یہ کیلا 62 لاکھ ڈالر میں کیوں فروخت ہوا؟

فن پارہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, میتھیو ولسن
    • عہدہ, بی بی سی کلچر
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

چار دسمبر 2019 کو ’آرٹ باسل میامی بیچ‘ کی افتتاحی تقریب میں لیونارڈو ڈی کیپریو، مائیکل بے اور ٹریوس سکاٹ سمیت متعدد مشہور شخصیات موجود تھیں جب ’کامیڈین‘ نامی فن پارے کو پہلی بار عوامی نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔

’آرٹ باسل میامی بیچ‘ نامی اِس پُرتعیش آرٹ میلے میں مہنگے فن پاروں کی بھرمار تھی۔ ہیلن فرینکن تھیلر کی ایک پینٹنگ تقریباً 16 لاکھ 50 ہزار ڈالر میں فروخت ہوئی، جبکہ ولیم ڈی کوننگ کی ایک پینٹنگ 80 لاکھ ڈالر میں دستیاب تھی۔

مگر اس نمائش میں موجود صحافی سارہ کاسکون کی توجہ اطالوی آرٹسٹ موریتسیو کاتیلان کے ’کامیڈین‘ نامی اُس نئے فن پارے پر مرکوز تھی: یعنی ایک کیلا جو ٹیپ کی مدد سے دیوار پر چپکایا گیا تھا۔

اسی دن صحافی سارہ کاسکون نے اِس فن پارے (کامیڈین) پر پہلی تفصیلی خبر شائع کی، جس میں بتایا گیا کہ اس کے دو ایڈیشن ایک لاکھ 20 ہزار ڈالر فی عدد کے حساب سے فروخت ہو چکے ہیں۔ چند روز بعد تیسرا اور آخری ایڈیشن بھی ایک لاکھ 50 ہزار ڈالر میں فروخت ہوا۔ ہر خریدار کو اصلیت کا سرٹیفکیٹ اور فن پارہ نصب کرنے کی ہدایات دی گئیں، جن میں یہ شرط بھی شامل تھی کہ کیلا وقتاً فوقتاً تبدیل کیا جائے۔

آرٹ باسل میامی بیچ کے دوران سینکڑوں افراد نے اس فن پارے کی تصاویر بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔

رونمائی کے چند ہی دنوں میں ’کامیڈین‘ ایک وائرل سنسنی بن گیا۔

لوگوں نے اس پر طنز کیا، حیرت کا اظہار کیا، قہقہے لگائے اور ٹیپ اور کیلے پر مبنی بے شمار میمز بھی سامنے آئیں۔ اخبارات، بلاگز اور یوٹیوب ویڈیوز میں اس کی جمالیاتی اور فکری اہمیت پر گرما گرم بحث چھڑ گئی۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ جو لوگ اسے سب سے زیادہ ناپسند کرتے تھے، وہی اس پر سب سے زیادہ لکھ بھی رہے تھے۔

اگر موریتسیو کاتیلان کا مقصد اس فن پارے کے ذریعے توجہ حاصل کرنا تھا تو ’کامیڈین‘ شاندار کامیابی ثابت ہوا تھا۔

معاصر فن کے بہت کم نمونے چند گھنٹوں میں اتنی شہرت حاصل کر پاتے ہیں جتنی اس فن پارے نے حاصل کی۔ اس کی مقبولیت نے اس کی تجارتی قدر میں بھی اضافہ کیا۔

سنہ 2024 میں ’کامیڈین‘ کے تین ایڈیشنوں میں سے ایک کو 62 لاکھ 40 ہزار ڈالر (پاکستانی کرنسی میں ایک ارب 66 کروڑ روپے) میں نیلام کیا گیا، جس پر ایک بار پھر یہ بحث چھڑ گئی کہ آخر ایک کیلے پر اتنی بڑی رقم کیوں خرچ کی جا رہی ہے۔

مگر اس فن پارے کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ جس چیز نے لوگوں کو چونکایا، وہ سب پہلے بھی ہو چکی تھی۔

’کامیڈین‘ دراصل ایک ایسے فنکار کی حکمتِ عملی کو ظاہر کرتا ہے جو شہرت اور تنازع پیدا کرنے کے فن میں کمال رکھتا ہے۔

400 سال پرانی طنز و مزاح کی روایت

فن پارہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

موریتسیو کاتیلان کی ایک بڑی حکمتِ عملی اشتعال دلانا ہے۔ انھوں نے بہت پہلے سمجھ لیا تھا کہ تخلیقی دنیا میں صرف مہارت یا ذہانت کافی نہیں ہوتی۔ توجہ حاصل کرنے کے لیے تنازع پیدا کرنا بھی ضروری ہوتا ہے، کیونکہ یہی چیز بڑے سامعین اور زیادہ مواقع کی راہ ہموار کرتی ہے۔

فن کی تاریخ اس بات کا ثبوت ہے۔ چار سو سال پہلے کاراواجو نے اپنے مذہبی فن پاروں میں غیر معمولی تشدد، جنسی کشش اور تاریکی کو پیش کر کے اپنے ہم عصروں کو تقسیم کر دیا تھا۔ یہی عناصر بعد میں اس کی بین الاقوامی شہرت کا سبب بنے۔

انیسویں صدی کے وہ فنکار، جنھیں آج عظیم سمجھا جاتا ہے، مثلاً جے ایم ڈبلیو ٹرنر، جان کانسٹیبل، مانی، مونے، گوگین، وسلر اور سیزان، اپنے دور میں شدید تنقید اور تمسخر کا سامنا کرتے رہے کیونکہ وہ فن میں نئے تجربات کر رہے تھے۔

یوں بیسویں صدی کے آغاز تک فن میں جدت اور عوامی ناپسندیدگی کو ایک ہی سکے کے دو رخ سمجھا جانے لگا۔

کچھ فنکاروں نے عوامی مخالفت کو تخلیقی جرات کا لازمی نتیجہ قرار دیا، جبکہ بعض نے تنقید کو ہی ذہانت اور عظمت کی علامت سمجھ لیا۔ لیکن دونوں اس بات پر متفق تھے کہ تنازع خودنمائی کا طاقتور ذریعہ ہے۔

موریتسیو کاتیلان بھی برسوں سے خود کو فن کی دنیا کے ایک اشتعال دلانے والے کردار کے طور پر پیش کرتے آئے ہیں۔ تاہم ان کا انداز اپنے پیش رو آرٹسٹس سے مختلف ہے۔

اُن کے متنازع فن پارے، مثلاً 1999 کا ’لا نونا اورا‘ جس میں پوپ جان پال دوم کو ایک شہابِ ثاقب کی زد میں دکھایا گیا، یا سنہ 2001 کا ہِم جس میں ایڈولف ہٹلر کے چہرے والا ایک دعا مانگتا لڑکا دکھایا گیا، ایسے موضوعات پر مبنی ہیں جنھیں عام لوگ بھی فوراً پہچان لیتے ہیں۔

ان فن پاروں میں کوئی پیچیدہ نظریہ یا اشرافیاتی رمزیت نہیں۔ وہ مزاح، طنز اور ستم ظریفی کا استعمال کرتے ہوئے طاقتور شخصیات اور اداروں پر سوال اٹھاتے ہیں۔

اس اعتبار سے موریتسیو کاتیلان طنزیہ فن کی اسی روایت کے وارث ہیں جس کی نمائندگی جیمز گلرے اور اونورے دومیے جیسے مصور کرتے تھے۔

سنہ 1999 میں اپنے فن پارے ’اے پرفیکٹ ڈے‘ میں موریتسیو کاتیلان نے اپنی گیلری کے مالک ماسیمو ڈی کارلو کو ہی ڈکٹ ٹیپ سے دیوار پر چپکا دیا تھا۔ وہاں فن پارہ نہیں بلکہ آرٹ ڈیلر خود تماشہ بن گیا تھا۔

بیس سال بعد ’کامیڈین‘ نامی فن پارے میں بھی چاندی کے رنگ کی ٹیپ کا استعمال کیا گیا، جو ان کے مداحوں کے لیے واضح اشارہ تھا کہ اس فن پارے کا اصل ہدف بھی آرٹ مارکیٹ اور اس کی اقدار کا مذاق اڑانا ہے۔

فن پارہ

،تصویر کا ذریعہAlamy

’پرانے کو نئے انداز میں چونکانا‘

لیکن سوال یہ ہے کہ آخر کیلا ہی کیوں؟

کیلے کی شکل، اس کی مزاحیہ ثقافتی علامت اور روزمرہ زندگی میں اس کی مانوس موجودگی اسے ایک دلچسپ انتخاب بناتی ہے۔ اس کے علاوہ جیورجیو دے کیریکو، اینڈی وارہول اور گوریلا گرلز سمیت کئی فنکار اس سے پہلے بھی اپنے کام میں کیلے کو استعمال کر چکے ہیں۔

خوراک یا پھل کو فن کا موضوع بنانا بھی کوئی نئی بات نہیں۔ ’سٹل لائف‘ یا ساکت مناظر کی روایت سولہویں صدی سے چلی آ رہی ہے۔ ایسی تصاویر کا مقصد ناظرین کو زندگی کی ناپائیداری اور فن کی دوام بخش قوت پر غور کرنے کی دعوت دینا تھا۔

سنہ 1501 کی جاکوپو دے بارباری کی مشہور پینٹنگ ’سٹل لائف ود پارٹریج اینڈ گانٹ لیٹس‘ اور موریتسیو کاتیلان کے ’کامیڈین‘ کے درمیان پانچ صدیوں کا فاصلہ ضرور ہے، لیکن بنیادی خیال ایک جیسا ہے: دیوار پر نصب ایک شے جس پر دیکھنے والا غور کرے۔

فرق صرف اتنا ہے کہ ’کامیڈین‘ میں پھل کی تصویر نہیں بلکہ اصلی کیلا استعمال کیا گیا ہے، جو چند دنوں میں گل سڑ جاتا ہے۔ مگر یہ تصور بھی نیا نہیں۔ فن کی دنیا میں ’ریڈی میڈ‘ یا روزمرہ اشیا کو فن پارہ قرار دینے کی روایت ایک صدی سے زائد پرانی ہے۔

ثقافت

،تصویر کا ذریعہPhoto Armin Linke

اس روایت کے سب سے معروف علمبردار مارسل ڈوشاں تھے، جنھوں نے 1910 کی دہائی میں بوتل رکھنے کے سٹینڈ، سائیکل کے پہیے اور حتیٰ کہ ایک پیشاب دان کو بھی فن پارے کے طور پر پیش کیا۔

ان کا مقصد یہ سوال اٹھانا تھا کہ آخر ’فن‘ کی تعریف کیا ہے؟ تاہم یہ بحث بھی دراصل قدیم یونانی فلسفے، خصوصاً افلاطون کے زمانے سے چلی آ رہی ہے۔

اس نظر سے دیکھا جائے تو ’کامیڈین‘ کوئی انقلابی یا بے مثال تجربہ نہیں بلکہ فن کی طویل تاریخی روایت کا ہی ایک حصہ ہے۔

آخرکار ’کامیڈین‘ ایک سوچا سمجھا اشتعال تھا۔ 61 سالہ موریتسیو کاتیلان اپنی مہارت سے ایک کیلے، ایک دیوار اور ایک ڈکٹ ٹیپ کے ذریعے دنیا بھر میں بحث چھیڑنے میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن اس فن پارے کی تہہ میں تنازع، طنز، آسان شناخت، ساکت مناظر کی روایت اور ’ریڈی میڈ‘ کا تصور سب موجود ہیں۔

شاید کچھ لوگ آج بھی اس کی قیمت پر ناراض ہوں، مگر حقیقت یہ ہے کہ 2019 کے آرٹ باسل میلے میں اس سے بھی زیادہ مہنگے فن پارے فروخت ہوئے تھے، اور یہ نیلامی میں فروخت ہونے والا سب سے مہنگا ’ریڈی میڈ‘ آئٹم بھی نہیں تھا۔

’کامیڈین‘ کے بارے میں سب سے حیران کن حقیقت شاید یہی ہے کہ بظاہر انتہائی انقلابی دکھائی دینے والا یہ فن پارہ دراصل بالکل بھی اتنا انقلابی نہیں جتنا سمجھا جاتا ہے۔