صرف تیل ہی نہیں، ایران جنگ غذائی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہے

- مصنف, شان یوآن
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس، گلوبل چائنا یونٹ
- مصنف, جیراپورن سریچام
- عہدہ, بی بی سی تھائی
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
جیسے ہی جنوب مشرقی ایشیا کے دھان کے کھیتوں میں بوائی کا موسم شروع ہوا، تھائی لینڈ کے صوبہ چاچوینگساو سے تعلق رکھنے والے 60 سالہ کسان سوچارٹ پیامسومبون کھاد لینے کے لیے مقامی دکان پر گئے لیکن کھاد پہنچی ہی نہیں تھی۔
انھیں بتایا گیا کہ کھاد شاید آئے ہی نہ اور اگر آ بھی گئی تو اس کی قیمت ایک تھیلے کے لیے 1,100 بھات سے زیادہ ہو گی جو صرف ایک ماہ سے کچھ وقت پہلے 800 سے 900 بھات تھی۔ جب پیامسومبون گھر پہنچے تو یہ خبر پہلے ہی گردش کر رہی تھی کہ قیمتیں 1,200 بھات تک بھی جا سکتی ہیں۔
انھوں نے یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ اس موسم میں بوائی کریں گے، کہا ’میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ یہ نہیں کروں گا۔‘
’کھیتی باڑی صرف مالی نقصان ہی دیتی ہے۔ بہتر ہے کہ مزدور کے طور پر کام کر لوں اور صرف گزارا کرنے کے لیے روزانہ 100 سے 200 بھات کما لوں۔ اخراجات کم نہیں ہوتے، لیکن آمدن مسلسل گرتی جا رہی ہے۔‘
پیامسومبون اکیلے نہیں ہیں۔
تھائی لینڈ کے دھان کے بیلٹ سے ویتنام کے میکونگ ڈیلٹا تک، پورے ایشیا کے کسان یہی حساب لگا رہے ہیں اور اسی تلخ نتیجے پر پہنچ رہے ہیں۔
بوائی کا موسم آ گیا۔ کھاد موجود نہیں اور آنے والے چند ہفتوں میں کیے جانے والے فیصلے یہ طے کریں گے کہ سال کے آخر میں چاولوں کی فصلیں کتنی پیداوار دیتی ہیں۔
ہرمز بند اور بیجنگ نے بھی دروازے بند کر دیے
اس بحران کی فوری وجہ ایک ایسی جنگ ہے جس کی زیادہ تر کسانوں کو پہلے پروا نہیں تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
28 فروری کو جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو آبنائے ہرمز، وہ تنگ آبی راستہ جہاں سے دنیا کی سمندری کھاد کی تقریباً ایک تہائی تجارت گزرتی ہے، عملاً بند ہو گیا۔
بہت سے ممالک خلیج فارس کے خطے سے بڑی مقدار میں کھاد درآمد کرتے ہیں۔
جنگ شروع ہونے کے چند ہی ہفتوں میں، یوریا، دنیا کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی نائٹروجن کھاد کی قیمت میں 40 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو گیا۔
جب آبنائے ہرمز کے ذریعے برآمدات رک گئیں تو دنیا کی نظریں چین کی طرف مڑ گئیں، جو کرۂ ارض کا سب سے بڑا کھاد تیار کرنے والا ملک ہے۔
گذشتہ سال چین عالمی کھاد کی پیداوار کے 25 فیصد کا ذمہ دار تھا اور اس نے 13 ارب ڈالر سے زیادہ کی کھاد برآمد کی۔
لیکن چین نے اپنے دروازے بھی بند کر دیے ہیں۔ مارچ میں اس نے کئی اقسام کی کھاد کی برآمد پر پابندی لگا دی جو زرعی صنعت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
یہ ان پابندیوں کے علاوہ ہے جو 2021 سے بتدریج نافذ کی جا رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
روئٹرز کی جانب سے چینی کسٹمز ڈیٹا کے تجزیے کے مطابق اب ان کھاد کی برآمدات میں سے 50 سے 80 فیصد تک محدود ہو چکی ہیں۔
چین کے صوبہ شانڈونگ میں ایک کھاد برآمد کرنے والے، جنھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، نے بتایا کہ انھیں حکومت کی جانب سے برآمدات روکنے کا نوٹس ملا۔
گذشتہ چند برسوں سے ان کی درآمد و برآمد کی کمپنی تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور نیوزی لینڈ جیسے ایشیا پیسیفک کے ممالک کو کھاد برآمد کر رہی تھی۔
انھوں نے کہا کہ پابندی سے قبل کمپنی کے پاس کم از کم پانچ یا چھ ممالک کے ساتھ معاہدے طے ہو چکے تھے اور جہازوں کی روانگی کی تاریخیں بھی مقرر تھیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمیں پہلے ہی آرڈر مل چکے تھے۔ کلائنٹس انتظار کر رہے تھے لیکن اب ہمیں کہا گیا ہے کہ نہ بھیجیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’یقیناً ہمیں اپنے کاروبار کی فکر ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت ایسا کیوں کر رہی ہے۔ اس لیے ہم ضابطوں پر عمل کریں گے۔‘
چین اس وقت بھی جس واحد کھاد کو قابلِ ذکر مقدار میں برآمد کر رہا ہے وہ امونیم سلفیٹ ہے۔ یہ ایک کم درجے کی صنعتی ضمنی پیداوار ہے اور چاول جیسی بنیادی غذائی فصلوں کے لیے درکار دیگر اہم کھادوں کا کمزور متبادل ہے۔
واشنگٹن میں قائم انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ریسرچ فیلو ایمرٹس جوزف گلاوبر نے کہا کہ ’چین کی برآمدی پابندی اور آبنائے ہرمز کی بندش کا مشترکہ اثر ناگزیر طور پر عالمی کھاد کی منڈی اور غذائی سلامتی کو ہلا کر رکھ دے گا۔‘
چین انکار کیوں کر رہا ہے؟
چین کی قیادت نے اناج میں خود کفالت کو داخلی سیاست کی بنیاد بنا لیا ہے۔
2023 میں منظور ہونے والا قومی غذائی سلامتی قانون مقامی حکومتوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ خوراک کی پیداوار کے اہداف کو براہ راست اپنے معاشی منصوبوں میں شامل کریں۔
جب عالمی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہوں، ایسے میں کھاد کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دینا چین میں گھریلو قیمتوں کو اوپر لے جائے گا، جس سے وہی کسان دباؤ میں آئیں گے جنھیں یہ پالیسی تحفظ دینا چاہتی ہے۔
سنگاپور میں غذائی سلامتی کے سینئر فیلو پروفیسر پال ٹینگ نے کہا کہ ’چین میں غذائی سلامتی ایک کلیدی سیاسی مسئلہ ہے اور گھریلو پلیٹوں کے لیے کافی خوراک یقینی بنانا ایسی چیز نہیں جس پر حکومت سمجھوتہ کرے۔‘
آبنائے ہرمز بند ہونے کے باعث، مائع قدرتی گیس تک چین کی رسائی بھی خطرے میں ہے اور یہی نائٹروجن کھاد بنانے کے لیے بنیادی خام مال ہے۔
کون چین پر کتنا انحصار کرتا ہے؟
جنوب مشرقی ایشیا، جو چینی کھاد کی رسد پر انحصار کرتا ہے، کے لیے بیجنگ کے برآمدات روکنے کے فیصلے کے اثرات بہت بڑے رہے ہیں۔
ویتنام دنیا میں چاول برآمد کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے، جو فلپائن اور افریقہ کے کچھ حصوں کو خوراک فراہم کرتا ہے۔
2026 کی پہلی سہ ماہی میں، مقدار کے لحاظ سے ویتنام کی مجموعی کھاد درآمدات کا نصف سے زیادہ چین سے آیا جو کہ 480,000 ٹن سے زائد تھا۔
سادہ الفاظ میں، جو ملک خطے کو خوراک دیتا ہے، وہ چینی رسد کے بغیر اپنے کھیتوں کو خوراک نہیں دے سکتا۔
فلپائن کی پوزیشن اس سے بھی زیادہ غیر محفوظ ہے۔
یہ اپنی 75 فیصد کھاد چین سے حاصل کرتا ہے اور اس کے پاس تقریباً کوئی گھریلو پیداوار نہیں جس پر وہ انحصار کر سکے۔
مسئلہ یہ بھی ہے کہ فلپائن اپنی تقریباً 80 فیصد چاول درآمدات کے لیے ویتنام پر انحصار کرتا ہے۔
رسد کا یہ سلسلہ سیدھا ہے: فلپائنی صارفین ویتنامی چاول پر انحصار کرتے ہیں اور ویتنامی کسان چینی کھاد پر۔
کسی ایک کڑی کے ٹوٹنے سے پورے سلسلے کے بکھرنے کا خطرہ ہے۔
تھائی لینڈ، جو ایک زرعی طاقت ہے اور جس کی چاول برآمدات ایشیا کے بڑے حصے کو خوراک فراہم کرتی ہیں، نے 2024 میں اپنا تقریباً پانچواں حصہ کھاد چین سے حاصل کی اور علیحدہ طور پر اپنی مجموعی کھاد درآمدات کا 32 فیصد خلیجی خطے سے لیا۔
اب دونوں راستے بیک وقت متاثر ہو چکے ہیں۔
وہ فصل جو شاید نہ آئے
ان تمام عوامل کے نتائج اس ہفتے یا اگلے مہینے خوراک کی قیمتوں میں نظر نہیں آئیں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اثرات صرف سال کے آخر میں ظاہر ہوں گے، جب اس موسمِ بہار میں لگائی جانے والی فصلیں توقع سے کم پیداوار دیں گی یا بعض صورتوں میں بالکل نہیں ہوں گی۔
پروفیسر ٹینگ نے کہا کہ ’مختلف ممالک کے پاس فوری بوائی کے موسم کے لیے شاید کافی کھاد ذخیرے میں ہو، لیکن اگر یہ بحران مزید طویل ہوا تو آنے والے مہینوں میں ہم چاول جیسی فصلوں پر اثرات دیکھیں گے۔‘
اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کا اندازہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے مشترکہ اثرات 2026 میں مزید چار کروڑ 50 لاکھ افراد کو شدید بھوک کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے میں غذائی عدم تحفظ میں 24 فیصد اضافے کی توقع ہے جو دنیا کے کسی بھی خطے کے مقابلے میں سب سے زیادہ اضافہ ہے۔
بینکاک کے علاقے نونگ چوک سے تعلق رکھنے والے چاول کے کسان پرتھیوانگ پیامسومبون نے کہا کہ ’کبھی کبھی خواہش ہوتی ہے کہ ملک بھر کے چاول کے کسان بالکل کاشت بند کر دیں، تاکہ حکومت کے پاس کھانے کے لیے چاول ہی نہ ہو اور وہ سمجھ سکے کہ ہم پر کیا گزر رہی ہے۔‘
’یہ مشکل الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے۔‘

























