یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
14 ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ایران ’شدت سے‘ معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے یا فوراً بعد ختم ہو جائے گی اور پھر ایندھن کی قیمتیں بھی تیزی سے کم ہو گی۔‘ ادھر حوثیوں کے ٹی وی چینل المسیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کے تعز اور صعدہ کے علاقوں میں فضائی حملے کیے ہیں۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
14 ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی عرب نے یمن کی سرحد سے متصل دو علاقوں میں اپنے شہریوں کو ممکنہ حملوں سے خبردار کیا ہے۔
سعودی عرب کے ادارہ سول ڈیفنس نے اتوار کو یمن سے ملحق دو علاقوں کے لیے ممکنہ حملوں کا انتباہ جاری کیا ہے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق یہ انتباہ ابہا اور خمیس مشیط کے قریبی علاقوں کے لیے جاری کیا گیا تھا، تاہم اسے کچھ دیر بعد واپس لے لیا گیا۔
یہ وارننگ حوثی ذرائع ابلاغ کی جانب سے شمالی یمن میں سرحد کے قریب سعودی حملوں کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد جاری کی گئی۔
یاد رہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی گزشتہ ہفتے سے شدت اختیار کر گئی ہے۔
20 جولائی کو حوثیوں نے سعودی ناکہ بندی کے جواب میں بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
گزشتہ ہفتے حوثیوں نے ایک بڑی کارروائی کے بعد بحیرہ احمر کے مغربی ساحلی علاقے اور آبنائے باب المندب کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا اور اس صورتحال میں یمنی حکومتی فورسز کو وہاں سے پیچھے ہٹنا پڑا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حوثیوں کے ٹی وی چینل المسیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کے تعز اور صعدہ کے علاقوں میں فضائی حملے کیے ہیں۔
چینل کے مطابق سعودی جنگی طیاروں نے تعز میں ان علاقوں کو نشانہ بنایا جہاں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں یمنی حکومتی فورسز کے خلاف اہم فوجی پیش رفت کی ہے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق المسیرہ نامی حوثیوں کے ٹی وی چینل نے یہ بھی بتایا کہ ’سعودی فضائی حملوں میں شمالی یمن میں حوثیوں کے اہم گڑھ صعدہ میں بھی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ اسی صوبے کے سرحدی علاقے منبہ میں توپ خانے سے فائرنگ کی گئی۔‘
اس سے قبل حوثی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ گروپ نے جنوبی سعودی عرب میں ایک فوجی اڈے پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
دوسری جانب سعودی تیل کے تاجروں اور شراکت داروں کا کہنا ہے کہ ’اگر سعودی عرب چند روز میں اپنی اہم مشرق سے مغرب تک جانے والی تیل پائپ لائن بحال کرنے میں ناکام رہا تو عالمی تیل کی رسد میں چار فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔‘
سعودی عرب کی جانب سے 20 جولائی کو حوثیوں کے خلاف بحری ناکہ بندی کے بعد حوثیوں نے بھی جوابی بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آئی ہے۔
ایران کے اتحادی حوثیوں نے گزشتہ ہفتے ایک بڑی کارروائی کے دوران بحیرۂ احمر کے مغربی ساحل اور باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے نتیجے میں حکومتی فورسز کو وہاں سے پسپا ہونا پڑا۔
اقوام متحدہ نے اتوار کو بتایا تھا کہ یمن میں حکومتی فورسز اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدت کے باعث تقریباً 86 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جو ایک روز پہلے کے مقابلے میں 10 ہزار زیادہ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ایران ’شدت سے‘ معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے یا فوراً بعد ختم ہو جائے گی۔‘
آئرش اوپن گالف ٹورنامنٹ کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران بار بار رابطہ کر رہا ہے اور معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم امریکہ ایسا معاہدہ قبول نہیں کرے گا جو اس کے لیے اچھا نہ ہو۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران کے ساتھ جنگ وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد، بلکہ اس سے پہلے بھی‘ ختم ہو سکتی ہے اور اس کے بعد ایندھن کی قیمت ’تیزی سے‘ کم ہو جائے گی۔‘
ٹرمپ اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ امریکی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی۔
دوسری جانب خلیجِ فارس اور خلیجِ عمان سے متصل ممالک کے وزرائے خارجہ کے ایران کی شرکت سے ہونے والے اجلاس کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ ’یہ معاملہ ان کے لیے اہم نہیں اور متعلقہ ممالک خود اس سے نمٹیں گے۔‘
ایران کے مطابق عمان میں ہونے والے اس اجلاس میں آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کے لیے ایک نئے راستے پر بات ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ’ایران نے حالیہ جنگ شروع نہیں کی بلکہ تہران تو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی جارحیت کے خلاف اپنے دفاع پر مجبور ہوا ہے۔‘
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق انڈیا ٹوڈے کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ ان حملوں کے باوجود ایرانی قوم مزید متحد ہوئی۔
ایرانی صدر نے ایران کے جوہری پروگرام پر امریکی اور اسرائیلی اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا اور اس کی جوہری تنصیبات کی بڑے پیمانے پر نگرانی ہوتی رہی ہے۔‘
جنگ بندی کے بارے میں پزشکیان نے کہا کہ ’امریکہ اور اسرائیل نے مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا، جبکہ تہران معاہدے کے قریب تھا۔‘ ان کے مطابق بعد میں ایران نے ایک فریم ورک پر اتفاق کیا، لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے مسترد کر دیا۔
انھوں نے امریکہ پر ایران پر پابندیاں عائد کرنے، بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے اور خوراک و ادویات کی درآمد میں رکاوٹیں ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ اقدامات امریکی انسانی حقوق کے دعووں کے منافی ہیں۔‘
ایران اور انڈیا کے تعلقات پر پزشکیان نے دونوں ممالک کے تاریخی و ثقافتی روابط کا حوالہ دیا اور کہا کہ بندرگاہِ چابہار سمیت تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے امکانات پر انڈین حکام سے بات ہوئی ہے۔
انھوں نے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، پاکستان، قطر، روس اور چین سمیت ہمسایہ ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات کو دوستانہ قرار دیا اور کہا کہ خطے میں امریکی فوجی اڈے بنیادی مسئلہ ہیں۔
برکس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس اتحاد کا مقصد امریکی بالادستی کا مقابلہ کرنا اور رکن ممالک کے درمیان آزادانہ تجارت اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع ہرنائی کے علاقے شاہرگ میں کوئلہ کان میں حادثے کے نتیجے میں کم از کم چار کانکن ہلاک اور چار زخمی ہو گئے ہیں۔
سرکاری حکام نے حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ واقعہ اتوار کو پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کی شاہرگ میں واقع کوئلہ کان میں پیش آیا، جہاں آٹھ کانکن پھنس گئے تھے۔
چیف انسپیکٹر مائنز محمد عاطف کے مطابق ریسکیو اہلکاروں نے چار کانکنوں کو زخمی حالت میں نکال لیا، جبکہ دیگر چار کانکن کان کے اندر پھنسے رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ریسکیو اہلکار ان چار کانکنوں تک پہنچے تو وہ ہلاک ہو چکے تھے۔ بعد ازاں ان کی لاشیں بھی کان سے نکال لی گئیں۔
محمد عاطف کے مطابق واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔
بلوچستان میں جدید صنعتوں کی کمی کے باعث کان کنی یہاں کی بڑی صنعتوں میں شمار ہوتی ہے۔ مزدور تنظیموں کا کہنا ہے کہ حفاظتی انتظامات کے جدید نہ ہونے کی وجہ سے صوبے میں کان کنی کے دوران اکثر حادثات پیش آتے ہیں۔
اس سے قبل رواں سال جولائی کے آخر میں کوئٹہ کے علاقے سورینج میں کوئلہ کان کا ایک بڑا حادثہ پیش آیا تھا، جس میں 34 کانکن ہلاک ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزداہ محمد بن سلمان سے گفتگو کے دوران حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی ہے اور ’امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھنے‘ کی یقین دہائی کروائی ہے۔
وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف نے گفتگو کے دوران ’سعودی عرب پر حوثیوں کی جانب سے حالیہ حملوں، بالخصوص سعودی عرب کے شہری اور اقتصادی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت‘ کی ہے۔
’حوثیوں کی حالیہ کارروائیاں علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی میں مزید خلل کا باعث بن سکتی ہیں۔‘
وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شہباز شریف ’فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ کشیدگی میں کمی لانے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔‘
بیان کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ’خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عوام کو ریلیف دینے کے لیے خصوصی سکیم کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت موٹرسائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والوں کو پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دیا جائے گا۔
وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق موٹرسائیکل، رکشہ اور چنگچی سمیت دو اور تین پہیوں والی سواریوں کے لیے ماہانہ 20 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
اسی طرح 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ 30 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیراعظم نے کہا کہ ’اسلام آباد کی حدود میں اس سکیم کا اطلاق آئندہ پیر اور منگل کی درمیانی شب سے جبکہ پورے پاکستان، بشمول پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان، میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سے ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ ’خصوصی ریلیف سکیم کے لیے رجسٹریشن کا آغاز آج سے کر دیا گیا ہے اور اس کا طریقہ کار آگاہی مہم کے ذریعے عوام تک پہنچایا جائے گا۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ ’تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عوام پر پڑنے والے بوجھ کا حکومت کو مکمل احساس ہے اور ’مشکل کی اس گھڑی میں ہم عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ موٹرسائیکل، رکشہ، چنگچی اور چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والوں پر تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پڑنے والے بوجھ کو کم کرنے کے لیے یہ خصوصی سکیم شروع کی جا رہی ہے۔
وزیراعظم نے سکیم کے لیے موٹرسائیکل، رکشہ اور چھوٹی گاڑیوں سے متعلق معلومات کی فراہمی میں تعاون پر صوبائی حکومتوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان حکومت نے ریاست مخالف بیانیے کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر 16 ہزار 367 سائٹس بند کرنے جبکہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں 100 سرکاری ملازمین کو ملازمت سے برطرف کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
بلوچستان کے سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات نے کوئٹہ میں پاکستان کے دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافیوں اور اینکر پرسنز کو وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں دی گئی بریفنگ کے دوران یہ تفصیلات بتائیں۔
اس موقع پر بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔
حمزہ شفقات کے مطابق سوشل میڈیا پر ریاست مخالف بیانیے سے متعلق 20 ہزار 117 سائٹس کی نشاندہی کی گئی، جن میں سے 16 ہزار 367 کو بند کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ویب سائٹس مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سرگرم تھیں اور ان کی بندش کی شرح 81.4 فیصد رہی۔
سیکریٹری داخلہ نے بتایا کہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں 100 سرکاری ملازمین کو ملازمت سے برطرف کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق برطرف کیے گئے ملازمین میں 95 یونیورسٹی اساتذہ شامل ہیں جبکہ مزید دو اساتذہ کے خلاف مقدمات زیرِ التوا ہیں۔
حمزہ شفقات نے بتایا کہ برطرف کیے گئے دیگر ملازمین میں محکمہ صحت کے تین اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ مزید دو سرکاری ملازمین کو بھی ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں ملازمت سے برطرف کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’کل ہونے والے اجلاس کے ایجنڈے میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے نئے بحری راستے کا معاملہ شامل ہے۔‘
عراقچی نے ’العربی الجدید‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم عمان کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی تفصیلات اور نئے راستے سے متعلق نقشے اجلاس میں شریک ممالک کو فراہم کریں گے۔‘
تاہم ایرانی وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ ’سلطنتِ عمان کے ساتھ معاہدے کا کسی بھی صورت یہ مطلب نہیں کہ آبنائے ہرمز کھول دی گئی ہے۔‘
ان کے مطابق ’آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کی شرط یہ ہے کہ امریکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں کیے گئے اپنے وعدوں پر واپس آئے۔‘
تسنیم نیوز ایجنسی نے ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ ’اس مفاہمت کے تحت آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ نہیں کھولا جائے گا، تاہم ایران اور عمان کے درمیان معاہدہ اسے دوبارہ کھولنے کی راہ ہموار کرے گا۔‘
ایران نے کہا ہے کہ ’وہ پیر کو عمان میں خلیجِ فارس اور بحیرۂ عمان سے متصل ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کرے گا۔ یہ آٹھ ممالک کا اجلاس عمان کے شہر صلالہ میں ہوگا۔‘
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعے کو کہا تھا کہ ’آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے لیے محفوظ راستوں کے تعین سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات کے نتائج پر تبادلۂ خیال اور معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا۔‘
بحرین کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایسے کسی اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا جس میں ایران موجود ہو۔
رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ بھی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے اور امکان ہے کہ اس ملک کی جانب سے ایک کم درجے کا عہدیدار عمان جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عراق کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق سعودی عرب کی مشرق سے مغرب تک جانے والی تیل کی پائپ لائن پر ڈرون حملے کے بعد بند کی گئی ایران کے ساتھ اپنی تین سرحدی گزرگاہوں پر آمدورفت بحال کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق میسان صوبے میں الشیب سرحدی گزرگاہ، جسے ایران میں چذابہ گزرگاہ کہا جاتا ہے پر آج سے مسافروں کی آمدورفت بحال ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ بصرہ صوبے میں شلمچہ سرحدی گزرگاہ بھی کھول دی جائے گی، جبکہ تجارتی سرگرمیاں رواں ہفتے کے اواخر میں بحال کی جائیں گی۔
دیالہ صوبے میں منڈلی سرحدی گزرگاہ پر تجارتی سرگرمیاں منگل سے بحال ہوں گی۔ ایران میں اس گزرگاہ کو سومار سرحدی ٹرمینل کہا جاتا ہے۔
عراقی حکومت نے گذشتہ روز سعودی عرب کی جانب جانے والے ایک ڈرون کے اپنی سرزمین سے لانچ کیے جانے کی جگہ کی نشاندہی کے بعد ایران کے ساتھ سرحدی گزرگاہیں عارضی طور پر بند کر دی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عراقی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ حکام نے اس سامان کی نشاندہی کر کے اسے قبضے میں لے لیا ہے جسے ایک ڈرون لانچ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ سعودی عرب کے مطابق یہ ڈرون عراق سے لانچ کیا گیا تھا۔
دو روز قبل ہونے والے اس حملے کے بعد سعودی عرب کی مشرق سے مغرب تک جانے والی تیل کی پائپ لائن کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل ہو گئی ہیں۔
سعد مان نے کہا کہ ’عراقی حکومت معلومات کے تبادلے کے لیے سعودی حکام سے براہِ راست رابطے میں ہے۔‘
عراق کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق انٹیلیجنس اور سکیورٹی فورسز کی ایک ٹیم نے لانچنگ کے لیے استعمال ہونے والے سامان کا سراغ لگا کر اسے قبضے میں لے لیا۔
سعد مان نے مزید کہا کہ ’عراق نے پیشگی طور پر اپنی خودمختاری کے تحفظ کی پالیسی اپنائی ہے‘ اور ’وہ نہ صرف اپنی سرزمین سے ہونے والے حملوں کو روکتا ہے بلکہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک پر حملے کے لیے پلیٹ فارم بننے کی بھی اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی عراق کو کسی پراکسی جنگ کا حصہ بننے دے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد سے یمن میں کم از کم 76 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ حکومتی فورسز اور ایران کے اتحادی حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آنے کے باعث گذشتہ ایک ہفتے کے دوران بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد چار گنا بڑھ گئی ہے۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) نے یمن میں ’تیزی سے بگڑتے اور بڑھتے ہوئے بے گھری کے بحران‘ سے متعلق ایک رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ ’پورے کے پورے خاندان اکثر رات کے وقت اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں اور ان کے پاس کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے مطابق یہ نقل مکانی زیادہ تر مغربی ساحلی علاقوں اور تعز صوبے میں ہوئی ہے۔
تنظیم کے مطابق تعز صوبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں صوبے کے مختلف علاقوں میں تقریباً 8,300 خاندان، یعنی لگ بھگ 50 ہزار افراد، بے گھر ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے قشم جزیرے کے گورنر کے مطابق اتوار کی صبح آبنائے ہرمز میں ہینگام جزیرے کے قریب ایک ایرانی تجارتی کنٹینر بردار بحری جہاز کو نامعلوم سمت سے نشانہ بنایا گیا جس سے اس پر سوار عملے کا ایک رکن ہلاک جبکہ چار زخمی ہو گئے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق قشم جزیرے کے گورنر حسین امیر تیموری نے بتایا کہ ’یہ واقعہ اتوار کی صبح سویرے اس وقت پیش آیا جب جہاز آبنائے ہرمز میں ہینگام جزیرے کے قریب موجود تھا۔‘
ان کے مطابق واقعے کے وقت تجارتی کنٹینر بردار جہاز پر عملے کے 10 ارکان سوار تھے۔
اب تک جاری کی گئی معلومات کے مطابق پروجیکٹائل کے جہاز سے ٹکرانے کے نتیجے میں عملے کا ایک رکن، جس کی شناخت جمشید رجبی کے نام سے ہوئی ہے، ہلاک ہو گئے جبکہ چار دیگر زخمی ہوئے۔
امیر تیموری نے کہا کہ ’واقعہ آبنائے ہرمز میں ہینگام جزیرے کے قریب پیش آیا اور اس کے حالات و واقعات کی تحقیقات جاری ہیں۔‘
انھوں نے زور دیا کہ واقعے میں استعمال ہونے والا پروجیکٹائل کے حوالے سے ابھی تک معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں تاہم اس کی نوعیت اور حملے کے حالات سے متعلق مزید تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ@UK_MTO
برطانیہ کے ادارے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران نشانہ بننے والے بحری جہاز میں آگ لگ گئی ہے۔
ادارے کی جانب سے جاری تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مقامی حکام موقع پر موجود ہیں اور جہاز کے عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے انخلا کی کارروائی جاری ہے۔
یو کے ایم ٹی او نے اس سے قبل بتایا تھا کہ حملے کی اطلاع 12 ستمبر کو رات 11 بجے موصول ہوئی تھی۔ تاہم اس وقت عملے کی صورتحال اور جہاز کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل تفصیلات فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی تھیں۔
یمن کی فوجی ریزرو فورس نیشن شیلڈ فورس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حوثی باغیوں کے پانچ ڈرون مار گرائے ہیں۔ ترک سرکاری خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق نیشن شیلڈ فورس کی چھٹی بریگیڈ نے کہا ہے کہ ڈرونز کو صوبہ الاغبرہ کے علاقے میں جھڑپوں کے دوران نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب، بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی فوج سے وابستہ ویب سائٹ ستمبر نیٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ یمنی فضائیہ نے ملک کے مختلف علاقوں میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں حوثیوں کا عسکری ساز و سامان تباہ کیا گیا جبکہ متعدد جنگجو ہلاک ہوئے، تاہم ہلاکتوں یا زخمیوں کی تعداد کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
تاحال حوثی گروپ کی جانب سے ان دعوؤں پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@IrnaEnglish
انڈیا میں جاری 18ویں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر ایران، روس، چین، مصر، انڈونیشیا اور قزاقستان کے وزرائے خارجہ نے ایک گروپ ملاقات کی، جس میں علاقائی اور عالمی امور سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہ@IrnaEnglish
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ایرنا کے مطابق اجلاس کے دوران شرکاء نے بین الاقوامی تعاون، کثیرالجہتی سفارت کاری کے فروغ اور خطے و دنیا کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

،تصویر کا ذریعہTasnim
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ترکی اور عراق کے اپنے ہم منصبوں سے الگ الگ ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں علاقائی صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور خطے میں تنازعات کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سنیچر کی شب ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے ساتھ گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا اور اس بات پر زور دیا کہ کشیدگی میں اضافے اور بحران کے دائرہ کار کو وسیع ہونے سے روکنا ضروری ہے۔
عباس عراقچی اور ہاکان فیدان نے خطے میں استحکام اور امن کے قیام کے لیے مشاورت اور سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔
دریں اثنا، عراقی وزیر خارجہ فؤاد حسین کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں ایرانی وزیر خارجہ نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی پیش رفت اور جاری سفارتی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے ایران اور عراق کے تعلقات سے متعلق اہم معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے مشترکہ سرحدوں پر امن و استحکام برقرار رکھنے اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق بات چیت کے دوران دونوں فریقوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ علاقائی پیش رفت کے حوالے سے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا اور کشیدگی کو بڑھنے سے روکنا خطے کے امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
یمن کے حوثی باغیوں نے جنوبی سعودی عرب میں واقع ایک فوجی اڈے پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کا دعویٰ کیا ہے۔
حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ ساری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ حملہ جنوبی سعودی عرب میں واقع شرورا فوجی اڈے پر کیا گیا۔
ان کے مطابق حملوں میں سعودی عرب کے اسلحہ گوداموں، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ حوثی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ حملے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے انجام دیے گئے۔
یحییٰ ساری نے حملے کے وقت یا ممکنہ نقصان کی تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم انھوں نے سعودی عرب کو خبردار کیا کہ اگر یمن کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو سعودی سرزمین کے اندر مزید وسیع اور شدید حملے کیے جائیں گے۔
تاحال سعودی حکام کی جانب سے حوثیوں کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ میں پہلی مرتبہ ’ایلین ٹیررسٹ ریموول کورٹ‘ کے تحت کارروائی کرتے ہوئے افغان نژاد خاتون نظیرہ حاجی زادہ کو ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق 47 سالہ حاجی زادہ نے مقدمے کی مزید پیروی کرنے کے بجائے امریکہ چھوڑنے پر رضامندی ظاہر کی۔
یہ خصوصی عدالت 1996 میں قائم کی گئی تھی، تاہم حالیہ کارروائی اس کے سامنے آنے والا پہلا مقدمہ تھا۔ یہ عدالت ایسے غیر امریکی شہریوں کے مقدمات سننے کے لیے بنائی گئی ہے جن کے خلاف دہشت گردی سے متعلق خفیہ یا قومی سلامتی سے جڑے شواہد موجود ہوں۔
نظیرہ حاجی زادہ، جو ٹیکساس میں قانونی مستقل رہائشی حیثیت رکھتی تھیں، پر کسی فوجداری جرم کا الزام عائد نہیں کیا گیا تھا۔ تاہم استغاثہ کا دعویٰ تھا کہ انھوں نے اپنے خاندان کے افراد کو انتہا پسند نظریات کی جانب مائل کرنے میں کردار ادا کیا۔
حاجی زادہ کے بیٹے عبداللہ حاجی زادہ اور داماد ناصر احمد توحید کو 2024 کے صدارتی انتخاب کے دن بڑے پیمانے پر فائرنگ کے منصوبے کے جرم میں سزا سنائی جا چکی ہے۔ حکام کے مطابق یہ منصوبہ شدت پسند تنظیم داعش سے متاثر ہو کر تیار کیا گیا تھا۔
امریکی محکمۂ انصاف نے اپنے بیان میں کہا کہ نظیرہ حاجی زادہ نے خود کو ’غیر ملکی دہشت گرد‘ تسلیم کرتے ہوئے ملک بدری کے حکم کے خلاف اپیل کا حق بھی چھوڑ دیا، جس کے بعد ان کی امیگریشن حیثیت ختم کر دی گئی۔
امریکی اٹارنی جنرل ٹڈ بلانش نے اس اقدام کو قومی سلامتی اور قانون کی بالادستی کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کے لیے امریکہ میں کوئی جگہ نہیں۔
دوسری جانب حاجی زادہ کے وکلا نے عدالتی کارروائی پر سخت اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں مقدمے میں پیش کیے جانے والے شواہد تک رسائی نہیں دی گئی، جو امریکی آئین کے تحت ملزم کے حقِ دفاع کی خلاف ورزی ہے۔
وکلائے صفائی کا مؤقف ہے کہ ان کی مؤکلہ کی جانب سے ملک بدری قبول کرنے کا مطلب عدالت کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرنا نہیں، بلکہ خفیہ شواہد پر مبنی اس کارروائی کے خلاف احتجاج ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں اس عدالت کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا جائے گا۔