نیو یارک میں آر ایس ایس کی تقریب پر ممدانی کی مخالفت: موہن بھاگوت امریکہ کیوں آئے؟

نیو یارک میں آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت ایک تقریب کا حصہ ہوں گے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننیو یارک میں آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت ایک تقریب کا حصہ ہوں گے
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

انڈیا کی انتہائی دائیں بازو کی تنظیم آر ایس ایس سے متعلق ایک تقریب 29 اگست کو امریکی شہر نیویارک میں ہونے جا رہی ہے جس کی میئر زہران ممدانی نے مخالفت کی ہے۔ اس معاملے پر انڈیا اور امریکہ میں مختلف حلقوں کی رائے منقسم ہے۔

دراصل ممدانی نے منگل کو کہا تھا کہ وہ 29 اگست کو نیویارک کے میڈیسن سکوائر گارڈن (ایم ایس جی) میں آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے مجوزہ پروگرام کی حمایت نہیں کرتے۔

تاہم انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ شاید ان کے پاس اس پروگرام کو منسوخ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

’یونیورسل وننیس سیلیبریشن‘ کے نام سے منعقد کیے جانے والے اس پروگرام کا اہتمام امریکن ہندوؤز فار انگیجمنٹ اینڈ ڈائیلاگ کر رہا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ آر ایس ایس کی عالمی رابطہ مہم کے تحت اس تقریب میں تقریباً 5,000 انڈین نژاد امریکیوں کی شرکت متوقع ہے۔

ممدانی نے منگل کو صحافیوں سے کہا تھا کہ ’میں اس ریلی کی حمایت نہیں کرتا۔ لیکن مجھے نہیں معلوم کہ کسی نجی پروگرام کو منسوخ کرنے کا اختیار شہر کے پاس ہے یا نہیں۔‘

انھوں نے یہ بیان پروگرام کے خلاف بائیں بازو کے لبرل گروہوں کے احتجاج اور اسے منسوخ کرنے کے مطالبات پر دیا ہے۔

ادھر بدھ کو جاری ایک بیان میں امریکہ کے بین الاقوامی مذہبی آزادی کمیشن کے چیئرمین آصف محمود نے کہا کہ ’ہم امریکی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں ملوث آر ایس ایس کے ارکان اور انڈین حکام کے خلاف پابندیوں پر غور کرے، جن میں موہن بھاگوت کو جاری کیا گیا ویزا منسوخ کرنا بھی شامل ہے۔‘

یہ کمیشن دنیا بھر میں مذہبی آزادی کی صورتِ حال کی نگرانی کرتا ہے اور پالیسی سفارشات پیش کرتا ہے۔ تاہم یہ سفارشات لازمی طور پر قابلِ عمل نہیں ہوتیں۔ حالیہ سفارشات کے باوجود واشنگٹن نے کوئی پابندیاں عائد نہیں کی ہیں۔

انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے کمیشن کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے اسے انڈیا کے خلاف جانبدار قرار دیا ہے۔

زہران ممدانی

،تصویر کا ذریعہ@NYCMayor

،تصویر کا کیپشن29 اگست کو نیویارک میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کا پروگرام طے ہے جس کی زہران ممدانی نے مخالفت کی ہے

ممدانی اور آر ایس ایس نے کیا کہا؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

زہران ممدانی کی والدہ انڈین نژاد امریکی شہری ہیں اور وہ خود نیویارک کے پہلے مسلمان میئر ہیں۔

ممدانی نے اس پروگرام کو منسوخ کرنے سے متعلق سوال پر کہا تھا کہ ان کے خاندان نے انھیں انڈیا کا جو نظریہ سکھایا وہ ایک ’متنوع معاشرے اور ایک سیکولر جمہوریہ‘ کا تھا جہاں ’ہر شخص کو قبول کرنے کا جذبہ موجود ہے۔‘

انھوں نے کہا تھا کہ معاشرے سے لوگوں کو ’خارج کرنے کی سوچ‘ پر مبنی کسی تحریک کا ابھرنا ’انتہائی تشویش ناک ہے۔‘

ممدانی کے اس بیان پر انڈیا میں انتہائی منقسم ردِعمل سامنے آیا۔

آر ایس ایس کے ترجمان پرمکھ سنیل آمبیکر نے ممدانی کا نام لیے بغیر ان کی مخالفت کا جواب دیا ہے۔

سنیل آمبیکر نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’نیویارک میں یونیورسل وننیس سیلیبریشن تقریب بین المذاہب پروگرام کی ایک مثال ہے جہاں آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک ڈاکٹر موہن بھاگوت مختلف النوع، کثیر الثقافتی اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد سے مکالمہ کریں گے۔‘

’آزاد مکالمے اور باہمی احترام کے جذبے سے منعقد کیا جانے والا یہ پروگرام انڈین طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے جو بنیادی طور پر سب کو شامل کرنے والا ہے اور سب کو خوش آمدید کہتا ہے۔‘

’یہ اقدام مختلف برادریوں کے ساتھ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے طویل عرصے سے جاری مکالمے اور روابط کی روایت کے مطابق ہے، چاہے وہ انڈیا میں ہوں یا دنیا بھر میں۔ اس کا مقصد باہمی تفہیم اور مشترکہ اہداف کو فروغ دینا ہے۔‘

موہن بھاگوت

،تصویر کا ذریعہ@RSS

،تصویر کا کیپشنآر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت اس وقت امریکہ میں ہیں اور 29 اگست کو نیویارک کے میڈیسن سکوائر میں تقریر کریں گے

آر ایس ایس کا مزید کہنا ہے کہ ’آر ایس ایس کے نظریے اور نقطۂ نظر کو مزید بہتر طور پر سمجھنے میں دلچسپی رکھنے والے تمام افراد کو آزاد مکالمے کے پروگراموں میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔‘

امریکی گلوکارہ کی ممدانی پر تنقید

آر ایس ایس کے سو سال مکمل ہونے کے موقع پر بھاگوت کے تین ممالک کے دورے میں پہلا پڑاؤ امریکہ ہے۔

یہاں ان کا متوقع خطاب پہلے ہی تنازعات کی زد میں آ چکا ہے۔

امریکن ہندوؤز فار انگیجمنٹ اینڈ ڈائیلاگ کے مطابق 200 سے زیادہ ہندو امریکی تنظیمیں ’یونیورسل وننیس سیلیبریشن' کی حمایت کر رہی ہیں۔

تاہم شہری حقوق، مذہبی اور کمیونٹی تنظیموں پر مشتمل 61 اداروں کے ایک اتحاد نے میڈیسن سکوائر گارڈن سے پروگرام منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سیئٹل سٹی کونسل کی سابق رکن اور ممتاز سوشلسٹ رہنما کشما ساونت نے بھاگوت کو انڈیا کے ’سب سے نمایاں اور خطرناک‘ دائیں بازو کے ہندو انتہا پسند رہنماؤں میں سے ایک قرار دیا اور ممدانی سے پروگرام منسوخ کرنے کی اپیل کی۔

اس کے جواب میں انڈیا کا قومی ترانہ اکثر تقریبات میں گانے والی افریقی نژاد امریکی گلوکارہ میری مِلبین نے ممدانی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

انھوں نے الزام لگایا کہ ممدانی اور ’سوشلسٹ انتہا پسند‘ پروگرام کی مخالفت اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ وہ ’مودی اور بی جے پی کے مخالف ہیں۔‘

انھوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’میڈیسن سکوائر گارڈن سوشلسٹ بیانات کے سامنے جوابدہ نہیں ہے۔‘

انھوں نے میئر اور ان کے حامیوں سے کہا کہ ’سرمایہ دار بنیں، پیسہ جمع کریں اور خود گارڈن کرائے پر لے لیں۔‘

میری مِلبین

،تصویر کا ذریعہChip Somodevilla/Getty Images

ہندوؤز فار ہیومن رائٹس کی ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سراویا تدیپلی نے ایک بیان میں کہا کہ ’موہن بھاگوت ہندوؤں کی نمائندگی نہیں کرتے۔ وہ ایک انتہا پسند ہندو قوم پرست تحریک کی قیادت کرتے ہیں، جس نے اقلیتی برادریوں میں تشدد، اخراج اور خوف کو فروغ دیا ہے۔‘

سراویا تدیپلی نے کہا کہ ’نیویارک کو آر ایس ایس کو ایسا پلیٹ فارم نہیں دینا چاہیے جہاں مذہبی قوم پرستی کو اتحاد کے طور پر نئی شکل میں پیش کیا جائے۔ ہم سٹی ہال میں انڈیا کی حقیقی متنوع سوچ کے دفاع کے لیے جمع ہوں گے، جہاں کسی شخص کا مذہب یہ طے کرنے کی بنیاد نہ بنے کہ کون اس ملک کا حصہ ہے یا اقتدار پر کس کا حق ہے۔‘

انڈیا میں بی جے پی کے رکنِ پارلیمان بھولا سنگھ نے ممدانی کے اس تجزیے کو غلط اور بے بنیاد قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ ’آر ایس ایس طویل عرصے سے مسلسل سماجی خدمت اور قوم سازی کے کام میں مصروف ہے۔‘

ادھر بی جے پی کے ترجمان سید ظفر اسلام نے میئر ممدانی کے بیان کو ’تقسیم کرنے والا بیان‘ قرار دیا ہے۔

आरएसएस

،تصویر کا ذریعہ@RSS

،تصویر کا کیپشنامریکہ میں آر ایس ایس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے

امریکہ میں آر ایس ایس سے متعلق تنازع

یہ تنازع امریکہ میں آر ایس ایس کے بارے میں طویل عرصے سے جاری اختلافِ رائے کی عکاسی کرتا ہے۔

امریکہ میں آر ایس ایس کے ناقدین اس پر اقلیتوں کے خلاف تعصبانہ ماحول کو فروغ دینے کا الزام لگاتے ہیں۔

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے حال ہی میں آر ایس ایس پر پابندی لگانے کی سفارش کی ہے۔

تاہم امریکی سفارت کاروں اور سیاسی شخصیات نے وقتاً فوقتاً انڈیا میں آر ایس ایس کے عہدیداروں اور امریکہ کے دوروں کے دوران ان سے رابطہ رکھا ہے۔

2015 میں آر ایس ایس کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کی کوشش ہوئی تھی جس کی اوباما انتظامیہ نے مخالفت کی تھی۔

اوباما انتظامیہ نے ایک امریکی عدالت سے کہا تھا کہ عملی طور پر وہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو دہشت گرد تنظیم نہیں سمجھتی۔ لیکن ایک سکھ علیحدگی پسند تنظیم کی جانب سے دائر مقدمے کے جواب میں اپنے مؤقف کو حتمی شکل دینے کے لیے اس نے مزید وقت مانگا تھا۔

نیویارک سدرن ڈسٹرکٹ کی عدالت میں دائر ایک مقدمے میں سکھس فار جسٹس نے آر ایس ایس کو محکمہ خارجہ کے قوانین کے تحت ’غیر ملکی دہشت گرد تنظیم‘ قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

ایس ایف جے کا الزام تھا کہ آر ایس ایس فسطائی نظریے پر یقین رکھتی ہے اور اس پر عمل کرتی ہے۔

آر ایس ایس کے سینیئر عہدیدار رام مادھو اور جنرل سیکریٹری دتاتریہ ہوسبالے نے اپریل میں امریکہ کا دورہ کیا تھا، جہاں انھوں نے تھنک ٹینکس، ماہرینِ تعلیم اور پالیسی ماہرین سے ملاقاتیں کی تھیں۔

ہندو قوم پرستی اور انڈین تارکینِ وطن برادری کے ماہر ایڈورڈ اینڈرسن نے نیوز تجزیاتی ویب سائٹ مڈل ایسٹ آئی سے کہا کہ اگرچہ نیویارک میں کسی بڑے پروگرام میں آر ایس ایس سربراہ کو مرکزی مقرر کے طور پر دیکھنا حیران کن ہو سکتا ہے، لیکن تنظیم نے انڈیا کی آزادی کے ابتدائی برسوں ہی سے دنیا بھر میں انڈین تارکینِ وطن برادری کے درمیان حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پروگرام کے لیے اس مقام کے انتخاب کا ایک اور مقصد بھی ہے۔

ایڈورڈ اینڈرسن نے کہا کہ ’یہ ان کی طاقت اور کامیابی کو ظاہر کرتا ہے، جو ان کے فخر اور اظہارِ اعتماد کے بیانیے سے جڑی ہوئی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس سے ایسی تصاویر اور مواد تیار کرنے میں مدد ملتی ہے جسے انڈیا واپس بھیجا جا سکتا ہے۔‘

ستمبر 2014 میں وزیرِ اعظم بننے کے چند ماہ بعد ہی مودی نے میڈیسن سکوائر گارڈن میں تقریباً 18,000 افراد سے خطاب کیا تھا۔

مودی نے پُرجوش ہجوم سے کہا تھا کہ ’میں آپ کے خوابوں کا انڈیا بناؤں گا۔‘