امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی ووٹنگ نظام میں ’حیران کن کمزوریوں‘ کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم ٹی وی خطاب میں چین پر 2020 کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کا الزام لگایا اور امریکی ووٹنگ نظام میں ’حیران کن کمزوریوں‘ کا دعویٰ کیا۔
ٹرمپ نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر ووٹر دھاندلی اور 2020 کے انتخابات میں غیر ملکی مداخلت کے ایسے دعوے دہرائے جن کے حق میں اب تک کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ ان انتخابات میں وہ جو بائیڈن سے شکست کھا گئے تھے۔
وسط مدتی انتخابات سے تین ماہ قبل کیے گئے اس آدھے گھنٹے کے خطاب میں انھوں نے کہا کہ انھوں نے انٹیلی جنس کی سینکڑوں خفیہ فائلیں عوام کے لیے جاری کر دی ہیں، جو ان کے بقول اس دعوے کی تائید کرتی ہیں کہ بیجنگ نے بائیڈن کے حق میں انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تھی۔
امریکی انٹیلی جنس ادارے پہلے ہی یہ نتیجہ اخذ کر چکے ہیں کہ چین نے 2020 کے انتخابات میں مداخلت نہیں کی تھی۔
ٹرمپ نے اپنے خطاب کے دوران اپنی اعلیٰ ٹیم کے کئی ارکان کو اپنے ساتھ رکھا، تاہم صحافیوں کو صدر سے سوالات پوچھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اپنی تقریر میں انہوں نے چین پر 22 کروڑ ووٹر فائلوں، جن میں ذاتی معلومات بھی شامل تھیں، کے ’غیر قانونی حصول‘ کا الزام لگایا۔
ٹرمپ نے کہا کہ 18 ریاستوں میں ووٹروں کا ڈیٹا ’چین نے خریدا، چوری کیا یا ہیک کیا‘ اور ان افراد پر تنقید کی جو ان کے بقول اس معاملے سے آگاہ تھے لیکن انھوں نے اس دریافت سے حکومتی حکام یا کانگریس کو مطلع نہیں کیا۔
ٹرمپ نے اس بات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ چین نے مبینہ طور پر حاصل کی گئی معلومات کو ووٹنگ نظام میں تبدیلی یا انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کیا تھا۔
ان کی تقریر کے جواب میں واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے کہا کہ بیجنگ نے ’نہ کبھی امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کی ہے اور نہ کبھی کرے گا‘۔
بی بی سی نے بھی اس معاملے پر چینی وزارت خارجہ سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا ہے۔
دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں نے ٹرمپ پر الزام لگایا کہ وہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کی ساکھ اور سلامتی پر شکوک پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جن کے ذریعے ان کی باقی مدتِ صدارت کے دوران کانگریس کا کنٹرول طے ہوگا۔
سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے سرکردہ رہنما چک شومر نے تقریر کے بعد سوشل میڈیا پر لکھا: ’یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ امریکہ میں ووٹر اپنے رہنما منتخب کرتے ہیں، اس کا الٹ نہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’ڈیموکریٹس بھرپور جدوجہد کریں گے تاکہ ہر امریکی ووٹر ڈونلڈ ٹرمپ کی کسی رکاوٹ یا مداخلت کے بغیر آزادانہ طور پر اپنا ووٹ ڈال سکے۔‘
صدر کے ریمارکس امریکی انٹیلی جنس اداروں کے پہلے سے موجود جائزوں کے برعکس ہیں۔ 2021 میں امریکی نیشنل انٹیلی جنس کونسل کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ادارے کو ’بہت زیادہ یقین‘ ہے کہ چین نے 2020 کے صدارتی انتخابات میں مداخلت نہیں کی۔
رپورٹ میں کہا گیا تھا: ’ہماری تشخیص یہ ہے کہ چین نے انتخابات میں مداخلت کی کوئی کارروائی نہیں کی اور اگرچہ اس نے اثر و رسوخ استعمال کرنے کے امکانات پر غور کیا، لیکن ایسے اقدامات نہیں کیے جن کا مقصد امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج کو تبدیل کرنا ہو۔‘
رپورٹ کے مطابق اس کی ممکنہ وجہ یہ تھی کہ چین ’کسی بھی انتخابی نتیجے کو اپنے لیے اتنا فائدہ مند نہیں سمجھتا تھا کہ پکڑے جانے کی صورت میں ممکنہ ردعمل کا خطرہ مول لیتا۔‘
ٹرمپ نے یہ خطاب ایک نئے واشنگٹن پوسٹ-ایپسوس سروے کے بعد کیا، جس سے ظاہر ہوا کہ ان کی مقبولیت کی شرح کم ہو کر 37 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ بہت سے ووٹر مہنگائی اور ایران کے ساتھ جاری جنگ کے حوالے سے مایوسی کا شکار ہیں۔





