آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جگتار سنگھ جوہل کیس: برطانوی خفیہ ایجنسیوں پر مخبری کا الزام جو انڈین نژاد شہری پر ’تشدد‘ کی وجہ بنا
- مصنف, فرینک گارڈنر
- عہدہ, سکیورٹی نامہ نگار، بی بی سی
- وقت اشاعت
برطانیہ کی خفیہ ایجنسیوں پر الزام ہے کہ انھوں نے انڈین حکام کو ایک انڈین نژاد شہری کے بارے میں مخبری کی تھی، جس کے بعد اس شخص کو انڈین پنجاب کی پولیس نے حراست میں لیا اور مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا۔
سکاٹ لینڈ کے علاقے ڈمبارٹن میں رہنے والے جگتار سنگھ جوہل کے خاندان کا کہنا ہے کہ سنہ 2017 میں وہ انڈیا میں تھے جب انھیں ایک نامعلوم کار میں زبردستی لے جایا گیا تھا۔
جگتار سنگھ جوہل کا کہنا ہے کہ انھیں اس وقت بجلی کے جھٹکے دینے سمیت کئی دن تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اور وہ تب سے حراست میں ہیں۔
اس عرصے کے دوران برطانیہ کے وزرائے اعظم نے اپنے اپنے دور حکومت میں ان کا معاملہ اٹھایا لیکن انڈیا نے ہمیشہ جگتار سنگھ پر تشدد کی تردید کی ہے۔
رواں برس مئی میں جگتار سنگھ پر باضابطہ طور پر قتل کی سازش کرنے اور ایک دہشت گرد گروہ کا رکن ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ انھیں اگلے ماہ تمام عائد الزامات کے ساتھ عدالت میں پیش کیا جائے گا اور ممکنہ طور پر انھیں سزائے موت ہو سکتی ہے۔
اب انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ریپریو نے بی بی سی کی دستاویزات دکھائی ہیں جس میں اس بارے میں واضح ثبوت موجود ہیں کہ جگتار سنگھ جوہل کی گرفتاری برطانوی خفیہ ایجنسی کی مخبری کے بعد عمل میں آئی تھی۔
برطانوی حکومت کا اس بارے میں کہنا ہے کہ وہ زیر سماعت قانونی مقدمے پر تبصرہ نہیں کریں گے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ریپریو کا کہنا ہے کہ اس نے خفیہ ایجنسیوں کے نگران ادارے کی ایک رپورٹ میں خصوصاً اس کیس سے متعلق برے سلوک کے دعوؤں کی بہت سی معلومات کو پرکھا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انویسٹیگیٹری پاورز کمشنر آفس (آئی پی سی او) کی ’تحقیقات کے دوران‘ نامی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو نے خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کے ذریعے ایک متعلقہ ایجنسی کو ایک شخص سے متعلق معلومات شیئر کی تھیں۔‘
’جس شخص کے بارے میں اطلاع دی گئی تھی اس کو اس ایجنسی نے اپنے ملک میں گرفتار کر لیا تھا۔ اس شخص نے برٹش قونصلر افسر کو بتایا تھا کہ اس پر تشدد کیا گیا ہے۔‘
اگرچہ اس رپورٹ میں جگتار سنگھ جوہل کا نام نہیں لیا گیا مگر ریپریو کے تحقیق کار اس بات پر قائم ہیں کہ متعلقہ تاریخوں، برطانوی وزرائے اعظم کی لابنگ اور انڈین پریس میں شائع تفصیلات کی وجہ سے حقائق اس کیس سے ملتے ہیں۔
سنہ 2017 میں انڈین اخبار ہندوستان ٹائمز نے خبر دی تھی کہ جگتار سنگھ جوہل ’برطانیہ میں ایک ذریعے‘ کی طرف سے پنجاب پولیس کو ملنے والی ’مبہم معلومات‘ کے بعد ’زیر نگرانی‘ آئے تھے۔
انڈین حکام کا دعویٰ ہے کہ جگتار سنگھ جوہل سکھ قوم پرست ہیں اور ان پر قتل کے واقعات میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ہے تاہم جگتار سنگھ کسی بھی غلط یا غیر قانونی کام کی تردید کرتے ہیں۔
جگتار سنگھ جوہل سکھوں کے حقوق کے ایک متحرک کارکن اور سرگرم بلاگر تھے اور کہا جاتا ہے کہ اسی وجہ سے وہ انڈین حکام کی نظروں میں آئے۔
لیکن ان کے بھائی گرپیت نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ کسی ایسی سرگرمی کے بارے میں لاعلم تھے جسے غیر قانونی قرار دیا جا سکتا تھا۔
جگتار سنگھ جوہل کو اس وقت نئی دہلی کی جیل میں رکھا گیا ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی گرفتاری کے بعد انھیں کسی سے رابطہ کرنے نہیں دیا گیا۔ ابتدائی طور پر وکلا یا برطانوی قونصلر حکام تک رسائی نہیں دی گئی اور گھنٹوں تفتیش کے دوران ان کے ساتھ بہت برا سلوک کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان سے خالی صفحے پر دستخط کروائے گئے جسے بعد میں ان کے خلاف جھوٹے بیان حلفی کے طور پر استعمال کیا گیا۔
برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے رواں برس اپریل میں اپنے دورے کے دوران جگتار سنگھ جوہل کا معاملہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے سامنے اٹھایا تھا۔
اس سے قبل برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے بھی اپنے دور حکومت میں انڈین حکومت کے ساتھ اس معاملے پر بات کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
جگتار سنگھ جوہل نے 12 اگست کو دفتر خارجہ، محکمہ داخلہ اور اٹارنی جنرل کے خلاف ہائی کورٹ میں دعویٰ دائر کیا ہے، جس میں الزام لگایا گیا کہ برطانیہ کی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے غیر قانونی طور پر انڈین حکام کے ساتھ اس وقت معلومات شیئر کیں جب ان پر تشدد کیے جانے کا خطرہ تھا۔
ریپریو کا کہنا ہے کہ یہ کیس بتاتا ہے کہ حکومت تشدد اور سزائے موت سے متعلق اپنی پالیسی میں دیرینہ حامیوں کو دور کرنے میں ناکام رہی ہے اور اس نے ماضی میں کی جانے والی مخبری کے واقعات کی غلطیوں سے بہت کم سبق سیکھا ہے جیسا کہ ایم آئی سکس کی جانب سے لیبیا کے منحرف عبدالحکیم بلہاج کے بارے میں دی جانے والی اطلاع جس کے بعد انھیں پکڑا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
ان الزامات پر تبصرہ کرتے ہوئے رکن پارلیمان سٹیو بیکر کا کہنا تھا کہ ’اس خوفناک کیس میں جہاں برطانوی خفیہ ایجنسیوں کی معلومات کے تبادلے کو بہیمانہ تشدد کے ساتھ جوڑا گیا ہے اس بات کی اہمیت کو مزید واضح کرتا ہے کہ قومی سلامتی کے قانون میں بہتری لانے کی ضرورت کیوں ہے؟‘
تینوں حکومتی محکموں پر الزامات کے جواب میں دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ’ایک زیر سماعت قانونی مقدمے سے متعلق تبصرہ کرنا غیر مناسب ہو گا۔‘