گلگت بلتستان انتخابات میں کوئی بھی سیٹ جیتے بغیر استحکام پاکستان پارٹی حکومت سازی میں اہم فریق کیسے بنی؟

استحکام پاکستان پارٹی

،تصویر کا ذریعہIPP

،تصویر کا کیپشناسد شفیق اُن چار امیدواروں میں شامل ہیں جنھوں نے الیکشن جیت کر استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے
    • مصنف, عمیر سلیمی
    • عہدہ, بی بی سی اردو
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

پاکستان کے زیرِ انتظام خطے گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے صحافی جاوید اقبال کے لیے یہ ’چونکا دینے والی خبر‘ تھی کہ حال ہی میں ہوئے عام انتخابات کے بعد چار فاتح آزاد امیدواروں نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی کسی بڑی سیاسی جماعتوں کی بجائے خطے تین ماہ قبل رجسٹرڈ ہونے والی جماعت استحکامِ پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ایک اپ سیٹ تھا جس کی کوئی توقع نہیں کر رہا تھا۔‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی نے گلگت بلتستان کے 24 حلقوں میں سے 13 پر امیدوار کھڑے کیے تھے مگر اس پارٹی کا ایک بھی امیدوار انتخابات میں نہیں جیت پایا تھا۔

اگرچہ گلگت بلتستان کے الیکشن کمیشن نے تاحال خطے میں عام انتخابات کے نتائج یا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیے تاہم اب تک کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی 11 نشستوں کے ساتھ سرفہرس ہے۔

مگر 33 ارکان پر مشتمل گلگت بلتستان اسمبلی میں 17 نشستوں کی سادہ اکثریت کے لیے پیپلز پارٹی کو اتحادی درکار ہوں گے۔

اس الیکشن میں سب سے زیادہ ووٹ بالترتیب پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے حاصل کیے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ علیم خان کا کہنا ہے کہ صرف تین ماہ کی انتخابی مہم کے باوجود اُن کی جماعت کو تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ ووٹ ملے ہیں اور اب وہ بلدیاتی الیکشن میں بھی حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کو گلگت بلتستان اسمبلی میں 17 نشستوں کی سادہ اکثریت تو حاصل نہیں ہوئی مگر پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے حکومت سازی میں اُن کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

پیپلز پارٹی خطے میں حکومت سازی کے لیے پُرامید ہے اور اس کا خیال ہے کہ ن لیگ گلگت بلتستان اسمبلی کے اپوزیشن بینچز پر ہی بیٹھے گی۔ اس لیے اب پیپلز پارٹی کے پاس آئی پی پی کے ساتھ اتحاد قائم کرنے کا ایک آپشن موجود ہے۔

علیم خان کی جماعت آئی پی پی کے رہنما عون چوہدری نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’اگر پیپلز پارٹی نے ہم سے رابطہ کیا اور ایسا کوئی سمجھوتہ ہوتا ہے تو ہم بالکل ان سے ہاتھ ملائیں گے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ فی الحال ان کا گلگت بلتستان حکومت کے قیام کے لیے پیپلز پارٹی سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ ’اگر وہ اپروچ کریں گے تو ہم اس بارے میں سوچیں گے۔‘

’پیپلز پارٹی کو ضرورت کے تحت اتحاد کرنا پڑ سکتا ہے‘

بلاول بھٹو

،تصویر کا ذریعہPPP

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان میں حکومت سازی میں حمایت پر وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے بی بی سی کو بتایا کہ نتائج کے مطابق 11 نشستوں کے ساتھ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں سب سے بڑی سیاسی جماعت بن چکی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی آسانی سے حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ 'مسلم لیگ ن چھ نشستوں پر کھڑی ہے اور استحکام پاکستان پارٹی چار سیٹیں دے کر کھڑی کر دی گئی ہے۔'

ان کے بقول پیپلز پارٹی کا یہ ماننا ہے کہ 'عدالتی فیصلوں کے مطابق ایک ایسی جماعت جس کی اسمبلی میں کوئی سیٹ اور نمائندگی نہیں ہے، اسے مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتیں۔'

انتخابات کے معاملات پر نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق 11 سیٹیں جیتنے کی بنیاد پر پیپلز پارٹی کو مخصوص نشستوں میں سے پانچ جبکہ آئی پی پی کو (چار آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد) دو مخصوص نشستیں مل سکتی ہیں۔

مگر قمر زمان کائرہ کہتے ہیں کہ آئی پی پی کو مخصوص نشستیں دینا ایک قانونی سوال ہے اور اس پر بات کی جائے گی۔

گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے لیے استحکام پاکستان پارٹی یا ن لیگ کے ساتھ اتحاد کے امکان پر قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ 'اتحاد ضرورت کے تحت کیے جاتے ہیں۔ وزیر اعظم نے اعلان کیا ہے کہ مسلم لیگ ن نے حکومت بنانے میں پیپلز پارٹی کی حمایت کرے گی مگر اپوزیشن میں بیٹھے گی۔'

ان کا کہنا تھا کہ وہ اتحاد کے امکان سے انکار نہیں کر سکتے لیکن '11 سیٹیں ہماری اپنی ہیں۔ ایک آدھ آزاد امیدوار کے ساتھ ہمارا رابطہ ہے۔ یوں ہماری 12 سیٹیں ہو جائیں گی اور ہمیں پانچ مخصوص نشستیں مل جائیں گی۔ یعنی ہم 17 پر پہنچ جائیں گے۔'

اس سوال پر کہ کیا اگر سادہ اکثریت حاصل نہ ہوئی تو پیپلز پارٹی استحکام پاکستان پارٹی کے ساتھ اتحاد قائم کرنے کے لیے تیار ہو گی، پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ ’میں اس کے بارے میں ہاں یا ناں نہیں کر سکتا۔ لیکن وقت کے ساتھ پتا چلے گا۔ اگر ہم اپنی حکومت بنا سکے تو بنائیں گے۔ ورنہ اتحاد کی طرف بھی جایا جا سکتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اب بھی پیپلز پارٹی کو آزاد امیدواروں سے حمایت ملنے کی امید ہے۔ ’اگر ہمیں حکومت بنانے نہیں دی جاتی تو پھر ایک ہی صورت ہو سکتی ہے کہ مسلم لیگ ن، آئی پی پی اور آزاد امیدوار سب کو اکٹھا کر دیا جائے۔‘

'اگر ایسی صورتحال بنتی ہے تو ہمارے لیے یہ کوئی اچنبھے کا باعث نہیں ہو گا۔ لیکن ہم ایسی توقع نہیں کر رہے۔ ہم انشا اللہ حکومت بنانے جا رہے ہیں۔'

کیا پیپلز پارٹی خطے میں انتخابی عمل پر مطمئن ہے، اس پر ان کا کہنا تھا کہ 'بہت سے سوال تھے اور ہیں۔ الیکشن کے عمل اور الیکشن کمیشن کے کنڈکٹ پر۔ لیکن یہ اس کا وقت نہیں ہے۔ ہم اب حکومت سازی کے عمل میں ہیں۔'

حکومت سازی کے لیے آئی پی پی کا کردار اہم کیوں ہو گیا؟

استحکام پاکستان پارٹی

،تصویر کا ذریعہIPP

منگل کو استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ عبدالعلیم خان نے اعلان کیا تھا کہ چار آزاد امیدواروں نے ان کی جماعت میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ ان میں حلقہ 23 سے انور علی، حلقہ 24 سے اسد شفیق، حلقہ 15 سے محمد دلپذیر اور حلقہ 15 سے امان علی امیر شامل ہیں۔

اس سے قبل مسلم لیگ ن نے دعویٰ کیا تھا کہ ان میں سے دو آزاد امیدوار اس کے حمایت یافتہ ہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے ایکس پر پیغام میں کہا تھا کہ اسد شفیق اور انور علی کو ان کی جماعت کی حمایت حاصل تھی۔ تاہم اس کے باوجود ان آزاد امیدواروں نے آئی پی پی میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔

فیس بُک پر ایک پیغام میں اسد شفیق نے کہا کہ انھوں نے آئی پی پی میں شمولیت کا فیصلہ ’کسی ذاتی یا سیاسی مفاد کے تحت نہیں بلکہ مشہ بروم، گنگچھے اور بالعموم گلگت بلتستان کے وسیع تر عوامی مفاد، ترقی اور خوشحالی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے مختلف حلقوں سے کامیاب ہونے والے آزاد امیدواروں نے استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی صدر علیم خان سے تفصیلی ملاقات کی تھی اور اپنے مطالبات رکھے تھے۔

صحافی منظر شگری کا کہنا ہے کہ علیم خان وفاق میں بھی تنہا ہونے کے باوجود اتحادی حکومت کا حصہ بنے اور یہاں بھی بظاہر ایسی ہی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔

ان کا خیال ہے کہ اب آئی پی پی کو مخصوص نشستیں بھی مل جائیں گی اور 33 ارکان کی اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے آئی پی پی کا کردار اہم ہو جائے گا۔

آئی پی پی تین ماہ میں گلگت بلتستان کی تیسری بڑی جماعت کیسے بنی؟

آئی پی پی کے سربراہ علیم خان نے گذشتہ روز اپنی تقریر میں اعتراف کیا تھا کہ 'صرف تین ماہ میں گلگت بلتستان کے ایک ایک کونے پر استحکام پاکستان پارٹی کا پرچم لہرا رہا ہے۔۔۔ جو کمی جنرل الیکشن میں رہ گئی ہے، اسے ہم بلدیاتی الیکشن میں پورا کریں گے۔'

گلگت بلتستان میں آئی پی پی کے سیکریٹری جنرل فتح اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس جماعت کو خطے میں محض تین سے چار ماہ ہوئے ہیں اور اس دوران باقاعدہ تنظیم سازی بھی نہیں ہو سکی تھی۔ مگر ان کے مطابق انتخابی مہم میں سابق وزیر اعلیٰ، سابق گورنر کے ساتھ ساتھ سابق وزرا بھی شامل تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’بہت قلیل وقت میں 24 حلقوں میں ہمارے 13 امیدواروں کو 50 ہزار سے زیادہ ووٹ ملے۔۔۔ تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ ووٹ استحکام پاکستان پارٹی کو ملے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جماعت میں شامل ہونے والے آزاد امیدواروں کے ووٹ بھی ملائے جائیں تو آئی پی پی کے 90 ہزار سے زیادہ ووٹ بنتے ہیں۔

تاہم صحافی و تجزیہ کار ماجد نظامی کی رائے میں استحکام پاکستان پارٹی کا تعلق کسی صوبے یا سیاست سے نہیں بلکہ یہ 'ریاست کی نمائندگی کرتی ہے۔'

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ پنجاب کی طرح گلگت بلتستان میں بھی یہی ہوا کہ جن رہنماؤں سے ’تحریک انصاف چھڑوائی گئی یا انھیں الگ کیا گیا، انھیں استحکام پاکستان پارٹی کا پلیٹ فارم دیا گیا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعلیٰ خالد خورشید کی حکومت گرانے کے لیے تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی نے ’فارورڈ بلاک‘ بنایا جنھوں نے آگے چل کر دو سال حکومت کی۔

اس کے بعد، اُن کے بقول، گلگت بلتستان اسمبلی کے الیکشن سے قبل سابق وزیر اعلیٰ گلبر خان سمیت اس فارورڈ بلاک کو 'استحکام پاکستان پارٹی کے پرچم تلے ایڈجسٹ کیا گیا۔'

’یہ گلگت بلتستان اسمبلی کو توازن میں رکھنے کی کوشش ہے‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی جاوید اقبال کی رائے میں آزاد امیدواروں کی آئی پی پی میں شمولیت ایک ’اپ سیٹ ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ سابقہ حکومت کی کابینہ کے لوگ بڑی تعداد میں آئی پی پی میں شامل ہوئے تھے اور لوگ ’یہ سمجھ رہے تھے کہ انھیں اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے اور یہ اگلا الیکشن جیت بھی سکتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ آئی پی پی کا ایک امیدوار بھی نہیں جیتا۔‘

اب جبکہ پیپلز پارٹی اور آئی پی پی کے درمیان حکومت سازی کے لیے اتحاد کے امکانات پر بات ہو رہی ہے تو ماجد نظامی کہتے ہیں کہ ایسی اتحادی حکومت 'مزاحمت اور آزاد پالیسیوں کی علمبردار نہیں ہو گی' کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ آئی پی پی کا کردار ایک بیساکھی سے زیادہ نہیں ہو گا۔

ان کے بقول اس کی وجہ ایک ایسا 'پریشر گروپ' بنانا ہے جو گلگت بلتستان اسمبلی کو ’توازن‘ میں رکھ سکے۔ 'تاکہ اگر کسی بھی پارٹی کے بارے میں خدشہ ہو کہ وہ حکم عدولی کر سکتی ہے، تو وہ ایسا نہ کرے۔‘

ماجد نظامی سمجھتے ہیں کہ 'گلگت بلتستان اور (پاکستان کے زیر انتظام) کشمیر کے الیکشنز میں عوامی ووٹ کے علاوہ بہت سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔'

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان کے الیکشن میں دو آزاد امیدواروں کو مسلم لیگ ن کی حمایت حاصل تھی اور انھی کی وجہ سے ان حلقوں میں ن لیگ نے کسی کو ٹکٹ نہیں دیا تھا۔ ’مسلم لیگ ن کو ان لوگوں پر اعتماد تھا کہ یہ ہمارے لوگ ہیں۔‘

ان کا دعویٰ ہے کہ یہ پورا معاملہ بھی '28ویں آئینی ترمیم، این ایف سی ایوارڈ سے جڑا ہے۔ پاکستان کے سیاسی منظر نامے کو گلگت بلتستان سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔'

'جتنے بھی اہم ترین قومی معاملات ہیں وہ اس میں زیرِ بحث آئیں گے۔'

’اسٹیبلشمنٹ کی حمایت تو سبھی کو ہوتی ہے‘

اس سوال پر کہ کیا آئی پی پی کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے، علیم خان کی پارٹی کے رہنما عون چوہدری کا کہنا ہے کہ ’اُن کی حمایت کِن کو حاصل نہیں ہے؟ سب کو ہی ہوتی ہے۔‘

تاہم انھوں نے اس تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری پارٹی نے گلگت بلتستان میں اچھے ووٹ لیے ہیں۔ تیسری بڑی جماعت بنی ہے۔ ہار جیت تو سیاست کا حصہ ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہمارے امیدواروں نے اچھی انتخابی مہم چلائی۔ وہ جیتنے والے امیدوار تھے۔‘

آزاد امیدوار آئی پی پی میں ہی شامل کیوں ہوئے، اس سوال پر عون چوہدری نے کہا کہ ’انھوں نے کسی جماعت میں تو جانا تھا۔ جو انسان الیکشن لڑ کر اسمبلی میں آتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ اس کو اچھا عہدہ ملے تاکہ وہ پرفارم کرے اور اس کا سیاسی مستقبل اسی بات کر منحصر ہوتا ہے۔‘

آئی پی پی کے رہنما نے مزید کہا کہ ’اگر ان کی پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں جگہ نہیں بنتی، جہاں پہلے سے لوگ ہیں تو وہ ایسی ہی نئی جماعت سے رابطہ کریں گے جہاں انھیں عزت اور پہچان ملے گی اور مواقع ملیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’کسی الحاق کی وجہ صرف یہ نہیں ہو سکتی کہ کسی کی سپورٹ حاصل ہے۔ سیاست میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔‘

عون چوہدری نے مثال دی کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک وقت میں ایک دوسرے کے ’جانی دشمن‘ تھے مگر آج وہ ’مرکز میں حکومت بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں، ہم بھی ان کے اتحادی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ آزاد امیدواروں کو ’کوئی پیشکش نہیں کی گئی بلکہ ہمارے ساتھ ان کا سمجھوتہ طے ہوا ہے۔ آزاد امیدواروں کا حق ہے کہ ن لیگ، پیپلز پارٹی یا آئی پی پی میں جائیں۔‘