لائیو, اگر ایران مذاکرات کی میز پر نہیں آتا تو ہم اگلے ہفتے اس کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنا سکتے ہیں: ٹرمپ

فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئےامریکی صدر ٹرمپ نے متنبہ کیا ہے کہ اگر تہران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ ہوا تو وہ اگلے ہفتے ایران کے پاور پلانٹس پر حملوں کا حکم دے سکتے ہیں۔ دوسری جانب ایران کے جنوبی علاقوں پر نئے حملوں کے اعلان کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. امریکہ: سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے ایران سے جنگ پر خدشات، دفاعی بجٹ بل پر پیش رفت میں تاخیر

    امریکی پارلیمنٹ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ ارکان نے ایران کے ساتھ جنگ کے خدشات کے باعث سالانہ دفاعی پالیسی بل (این ڈی اے اے) کی مخالفت کی ہے جس کے نتیجے میں یہ بل اگلے مرحلے تک نہیں پہنچ سکا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ووٹنگ میں بل کے حق میں 50 اور مخالفت میں 46 ووٹ پڑے جو اسے آگے بڑھانے کے لیے کافی نہیں تھے۔

    اگرچہ بل کی حتمی منظوری کے عمل میں ابھی کئی ماہ باقی ہیں، لیکن سینیٹ میں اسے آگے بڑھانے میں ناکامی ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے حوالے سے گہری سیاسی تقسیم اور محکمہ دفاع کی پالیسیوں و بجٹ پر اس کے ممکنہ اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔

    ڈیموکریٹ سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے کہا کہ وہ اس بل کی حمایت سے پہلے چاہتے ہیں کہ انتظامیہ ایران کے بارے میں اپنی حکمتِ عملی واضح کرے اور کانگریس سے منظوری حاصل کرے۔

    ایک اور ڈیموکریٹ سینیٹر، ٹیمی ڈک ورتھ، نے بھی کہا کہ وہ اس وقت تک بل کی حمایت نہیں کریں گی جب تک ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے مزید فنڈنگ محدود کرنے سے متعلق ان کی ترمیم شامل نہیں کی جاتی۔

    ان کا کہنا تھا کہ مزید فوجی اخراجات کسی حکمتِ عملی کا حصہ نہیں بلکہ ایک طویل جنگ کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔

  2. آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک ’دشمن‘ اپنی کارروائیاں بند نہیں کرتا: پاسداران انقلاب

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے خبر دی ہے کہ امریکہ کی جانب سے حملوں کے بعد ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب نے خطے میں امریکی اہداف کے خلاف جوابی کارروائیاں شروع کر دی ہیں

    ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے خبر دی ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب نے خطے میں امریکی اہداف کے خلاف جوابی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

    ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ایرانی فوج نے کہا ہے کہ اس نے اردن میں واقع الازرق فضائی اڈے کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا۔

    دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت کے علاقے مینا عبداللہ میں واقع امریکی فوج کے لاجسٹکس مرکز پر کروز میزائل داغے ہیں۔

    ایرانی برآمدات رُکیں تو خطے کی توانائی رسد بھی متاثر ہو سکتی ہے: پاسدارانِ انقلاب

    پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی تیل اور گیس کی برآمدات کو روکنے کی کوشش کی گئی یا انھیں مسلسل معطل رکھا گیا تو وہ خطے کے دیگر ممالک کی برآمدات کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا کہ ’اگر ایران اپنی توانائی کی برآمدات انجام نہیں دے سکتا تو دوسرے ممالک بھی محفوظ طریقے سے اپنی برآمدات جاری نہیں رکھ سکیں گے۔‘

    پاسدارانِ انقلاب کا یہ سخت بیان امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے اس اعلان کیے بعد سامنے آیا تھا جس میں امریکہ نے جنوبی ایرانی بندرگاہوں کے گرد بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    ’ایران کے خلاف کسی بھی معاشی یا عسکری دباؤ کا ’متناسب جواب‘ دیں گے‘

    پاسدارانِ انقلاب نے مزید کہا کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی معاشی یا عسکری دباؤ کا ’متناسب جواب‘ دیں گے۔

    پاسدارانِ انقلاب نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ اپنی ’دشمنانہ کارروائیاں‘ بند نہیں کرتا۔

    دوسری جانب ایران کے ان دعووں کے جواب میں امریکہ، اردن یا کویت کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

  3. سینٹکام کا ایران کے خلاف سات گھنٹوں پر محیط حالیہ حملوں کے اختتام کا اعلان

    امریکی جہاز

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف حملوں کےموجودہ مرحلے کا اختتام ہو گیا ہے۔

    سینٹکام کے مطابق یہ کارروائیاں امریکی وقت کے مطابق رات 10 بجے مکمل ہوئیں، جس دوران آبنائے ہرمز اور ایران کے ساحلی علاقوں کے قریب واقع فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

    امریکی فوج کا کہنا ہے کہ حملوں میں ایرانی ڈرون تنصیبات، بحری صلاحیتوں اور ساحلی دفاعی نظام کو ہدف بنایا گیا۔ اس کارروائی میں ڈرونز، جنگی طیاروں اور بحری جنگی جہازوں کا استعمال کیا گیا۔

    سینٹکام کے مطابق یہ آپریشن ایران کے خلاف بحری اور ساحلی ناکہ بندی کی بحالی کے ساتھ کیا گیا اور سات گھنٹوں کے اندر مکمل ہوا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ’تجارتی جہازوں اور عملے کو ایران سے لاحق خطرات میں کمی لانا‘ تھا۔

  4. ایران کے شہر دہلوران میں منرل واٹر فیکٹری کو حملے کا نشانہ بنایا گیا: حکام

    ایران میں مقامی حکام نے خبر دی ہے کہ دہلوران شہر کے قریب منرل واٹر کی ایک فیکٹری کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق دہلوران کے گورنر نے بدھ کی صبح ایران میں خبر رساں ایجنسیوں کو بتایا کہ ’دہلوران شہر کے ضلع موسیان میں ایک منرل واٹر بنانے والی فیکٹری کو دشمن کے تین میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔‘

    مقامی حکام کے مطابق حملے میں کوئی انسانی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم نقصان کی حد کا ابھی تک مکمل طور پر پتہ نہیں چل سکا۔

    یاد رہے کہ بدھ کی صبح سینٹکام نے ایران کے خلاف حملوں کی یک نئی لہر کا اعلان کیا اور جوابی کارروائی میں پاسداران انقلاب اور ایرانی فوج نے کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ کیا تھا۔

  5. اگر ایران مذاکرات کی میز پر نہیں آتا تو ہم اگلے ہفتے اس کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنا سکتے ہیں: ٹرمپ کی دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں ایران کو متنبہ کیا ہے کہ اگر تہران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ ہوا تو وہ اگلے ہفتے ایران کے پاور پلانٹس پر حملوں کا حکم دے سکتے ہیں۔

    بدھ کو فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’امریکہ نے ایران پر معاہدہ کرنے کے لیے زور دیا تھا اور اس بات پر اصرار کیا تھا کہ وہ ایسے کسی معاہدے پر رضامند نہیں ہوں گے جس میں اس بات کی ضمانت نہ ہو کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔‘

    بی بی سی فارسی کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے دو ہفتے کے فاصلے پر ہے اور اگر اس کی جوہری تنصیبات پر بمباری نہ کی جاتی تو اس کو روکنا مشکل تھا۔

    فاکس نیوز کے نمائندے ٹیری ینگ سیٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ آیا زمینی کارروائی کا امکان ہے، تو اس پر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں اس بارے میں بھی کچھ نہیں کہنا چاہتا، کبھی کبھی زمینی آپریشن کی ضرورت پڑتی ہے لیکن ایسے لوگ بھی ہیں جو ہمارے لیے وہ زمینی کارروائی کریں گے۔‘

  6. ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کی ایران کے جنوبی علاقوں پر نئے حملوں کے اعلان کے تقریباً ایک گھنٹے بعد پاسدارانِ انقلاب نے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے منگل کی شب جاری ہونے والے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بیک وقت میزائل اور ڈرون کارروائی کے دوران ’بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر دشمن کے بحری جہازوں اور طیاروں کے لیے اسلحہ اور پرزہ جات ذخیرہ کرنے والے کئی گودام تباہ کر دیے گئے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اس کے علاوہ کویت میں علی السالم ایئر بیس پر اس مقام کو نشانہ بنایا گیا ہے جہاں دشمن کے ایم کیو-9 ڈرونز تعینات تھے۔ اس حملے کے کے نتیجے میں متعدد ڈرونز تباہ ہو گئے یا انھیں نقصان پہنچا ہے۔‘

  7. امریکہ نے ایران کے خلاف دوبارہ بحری ناکہ بندی نافذ کر دی: سینٹکام

    ایران کی بحری ناکہ بندی

    ،تصویر کا ذریعہCentcom

    امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ ایران کی بحری ناکہ بندی دوبارہ لگا دی گئی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں سینٹکام کا کہنا ہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایک بجے (جو کہ مشرقی امریکی وقت کے مطابق شام چار بجے بنتا ہے) ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی جانب آنے اور وہاں سے جانے والے بحری جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ لگا دی گئی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحریہ کے 20 سے زیادہ جنگی جہاز اور سیکڑوں فوجی طیارے تعینات ہیں۔ امریکی افواج بدستور چوکس، مہلک اور کارروائی کے لیے تیار ہیں۔‘

    اس سے ایک گھنٹہ قبل جاری ایک اور بیان میں امریکی سینٹکام کا کہنا تھا کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف حملوں کا ایک اور سلسلہ شروع کیا ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال ہونے والی ایرانی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے۔

    ایرانی میڈیا نے خبر دی ہے کہ ملک کے جنوب میں واقع کئی علاقوں بشمول بندر عباس، سیریک اور اہواز میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    ایران کی مہر نیوز ایجنسی نے ہرمزگان کے گورنر کے حوالے سے بتایا ہے کہ بندر عباس شہر کے قریب ایک مقام کو امریکی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا تاہم اس سے تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے جبکہ سیریک شہر کو بھی ایک ’امریکی میزائل‘ سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

  8. اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم بدھ کے روز آگے بڑھنے سے پہلے اہم خبروں کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

    • اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں گذشتہ رات ہونے والے حملوں کے نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
    • ڈونلڈ ٹرمپ نے اب آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنے نئے منصوبے سے متعلق کہا ہے کہ وہ گزرنے والے کارگو پر مجوزہ 20 فیصد فیس واپس لینے کے بدلے میں خلیجی ممالک کی جانب سے امریکہ میں سرمایہ کاری حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
    • وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔‘
    • اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اس کا جواب پہلے کے مقابلے میں ’کہیں زیادہ طاقتور‘ ہوگا۔‘
    • یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے ایئرلائنز کو بحرین، کویت، قطر، متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود اور خلیجِ عمان کے اوپر سے گزرنے والی پروازوں سے متعلق انتباہ جاری کیا ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ خطے میں ’غیر متوقع فوجی پیش رفت، میزائلوں، ڈرونز، جنگی طیاروں اور فضائی دفاعی نظام کے ممکنہ استعمال کے باعث پروازوں کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔‘
    • انڈیا کی سپریم کورٹ نے پیر کے روز مدراس ہائیکورٹ کے اس حکم پر عمل درآمد روک دیا جس میں تمل ناڈو حکومت کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ریاست میں کہیں بھی گائے یا بچھڑے کے ذبح کرنے کو یقینی طور پر روکے۔
    • ریڈیو پاکستان کے مطابق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مظاہرین کے حملے میں ایک رینجرز اہلکار ہلاک ہوا ہے۔
  9. بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں آپ سب کو خوش آمدید!

    اس صفحے پر آپ کو مشرق وسطی، پاکستان اور دنیا بھر سے اہم خبریں، تبصرے اور تجزیے پڑھنے کے لیے ملیں گے۔

    تاہم اگر آپ 14 جولائئ کی خبریں پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کریں۔