پکارتے تھے، جسے بعد میں بہت سے مزراحیوں نے فخر کی علامت کے طور پر اپنا لیا۔

    امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح بنیامین نیتن یاہو بھی بظاہر محروم اور پسماندہ طبقات کے غیر متوقع نمائندہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کی عوامی مقبولیت کا ایک بڑا سبب اب بھی یہ تاثر ہے کہ وہ داخلی، علاقائی اور بین الاقوامی خطرات سے بھرے ماحول میں یہودی مفادات کے ایک ثابت قدم محافظ ہیں۔

  11. سپین ٹرین حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 68 ہو گئی: مقامی حکام

    ہسپانوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کاستیا لا مانچا کے صدر ایمیلیانو گارسیا پیج نے بتایا ہے کہ ٹرین حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 68 ہو گئی ہے۔

    متعدد زخمی اب بھی اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں اور ان میں سے درجنوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    اس سے قبل ہسپانوی وزیرِ ٹرانسپورٹ آسکر پوینتے نے سپین کے دارالحکومت میڈرڈ کے جنوب میں اوردا کے قریب پیش آنے والے ٹرین حادثے کے بعد پہلی مرتبہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ ’واقعی ناقابلِ یقین‘ ہے۔

    پوینتے کے مطابق ایک کمپیوٹر خرابی کے باعث ابتدائی طور پر چلتی ہوئی چھ ٹرینیں روک دی گئی تھیں، جن میں وہ دو ٹرینیں بھی شامل تھیں جو بعد میں آپس میں ٹکرا گئیں۔

    انھوں نے بتایا ’جب نظام میں خرابی پیدا ہوتی ہے تو کنٹرول سینٹر معاملات سنبھال لیتا ہے۔‘ ان کے مطابق بعد ازاں کنٹرول سینٹر نے ہی ٹرینوں کو دوبارہ روانہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس دوران کوئی رفتار کی پابندی عائد نہیں کی گئی۔

    پوینتے نے کہا کہ یہ فیصلہ ’ناقابلِ فہم حالات میں‘ کیا گیا تھا۔

    ان کے بقول اسی فیصلے کے نتیجے میں رینفے کی ٹرین آگے پٹری پر کھڑی ایریو کی ٹرین سے جا ٹکرائی۔

  12. کسی بھی اسرائیلی حملے کے عالمی منڈیوں پر ’تباہ کن اثرات‘ مرتب ہوں گے: ایرانی وزیر خارجہ

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کے روز خبردار کیا ہے کہ خلیجی خطے میں اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی کسی بھی فوجی کارروائی کے عالمی منڈیوں پر ’تباہ کن اثرات‘ مرتب ہو سکتے ہیں۔

    ایکس پر جاری اپنے بیان میں عراقچی نے کہا کہ ’خلیج فارس کے خطے میں اسرائیل کی جانب سے کسی بھی فوجی مہم جوئی کے عالمی منڈیوں پر تباہ کن اثرات کے حوالے سے گیس پیدا کرنے والے اور گیس استعمال کرنے والے دونوں ممالک تشویش کا شکار ہیں۔‘

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف دوبارہ حملوں کے امکان کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ موجودہ جنگ کا آغاز فروری کے اواخر میں ایران پر حملوں کے ساتھ ہوا تھا۔

    دریں اثنا اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو، جو انتخابی نتائج کے بعد نئی حکومت بنانے کی کوشش کریں گے، نے بدھ کو کہا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر ایران کی جانب سے پیدا ہونے والے ’خطرے‘ کا خاتمہ کرنے کے لیے کام کر سکتے ہیں۔

  13. اسرائیلی الیکشن میں کوئی بھی جماعت تاحال واضح اکثریت نہ کر سکی: آگے کیا ہوگا؟

    اسرائیل ایک بار پھر سیاسی بحران کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ 85 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد نہ موجودہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور نہ ہی ان کے بڑے حریف گاڈی آئزنکوٹ حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرتے نظر آ رہے ہیں۔

    آئئے اس صورتحال میں ممکنہ منظرنامے پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں:

    • نیتن یاہو اور آئزنکوٹ کا اتحاد؟ اس صورت میں نیتن یاہو کو اپنے موجودہ دائیں بازو اور انتہائی مذہبی اتحادیوں سے علیحدگی اختیار کرنا ہوگی، جبکہ آئزنکوٹ کو نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے اپنے بنیادی انتخابی وعدے سے دستبردار ہونا پڑے گا۔
    • عرب جماعتوں کی حمایت سے آئزنکوٹ کی حکومت؟ آئزنکوٹ اور ان کے اتحاد میں شامل تقریباً تمام یہودی جماعتیں عرب جماعتوں کے ساتھ حکومت سازی کے امکان کو مسترد کر چکی ہیں، لیکن موجودہ اعداد و شمار کے مطابق اکثریت حاصل کرنے کا یہ ان کے لیے واحد راستہ دکھائی دیتا ہے۔
    • اپوزیشن کے دائیں بازو رہنماؤں کی مدد سے نیتن یاہو کی حکومت؟ نیتن یاہو اپوزیشن اتحاد میں شامل دائیں بازو کی جماعتوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں نفتالی بینیٹ (بیاحاد اتحاد) اور ایویگڈور لیبرمین (اسرائیل بیتینو پارٹی) ممکنہ اہم شخصیات سمجھی جا رہی ہیں۔
    • نئے انتخابات اگر کوئی بھی اتحاد اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو ملک ایک اور انتخابی مرحلے کی طرف جا سکتا ہے۔ بہت سے مبصرین کے مطابق یہ بالواسطہ طور پر نیتن یاہو کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے کیونکہ نئے انتخابات تک وہ نگران وزیرِ اعظم کے طور پر اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے اور ممکن ہے کہ خود کو دوبارہ کامیابی کے بہتر امکانات کا حامل سمجھتے ہوں۔
  14. کنٹرول سینٹر کا ’ناقابلِ فہم‘ فیصلہ ٹرینوں کے درمیان تصادم کا باعث بنا: ہسپانوی وزیرِ ٹرانسپورٹ

    ہسپانوی وزیرِ ٹرانسپورٹ آسکر پوینتے نے سپین کے دارالحکومت میڈرڈ کے جنوب میں اوردا کے قریب پیش آنے والے ٹرین حادثے کے بعد پہلی مرتبہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ ’واقعی ناقابلِ یقین‘ ہے۔

    خیال رہے اس واقعے میں اب تک 64 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی ہے۔

    پوینتے کے مطابق ایک کمپیوٹر خرابی کے باعث ابتدائی طور پر چلتی ہوئی چھ ٹرینیں روک دی گئی تھیں، جن میں وہ دو ٹرینیں بھی شامل تھیں جو بعد میں آپس میں ٹکرا گئیں۔

    انھوں نے بتایا ’جب نظام میں خرابی پیدا ہوتی ہے تو کنٹرول سینٹر معاملات سنبھال لیتا ہے۔‘ ان کے مطابق بعد ازاں کنٹرول سینٹر نے ہی ٹرینوں کو دوبارہ روانہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس دوران کوئی رفتار کی پابندی عائد نہیں کی گئی۔

    پوینتے نے کہا کہ یہ فیصلہ ’ناقابلِ فہم حالات میں‘ کیا گیا تھا۔

    ان کے بقول اسی فیصلے کے نتیجے میں رینفے کی ٹرین آگے پٹری پر کھڑی ایریو کی ٹرین سے جا ٹکرائی۔

  15. انتخابات کے بعد اسرائیلی پارلیمنٹ میں نشستیں کیسے مختص ہوتی ہیں؟

    اسرائیل میں سیاسی جماعتوں کے انتخاب کے لیے متناسب نمائندگی کا نظام رائج ہے، جس کے تحت ملک کی پارلیمان یعنی کنیسٹ کے ارکان منتخب کیے جاتے ہیں۔

    کنیسٹ میں 120 نشستیں ہیں، جو ہر جماعت کو ملک بھر میں حاصل ہونے والے ووٹوں کے تناسب سے تقسیم کی جاتی ہیں۔ ووٹر کسی فرد کے بجائے ایک سیاسی جماعت کو ووٹ دیتا ہے۔

    ہر جماعت اپنے امیدواروں کی ترجیحی فہرست پیش کرتی ہے اور اسے ملنے والی نشستوں کی تعداد کے مطابق اس فہرست سے امیدوار کنیسٹ کے رکن بنتے ہیں۔

    اب تک کوئی بھی جماعت 120 میں سے اتنی نشستیں حاصل نہیں کر سکی کہ اکیلے حکومت بنا سکے، اسی لیے اسرائیل میں ہر حکومت کم از کم دو یا اس سے زیادہ جماعتوں کے اتحاد پر مشتمل ہوتی ہے۔

    اس نظام کے باعث چھوٹی جماعتوں کو بھی خاصا اثر و رسوخ حاصل ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ کسی مخلوط حکومت کو بنانے یا گرانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

  16. اسرائیلی انتخابات: ’عرب شہری ملک کے فیصلوں میں حقیقی آواز چاہتے ہیں‘, گیبریئیلا پومرائے، لائیو رپورٹر

    اسرائیل کے عرب اکثریتی شہر ام الفہم میں آج صبح فضا ’فخر، امید اور محتاط رویے‘ کی عکاسی کر رہی ہے۔ یہ بات 29 سالہ وکیل مہدی کباحہ نے کہی، جو عرب ووٹروں کو متحرک کرنے کی مہم میں شامل رہے ہیں۔

    ان کے مطابق انتخابی نتائج ’تاریخی‘ ہیں۔ موجودہ اندازوں کے مطابق عرب قیادت والی جماعتیں 19 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔

    کباحہ نے کہا کہ ’عرب شہریوں نے واضح پیغام دیا ہے کہ ہم اس ملک میں حقیقی کردار اور مؤثر آواز چاہتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا ’اصل اہمیت اثر و رسوخ کی ہے، چاہے حکومت کے اندر ہو یا باہر سے حمایت کی صورت میں۔ اگر ہمارے بغیر اکثریت ممکن نہیں تو پھر 19 نشستوں کو نظر انداز کرنا سنجیدہ سیاسی حکمتِ عملی نہیں ہو سکتی۔‘

    ان کے خیال میں عرب جماعتوں کی حکومتی اتحاد میں شمولیت ممکن ہے۔ ’یہ ہو سکتا ہے، ہم نے 2021 میں ایسا ہوتے دیکھا تھا، لیکن اس کے لیے گاڈی آئزنکوٹ کو کھل کر اس کی حمایت کرنا ہوگی اور عرب جماعتوں کو بھی واضح اور قابلِ عمل مطالبات سامنے لانا ہوں گے۔‘

    اگرچہ آئزنکوٹ اور بیشتر دیگر جماعتیں مشترکہ اقدار کے فقدان کو جواز بناتے ہوئے عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد کو مسترد کر چکی ہیں، تاہم ان کے اتحاد میں شامل ایک جماعت کے رہنما آج اس کے برعکس مؤقف اختیار کر چکے ہیں۔

    کباحہ کے مطابق عرب برادری کے لیے سب سے اہم مسئلہ جرائم اور تشدد ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ ایسا مسئلہ ہے جو جانیں لے رہا ہے اور اس کے حل کے لیے حقیقی بجٹ، مؤثر قانون نافذ کرنے اور ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔‘

    ان کے مطابق عرب علاقوں میں رہائش اور تعلیم بھی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔

  17. ہمیں نئے انتخابی مرحلے سے بچنے کی ہر ممکن کرنی چاہیے: اسرائیلی صدر

    اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے خبردار کیا ہے کہ غیر فیصلہ کن انتخابی نتائج کے امکانات کے پیش نظر ’ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ ایک اور انتخابی مرحلے سے بچا جا سکے۔‘

    اسرائیلی صدر ہی انتخابات کے سرکاری نتائج آنے کے بعد اس سیاسی رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں، جس کے بارے میں انھیں یقین ہو کہ وہ پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے امکانات رکھتے ہیں۔

    اپنے بیان میں ہرزوگ نے کہا کہ ’کل کا انتخابی دن واقعی شاندار تھا، جس میں کئی دہائیوں کی بلند ترین ووٹر ٹرن آؤٹ دیکھنے میں آیا۔ یہ اسرائیلی معاشرے کے لیے باعثِ فخر ہے اور اس بات کا ثبوت بھی کہ اسرائیل میں جمہوریت کی خواہش کتنی گہری ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ نتائج موصول ہونے کے بعد وہ ’مشاورتی عمل کا آغاز کریں گے، ہر جماعت کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے، سوالات پوچھیں گے اور تبادلۂ خیال کریں گے۔‘

    ہرزوگ نے زور دیتے ہوئے کہا ’ایک بات واضح ہونی چاہیے اور میں نے یہ انتخابات سے پہلے بھی یہ بات کہی تھی کہ ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ دوبارہ نئے انتخابات کروانے کی نوبت نہ آئے۔ اس لیے میری توقع ہے کہ یہاں آنے والا ہر سیاسی فریق کھلے ذہن کے ساتھ آئے گا۔‘

  18. سپین ٹرین حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 64 تک پہنچ گئی: مقامی حکومت

    کاستیا لا مانچا کی علاقائی حکومت کے مطابق ریل حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 64 ہو گئی ہے۔

    یہ حادثہ سپین میں مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بجے کے فوراً بعد پیش آیا تھا، جب میڈرڈ کے جنوب میں واقع مورا اور اورگاث کے درمیان دو تیز رفتار ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئی تھیں۔

  19. غیر حاضر ووٹوں کے علاوہ تمام ووٹوں کی گنتی مکمل: اسرائیلی میڈیا

    اسرائیلی ٹی وی چینلز چینل 12 اور چینل 13 کے مطابق غیر حاضر (ایبسینٹی) ووٹوں کے علاوہ تمام ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے۔

    غیر حاضر ووٹ زیادہ تر فوجی اہلکاروں کی جانب سے ڈالے جاتے ہیں اور ان کی تعداد تقریباً 6 لاکھ بتائی جاتی ہے، جو مجموعی ووٹوں کا تقریباً 10 فیصد بنتی ہے۔ ان ووٹوں کی گنتی آج مکمل ہونے کی توقع ہے۔

    موجودہ نتائج کے مطابق بنیامین نیتن یاہو کا اتحاد کنیسٹ میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے، تاہم اس کے لیے حکومت سازی کی درکار 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

  20. حوثیوں کی عدن ایئرپورٹ خالی کرنے کی تنبیہ کے بعد میزائل حملے کی اطلاع

    حوثیوں نے جنوبی یمن کے عدن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر موجود افراد سے فوری انخلا کی اپیل کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہاں ایک سعودی فوجی مال بردار طیارہ موجود ہے، جو یمنیوں کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیار لے کر آیا ہے۔

    حوثی فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے ایکس پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ ’ہماری مسلح افواج عدن ہوائی اڈے پر موجود تمام افراد سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ فوری طور پر ہوائی اڈہ خالی کر دیں، کیونکہ وہاں دشمن سعودی عرب کا ایک فوجی کارگو طیارہ موجود ہے جو یمنی عوام کے خلاف استعمال کے لیے ہتھیار منتقل کر رہا ہے۔‘

    اس انتباہ کے جاری ہونے کے بعد خبر رساں اداروں روئٹرز اور اے ایف پی نے ایئرپورٹ پر میزائل حملے کی اطلاعات بھی دی ہیں۔

    عدن سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کا مرکز ہے اور 2014 میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے صنعا پر قبضے کے بعد سے حکومت وہاں قائم ہے۔