خصوصی نشست پر منتخب بیرسٹر افتخار گیلانی کی وزیر اعظم کشمیر نامزدگی پر ن لیگ میں اختلافات

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/Iftikhar Gillani
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے حالیہ عام انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں جیتنے والی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیرِ اعظم کے عہدے کے لیے نامزد کر دیا ہے۔ اس نامزدگی پر نہ صرف جماعت کے اندر اختلافات نظر آ رہے ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی یہ معاملہ زیرِ بحث ہے۔
اس سے قبل پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ن لیگ کے صدر غلام قادر شاہ کا نام بھی وزیر اعظم کے لیے زیر غور تھا۔ تاہم جماعت کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ نواز شریف نے بیرسٹر افتخار علی گیلانی کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزد کر دیا ہے۔
کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں وزیر اعظم کا انتخاب اور حلف برداری کی تقریب جمعے کو ہو گی۔
خیال رہے کہ بدھ کے روز پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اجلاس کے دوران وزیر اعظم کے منصب کے لیے بیرسٹر افتخار گیلانی اور شاہ غلام قادر کے ناموں پر تفصیلی غور کیا گیا تھا۔
شاہ غلام قادر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر ہیں۔
اس اجلاس میں شامل پاکستان مسلم لیگ ن کے اہم رہنما نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت یہ طے پایا تھا کہ وزیر اعظم کا عہدہ بیرسٹر افتخار گیلانی یا شاہ غلام قادر میں سے کسی ایک کو دیا جائے گا اور نامزدگی کا اختیار جماعت کے صدر نواز شریف کو دیا گیا تھا۔
ان کے مطابق نواز شریف نے بطور پارٹی صدر اپنے اختیار کا استعمال کیا اور بیرسٹر افتخار گیلانی کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزد کر دیا تھا۔
لیکن بیرسٹر افتخار گیلانی کی نامزدگی پر بعض پارٹی رہنما ناراض کیوں ہیں اور سوشل میڈیا پر اس فیصلے پر تنقید کیوں کی جا رہی ہے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پارٹی میں اختلافات اور سوشل میڈیا پر تنقید
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بیرسٹر افتخار گیلانی نہ صرف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے حالیہ عام انتخابات میں اپنی نشست ہارے بلکہ اس سے قبل وہ سنہ 2021 میں ہونے والے الیکشن میں بھی جیت نہیں سکے تھے۔
لیکن ان کی شکست کے باوجود ن لیگ نے انھیں ٹیکنوکریٹ کی مخصوص سیٹ پر اسمبلی کا رکن منتخب کروایا۔ تاہم وہ ایسے پہلے سیاستدان نہیں جنھیں مخصوص نشست پر کامیاب کروا کر وزیر اعظم بنایا جائے گا۔
اس سے قبل مسلم کانفرنس کے رہنما سردار عبدالقیوم خان علما و مشائخ کے لیے مخصوص سیٹ پر کامیاب ہونے کے بعد سنہ 1991 سے لے کر سنہ 1996 تک پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم رہے تھے۔
تاہم عام انتخابات میں شکست کھانے والے رہنما کو وزیر اعظم کے عہدے پر نامزد کرنے کے معاملے پر ن لیگ کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔
دیگر متعدد صارفین کی طرح صحافی محمد اسد چوہدری نے لکھا کہ ’جس وقت ایک بھرپور تحریک چل رہی ہے ایسے وقت میں ٹیکنوکریٹ کی سیٹ پر آنے والے افتخار گیلانی کو وزیراعظم کا امیدوار بنانا جلتی پر تیل کے مترادف ہے۔‘
ایک اور صارف نے لکھا کہ ’حالات بتا رہے ہیں کہ بیرسٹر افتخار گیلانی کی منظوری نواز شریف کے بجائے کسی اور جگہ سے آئی ہے۔ اب بھی کوئی کسر رہ گئی ہے نظام سے چھیڑ چھاڑ کر کے اس کو تباہ و برباد کرنے میں؟‘
تاہم سوشل میڈیا پر تنقید سے زیادہ اہم مسئلہ ن لیگ میں آپسی اختلافات ہیں۔

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
پاکستان مسلم لیگ ن کے ایک اہم عہدیدار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیر اعظم نامزد کرنے کے معاملے پر مسلم لیگ ن کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر خوش نہیں ہیں کیونکہ ان کے بقول انھیں ہی وزیر اعظم نامزد کیا جانا چاہیے تھا۔
انھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر بھی اپنی جماعت کی اس قیادت کے فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔
پارٹی ذرائع کے مطابق اس ضمن میں دونوں سینیئر سیاست دان اس وقت اسلام آباد میں مشاورت میں مصروف ہیں، جس کے بعد وہ اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان بھی کرسکتے ہیں۔
بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیر اعظم کا امیدوار نامزد کرنے کے بارے میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم خواجہ فاروق حیدر نے ایک پوسٹ میں شاعرانہ انداز میں کہا کہ:
’چلتے ہیں دبے پاؤں کہ کوئی جاگ نہ جائے
غلامی کے اسیروں کی یہی خاص ادا ہے
ہوتی نہیں جو قوم حق بات پر یکجا
اس قوم کا حاکم ہی فقط اس کی سزا ہے‘
اس حوالے سے مؤقف جاننے کے لیے شاہ غلام قادر اور راجہ فاروق حیدر سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ان دونوں سے رابطہ نہیں ہو سکا۔
دوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ن لیگ کے سینیئر نائب صدر مشتاق منہاس نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ان کی جماعت کے صدر نواز شریف نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی ہدایت کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ چونکہ پارٹی کی اعلیٰ سطح پر اس معاملے میں مشاورت ہوئی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کا اجلاس ایک دن تاخیر سے بلایا گیا اور اب قانون ساز اسمبلی کا اجلاس 28 اگست کو ہوگا، جس میں وزیر اعظم کا انتخاب ہوگا۔
ان کے مطابق وزیر اعظم کے عہدے کے لیے ایک اجلاس میں کچھ نام تو ضرر پیش کیے گئے تھے، لیکن مشاورت کے دوران ان ناموں پر اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے اس ضمن میں ہونے والے اجلاس کو ملتوی کر دیا گیا۔
کیا رہنماؤں میں اختلافات ن لیگ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے صحافی و تجزیہ کار عامر محبوب کا کہنا تھا کہ شاہ غلام قادر اور فاروق حیدر کا بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیر اعظم نامزد کرنے کے فیصلے سے اختلاف کے باوجود ان کی ن لیگ کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی سیٹوں کی تعداد 32 ہے جبکہ وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے 27 ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق شاہ غلام قادر اور خواجہ فاروق حیدر 28 اگست کو ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
عامر محبوب کے مطابق صرف ان دو اراکین نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیر اعظم نامزد کرنے کے فیصلے سے اختلاف کیا ہے اور ان کی معلومات کے مطابق دوسرا اور کوئی بھی نومنتخب رکن ان کے اس فیصلے کی تائید نہیں کر رہا۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں زیادہ تر ارکان وہی منتخب ہوتے ہیں، جو اسٹیبلشمنٹ کے حامی ہوتے ہیں۔
تاہم ان کے مطابق حکومت کی تشکیل کے بعد ن لیگ کے لیے سب سے بڑا چیلنج کالعدم قرار دی گئی تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کو ختم کروانا کچھ علاقوں میں امن امان کی خراب صورت حال کو بہتر بنانا ہوگا۔
کیا سات حلقوں میں انتخابات کے بغیر مخصوص نشستیں دی جا سکتی ہیں؟
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد ن لیگ نواز واحد اکثریتی جماعت بن کر ابھری ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے سات حلقوں میں امن و امان کی صورت حال بہتر نہ ہونے کی وجہ سے انتخابات کا انعقاد نہیں ہوسکا تھا۔
یہ انتخابی حلقے راولاکوٹ کے ضلع سدھنوتی میں واقع ہیں اور الیکشن کمیشن نے ابھی تک ان حلقوں میں انتخابات کے شیڈول کا اعلان نہیں کیا۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سات حلقوں میں انتخابات نہ ہونے کے باوجود کیا جیتنے والی جماعتوں کو مخصوص نشستیں دی جا سکتی ہیں؟
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ مصطفیٰ مغل نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے عبوری آئین میں یہ لکھا ہوا ہے کہ اگر قانون ساز اسمبلی کی کوئی ایک یا ایک سے زیادہ نشستیں خالی ہوں تو اس سے اسمبلی کی کارروائی متاثر نہیں ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ خواتین، ٹیکنوکریٹس اور علما کی مخصوص نشستوں پر جو انتخابات ہوئے ہیں، وہ آئین کے مطابق ہیں۔



















