پہلی مرتبہ نظامِ شمسی سے باہر کُرہِ ارض جیسے ایک سیارے کے گرد فضا دریافت: کیا زمین سے باہر بھی زندگی موجود ہے؟

،تصویر کا ذریعہMelissa Weiss/Center for Astrophysics |Harvard & Smithsonian
- مصنف, پلب گھوش
- عہدہ, نامہ نگار برائے سائنس
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
محققین نے ایک دور دراز ستارے کے قابلِ رہائش خطے (ہیبی ٹیبل زون) میں گردش کرنے والے زمین جیسے چٹانی سیارے کے گرد پہلی بار فضا کی موجودگی کا سراغ لگایا ہے۔
محققین کا دعویٰ ہے کہ ان کی یہ دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے نظامِ شمسی سے باہر بھی ایسے سیارے موجود ہو سکتے ہیں جہاں زمین جیسی صورتحال پائی جاتی ہو۔
زمین جیسے اس سیارے کی فضا میں ہیلیم گیس کا پتا چلا ہے۔ اس گیس میں زندہ رہنا ممکن نہیں تاہم ایسا عین ممکن ہے کہ اس فضا میں دوسری گیسیں بھی پائی جاتی ہوں۔
تحقیق کے مرکزی مصنف ہارورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر کولن چیروبِم ہیں۔ انھوں نے اس دریافت کو ’بہت بڑی پیش رفت‘ قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’یہ پہلا موقع ہے کہ کسی نے کسی دوسرے ستارے کے قابلِ رہائش خطے میں موجود ایک چٹانی سیارے کے گرد فضا کی دریافت ہوئی ہے۔‘
ایل ایچ ایس 1140 بی (LHS 1140 b) نامی یہ سیارہ زمین سے 48 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ سیارہ ایک ایسے سرخ ستارے کے گرد گردش کرتا ہے جو ہمارے سورج کے مقابلے میں کہیں چھوٹا اور نسبتاً ٹھنڈا ہے۔
اب تک دور دراز ستاروں کے گرد گردش کرنے والی 6,000 سے زیادہ سیارے دریافت کیے جا چکے ہیں۔ تاہم نئی دریافت اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کہ یہ ہمیں سائنس کے سب سے بڑے اہداف میں سے ایک زندگی کے لائق دنیا کے سراغ کے مزید قریب لے جاتی ہے۔
سائنسی جریدے سائنس میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مصنفین واضح کرتے ہیں کہ کم از کم وہ اب تک تو کسی سیارے پر زندگی کے آثار دریافت نہیں کر سکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
کسی بھی سیارے پر زندگی کے امکانات کے لیے وہاں پانی کی موجودگی ضروری سمجھی جاتی ہے، اور اس کے لیے سیارے کا اپنے ستارے سے مناسب فاصلے پر ہونا بھی لازمی ہے۔ اگر کوئی سیارہ اپنے ستارے کے بہت قریب ہو تو حد سے زیادہ گرم ہو جائے گا اور اگر بہت دور ہو تو انتہائی سرد ہوتا ہے۔ اس لیے سیارے کو ایسی درمیانی پوزیشن میں ہونا چاہیے جہاں حالات زندگی کے لیے ’ایکدم موزوں‘ ہوں۔
سیاروں کے ماہرین اس دوری کو ’گولڈی لاکس زون‘ کہتے ہیں۔ یہ نام بچوں کی کہانیوں کے مشہور کردار گولڈی لاکس کے نام پر رکھا گیا ہے جو اپنے دلیے کے درجہ حرارت کے بارے میں بہت نخرے کرتی تھی۔
اب تک سائنسدان مختلف ستاروں کے گولڈی لاکس زونز میں سیکڑوں سیارے دریافت کر چکے ہیں، لیکن ان میں سے صرف چند درجن ہی زمین کی طرح نسبتاً چھوٹے اور چٹانی ہیں جو کسی سیارے کے زندگی کی معاونت کرنے کی صلاحیت کی جانب اہم اشارہ سمجھا جاتا ہے۔
تاہم اب تک ان میں سے کسی سیارے کے گرد فضا کی موجودگی ثابت نہیں ہو سکی تھی۔
مگر تازہ ترین دریافت میں بھی ایل ایچ ایس 1140 بی کے گرد فضا میں جس واحد گیس کا سراغ ملا ہے وہ ہیلیم ہے جو غالباً بالائی فضائی تہوں میں موجود ہے۔ صرف ہیلیم زندگی کی معاونت نہیں کر سکتی۔
البتہ یہ امکان موجود ہے کہ ایل ایچ ایس 1140 بی کی نسبتاً نچلی فضائی تہوں میں زندگی کے لیے زیادہ سازگار دیگر گیسیں بھی موجود ہوں۔
ہارورڈ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ڈیوڈ شاربونو کا کہنا ہے کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمارے نظامِ شمسی سے باہر زمین جیسے ایک سیارے کے گرد فضا دریافت ہوئی ہے۔
’لوگ عام طور پر بڑے سوالات میں دلچسپی رکھتے ہیں: کیا ہم کائنات میں اکیلے ہیں؟ کیا زمین یا ہمارے نظامِ شمسی سے باہر بھی زندگی موجود ہے؟ اس تناظر میں یہ تحقیق ایک اہم پیش رفت ہے کیونکہ اس میں پہلی بار ہمارے نظامِ شمسی سے باہر کسی ستارے کے قابلِ رہائش زون میں واقع ایک چٹانی سیارے کے گرد فضا کی دریافت ہوئی ہے۔‘
زندگی کی تلاش میں صرف ایل ایچ ایس 1140 بی ہی سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز نہیں۔
کے ٹو-18 بی (K2-18b) نامی ایک اور سیارہ بھی ہے جس کے اندر پانی سے بھرپور ماحول موجود ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ اس سیارہ وقت خبروں کی زینت بنا جب سائنس دانوں نے وہاں ڈائی میتھائل سلفائیڈ نامی گیس کے ممکنہ آثار دیکھے۔ زمین پر یہ گیس سمندری حیات سے منسلک سمجھی جاتی ہے۔
تاہم 2025 میں ناسا کی قیادت میں ہونے والے ایک نئے تجزیے سے معلوم ہوا کہ یہ اشارہ اتنا مضبوط نہیں تھا کہ اس سے گیس کی موجودگی کی تصدیق کی جا سکے، جبکہ تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ یہ گیس حیاتیاتی عمل کے بغیر بھی بن سکتی ہے۔
اسی طرح ٹراپسٹ-1 (TRAPPIST-1) نظام کے سات چٹانی سیارے بھی ہمارے نظامِ شمسی کے باہر زندگی کے حوالے سے سائنسدانوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہیں۔ ناسا کی جیمز ویب خلائی دوربین نے ٹراپسٹ-1 ڈی کے گرد زمین جیسی فضا کی موجودگی کو مسترد کر دیا ہے جبکہ ٹراپسٹ-1 ای سے متعلق حاصل ہونے والا ڈیٹا اب تک کوئی واضح نتیجہ فراہم نہیں کر سکا۔



















