شہباز شریف کا مطالبہ، مودی کی پوتن سے اپیل اور ایک تصویر کا تنازع: بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے دوران کیا ہوا؟

Pakistan India

،تصویر کا ذریعہPMO India/PMO Pakistan

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا سربراہی اجلاس منگل کو ختم ہو گیا ہے، لیکن پاکستان اور انڈیا کے وزرائے اعظم کی شرکت اور دونوں کی جانب سے دیے گئے بیانات زیرِ بحث ہیں جبکہ دونوں ممالک کی جانب سے اجلاس کی تصاویر پر بھی بات ہو رہی ہے۔

کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے دوران جہاں روس، چین، ایران، تاجکستان، آذربائیجان سمیت دیگر رُکن ممالک کے رہنما شریک تھے تو وہیں پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات میں سرد مہری کی وجہ سے دونوں رہنماؤں کی تقاریر اور ان کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے بھی زیرِ بحث ہیں۔

منگل کو اپنے خطاب میں پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پانی کو ’کبھی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔‘

وزیر اعظم نے انڈیا کا نام نہیں لیا لیکن وہ اپنے خطاب میں نئی دہلی کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کی طرف ہی اشارہ کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا: ’پانی ہمارے خطے میں زندگی کی بنیاد ہے۔ یہ لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو برقرار رکھتا ہے، ہماری زمینوں کو سیراب کرتا ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بناتا ہے۔ اسے کبھی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ نہ ہی اسے دباؤ ڈالنے کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔‘

’ہمارے مشترکہ آبی وسائل سے متعلق معاہدے سنجیدہ اور پابند بین الاقوامی عہد ہیں۔ یہ ایسے سیاسی معاملات نہیں جنہیں مرضی کے مطابق نظر انداز کر دیا جائے۔‘

وزیر اعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان علاقائی سطح پر دہشتگردی کے خلاف تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔

’پاکستان ایک پُرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے۔ تاہم اس بارے میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے کہ جب تک دہشت گرد افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے بے گناہ پاکستانیوں اور دیگر ممالک کے شہریوں کا خون بہاتے رہیں گے، پائیدار امن ہماری پہنچ سے دور رہے گا۔‘

Pakistan india

،تصویر کا ذریعہ@PakPMO

’دہشت گردی انسانیت کے لیے سنگین خطرہ‘

دوسری جانب اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ گذشتہ سربراہی اجلاس میں انڈیا نے سلامتی، رابطہ کاری اور مواقع پر مبنی اپنا وژن پیش کیا تھا، اور اب گروپ کو مشترکہ کام کے ان تین ستونوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔

اُنھوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تنازعات میدانِ جنگ میں حل نہیں ہو سکتے اور مکالمہ اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔

انڈین وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی انسانیت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔

وزیرِ اعظم مودی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی بھی قسم کے دوہرے معیار نہیں ہونے چاہییں۔

اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ یوریشیا خطے کی سلامتی افغانستان میں امن اور استحکام سے قریبی طور پر جڑی ہوئی ہے، اُنھوں نے افغانستان کے لیے انڈیا کی ترقیاتی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فراہم کی جانے والی امداد کا بھی ذکر کیا۔

India

،تصویر کا ذریعہPMO India

تصویر کا تنازع

دوسری جانب پاکستان اور انڈیا کے وزرائے اعظم کے دفاتر کی جانب سے ایس سی او اجلاس سے ان کے خطاب کے متن کے ساتھ کچھ تصاویر بھی شیئر کی گئیں۔

ایسے میں وزیرِ اعظم پاکستان کے دفتر کی جانب سے جاری کی گئی عالمی رہنماؤں کی ایک گروپ فوٹو میں وزیرِ اعظم مودی موجود نہیں ہیں، جس پر سوشل میڈیا پر بحث ہو رہی ہے۔

محمد فیصل نامی صارف نے لکھا کہ ’وزیرِ اعظم مودی کے دفتر نے ایک ایسی تصویر جاری کی جس میں شہباز شریف سمیت تمام رہنما موجود تھے، جبکہ اس کے برعکس شہباز شریف کے دفتر نے ابتدا میں تصویر کا ترمیم شدہ ورژن جاری کیا جس میں مودی شامل نہیں تھے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’بین الاقوامی فورمز پر اس قسم کی دشمنی کا مظاہرہ ایک تشویشناک علامت ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تنقید کے بعد پاکستانی وزیرِ اعظم کے دفتر (PMO) نے مودی کی شمولیت والی تصویر جاری تو کر دی، لیکن اس سے پیدا ہونے والے ابتدائی منفی تاثر کو آسانی سے زائل نہیں کیا جا سکتا۔‘

Pakistan India

،تصویر کا ذریعہ@Intl_Mediatior

گیتا موہن نامی صارف نے لکھا کہ انڈیا اور پاکستان کے وزرائے اعظم کے آفیشل ہینڈلز سے ایس سی او (SCO) کی اجتماعی تصویر جاری کی گئی۔

’وزیراعظم شہباز شریف نے سہولت کے پیشِ نظر وزیراعظم مودی کو تصویر سے خارج کر دیا جبکہ مودی کے دفتر نے مکمل تصویر جاری کی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستانیوں نے ایرانی صدر پزشکیان کو بھی تصویر میں شامل نہیں کیا۔‘

روس سے یوکرین جنگ ختم کرنے کا مطابہ

اجلاس کے دوران روسی صدر پوتن سے ملاقات کے دوران انڈین وزیرِ اعظم نے اُن پر زور دیا کہ وہ یوکرین کے خلاف جنگ ختم کر دیں۔

پیر کو گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم مودی کا کہنا تھا کہ ’جنگ میں گزرنے والا ہر دن انسانیت کو پیچھے کی طرف دھکیلتا ہے، جبکہ امن کی جانب اٹھایا گیا ہر قدم انسانیت میں نئی ​​امید اور جوش و خروش بھر دیتا ہے۔‘

انڈیا جس کی معیشت کا انحصار بڑی حد تک ماسکو سے ملنے والے رعایتی نرخوں پر تیل کی فراہمی پر ہے نے 2022 میں یوکرین پر مکمل پیمانے پر حملے کے آغاز کے بعد سے پوتن سے اس طرح کی کئی اپیلیں کی ہیں۔

انڈیا اور پاکستان کے وزرائے اعظم نے ایس سی او اجلاس کے دوران دیگر عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی ملاقاتیں کیں، لیکن دونوں ایک دوسرے کو نظر انداز کرتے دکھائی دیے۔

روس کا ایران کی حمایت کا اعادہ

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

دوسری جانب روسی صدر پوتن نے منگل کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران پوتن نے مفادات کے حصول کی جدوجہد میں ایرانی عوام کے ساتھ ماسکو کی یکجہتی کا اعادہ کیا۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ہونے والی اس ملاقات میں پوتن نے کہا کہ موجودہ عسکری اور سیاسی حالات کے باوجود روس اور ایران اپنے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو برقرار رکھیں گے۔

یہ پیش رفت امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنیٹ کی جانب سے اس انتباہ کے بعد سامنے آئی ہے کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک کو امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پزشکیان نے امریکہ کے ساتھ کشیدگی کے دوران ماسکو کے ’موقف‘ پر اپنے روسی ہم منصب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ’ہم اقوام متحدہ اور بین الاقوامی فورمز پر آپ کے موقف کو سراہتے ہیں اور اس کے لیے شکر گزار ہیں؛ چاہے وہ جنگ اور جارحیت کا دور ہو یا امن کے وہ حالات جن میں امریکہ نے ہم پر پابندیاں عائد کیں۔‘

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے یہ پزشکیان اور پوتن کے درمیان عوامی سطح پر اعلان کردہ پہلی ملاقات ہے۔ ان کی آخری ملاقات دسمبر 2015 میں ترکمانستان میں ہونے والی ایک سربراہی کانفرنس کے دوران ہوئی تھی۔