خیبرپختونخوا حکومت کے مشیر خزانہ مزمل اسلام کا کہنا ہے کہ صوبائی بجٹ تیار ہے تاہم اس کو پیش کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کریں گے اور جب اُن کی جانب سے اس ضمن میں ہدایت ملے گی تو بجٹ پیش کر دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان کی جانب سے دیے گئے ایک حالیہ بیان کے بعد خیبر پختونخوا میں سالانہ بجٹ پیش کرنے یا نہ کرنے سے متعلق بحث کا آغاز ہوا ہے۔
علیمہ خان کی جانب سے مطالبات کی منظوری تک وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو صوبائی بجٹ پیش نہ کرنے کی تجویز دی گئی تھی جبکہ سہیل آفریدی نے بھی بجٹ پیش کرنے سے قبل عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ کر رکھا ہے۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی بجٹ پیش کیے جانے کے دن بھی اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔ تاہم صوبائی حکومت کے مشیر خزانہ مزمل اسلام نے بی بی سی کو بتایا کہ بجٹ پیش کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ وزیر اعلی کریں گے۔
مزمل اسلم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگرچہ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا کو اس کے حصے کی رقم ادا نہیں کی جا رہی، لیکن اس کے باوجود صوبائی حکومت اپنا بجٹ پیش کرنے کی پوزیشن میں ہے۔
سہیل آفریدی نے گذشتہ روز کہا تھا کہ ان کی اور صوبائی مشیر خزانہ کی عمران خان سے ملاقات کروائی جائے تاکہ وہ بجٹ کے بارے میں عمران خان کی رائے لے سکیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے عمران خان کو مینڈیٹ دیا ہے اور صوبے میں قائم حکومت بھی انہی کے اعتماد کی بنیاد پر قائم ہے، لہٰذا آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق دستاویزات اُن کے ساتھ شیئر کرنا اور ان کی رہنمائی حاصل کرنا ضروری ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا جائے گا اور باقاعدہ پٹیشن دائر کی جائے گی۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے مزید کہا تھا کہ ’اگر ہمیں مزید دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی اور عمران خان سے ملاقات کا حق مسلسل سلب کیا جاتا رہا، تو 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیا جائے گا۔‘
س بارے میں جب پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور سابق وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی سے رابطہ قائم کیا تو ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت وقت پر بجٹ پیش کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ علیمہ خان کی جانب سے ایک تجویز پیش کی گئی ہے جس پر غور کیا جا سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ وزیر اعلی کی کوشش ہے کہ وہ بجٹ کے بارے میں عمران خان سے ملاقات کریں تاکہ ان سے مشاورت کے بعد بجٹ پیش کیا جائے اور اس کے لیے وزیر اعلی کوششیں کر رہے ہیں۔
جب اُن سے پوچھا گیا کہ اگر صوبائی اسمبلی بجٹ پیش کرنے میں تاخیر سے کام لیتی ہے تو اس کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟ اس پر شوکت یوسفزئی نے کہا کہ اگر 30 جون تک بجٹ پیش نہ کیا گیا تو اس کے بعد مالیاتی بل پیش کیا جاتا ہے اور اس میں پھر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اور اس میں پھر وزیر اعلی کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا ہوتا ہے یا عدم اعتماد اور گورنر راج کے امکانات ہو سکتے ہیں اور اس میں عدم اعتماد کے سلسلے میں حزب اختلاف بھی اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ انھیں معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ ضرور پیش کیا جائے گا اور اس ضمن میں ’ہمارے پاس 29 جون تک کا وقت ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ وفاقی حکومت سے اپنے حقوق کے حصول کے لیے پوری جدوجہد ضرور کی جائے گیگ
یاد رہے کہ مالی سال 2024-25 میں خیبرپختونخوا حکومت نے ملک کی تاریخ میں پہلی بار وفاقی بجٹ سے پہلے اپنا صوبائی بجٹ پیش کیا تھا جو باقاعدہ طریقے سے منظور بھی ہوا تھا۔ تاہم مالی سال 2025-26 میں صورتحال بالکل مختلف رہی۔
وزیر خزانہ آفتاب عالم نے 13 جون 2025 کو 2,119 ارب روپے کا بجٹ اسمبلی میں پیش تو کیا تھا، لیکن وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے حکومتی اراکین کو مطالبات زر پر ووٹنگ سے روک دیا اور واضح کیا کہ بانی چیئرمین عمران خان سے مشاورت کے بغیر بجٹ منظور نہیں کیا جائے گا۔
اس کشمکش کے نتیجے میں بجٹ کی منظوری کا عمل کئی روز تک مؤخر رہا اور آخرکار 24 جون کی درمیانی رات کو آئینی بحران سے بچنے کے لیے بجٹ منظور کیا گیا تھا، جبکہ اپوزیشن نے کٹوتی کی تحاریک نہ لیے جانے پر کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا۔
وزیراعلیٰ گنڈاپور نے بعد ازاں اعتراف کیا کہ بجٹ کی منظوری میں تاخیر صوبے میں گورنر راج کا پیش خیمہ بن سکتی تھی، اس لیے آئینی ذمہ داری نبھاتے ہوئے بجٹ پاس کیا گیا۔